Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3341

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِیِّ ، قَالَ: ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَاِذَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ یَخْطُبُ النَّاسَ ، وَھُوَ یَقُوْلُ : یَدُ الْمُصْطِی الْعُلْیَا : وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُولُ ، اُمَّکَ وَاَبَاکَ وَاُخْتَکَ وَاَخَاکَ وَاَخَاکَ ، ثُمَّ اَدْنُاکَ اَدْنَاکَ

حضرت محاربی رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: پھر میں مدینہ منورہ آیا وہاں نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے آپ ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی۔ " دینے والا ہاتھ اوپر والا ہے اور تم اپنے زیر کفالت ( پر خرچ کرنے) سے آغاز کرو جو تمہاری والدہ ، تمہارا باپ، تمہاری بہن، تمہارا بھائی ہے اور پھر درجہ بد درجہ قریبی عزیز ہیں۔"

ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَاِذَا رَسُوْلُ اللہِ قَائِمٌ یَخْطُبُ النَّاسَ وَھُوَ ← طارق المحاربى ← جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ← يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3341

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3342

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلَّانَ بِأَذَنَةَ، قَالَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الزِّمَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: أَبُو مَذْكُورٍ دَبَّرَ غُلَامًا لَهُ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، وَكَانَ يُقَالُ لِلْغُلَامِ: يَعْقُوبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ يَشْتَرِي هَذَا"؟ فَاشْتَرَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ بِثَمَنِ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ مُحْتَاجًا، فَلْيَبْدَأْ بَنَفْسِہٖ ، فَاِنْ کَانَ لَہٗ فَضْلٌ فَبِاَھْلِہِ ، فَاِنْ کَانَ لَہٗ فَضْلٌ فَبِاَقْرِبَائِہِ ، فَاِنْ کَانَ لَہٗ فَضْلٌ فَھَا ھُنَا وَھَاھُنَا وَھاھُنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص کا نام ابو مذکور تھا اس نےاپنے غلام کو مدبر کے طور پر آزاد کر دیا اس شخص کا نام ابو مذکور تھا اس نے اپنے غلام کو مدبر کے طور پر آزاد کر دیا اس شخص کے پاس اس غلام کے علاوہ کوئی مال نہیں تھا۔ غلام کا نام یعقوب تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: اسے کون خریدے گا ، تو بنو عدی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے آٹھ سو درہم میں اسے خرید لیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص غریب ہو، تو اسے اپنی ذات سے آغاز کرنا چاہئے، اگر اس کے پاس اضافی مال ہو، تو اپنی بیوی پر خرچ کرے ، اگر اضافی مال ہو، تو اپنے قریبی رشتے دار وں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی اضافی ہو، تو یہاں اور وہاں خرچ کرے۔

أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الزِّمَّانِيُّ ← أَحْمد بْنُ عَلانَ بِأَذَنَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3342

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3343

أخبرنا بن سلم، حدثنا حرملة، حدثنا بن وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ: "لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ" (1) .

سیّدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں انہوں نے اپنی کنیز کو آزاد کر دیا انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم اسے اپنے ماموں کو دے دیتی، تو یہ تمہارے لیے زیادہ اجر کا باعث ہوتا۔

كُرَيْبٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ، ← بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3343

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3344

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُبْنُ الْمُفَضَّلِ ،حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ حَفْصَۃَ بِئْتِ سِیْرِیْنَ ، عَنْ اُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَیْعٍ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِیْ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ الصَّدَقَۃُ عَلَی الْمِسْکِیْنِ صَدَقَۃٌ ، وَھِیَ عَلٰی ذِی الرَّحِمِ اثْنَانِ : صَدَقَۃٌ وَصِلَۃٌ

حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "غریب کو صدقہ دینا صدقہ ہے اور رشتے دارکو صدقہ دینے میں دو پہلو ہیں صدقہ کرنا اور صلہ رحمی کرنا۔"

الصَّدَقَۃُ عَلَی الْمِسْکِیْنِ صَدَقَۃٌ وَھِیَ عَلٰی ذِی الرَّحِمِ اثْنَانِ صَدَقَۃٌ وَصِلَۃٌ ← النَّبِيِّ ← سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ← اُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَیْعٍ ← حَفْصَۃَ بِئْتِ سِیْرِیْنَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← بِشْرُبْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3344

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3345

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بْنِ عَبْدَانَ بِعَسْكَرِ مُكْرَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ، حدثنا أبو عاصم، عن بن جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عن ظهر غنى، وابدأ بمن تعول" (1)

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "سب سے افضل صدقہ وہ ہے ، جو خوشحالی کے عالم میں دیا جائے اور تم ان سے آغاز کر و جو تمہارے زیر کفالت ہیں۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بْنِ عَبْدَانَ بِعَسْكَرِ مُكْرَمَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3345

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3346

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "جُهْدُ الْمُقِلِّ، وَابْدَأْ بمن تعول" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے پاس پیسے تھوڑے ہوں وہ محنت کر کے صدقہ کرے اور تم اپنے زیر کفالت سے آغاز کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3346

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3347

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ الْفَرْغَانِيُّ بِدِمَشْقَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بن عيسى، عن بن عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ"، فَقَالَ رَجُلٌ: وَكَيْفَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "رَجُلٌ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ أَخَذَ مِنْ عُرْضِهِ مِائَةَ أَلْفٍ، فَتَصَدَّقَ بِهَا، وَرَجُلٌ لَيْسَ لَهُ إِلَّا دِرْهَمَانِ، فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا، فتصدق به" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بعض اوقات ایک درہم ایک لاکھ درہموں پر سبقت لے جاتا ہے۔ ایک صاحب نے دریافت کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کیسے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک شخص کے پاس بہت زیادہ مال ہوتا ہے وہ اپنے مال میں سے ایک لاکھ درہم لیتا ہے اور انہیں صدقہ کر دیتا ہے اور ایک شخص کے پاس صرف دو درہم ہوتے ہیں وہ ان میں سے ایک لے کر اسے صدقہ کر دیتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بن عَجْلَانَ ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ الْفَرْغَانِيُّ بِدِمَشْقَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3347

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3348

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَیْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ ھِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ،عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ، قَالَ: قُلْتُ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَیُّ الصَّدَقَۃِ اَفْضَلُ ، قَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وسَلَّمَ : سَقْیُ الْمَاءِ

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! کو ن سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پانی پلانا۔

قُلْتُ ← سَعْدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← وَكِيعٌ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَیْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3348

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3349

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشِ ، عَنْ اَبِیْ ظَبْیَانَ ، عَنْ اَبِی ذَرٍّ ،عَنِ النَّبِیِّ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثَلَاثَۃٌ یُحِبُّھُمُ اللہُ ، وَثَلَاثَۃٌ یُبْغِضُھُمُ اللہُ ، اَمَّا الَّذِیْنَ یُحِبُّھُمُ اللہُ : فَرَجُلٌ اَتٰی قَوْمًا فَسَاَلَھُمْ بِاللہِ وَلَمْ یَسْاَلُھُمْ بِقَرَابَۃٍ بَیْنَھُمْ وَبَیْنَہٗ ، فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِاَعْقَابِھِمْ ، فَاَعْطَاہُ سِرًّا لَا یَعْلَمُ بَعَطِیَّتِہٖ اِلَّا اللہُ وَالَّذِی اَعْطَاہُ ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَیْلَتَھُمْ حَتّٰی اِذَا کَانَ النَّوْمُ اَحَبَّ اِلَیْھِمْ ممَّا یَعْدِلُ بِہٖ نَزَلُوا ، فَوَضَعُوارُءُ وسَھُمْ ، وَقَامَ یَتَمَلَّقُنِیْ وَیَتْلُو آیَاتِی ، وَرَجُلٌ کَانَ فِیْ سَرِیَّۃٍ فَلَقِیَ الْعَدُوَّ فَھُزِمُوا ، وَاَقْبَلَ بَصَدْرِہٖ یَقْتُلُ اَوْیُفْتَحُ لَہٗ ، وَثَلَاثَۃٌ یُبْغِضُھُمُ اللہُ : الشَّیْخُ الزَّانِی ، وَالْفِقِیرُ الْمُخْتَالُ ، وَالْغَنِیُّ الظَّلُومُ

حضرت ابوذر غفاری ر ضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " تین لوگوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور تین لوگوں کو نا پسند کرتا ہے جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، تو ایک وہ شخص ہے، جو کچھ لوگوں کے پاس آئے اور ان سے اللہ کے نام پر کچھ مانگے وہ ان کے ساتھ اپنی رشتے داری کی وجہ سے کچھ نہ مانگے پھر ایک شخص الٹے قدموں واپس جائے اور پوشیدہ طور پر اسے کچھ دیدے۔ اس عطیے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور جس نے اسے دیا ہے اس کے علاوہ اور کسی کو علم نہ ہو۔ دوسرے وہ لوگ جو رات بھر سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ جب وہ پڑاو کریں ، تو ان کے نزدیک نیند سب سے زیادہ پیاری ہو اور وہ سر رکھ کر سو جائیں اور ایک شخص کھڑا ہو کر میری (یعنی اللہ تعالیٰ کی) خوشامد کرے میری آیات کی تلاوت کرے اور ایک وہ شخص جو کسی مہم پر روانہ ہو ان کا دشمنوں سے سامنا ہو، تو وہ لوگ پسپا ہو جائیں، لیکن وہ شخص آگے بڑھے اور پھر یا قتل ہو جائے یا اسے فتح نصیب ہو جہاں تک ان تین لوگوں کا تعلق ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نا پسند کرتا ہے، ایک بوڑھا زانی، دوسرا غریب متکبر، اور تیسرا ظالم خوشحال شخص۔"

النَّبِيِّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3349

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3350

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ، وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ: يُحِبُّ رَجُلًا كَانَ فِي قَوْمٍ، فَأَتَاهُمْ سَائِلٌ فَسَأَلَهُمْ بِوَجْهِ اللَّهِ لَا يَسْأَلُهُمْ لَقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، فَبَخِلُوا فَخَلَفَهُمْ بِأَعْقَابِهِمْ حَيْثُ لَا يَرَاهُ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ أَعْطَاهُ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي كَتِيبَةٍ فَانْكَشَفُوا، فَكَبَّرَ فَقَاتَلَ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَوْ يُقْتَلَ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي قَوْمٍ فَأَدْلَجُوا، فَطَالَتْ دُلْجَتُهُمْ، فَنَزَلُوا وَالنَّوْمُ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يَعْدِلُ بِهِ، فَنَامُوا وَقَامَ يَتْلُو آيَاتِي وَيَتَمَلَّقُنِي، وَيُبْغِضُ الشَّيْخَ الزَّانِي، والبخيل المتكبر" وذكر الثالث (1) .

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " تین لوگوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور تین لوگوں کو نا پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو پسند کرتا ہے، جو کچھ لوگوں میں موجود ہو کوئی مانگنے والا ان کے پاس آئے اللہ کے نام پر ان سے مانگے وہ ان لوگوں کے ساتھ اپنی کسی رشتے داری کی وجہ سے ان سے نہ مانگے ، تو وہ لوگ کنجوسی کا مظاہرہ کریں (اور اسے کچھ نہ دیں) ان میں سے ایک شخص انہیں چھوڑ کر واپس جائے ایسی جگہ جہاں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اسے کوئی نہ د یکھ رہا ہو اور وہ شخص اسے کچھ دیدے۔ ایک وہ شخص جو کسی مہم پر ہو اور وہ لوگ بکھر جائیں، تو وہ تکبیر کہتے ہوئے لڑائی میں کود پڑے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے فتح نصیب کر دے یا ہو شہید ہو جائے۔ ایک وہ شخص جو کچھ لوگوں کے ہمراہ رات کے وقت سفر کر رہا ہو جب رات زیادہ ہو جائے وہ لوگ کسی جگہ پڑاو کریں اس وقت نیند ان کے نزدیک سب سے زیادہ پیاری ہو وہ لوگ سو جائیں اور وہ شخص کھڑا ہو کر آیات کی تلاوت کرے اور میری بار گاہ میں التجاء کرے اور اللہ تعالیٰ بوڑھے زانی، کنجوس متکبر کو پسند نہیں کرتا ۔ راوی نے تیسرے شخص کو بھی ذکر کیا تھا۔"

اَبِیْ ذَرٍّ ← زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3350

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3351

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ الَّذِی تَرُدُّہُ التَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتَانِ ، وَالْاَکْلَۃُ وَالْاَکْلَتَانِ ، وَلٰکِنَّ الْمِسْکِیْنَ الَّذِی لَیْسَ لَہٗ مَایَسْتَغْنِیْ بِہٖ ، وَلَا یُعْلَمُ بحَاجَتِہٖ فَیُتَصَدَّقُ عَلَیْہِ ، فَذٰلِکَ الْمَحْرُومُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " غریب وہ نہیں ہے ، جو ایک یا دو کھجوریں لے کر ایک یا دو لقمے لے کر واپس چلا جائے غریب وہ شخص ہے، جس کے پاس وہ چیز نہ ہو جو اس کی ضروریات کو پوری کرے اور اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ بھی نہ چل سکے کہ اسے صدقہ ہی کر دیا جائے" محروم " سے مراد یہ شخص ہے (جس کا ذکر قرآن میں ہے)۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3351

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3352

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ: "لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، قَالُوا: فَمَنِ الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، ولا يقوم فيسأل الناس" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " غریب وہ نہیں ہوتا جو لوگوں کے گھر چکر لگاتا ہے ایک یا دو لقمے لے کر ایک یا دو کھجوریں لے کر واپس چلا جاتا ہے۔ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! پھر غریب کون ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جس کے پاس اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو اور اس کی حالت کا پتہ بھی نہ چل سکے کہ اسے صدقہ ہی کر دیا جائے اور وہ خود کھڑا ہو کر لوگوں سے مانگتا بھی نہیں ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3352

chevron_left Previous
1…111213…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr