Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3209

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، (1) عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَفَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَتْ إِذَا أَنْفَقَتْ شَيْئًا تُحْصِي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَنْفِقِي وَلَا تُحْصِي، فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ، وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ" (2) . وَلَا تُوعِی فَیُوعِیَ اللہُ عَلَیْکِ

سیّدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: وہ جب کوئی چیز خرچ کرتی تھیں تو اس کی گنتی کیا کرتی تھیں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم گنتی کیے بغیر خرچ کیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن کر عطا کرے گا اور تم ( رقم کی تھیلی کا ) منہ بند نہ رکھا کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں دیتے ہوئے ( رقم کی تھیلی کا ) منہ بند کر لے گا۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَتْ إِذَا أَنْفَقَتْ شَيْئًا تُحْصِي، ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَفَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on collecting money from its solution and related to that · Hadith 3209

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3210

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عليٍّ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ (1) الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا عَمْرُو نِعْمَ المال الصالح مع الرجل الصالح" (2) قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ :سَمِعَ ھٰذَا الْخَبَرَ عَلِیُّ بْنُ زَبَاحٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَسَمِعَہٗ مِنْ اَبِیْ الْقَیْسِ بَدَلَ عَمْرٍو ، عَنْ عَمْرٍو فَالطَّرِیْقَانِ جَمِیْعًا مَحْفُوْظَانِ

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: "اے عمرو! سب سے اچھا مال وہ نیک مال ہے، جو نیک آدمی کے پاس ہو۔" ( امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) علی بن رباح نامی راوی نے یہ روایت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہہ سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت ابو قیس کے حوالے سے حضرت عمرو رضی اللہ عنہہ سے سنی ہے اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي أَنَّهُ ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on collecting money from its solution and related to that · Hadith 3210

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3211

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا عَمْرُو اشْدُدْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ وَثِيَابَكَ" قَالَ: فَفَعَلْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَوَجَدْتُهُ يَتَوَضَّأُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ وَصَوَّبَهُ قَالَ: "يَا عَمْرُو، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ وَجْهًا فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ، وَأَزْعَبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ زَعْبَةً صَالِحَةً". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أُسْلِمْ رَغْبَةً فِي الْمَالِ، إِنَّمَا أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْجِهَادِ وَالْكَيْنُونَةِ مَعَكَ. قَالَ: "يَا عَمْرُو، نِعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ مَعَ الرجل الصالح" (1) .

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اے عمرو ! تم اپنے ہتھیار اور کپڑوں کو اپنے اوپر باندھ لو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ایسا ہی کیا پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے آپ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے پایا۔ آپﷺ نے اپنا سر اٹھا یا اور میرا نیچے سے لے کر اوپر تک جائزہ لیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عمرو! میں تمہیں ایک مہم پر روانہ کرنا چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ تمہیں سلامت رکھے اور تمہیں مال غنیمت عطا کرے اور میں تمہیں مالِ غنیمت میں سے حصہ بھی دوں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ ! میں نے مال کی دلچسپی کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا میں نے ، تو جہاد میں حصہ لینے کے لئے اور آپﷺ کے ہمراہ رہنے کے لئے اسلام قبول لیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عمر ! وہ مال بہت اچھا ہے ، جو پاک ہو اور نیک آدمی کے پاس ہو۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on collecting money from its solution and related to that · Hadith 3211

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3212

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ وَجَعِہِ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ : یَا عَائِشَۃُ مَا فَعَلْتِ الذَّھَبُ ، قَالَتْ : قُلْتُ : ھِیَ عِنْدِیْ ، قَالَ : فَاْتِینِیْ بِھَا وَھِیَ بَیْنَ السَّبْعَۃِ وَالْخَمْسَۃِ فَجِئْتُ فَوَضُعْتُھَا فِیْ کَفِّہِ ، ثُمَّ قَالَ مَا ظَنُّ مُحَمَّدِ بِاللہِ لَوْ لَقِیَ اللہَ وَھٰذِہِ عِنْدَہٗ ، اَنْفِقِیھَا

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جس بیماری کے دوران نبی اکرمﷺ کا وصال ہوا اس میں آپﷺ نے ارشادفر مایا: اے عائشہ ! اس سونے کا کیا ہوا؟ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کی: وہ میرے پاس ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کر آو، وہ سات یا پانچ ( اوقیہ) تھا میں اسے لے کر آئی میں نے اسے نبی اکرم ﷺ کی ہتھیلی پر رکھا پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: محمد کا اللہ تعالیٰ کے بارے میں کیا گمان ہوگا اگر وہ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ یہ ( سونا ) اس کے پاس ہو تم اسے خرچ کر دو۔

عَائِشَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on collecting money from its solution and related to that · Hadith 3212

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3213

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: لَوْ رَأَيْتُمَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي مَرَضٍ لَهُ وَكَانَتْ لَهُ عِنْدِي سِتَّةُ دَنَانِيرَ أَوْ سَبْعَةٌ. قَالَتْ: فَأَمَرَنِي أَنْ أُفَرِّقَهَا، فَشَغَلَنِي وَجَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عَافَاهُ اللَّهُ. قَالَتْ: ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا، فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ قَدْ كَانَ شَغَلَنِي وَجَعُكَ. قَالَتْ: فَدَعَا بِهَا فَوَضَعَهَا فِي كَفِّهِ، ثُمَّ قَالَ: "مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عنده؟! " (1) .

ابو امامہ بن سہل بیان کرتے ہیں: میں اور عروہ بن زبیر سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے فرمایا: کاش تم اس دن اللہ کے نبی ﷺ کو دیکھتے جب آپ ﷺ بیمار تھے اس وقت نبی اکرم ﷺ کے چھ یا شاید سات دینار میرے پاس موجود تھے۔ سیّد ہ عائشہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے مجھے ہدایت کی کہ میں انہیں خرچ کر دوں، لیکن نبی اکرم ﷺ کی بیمار ی کی وجہ سے میں ایسا نہ کر سکی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی طبیعت بہتر کی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا: تو میں نے عرض کی : جی نہیں اللہ کی قسم! آپ ﷺ کی بیماری کی وجہ سے میں انہیں خرچ نہیں کر سکی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے انہیں منگوایا اور انہیں اپنی ہتھیلی پر رکھا پھر آپ ﷺ نے ارشادفر مایا: اللہ کے نبی کا کیا گمان ہوگا اگر وہ ایسی حالت میں اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ یہ اس کے پاس ہو۔

وعروة بن الزبير على عائشة ← دَخَلْتُ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ، ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on collecting money from its solution and related to that · Hadith 3213

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3214

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحُسَيْنِ (1) بْنِ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ (2) أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا لِي ذَهَبًا يَأْتِي علي ثلاث وعندي منه دينار غير شَیْءٍ اَرْصُدُہُ فِیْ دَیْنٍ عَلَیَّ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابوالقاسم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ " مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو اور پھر تین دن گزرنے کے بعد ان میں سے ایک دینار بھی میرے پاس ہو، ماسوائے اس اس کے، جسے میں نے قرض کی ادائیگی کے لئے سنبھال کے رکھا ہو۔"

اَبَا الْقَاسِمِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on collecting money from its solution and related to that · Hadith 3214

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3215

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَعْطَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنَّا، وَحَسَنِ طُعْمَةٍ مِنْهُ، مِنْ غَيْرِ شَرِهِ نَفْسٍ، بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَعْطَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنَّا، وَحَسَنِ طُعْمَةٍ مِنْهُ وَإِشْرَافِ نَفْسٍ، كَانَ غير مبارك له فيه" (1) .

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: بے شک دنیا سر سبزاور میٹھی ہے ہم ا س میں سے جو چیز اپنی خوشی کے ساتھ اور لینے والے کے لالچ کے بغیر اسے دیں جس میں اس کے نفس کی برائی نہ ہو، تو اس چیز میں اس شخص کے لئے برکت رکھی جائے گی اور جسے ہم اپنی خوشی کے بغیر اسے دیں اور اس میں اس کا لالچ بھی شامل ہو، تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں ہو گی۔ اس بات کے بیان کا تذکرہ کہ جب آدمی اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو نکال دیتا ہے تو اب اس پر اس کے علاوہ کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی البتہ اگر وہ نقلی طور پر ( کچھ دینا چاہے تو یہ جائز ہے)

النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← شَرِيکٍ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on collecting money from its solution and related to that · Hadith 3215

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3216

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ يَقُولُ: حدثني دراج أبو السمح، عن بن حُجَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ، فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ فِيهِ، وَمَنْ جَمَعَ مَالًا حَرَامًا، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهِ، لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ، وَكَانَ إِصْرُهُ عليه" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جب تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دو ، تو تم نے اپنے ذمے لازم فرض کو ادا کر دیا اور جو شخص حرام طور پر مال کو جمع کرتا ہے اور پھر اسے صدقہ کرتا ہے اسے اس کا اجر نہیں ملتا، البتہ اس کا وبال اس کے ذمے ہوتا تھا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن حُجَيْرَةَ ← دراج أبو السمح، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on collecting money from its solution and related to that · Hadith 3216

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3217

أَخْبَرَنَا الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ وَالْاَوَّلُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، وَاِنَّ الْاَکْثَرِ یْنِ ھُمُ الْاَسْفَلُوْنَ ، اِلَّا مَنْ قَالَ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا عَنْ یَّمِیْنِہ، وَعَنْ یَّسَارِہِ ، وَمِنْ خَلْقِہِ وَبَیْنَ یَدَیْہِ ، وَیَحْثِی بِثَوْبِہِ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "(دنیا میں آنے کےحساب سے) ہم آخر والے ہیں، لیکن قیامت کے دن پہلے والے ہوں گے (دنیا میں مال و دولت کے اعتبار سے) کثرت والے لوگ لوگ (آخرت میں اجر و ثواب کے اعتبار سے) کم حیثیت کے مالک ہوں گے، ماسوائے اس شخص کے، جو اپنے دائیں طرف اپنے بائیں طرف اپنے پیچھے اپنے آگے اس طرح اور اس طرح کہے اور اپنے کپڑے کو پھیلائے (یعنی اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرے)"

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← الْفِرْيَابِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on collecting money from its solution and related to that · Hadith 3217

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3218

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ، وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ، وَعَبْدُ الْقَطِيفَةِ، وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ، إن أعطي رضي، وإن منع سخط " (1)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " دینار کا بندہ ، درہم کا بندہ، چادر کا بندہ، قمیض کا بندہ برباد ہو جائے کہ اگر اسے کچھ دیا جائے، تو وہ راضی رہتا ہے اور اگر نہ دیا جائے ، تو ناراض ہو جاتا ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ، ← أَبُو يَعْلَى بِالْمَوْصِلِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on collecting money from its solution and related to that · Hadith 3218

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3219

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنِي فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "قلب بن آدَمَ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ: طُولِ الْعُمُرِ والمال" (1)

انسان کی فطرت کا حصہ ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں ان دونوں کی محبت سے بچاکر رکھے، ما سوائے اس کے کہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے قریب کے حصول کا ذریعہ بنیں

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أُسَامَةَ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on collecting money from its solution and related to that · Hadith 3219

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ جَمْعِ الْمَالِ مِنْ حِلِّهِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ · حديث 3220

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ حَدَّثَاهُ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ، لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى". قَالَ حَكِيمُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا. قَالَ عُرْوَةُ وَسَعِيدٌ: فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَدْعُو حَكِيمًا فَيُعْطِيهِ الْعَطَاءَ فَيَأْبَى، ثُمَّ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُعْطِيهِ فَيَأْبَى، فَيَقُولُ عُمَرُ: إِنِّي أُشْهِدُكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ الَّذِي قُسِمَ لَهُ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ فَيَأْبَى يَأْخُذُهُ. قَالَ: فَلَمْ يَرْزَأْ حَكِيمٌ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى توفي" (1) .

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے کچھ مانگا آپ ﷺ نے مجھے عطاکر دیا پھر میں نے نبی اکرم ﷺ سے مانگا آپ ﷺ نے پھر عطا کر دیا میں نے پھر آپ ﷺ سے مانگا آپﷺ نے پھر عطا کر دیا میں نے پھر ﷺسے مانگا آپ ﷺ نے پھر عطا کر دیا پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے حکیم بن حزام یہ مال مزید ار اور سر سبز ہے، جو شخص مزاج کی سخاوت کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اورجو شخص لالچ کے ہمرا اسے حاصل کرتا ہے اس کے لئے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی اور اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہوتی ہے ، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ حضرت حکیم رضی اللہ عنہہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! اس ذات کی قسم! جس نے آپ ﷺ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے آپﷺ کے بعد میں مرتے دم تک کسی سے کوئی چیز نہیں مانگوں گا۔عروہ اور سعید نامی راوی بیان کرتے ہیں: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ نے (اپنے عہد خلافت میں) حضرت حکیم رضی اللہ عنہہ کو بلایا اور انہیں کچھ ادائیگی کرنا چاہی، تو انہوں نے وہ لینے سے انکار کر دیا، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ نے (اپنے عہد خلافت میں) انہیں کچھ دینا چاہا، تو انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: اے مسلمانوں کے گروہ میں حکیم بن حزام کے بارے میں تم لوگو ں کو گواہ بنا رہا ہوں کہ میں نے ان کا حق ان کے سامنے رکھا تھا جو مال غنیمت میں سے ان کا حصہ بنتا ہے، تو انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول ﷺ کے (وصال ظاہری کے بعد) حضرت حکیم رضی اللہ عنہہ نے مرتے دم تک کسی سے کچھ نہیں مانگا۔

سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ حَدَّثَاهُ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ← ابْنِ شِھَابٍ اَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter on collecting money from its solution and related to that · Hadith 3220

chevron_left Previous
1234…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr