Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3329

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَرِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ يُسْمِعَانِ مَنْ عَلَى الْأَرْضِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ: أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ، مَا قُلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى، ولا وَلَا غَرَبَتْ اِلّؒا بِجَنْبَتَیْھَا مَلَکَانِ یُنَادِیَانِ : اللّٰھُمَّ اَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَاَعْطِ مُمْسِکًا تَلَفًا

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جب سورج نکلتا ہے، تو اس کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں جو یہ اعلان کرتے ہیں اور ان کی آواز انسانوں اور جنوں کے علاوہ تمام روئے زمین کو سنائی دیتی ہے اے لوگو! اپنے پروردگار کی طرف آو جو چیز تھوڑی ہو اور کفایت کر جائے وہ اس سے بہتر ہے، جو زیادہ ہو اور غافل کر دے ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں:) سورج جب غروب ہوتا ہے، تو دو فرشتے اس کے پہلووں میں یہ اعلان کرتے ہیں:اے اللہ ! (اپنی راہ) میں خرچ کرنے والے کو مزید دے اور نہ کرنے والے کا نقصان کر دے۔"

النَّبِيِّ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← خُلَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَرِيِّ، ← قَتَادَةَ ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3329

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3330

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ابْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيُّكُمْ مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ"؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ. قَالَ: "اعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ"، قَالُوا: مَا نَعْلَمُ إِلَّا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ إِلَّا مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ". قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "إِنَّمَا مَالُ أَحَدِكُمْ مَا قَدَّمَ، وَمَالُ وَارِثِهِ مَا أخر" (1) .

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : "تم میں سے کون شخص ایسا ہے، جسے اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب ہو؟ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! ہم میں سے ہر ایک شخص کو اپنے وارث کے مال کے مقابلے میں اپنا مال زیادہ محبوب ہو گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ دیکھ لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ہم، تو یہی سمجھتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کے نزدیک اس کے وارث کا مال اس کے اپنے مال سے زیادہ محبوب ہے۔ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کیسے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی ایک شخص کا مال وہ ہے، جسے وہ (صدقہ و خیرات کر کے) آگے بھیج دے او ر اس کے وارث کا مال وہ ہے، جسے وہ ( مرنے کے بعد) پیچھے چھوڑ جائے۔"

عَبْدُ اللَّهِ ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3330

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3331

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ (1) ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ (2) عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْأَسْفَلُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وهكذا، وكسبه من طيب" (3) .

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " (دنیا میں مال و دولت کے اعتبار سے ) کثرت رکھنے والے لوگ ہی (قیامت کے دن) نچلے مرتبے کےہوں گے ماسوائے اس شخص کے جو اپنے مال کے بارے میں اس طرح اور اس طرح کہے (یعنی اسے صدقہ و خیرات کرے) اوراس نےحلال طور پر اسے کمایا ہو۔"

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ← أَبُو زُمَيْلٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3331

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3332

أخبرنا ابن قتيبة، حدثنا بن أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَثَلُ الْبَخِيلِ وَلْمُتَصَدِّقِ کَمَثَلِ رَجُلَیْنِ عَلَیْھِمَا جُبَّتَانِ اَوْ جَنَّتَانِ مِنْ حَدِیدٍ مِنْ لَّدُنْ ثُدِیّھِمَا اِلٰی تَرَاقِیھِمَا ، فَاَمَّا الْمُنْفِقُ فَکُلَّمَا تَصَدَّقَ وَحَدَّثَ نَفْسَہٗ ذَھَبَتْ عَنْ جِلْدِہٖ ، حَتّٰی تَعْفُوَ اَثَرہُ وَتَجُوزَ بَنَانَہٗ ، وَالْبَخِیلُ کلَّمَا اَنْفَقَ شَئْئًا وَحَدَّتَ بِہٖ نَفْسَہٗ لَزِمَتْہُ وَعَضَّتْ کُلُّ حَلْقَۃٍ مِنْھَا مَکَانَھَا ، فَھُوَ یُوَسِّعُھَا وَلَا تَتَّسِعُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : " کنجوسی کرنے والے اور صدقہ کرنے والے کی مثال دو ایسے آدمیوں کی طرح ہے جن پر لوہے کے بنے ہوئے دو جبے یا دو زرہیں ہوتی ہیں جو ان کے سینے سے لے کر ان کی گردن تک ہوتی ہے خرچ کرنے والا شخص جب بھی صدقہ کرتا ہے اور اس کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کی جلد سے وہ زرہ ہٹ جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے پاوں کے نشان کو ڈھانپ لیتی ہے اور انگلیوں کے پوروں پر آجاتی ہے (یعنی نیچے گر جاتی ہے) اور کنجوس شخص جب بھی کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے او ر وہ اس بار ے میں سوچتا ہے ، تو وہ زرہ اور مضبوط ہو جاتی ہے اور اس کا ہر حلقہ اپنی جگہ پر جم جاتا ہے وہ اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ کشیدہ نہیں ہوتی۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3332

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3333

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِنَّ مَلَكًا بِبَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ" يَقُولُ: "مَنْ يُقْرِضِ الْيَوْمَ يُجْزَ غَدًا، وَمَلَكٌ بِبَابٍ آخَرَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَأَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جنت کے ایک دروازے پرایک فرشتہ یہ کہتا ہے کون شخص آج قرض دے گا کہ کل اس کو بدلہ دیا جائے دوسرے دروازے پر فرشتہ یہ کہتا ہے اے اللہ ! (اپنی راہ میں ) خرچ کرنے والے کو مزید عطا کر اور نہ کرنے والے کا (مال) ضائع کر دے۔"

اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَأَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا" ← "مَنْ يُقْرِضِ الْيَوْمَ يُجْزَ غَدًا، وَمَلَكٌ بِبَابٍ آخَرَ ← "إِنَّ مَلَكًا بِبَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ" ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3333

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3334

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حدثنا بن أبي فديك، حدثنا بن أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لِأَنْ يَتَصَدَّقَ الْمَرْءُ فِي حَيَاتِهِ وَصِحَّتِهِ بِدِرْهَمٍ خير له من أن يتصدق بمئة درهم عند موته" (1) .

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " آدمی اپنی زند گی اور صحت کے دوران ایک درہم صدقہ کر دے یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ مرنے کے قریب ایک سو درہم صدقہ کرے۔"

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← شُرَحْبِيلَ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← بن أبي فديك ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3334

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3335

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: "أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمَلُ الْغِنَى، وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا، أَلَا وَقَدْ كَانَ لفلان" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! کون سا صدقہ زیادہ بڑا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ کہ تم ایسی حالت میں صدقہ کر و کہ تم تندرست ہو اور تمہیں مال کی قلت کا اندیشہ بھی ہوا ور خوشحالی کی خواہش بھی ہو تم اسے اتنی تاخیر سے نہ کرو کہ جان حلق تک پہنچ جائے پھر تم یہ کہو کہ فلاں کو اتنا مل جائے اور فلاں کو اتنا مل جائے، حالانکہ وہ ویسے ہی فلاں کو مل جانا ہے۔

أَتَى رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ فقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3335

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3336

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مِرْدَاسٍ بِالْأُبُلَّةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ عِنْدَ الْمَوْتِ مَثَلُ الذي يهدي بعدما يشبع" (1) .

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص مرنے کے قریب صدقہ کرتا ہے اس کی مثال اس طرح ہے، جس طرح وہ خود سیر ہونے کے بعد کوئی چیز دیتا ہے۔"

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مِرْدَاسٍ بِالْأُبُلَّةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3336

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3337

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ الْبَزَّازُ بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ قَالَ یَوْمًا لِاَصْحَابِہِ : تَصَدَّقُوا ، فَقَالَ رَجْلٌ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدِیْ دِینَارٌ ، قَالَ : اَنْفِقْہُ عَلٰی نَفْسِکَ ، قَالَ : اِنَّ عِنْدِی اٰخَرَ ، قَالَ اَنْفِقْہُ عَلٰی زَوْجَتِکَ ، قَالَ : اِنَّ عِنْدِی اٰخَرَ ، قَالَ اَنْفِقْہُ : عَلٰی زَوْجَتِکَ ، قَالَ : اَنَّ عِنْدِی اٰخَرَ ، قَالَ : اَنْفِقْہُ عَلٰی وَلَدِکَ ، قَالَ : اِنَ عِنْدِی اٰخَرَ ، قَالَ : اَنْفِقْہُ عَلٰی خَادِمِکَ ،قَالَ : اِنَّ عِنْدِیْ اٰخَرَ ، قَالَ اَنْتَ اَبْصَرُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ایک دن اپنے اصحاب سے فرمایا: تم لو گ صدقہ کر و ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! میرے پاس ایک دینار ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اس کو اپنے اوپر خرچ کر و عرض کی کہ اگر میرے پاس ایک اور ہو، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے اپنی بیوی پر خرچ کر و اس نے عرض کی: اگر میرے پاس ایک اور ہو، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اپنی اولاد پر خرچ کرو اس نے عرض کی: اگر میرے پاس ایک اور ہو ، تو فرمایا تو اس کو اپنے خادم پر خرچ کر و اس نے دریافت کیا: اگر میرے پاس ایک اور ہو، تو فرمایا: تم زیادہ سمجھدار ہو۔ (یعنی تمہیں خود اندازہ ہو گا اسے کسی پر خرچ کرنا چاہئے)۔

یَوْمًا لِاَصْحَابِہِ تَصَدَّقُوا فَقَالَ رَجْلٌ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ الْبَزَّازُ بِالْفُسْطَاطِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3337

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3338

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ بِالصُّغْدِ، (1) قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا نَتَحَامَلُ عَلَى ظُهُورِنَا، فَيَجِيءُ الرَّجُلُ بِالشَّيْءِ فَيُتَصَدَّقُ بِهِ، فَجَاءَ رَجُلٌ بِنِصْفِ صَاعٍ، وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِشَيْءٍ كَثِيرٍ، فَقَالُوا: إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا، وَقَالُوا: هَذَا مُرَاءٍ، فَنَزَلَتِ {الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِیْنَ لَا یَجِدُونَ اِلَّا جُھْدَھُمْ) (التوبۃ :79)

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ اپنی پشت پر وزن لا دا کرتے تھے (یعنی مزدوری کرتے تھے) اور پھر ہم میں سے کوئی شخص کوئی چیز لاتا تھا اسے صدقہ کر دیتا تھا ایک شخص نصف صاع لے آتا تھا یک شخص تھوڑی سی زیادہ چیز لے آتا تھا ، تو منافقین یہ کہتے تھے اللہ تعالیٰ اس شخص کے صدقے سے بے نیاز ہے اور وہ یہ کہتے تھے یہ دکھاوے کے طور پر ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی: " وہ لوگ جو اہلِ ایمان سے تعلق رکھنے والے افراد پر ان کے کئے گئے صدقے کے حوالے سے نکتہ چینی کرتے ہیں، ( وہ اہلِ ایمان جنہیں صدقہ کرنے کے لئے ) صرف اپنی محنت کی کمائی ملتی ہے"۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبَا وَائِلٍ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ"1" الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3338

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3339

أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ حِبَّانَ أَبُو جَابِرٍ بِالْمَوْصِلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ الزِّمَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَاعَهُ وَدَفَعَ إِلَيْهِ ثَمَنَهُ، وَقَالَ: "ابْدَأْ بِنَفْسِكَ، فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا ثُمَّ عَلَى أَبَوَيْكَ، ثُمَّ عَلَى قرابتك، ثم هكذا، ثم هكذا" (2) .

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: بنو عزرہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر کے طور پر آزاد کر دیا۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے بلوایا اسے فروخت کیا اور ا سکی قیمت اس شخص کے سپرد کی اور پھر فرمایا اپنی ذات سے آغاز کرو اس پر خرچ کرو پھر اپنے ماں باپ پر خرچ کرو پھر اپنے قریبی رشتے داروں پر کر و پھر اس طرح اور اس طرح کرو۔

دُبُرٍ مِنْهُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ فَبَاعَهُ وَدَفَعَ إِلَيْهِ ثَمَنَهُ، ← جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ← الْأَنْصَارِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ الزِّمَّانِيُّ، ← زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ حِبَّانَ أَبُو جَابِرٍ بِالْمَوْصِلِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3339

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3340

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ أبو طلحة أكثر أنصار بِالْمَدِينَةَ مَالًا، وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرَحَاءُ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ. قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} (آل عمران: من الآية92) ، قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} (آل عمران: من الآية92) ، وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَاءُ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بَخٍ، ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ، بَخٍ ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا، وَإِنِّي أَرَى اَنْ تَجْعَلَھَا فِی الْاَقْرَبِینَ ، فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَۃَ : اَفْعَلُ یَا رَسُوْلِ اللہِ ، فَقَسَمَھَا اَبُوْ طَلْحَۃَ فِیْ اَقَارِبِہٖ وَبَنِیْ عَمِّہِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: مدینہ منورہ میں حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہہ کی زمینیں انصار میں سب سے زیادہ تھیں اور ان کے نزدیک ان کی سب سے پسند یدہ ملکیت " بیرحاء" نامی باغ تھا جو مسجد کے بالکل مد مقابل تھا۔ نبی اکرم ﷺ اس باغ میں تشریف لایا کرتے تھے اس کا میٹھا پانی پیا کرتے تھے حضرت انس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی۔ " تم لوگ اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جسے تم پسند کرتے ہو۔" تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ " تم لوگ اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جسے تم پسند کرتے ہو۔" میرے نزدیک میرا سب سے پسندیدہ مال " بیر حاء" ہے یہ اللہ کے لیے صدقہ ہے میں اس کے اجرو ثواب کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں امید وار ہوں یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ جہاں چاہیں اسے خرچ کر دیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بہت عمدہ یہ فائدہ بخش مال ہے بہت عمدہ یہ فائدہ بخش مال ہے تم نے اس کے با رے میں جو کہا میں نے وہ سن لیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ تم اس کو اپنے رشتے داروں میں بانٹ دو۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! میں ایسا ہی کروں گا (حضرت انس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں:) ، تو حضرت ابو طلحہ ر ضی اللہ عنہہ نے اپنے قریبی رشتے داروں اور اپنے چچا زاد بھائیوں میں اسے تقسیم کر دیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ، اَنَّہٗ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3340

chevron_left Previous
1…101112…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr