Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3353

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا، وَأُرَاهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ. أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نعم" (1) .

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیا ن کرتی ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا میرا خیال ہے، اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا، تو وہ صدقہ کرنے کے لئے کہتی کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں

رَسُولُ اللَّهِ "نعم" ← لِلنَّبِيِّ إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَأُرَاهَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ← عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3353

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3354

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أبي سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ (1) بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، وَحَضَرَتْ أُمَّهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ، فَقِيلَ لَهَا: أُوصِي، فَقَالَتْ: فَبِمَ أُوصِي إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يقدم سعد، فلما قَدِمَ سَعْدٌ ذُکِرَ ذٰلِکَ لَہٗ ، فَقَالَ سَعْدٌ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھَلْ یَنْفَعُھَا اَنْ اَتَصَدَّقُ عَنْھَا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، فَقَالَ سَعْدٌ : حَائِطُ کَذَا وَکَذَا صَدَقَۃٌ عَلَیْھَا ، لِحَائِطٍ سَمَّاہُ

سعید بن عمرو اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ کسی جنگ میں شرکت کے لئے چلے گئے مدینہ منورہ میں ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا ان سے کہا گیا: آپ کوئی تلقین کیجئے۔ انہوں نے فرمایا: میں کس بات کی وصیت کروں سارا مال، تو سعد کا ہے پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہہ کے واپس آنے سے پہلے ان کا انتقال ہو گیا جب حضرت سعد رضی اللہ عنہہ تشریف لائے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا ، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہہ نےدریافت کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں، تو کیا انہیں فائدہ ہو گا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہہ نے کہا: فلاں، فلاں باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے انہوں نےاس باغ کا نام بھی لیا تھا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أبي سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3354

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3355

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَيْنَمَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ إِذْ رَأَى سَحَابَةً فَسَمِعَ فِيهَا صَوْتًا: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ، فَجَاءَ ذَلِكَ السَّحَابُ، فَأَفْرَغَ مَا فِيهِ فِي حُرَّةٍ. قَالَ: فَانْتَهَيْتُ، فَإِذَا فِيهَا أَذْنَابُ شِرَاجٍ، وَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشُّرَجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتِ الْمَاءَ فَسَقَتْهُ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَجُلٍ قَائِمٍ يَحُولُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ فِي حَدِيقَةٍ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، مَا اسْمُكَ؟ فَقَالَ: فُلَانٌ -الِاسْمُ الَّذِي سَمِعَ فِيَ السَّحَابَةِ- قَالَ: كَيْفَ تَسْأَلُنِي يَا عَبْدَ اللَّهِ عَنِ اسْمِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ فِيَ السَّحَابَةِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهَا يَقُولُ: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ بِاسْمِكَ، فَأَخْبِرْنِي مَا تَصْنَعُ فِيهَا. قَالَ: أَمَا إِذَا قُلْتَ هَذَا، فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا خَرَجَ مِنْهَا، فَأَصَّدَقُ بِثُلُثِهِ، وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثَهُ، وَأُعِيدُ فيها ثلثه" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص ویران جگہ پر موجود تھا اس نے ایک بادل دیکھا جس میں اسے آواز سنائی دی( یعنی کسی فرشتے نے بادل کو حکم دیا) تم فلاں شخص کے باغ کو سیراب کرو پھر وہ باد ل وہاں آیا اور وہاں اس نے ایک پتھریلی زمین پر بارش نازل کی وہ شخص کہتا ہے جب میں اس جگہ پر پہنچا ، تو وہاں سے کچھ نالیاں نکل رہی تھیں ان میں سے ایک نالی پانی سے بھری ہوئی تھی جو کسی جگہ کو سیراب کرتی تھی میں وہاں ایک شخص کے پاس پہنچا جو کھڑا ہوا بیلچے کے ذریعے اپنے باغ میں کام کر رہا تھا اور وہ پانی لگا رہا تھا میں نے اس سے دریافت کیا: اے اللہ کے بندے تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: فلاں۔ یہ وہی نام تھا جو اس شخص نے بادل میں سنا تھا اس شخص نے دریافت کیا: اے اللہ کے بندے تم مجھ سے میرا نام کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے بتا یا: میں نے بادل میں جس سے یہ پانی آیا ہے اس میں یہ سنا تھا کہ فرشتہ کہہ رہا تھا کہ تم فلاں بندے کے باغ کو سیراب کرو اس نے تمہارا نام لیا تھا، تو تم مجھے بتاو کہ تم اس باغ میں کیا کرتے ہو اس نے کہا: اب جب تم یہ بات کہہ رہے ہو تو میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ اس کی جتنی بھی پیداوار ہوتی ہے میں اس کے ایک تہائی حصے کو صدقہ کر دیتا ہوں اور ایک تہائی حصے کو اپنے اوپر اور بیوی بچوں پر خرچ کرتا ہوں اور ایک تہائی حصہ دوبارہ اس پر لگا دیتا ہوں۔ اس روایت کا تذکرہ جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آدمی کا کسی بھی شخص کو صدقہ دینا مباح ہے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3355

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3356

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْرَجُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَالَ رَجُلٌ: لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ! لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى سَارِقٍ فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى سَارِقٍ، لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى غَنِيٍّ فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى غَنِيٍّ، فَأُتِيَ، فَقِيلَ: أَمَّا صَدَقَتُكَ، فَقَدْ قُبِلَتْ. أَمَّا الزَّانِيَةُ، فَلَعَلَّهَا تَسْتَعِفُّ بِهَا. عَنْ زِنَاھَا ، وَاَمَّا السَّارِقُ فَلَعَلَّہُ یَسْتَعِفُّ عَنْ سَرِقَتِہٖ ، وَلَعَلَّ الْغَنِیَّ یَعْتَبِرُ فَیُنْفِقُ مِمَّا اَعْطَاہُ اللہُ تَعَالَی

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ایک شخص نے طے کیا کہ میں ضرور صد قہ دوں گا وہ اپنے صدقے کو لے کر نکلا اور ( اندھیرے میں لاعلمی کی وجہ سے) کسی زانیہ عورت کے ہاتھ میں رکھ آیا اگلے دن لوگ آپس میں بات چیت کر رہے تھے گزشتہ رات ایک زانیہ عورت کو کسی نے صدقہ دیا ہے، تو اس شخص نے کہا: اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے( اگرچہ میرا صدقہ) زانیہ عورت کو ملا ہے میں ضرور پھر صدقہ کروں گا پھر وہ شخص اپنے صدقے کو لے کر نکلا اور اس نے (اندھیرے میں لا علمی کی وجہ سے) کسی چور کے ہاتھ میں اسے رکھ دیا اگلے روز لوگ بات چیت کر رہے تھے گزشتہ رات کسی چور کو صدقہ دیا گیا ہے، تو وہ شخص بولا : اے اللہ ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے (اگرچہ میراصدقہ ) ایک چور کے ہاتھ میں چلا گیا ہے میں آج بھی ضرور صدقہ کروں گ پھر وہ شخص اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اس نے اسے ایک خوشحال شخص کے ہاتھ پر رکھ دیا اگلے دن لوگ بات کر رہے تھے گزشتہ رات ایک خوشحال شخص کو صدقہ دے دیا گیا، تو وہ شخص بولا: اے اللہ ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے (اگر چہ میرا صدقہ ) ایک خوشحال شخص کو ملا ہے پھر اسے ( اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں ) لایا گیا، تو اسے بتا یا گیا، جہاں تک تمہارے صدقے کا تعلق ہے، تو وہ قبول ہو گیا ہے زانیہ عورت کو ملنے والا اس لیے قبول ہو اک ہ شاید وہ اس کے ملنے کی وجہ سے زنا کرنے سے باز آجائے، چور والا اس لیے قبول ہوا شاید وہ اس کی وجہ سے چوری سے بچ جائے اور خوشحال شخص والا اس لیے قبول ہوا کہ وہ اس سے نصیحت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ نے جو اسے عطا کیا ہے وہ اس میں سے کچھ خرچ کرے۔"

أَبَا هُرَيْرَةَ ← الْأَعْرَجُ أَنَّهُ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← وَرْقَاءُ ← شَبَابَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3356

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3357

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بن أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَيْسَ لِي شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ، فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ جُنَاحٍ أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَيَّ قَالَ: "ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ، وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ الله عليك" (1) .

سیّدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ئی انہوں نے عرض کی: اللہ نے نبی ﷺ میرے پاس صرف وہی چیز ہوتی ہے، جو حضرت زبیر رضی اللہ عنہہ مجھے دیتے ہیں، تو وہ مجھے جو دیتے ہیں اگر اس میں سے کچھ خرچ کر لوں، تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم سے جہاں تک ہو سکے تم خرچ کر وا ور تم (خرچ کرتے ہوئے ) بندش کرنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر بندش کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ کا عورت پر یہ فضل کرنے کا تذکرہ کہ جب وہ کوئی خرابی پیدا کیے بغیر اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی چیز صدقہ کرتی ہے تو اس عورت کو اجر ملتا جس طرح اس کے شوہر کو کمانے کا اجر ملتا ہے اور عورت کو نیت کرنے کا اجر ملتا ہے خزانچی کا بھی یہی حکم ہے

أسماء بنت أبي بكر، أنها جاءت النبي ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← بن أبي مليكة ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج، ← يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3357

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3358

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ عَنِ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قال: "إِذَا تَصَدَّقْتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ، فَلَهَا أَجْرُهَا، وَلِزَوْجِهَا أَجْرُ مَا اكْتَسَبَ، وَلَهَا أَجْرُ مَا نَوَتْ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ" (1) .

سّیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جب کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے، کوئی خرابی پیدا کیے بغیر، صدقہ کرتی ہے تو اس عورت کو اس کا اجر ملتا ہے اس کے شوہر کو اس کا اجر ملتا ہے آدمی کو کمانے کا اجر ملتا ہے اور عورت کو اس کی نیت کا اجر ملتا ہے اور خزانچی کی مثال بھی اسی کی مانند ہے۔"

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3358

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3359

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةٌ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْخَازِنُ الْمُسْلِمُ الْأَمِينُ الَّذِي يُنْفِقُ -وَرُبَّمَا قَالَ: يُعْطِي- مَا أُمِرَ، فَيُعْطِيهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ، فَيَدْفَعُهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ بِهِ، أَحَدُ المتصدقين" (1) .

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "امانت دار مسلمان خزانچی جو خرچ کرتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو کچھ وہ عطا کرتا ہے ، جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اور وہ اسے کامل طور پر پورا اور اپنی رضا مندی کے ساتھ دیتا ہے اور اس شخص کے سپرد کرتا ہے، جسے دینے کا حکم دیا گیا تھا، تو وہ خزانچی بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔"

"الْخَازِنُ الْمُسْلِمُ الْأَمِينُ الَّذِي يُنْفِقُ -وَرُبَّمَا ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3359

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3360

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا فَكُنْتُ أَتَصَدَّقُ بِلَحْمٍ مِنْ لَحْمِ مَوْلَايَ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "تَصَدَّقْ وَالْأَجْرُ بَيْنَكُمَا نِصْفَانِ" (1) . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أُضْمِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ: تَصَدَّقْ بِإِذْنِهِ، فَذِكْرُ الْإِذْنِ فِيهِ مُضْمَرٌ. وَعُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ إِنَّمَا قِيلَ: آبِي اللَّحْمِ، لِأَنَّهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ حَرَّمَ عَلَى نَفْسِهِ اللَّحْمَ، وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ (2) ، فَقِيلَ: أبي اللحم. وَمُحَمَّدُ بْنُ زَیْدٍ ھٰذَا ھُوَ مُحَمَّدُ بْنُ زَیْدِ بْنِ الْمُھَاجِرِیْنِ قُنْفُذٍ الْجُدْعَانِیُّ الْقُرَیْشِیُّ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، وَمُعَاو،یَۃَ بْنَ اَبِیْ سُفْیَانَ ، رَوٰی عَنْہُ مَالِکٌ وَاَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ

حضرت عمیر رضی اللہ عنہہ جو حضرت آبی لحم رضی اللہ عنہہ کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں: میں غلام تھا میں اپنے آقا کے گوشت میں سے کچھ گوشت صدقہ کر دیا کرتا تھا میں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا: تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم صدقہ کرو اجر تم دونوں کے درمیان برابر برابر تقسیم ہو گا۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): اس روایت میں یہ بات پوشیدہ ہے کہ انہوں نے اپنے آقا کی اجازت کے تحت صدقہ کیا تھا۔ تو اجازت کا ذکر اس روایت میں پوشیدہ ہے۔ حضرت عمیر رضی اللہ عنہہ حضرت آبی لحم رضی اللہ عنہہ کے غلام ہیں۔ یہ بات بیان کی گئی ہے۔حضرت الحم رضی اللہ عنہہ کا یہ نام اس لئے تھے کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں گوشت کھانا اپنے لئے حرام قراد دیا تھا اور گوشت کھانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس لئے انہیں آبی لحم کہا جاتا تھا (یعنی گوشت سے انکار کرنے والا شخص) محمد بن زید نامی راوی محمد بن زید بن مہاجر بن قنفز جد عانی قرشی ہیں۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہہ سے احادیث کا سماع کیا ہے جبکہ امام مالک اور اہل مدینہ نے ان کے حوالے سے روایت نقل کی ہیں۔

عُمَيْرٍ، مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3360

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3361

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ من اليد السفلى" (1) .

اس بات کے بیا ن کا تذکرہ کہ بعض حالتوں میں دینے والا شخص کبھی لینے والے شخص سے بہتر ہوتا ہے

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3361

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3362

أخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزَّعْرَاءِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ، فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا، وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا، وَيَدُ السُّفْلَى السَّائِلَةُ، فَأَعْطِ الْفَضْلَ، وَلَا تَعْجِزْ عن نفسك" (1) . قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : فِیْ ھٰذَا الْخَبَرِ بَیَانٌ وَاضِحٌ بِاَنَّ الْاَخْبَارِ الَّتِی ذَکَرْنَاھَا قَبْلُ فِیْ کِتَابِنَا ھٰذَا ، اَنَّ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی ، اَرَادَ بِہٖ اَنَّ یَدَ الْمُعْطِی خَیْرٌ مِنْ یَّدِ الْاٰخِذِ ، وَاِنْ لَّمْ یَسْاَلْ ، وَاَبُو الزَّعْرَاءِ ھٰذَا : ھُوَ الصَّغِیْرُ ، وَاسْمُہٗ عَمْرُو بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِکِ بْنِ اَخِیِ اَبِی الْاَحْوَصِ ، وَاَبُو الزَّعْرَاءِ الْکَبِیرُ : اسْمُہٗ عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَانِءٍ ، یَرْوِی عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ

حضرت مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ہاتھ تین طرح کے ہوتے ہیں اوپر والا ہاتھ اللہ تعالیٰ کا ہے، دینے والا ہاتھ اس کے بعد ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والے کا ہے ، تو تم اضافی چیز کو دے دیا کرو اور اپنی ذات کے حوالے سے عاجز نہ آو۔"( امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : اس روایت میں اس بات کا واضح بیا ن موجود ہے کہ وہ روایات ، جنہیں ہم اس سے پہلے اپنی کتا ب میں ذکر کر چکے ہیں۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اس سے مراد یہ ہے : دینے والے کا ہاتھ لینے والے سے بہتر ہوتا ہے۔ اگرچہ اس نے مانگا نہ ہو۔ ابوزعراء نامی راوی صغیر ہے اس کا نام عمرو بن عمرو بن مالک ہے۔ (مالک کا باپ) ابو احوص کا بھائی ہے جبکہ ابوزعراء کبیر کا نام عبداللہ بن ہانی ہے۔ اس نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہہ سے روایات نقل کی ہیں۔

أَبِيهِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبُو الزَّعْرَاءِ، ← عبيدة بن حميد ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3362

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3363

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّاجِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَلْيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يَعُولُ". تَقُولُ امْرَأَتُهُ: أَنْفِقْ عليَّ، وَتَقُولُ أُمُّ وَلَدِهِ: إِلَى مَنْ تَكِلُنِي، وَيَقُولُ لَهُ عَبْدُهُ: أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي (1) . قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی عِنْدِی اَنَّ الْیَدَ الْمُتَصَدِّقَۃَ اَفْضَلُ مِنَ الْبَدرِ السَّائِلَۃِ، لَا الْاٰخِذَۃِ دُونَ السُّؤَالِ ، اِذْ مُحَالٌ اَنْ تَکُوْنَ الْیَدُ الَّتِیْ اُبِیحَ لَھَا اسْتِعْمَالُ فِعْلٍ بِاسْتِعْمَالَہٖ اَحْسَنَ مِنْ اٰخَرَ فُرِضَ عَلَیْہِ اِتْیَانُ شَیْءٍ ، فَاَتٰی بِہٖ اَوْ تَقَرَّبَ اِلٰی بَارِئِہِ مُتَنَفِّلًا فِیْہِ ، وَرُبَّمَا کَانَ الْمُعْطِی فِیْ اِثْیَانِہِ ذٰلِکَ اَقَلَّ تَحْصِیلًا فِی الْاَسْبَابِ مِنَ الَّذِی اَتٰی بِمَا اُبِیحَ لَہٗ ، وَرُبَّمَا کَانَ ھٰذَا الْاٰخِذُ بِمَا اُبِیحَ لَہٗ اَفْضَلَ وَاَوْرَعَمِنَ الَّذِی یُعْطِی ، فَلَمَّا اسْتَحَالَ ھٰذَا عَلَی اسْتَحَالَ ھٰذَا عَلَی الْاِطْلَاقِ دُونَ التَّحْصِیلِ بِالتَّفْضِیلِ صَحَّ اَنَّ مَعْنَاہُ اَنَّ الْمُتَصَدِّقَ اَفْضَلُ مِنَ الَّذِی یَسْاَلُھَا

اس بات کے بیان کا تذکرہ کہ دینے والا ہاتھ مانگنے والے ہاتھ سے افضل ہو تا ہے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّاجِيُّ بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3363

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3364

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صُلَيْحٍ الْعَابِدُ بِوَاسِطَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ، وَالْيَدُ السُّفْلَى السَّائِلَةُ" (1) .

حضرت عبداللہ عبن عمر رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ا وپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صُلَيْحٍ الْعَابِدُ بِوَاسِطَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3364

chevron_left Previous
1…121314…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr