Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3317

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ لَيُرَبِّي لأحدكم التَّمْرَۃَ وَاللُّقْمَۃَ کَمَا یُرَبِّی اَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ اَوْ فَصِیلَہٗ حَتّٰی یَکُوْنَ مِثْلَ اُحُدٍ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: " بے شک اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک کی ایک کھجور یا ایک لقمے کو بڑھاتا ہے ، جس طرح کوئی شخص اپنے جانور کے بچے کو پالتا پوستا ہے، یہاں تک کہ وہ (ایک لقمہ یا ایک کھجور احد پہاڑ کی مانند ہو جاتا ہے)"۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3317

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3318

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَصَدَّقُ بِالتَّمْرَةِ إِذَا كَانَتْ مِنْ طَيِّبٍ -وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ- فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ فِي كَفَّهِ، فَيُرَبِّيهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ، أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى تَكُونَ فِي يَدِهِ جَلَّ وَعَلَا مِثْلَ جبل" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " تم میں سے کوئی ایک شخص جب پاکیزہ کمائی میں سے کوئی کھجور صدقہ کرتا ہے ویسے اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ کمائی کو ہی قبول کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اپنے دست قدرت میں رکھتا ہے اور اسے بڑھانا شروع کرتا ہے، جس طرح کو ئی شخص اپنے جانور کے بچے کو پالتا پوستا ہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں وہ ( ایک کھجور) پہاڑ کی مانند ہو جاتی ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبِي ← جَعْفَرُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3318

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3319

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ تَصَدَّقَ بِعِدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ -وَلَا يَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ إِلَّا الطَّيِّبُ- فَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لصاحبها ما يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو شخص پاکیزہ کمائی میں سے ایک کھجور جتنا بھی صدقہ کرتا ہے ویسے اللہ تعالی ٰ کی بارگاہ میں صرف پاکیزہ چیز ہی پیش ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دست قدرت میں الٹتا پلٹتا ہے پھر وہ اس کرنے والے کے لئے بڑھاتا ہے، جس طرح کوئی شخص اپنے جانور کے بچے کو پالتا پوستا ہے، یہاں تک کہ وہ (ایک کھجور) پہاڑ کی مانند ہو جاتی ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← وَرْقَاءُ ← أَبُو النَّضْرِ، ← عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3319

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3320

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالطَّاعَةِ لِأَزْوَاجِهِنَّ وَقَالَ: "إِنَّ مِنْكُنَّ مَنْ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ -وَجَمَعَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ- وَمِنْكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ، -وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ"، فَقَالَتِ الْمَارِدَةُ أَوِ المرادية (2) : يا رسول الله وَلِمَ ذٰلِکَ ؟ ، قَالَ تَکْفُرْنَ الْعَشِیرَ ، وَتُکْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتُسَوِّفْنَ الْخَیْرَ

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے خواتین کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور شوہر کی فرمانبر داری کی ہدایت کی آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کچھ خواتین جنت میں داخل ہوں گی۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیوں کو جمع کر کے فرمایا: اور تم میں سے کچھ جہنم کا ایندھن بنیں گی پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیوں کو کشادہ کر لیا، تو مار دیا شاید مراد قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اس کی وجہ کیا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم شوہر کی نا شکری کرتی ہو تم لعنت بکثرت کرتی ہو اور بھلائی کی نا شکری کرتی ہو۔

خَطَبَ النَّبِيُّ النِّسَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَعَظَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالطَّاعَةِ لِأَزْوَاجِهِنَّ، ← حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← حزام بن حكيم بن حزام: ← زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3320

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3321

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يُسَلِّمُ، فَيَنْصَرِفُ إِلَى النَّاسِ قَائِمًا فِي مُصَلَّاهُ، ثُمَّ يَجْلِسُ فَيُقْبِلُ عَلَيْهِمْ، وَيَقُولُ لِلنَّاسِ: "تَصَدَّقُوا"، فَكَانَ أَكْثَرُ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَالتِّبْرِ، فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ يبعث على الناس وإلا انصرف (2) .

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن تشریف لے جاتے تھے آپ ﷺ دو رکعات ادا کرتے تھے پھر سلام پھیرتے تھے پھر عید گاہ میں لوگوں کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو جاتے تھے پھر آپ ﷺ تشریف فرما ہوتے تھے او ر لوگوں کی طرف رخ کرتے تھے اور لوگوں سے فرماتے:تم صدقہ و خیرات کرو، تو زیادہ تر خواتین اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ کرتی تھیں۔ اگر نبی اکر مﷺ نے کوئی مہم (روانہ کرنی ہوتی) ، تو اس کے بارے میں بات چیت کر لیتے ورنہ واپس تشریف لے جاتے۔

عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ أَنَّهُ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← هَارُونُ بن معروف ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3321

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3322

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ أَشْهَدُ: على بن عباس أن بن عَبَّاسٍ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى فِي يَوْمِ عِيدٍ، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ (1)

عطاء بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیا ن کرتا ہوں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کی ہے: آپ ﷺ نے پہلے عید کے دن نماز اد ا کی پھر آپﷺ نے خطبہ دیا پھر خواتین کے پاس تشریف لائے اور انہیں صدقہ و خیرات کرنے کا حکم دیا۔

عَطَاءٍ، ← أَيُّوبَ، ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3322

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3323

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَرًّا يُحَدِّثُ عن وائل بن مهانة عن بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِلنِّسَاءِ: "تَصَدَّقْنَ فَاِنّکُنَّ اَکْثَرُ اَھْلِ النَّارِ ، قَالَتِ امْرَاَۃٌ لَیْسَتْ مِنْ عِلْیَۃِ النِّسَاءِ : بِمَ ، اَوْلِمَ ؟ ، قَالَ : اِنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیرَ قَالَ عَبْدُ اللہِ : مَامِنْ نَاقِصَاتِ الْعَقْلِ وَالدَّیْنِ اَغْلَبُ عَلَی الرِّجَالِ ذَوِی الْاَمْرِ عَلٰی اَمْرِ ھِمْ مِنَ النِّسَاءِ ، قِیلَ : وَمَا نُقْصَانُ عَقْلِھَاق وَدِینِھَا ؟ ، قَالَ : امَّا نُقْصَانُ عَقْلِھَا فَاِنَّ شَھَادَۃَ امْرَ اَتَیْنِ بِشَھَادَۃِ رَجُلٍ ، وَاَمَّا نُقْصَانُ دِینِھَا فَاِنَّہٗ یَاْتِیْ عَلٰی اِحْدَا ھِنَّ کَذَا وَکَذَا مِنْ یَّوْمٍ لَا تُصَلِّیْ فِیْہِ صَلَاۃً وَاحِدَۃً

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپﷺ نے خواتین سے فرمایا: "تم صدقہ و خیرات کیا کرو، کیونکہ اہل جہنم میں اکثریت تمہارے ہے ایک خاتون جو کسی بڑے خاندان کی نہیں تھی اس نے دریافت کیا: اس کی وجہ کیا ہے(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کیوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لعنت بکثرت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو"۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہہ فرماتے ہیں : عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص خواتین لوگوں کے معاملات میں سمجھدار لوگوں پر غالب آجاتی ہیں دریافت کیا گیا: ان خواتین کی عقل اور دین میں کیا کمی ہے، تو انہوں نے فرمایا: جہاں تک ان کی عقل کا تعلق ہے اس کی صورت یہ ہے کہ دو خواتین کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوتی ہے جہاں تک ان کے دین کی کمی کا تعلق ہے تو اس کی صورت یہ ہے کہ ہر عورت پر کچھ ایسے دن آتے ہیں جن میں وہ ایک بھی نماز ادا نہیں کر سکتی۔

اِنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیرَ ← امْرَاَۃٌ لَیْسَتْ مِنْ عِلْیَۃِ النِّسَاءِ بِمَ اَوْلِمَ ← لِلنِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ ← بن مَسْعُودٍ ← وائل بن مهانة ← ذَرًّا، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3323

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3324

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ". قَالَ سُفْيَانُ: العاني: الأسير (1) .

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشادفر مایا ہے: " بھوکے کو کھانا کھلاو ،بیمار کی عیادت کرو اور قیدی کو رہا کرواو۔" سفیان نامی راوی کہتے ہیں: (راوی کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ) العانی سے مراد قیدی ہے۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3324

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3325

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ يَوْمَ فِطْرٍ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى، فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ خَطَبَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا يَوْمُ صَدَقَةٍ فَتَصَدَّقُوا". قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْزِعُ خَاتَمَهُ، وَالرَّجُلُ يَنْزِعُ ثَوْبَهُ، وَبِلَالٌ يَقْبِضُ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَرَ أَحَدًا يُعْطِي شَيْئًا، تَقَدَّمَ إِلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ: "يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، إِنَّ هَذَا يَوْمُ صَدَقَةٍ فَتَصَدَّقْنَ"، فَجَعَلْتِ الْمَرْأَةُ تَنْزِعُ خُرْصَهَا وَخَاتَمَهَا، وَجَعَلْتِ الْمَرْأَةُ تَنْزِعُ خُلْخَالَهَا، وَبِلَالٌ يَقْبِضُ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَرَ أَحَدًا يُعْطِي شَيْئًا أَقْبَلَ بِلَالٌ وأقبلنا (1) .

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما عیدالفطر کے دن نکلے نبی اکرم ﷺ بھی عید گاہ کی طرف تشریف لائے آپﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی پھر نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو! یہ صدقہ کرنے کا دن ہے، تو تم لوگ صدقہ وخیرا ت کرو۔ راوی کہتے ہیں: تو کسی نے اپنی انگوٹھی اتار دی ، کسی نے اپنا کپڑا اتارا ( یعنی اضافی چادر اتاردی ) حضرت بلال رضی اللہ عنہہ انہیں وصول کرتے رہے، یہاں تک کہ جب نبی اکرمﷺ نے دیکھا کہ کوئی شخص ایسا نہیں رہا جس نے کچھ دینا ہو تا آپﷺ خواتین کی طرف بڑھ گئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے خواتین کے گروہ یہ صدقہ کرنے کا دن ہے، توتم صدقہ کرو ، تو کسی عورت نے اپنا ہار اتا را ، کسی نے انگوٹھی اتار دی، کسی نے اپنی پازیبیں اتار یں۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہہ انہیں وصول کرتے رہے، یہاں تک کہ جب نبی اکرم ﷺ نے ملاحظہ کیا کہ کوئی دینے والا باقی نہیں رہا ، تو حضرت بلال رضی اللہ عنہہ واپس آگئے اور ہم بھی واپس آگئے۔

"يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا يَوْمُ صَدَقَةٍ فَتَصَدَّقُوا". ← خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى الْمُصَلَّى، فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ خَطَبَ ← وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ يَوْمَ فِطْرٍ، ← خَرَجْتُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3325

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3326

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَسَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ يَقُولُ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَرَّةِ الْمَدِينَةِ مُمْسِيًا، فَاسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ، فَقَالَ: "يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا أُمْسِي ثَالِثَةً وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ، إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا - يَعْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ" - ثُمَّ قَالَ: "يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". ثُمَّ قَالَ لِي: "لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ". فَانْطَلَقَ، ثُمَّ جَاءَ فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ ضِرَارَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَمَمْتُ أَنْ أَنْطَلِقَ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ، فَجَلَسْتُ حَتَّى جَاءَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ آتِيَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَكَ لِي، وَسَمِعْتُ صَوْتًا، قَالَ: "ذَاكَ جِبْرِيلُ جَاءَنِي، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ من مات مِنْ اُمَّتِی لَا یُشْرِکُ بِاللہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ ، فَقُلْتَ وَاِنْ زنَی ، وَاِنْ سَرَقَ ، فَقَالَ : وَاِنْ سَرَقَ قَالَ جَرِیْرٌ : قَالَ الْاَعْمَشُ ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ ، عَنْ اَبِیْ الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ ذٰلِکَ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : اُضْمِرَ فِیْ ھٰذَا الْخَبَرِ شَرْطَانِ : اَحَدُھُمَا اَنَّؒ مَنْ مَاَ لَا یُشْرِکُ بِاللہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ اِنْ تَفَضَّلُ اللہُ جَلَّ وَعَلَا عَلَیْہِ بِالْعَفْوِ عَنْ جِنَایَتِہِ الَّتِی لَہٗ فِیْ دَارِ الدُّنْیَا ، لِاَنَّ الْمَرْءَ لَا یَخْلُو مِنَ ارْتِکَابِ بَعْضِ مَا حُظِرَ عَلَیْہِ فِی الدُّنْیَا ، اُضْمِرَفِی الْخَبَرِ ھٰذَا الشَّرْطُ ، وَالشُّرْطُ الثّانِی : مَنْ مَاتَ لَا یُشْرِکُ بِاللہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ ، یُرِیْدُ بَعْدَ تَعْذِیبِہٖ اِیَّاہُ فِی النَّارِ ، نَعُوذُ بِاللہِ مِنْھَا ، اِنْ لَّمْ یَتَفَضَّلْ عَلَیْہِ بِالْعَفْوِ قَبْلَ ذٰلِکَ لِئَلَّا یَبْقَی فِی النَّارِ مَعَ مَنْ اَشْرَکَ بِہٖ فِی الدُّنْیَا ، فَھٰذَا الشَّرْطَانِ مُضْمَرَانِ فِیْ ھٰذَا الْخَبَرِ ، لَا اَنَّ کُلَّ مَنْ مَاتَ وَلَا یُشْرِکُ بِاللہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ لَا مُحَالَۃَ

زید بن وہب بیان کرتے ہیں: اللہ کے نام کی گواہی دے کر میں یہ بات بیان کرتا ہوں میں نے ربذہ میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہہ کو یہ بات بیان کرتے ہووے سنا ایک مرتبہ میں شام کے وقت مدینہ منورہ کے پتھریلے علاقے میں نبی اکرم ﷺ کےساتھ چل رہا تھا ہمارے پاس احد جتنا سونا ہو اور پھر اس سے تیسر ے دن شام کے وقت میرے پاس ان میں سے ایک بھی دینار باقی ہو، ماسوائے اس دینار کے ، جسے میں نے قرض کی واپسی کے لئے سنبھال کے رکھا ہو میں اس سونے کے بارے میں اللہ کے بندوں کے بارے میں یہی کہتا رہوں گا کہ اسے اتنا دے دو اسے اتنا دے دو یعنی اپنے آگے اپنے پیچھے اپنے دائیں اپنے بائیں خرچ کر تا رہوں گا پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ابو ذر (دنیا میں مال و دولت کے اعتبار سے ) کثرت رکھنے والے لوگو قیامت کے دن (اجرو ثواب کے حوالے کمی رکھنے والے ہوں گے پھر آپ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: تم اپنی جگہ پر رہنا جب تک میں تمہارے پاس آتا نہیں ہوں۔ نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے پھر آپ ﷺ رات کی تاریکی پھیل جانے کے بعد تشریف لائے میں نے ایک آواز سنی، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں نبی اکرم ﷺ کو کوئی نقصان نہ پہنچا ہو، میں روانہ ہونے لگا پھر مجھے نبی اکرم ﷺ کی ہدایت یاد آئی، تو میں اپنی جگہ بیٹھا رہا، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ خود ہی تشریف لے آئے میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے پہلے یہ ارادہ کیا کہ میں آپ ﷺ کے پاس آتا ہوں ، لیکن پھر آپ ﷺ کا فرمان مجھے یاد آگیا میں نے ایک آواز سنی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ جبرائیل علیہ السلام تھے وہ میرے پاس آئے انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت کا جو بھی شخص ایسی حالت میں فوت ہو کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا میں نے دریافت کیا: اگر چہ وہ زنا کرے یا وہ چوری کرے؟ انہوں نے کہا: اگر چہ وہ زنا کرے یا چوری کرے۔ جریر نامی راوی کہتے ہیں: یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے اسی کی مانند منقول ہے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : اس روایت میں دووضاحتیں پوشیدہ ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے: جو شخص ایسی حالت میں مر جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے تحت اس کے ان گناہوں کو معاف کر دے جن کا ارتکاب اس نے دنیا میں کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے : آدمی اس دنیا میں کسی نہ کسی ممنوعہ چیز کا ارتکاب کر ہی لتا ہے، تو اس روایت میں یہ شرط پوشیدہ ہوگی اور دوسری شرط یہ ہے: کوئی شخص ایسی حالت میں انتقال کرتا ہے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہے وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ اس سے مراد یہ ہے: اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں کچھ عرصہ کے لئے عذاب دے گا۔ ہم جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ یہ اس وقت ہو گا جب اللہ تعالی اپنے فضل کے تحت اسے معاف نہ کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے تا کہ جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں جو دنیا میں کسی کو اس کا شریک ٹھہراتے تھے تو یہ دونوں شرطیں اس روایت میں پوشیدہ ہیں۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہر وہ شخص جو اسی حالت میں انتقال کر جائے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ لا محالہ طور پر جنت میں داخل ہو گا۔

زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ، وَعِيسَى بْنُ2 يُونُسَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3326

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3327

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ اَبِیْہِ ، قَالَ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ یَقْرَاُ: (اَلْھَا کُمُ التَّکَاثُرُ) (التکائر :1) قَال : یَقُوْلُ ابْنُ آدَمَ : مَالِی ، وَھَلْ لَکَ مِنْ مَالِکَ اِلَّا مَا اَکَلْتَ فَاَفْنَیْتَ ، اَوْلَبِسْتَ ، اَوْ لَبِسْتَ فَاَبْلَیْتَ ، اَوْ تَصَدَّقْتَ فَاَمْضَیْتَ

مطرف بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ اس وقت یہ آیت تلاوت کر رہے تھے: "کثرت تمہیں غافل کر دے گی"۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آدم کا بیٹا کہتا ہے میرا مال میرا مال، حالانکہ تمہارا مال صرف وہ ہے ، جسے تم کھا کر فنا کر دو یا ، جسے تم پہن کر پرانا کر دو، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دو۔

اَتَیْتُ النَّبِیَّ وَھُوَ یَقْرَاُ: (اَلْھَا کُمُ التَّکَاثُرُ) (التکائر ← أَبِيهِ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3327

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ · حديث 3328

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِي، وَإِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ مَا أَكَلَ فَأَفْنَى، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى، أَوْ تَصَدَّقَ فَأَمْضَى، وَمَا سِوَاهُ، فَهُوَ ذاهب وتاركه للناس" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " بندہ کہتا ہے میرا مال ، حالانکہ اس کے مال میں سے اس کا حصہ صرف وہ ہے، جسے وہ کھا کر فنا کر دے یا پہن کر پرانا کر دے یا صدقہ کر کے آگے بھیج دے اس کے علاوہ بھی ہے، تو آدمی چلا جائے گا اور اسے لوگوں کے لئے چھوڑ جائے گا۔ اس بات کی اطلاع کا تذکرہ کہ آدمی کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ اس نے اپنی ذات کے لیے جو آگے بھیجا ہے اس میں برخلاف ہونے کی توقع رکھے اورجب وہ روک دیتا ہے تو اس کے متضاد ہونے کی توقع رکھے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of voluntary charity · Hadith 3328

chevron_left Previous
1…91011…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr