Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2027

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلَیْفَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوْسٰی بْنُ اِسْمَا عِیْلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی ، عَنْ صُھَیْبٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ اَیَامَ خَیْبَرَ یُحَرِّ کُ شَفَتَیْہِ بِشٰیْءٍ بَعْدَ صَلَاۃِ الْفَجْرِ ، فَقِیلَ لَہٗ : یَا رَسُوْلَ اللہِ ، اِنَّکَ تُحَرِّکُ شَفَتَیْکَ بِشَیْءٍ مَا کُنْتَ تَفْعَلُہٗ، فَمَا ھٰذَا الَّذِی تَقُوْلُ؟ قَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَقُرْلُ: اللھُمَّ اُحَاوِلُ، وَبِکَ اُقَاتِلُ ، وَبِکَ اُصَاوِلُ

حضرت صہیبؓ بیان کرتے ہیں:جنگ خیبر کے دوران نبی اکرمﷺ فجر کی نماز کے بعد اپنے ہونٹوں کو حرکت دے کر کچھ پڑھ رہے تھے۔ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی:یا رسول اللہ(ﷺ) ! آپ اپنے ہونٹوں کو حرکت دے کر کیا پڑھ رہے تھے؟ وہ کیا چیز ہے، جو آپ کہہ رہے تھے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میں یہ پڑھ رہا تھا۔ اے اللہ! میں تیری مدد سے بچاؤ کرتاہوں تیری مدد سے جنگ کرتا ہوں اور تیری مدد سے حملہ کرتا ہوں۔

صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوْسٰی بْنُ اِسْمَا عِیْلَ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 2027

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2028

اَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ اَبِیْ مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا اَبُو الْاَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اِذَا صَلَّی الْفَجْرَ جَلَسَ فِیْ مَجْلِسِہِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرمﷺجب فجر کی نماز پڑھ لیتے تھے ، تو سورج نکلنے تک اسی جگہ تشریف فرمارہتے تھے۔

کَانَ رَسُوْلُ اللہِ اِذَا صَلَّی الْفَجْرَ جَلَسَ فِیْ مَجْلِسِہِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Hadith 2028

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2029

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْجُنَیْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُو الْاَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِذَا سَلَّی الْفَجْرَ، قَعَدَ فِیْ مُصَلَّاہُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو آپ اپنی جائے نماز پر سورج نکلنے تک تشریف فرمارہتے تھے۔

کَانَ رَسُوْلُ اللہِ اِذَا سَلَّی الْفَجْرَ، قَعَدَ فِیْ مُصَلَّاہُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 2029

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2030

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: اَنَّ اُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ ، وَرَجُلًا آخَرَ مِنَ الْاَنْصَارِ ، تَحَدَّثَا عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لَیْلَۃً حَتٰی ذَھَبَ مِنَ اللَّیْلِ سَاعَۃٌ، فِیْ لَیْلَۃٍ شَدِیْدَۃِ الظُّلْمَۃِ ، ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْقَلِبَانِ وَبِیَدِ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا عَصَاہُ، فَاَضَائَتْ عَصًا اَحَدِھِمَا لَھُمَا حَتّٰی مَشَیَا فِیْ ضَوْئھَا، حَتّٰی اِذَا اَفْتَرَقَتْ بِھِمَا الطَّرِیْقُ اَضَائَتْ بِالْاخَرِ عَصَاہُ، فَمَشَی کُلُّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا فِیْ ضَوْئھَا حَتّٰی بَلَغَ اَھْلَہٗ۔

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں:حضرت اُسید بن حضیر ؓ اور ایک اور انصاری نبی اکرمﷺ کے پاس رات گئے تک بیٹھے بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر گیا وہ رات انتہائی تاریک تھی۔ یہ دونوں حضرات نبی اکرمﷺ کے پاس سے اٹھ کر واپس جانے لگے ، تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھڑی تھی۔ ان میں سے ایک کی چھڑی ان کے لئے روشنی کرتی رہی ، یہاں تک کہ یہ دونوں حضرات اس کی روشنی میں چلتے رہے۔ جب راستے میں یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے، تو دوسرے صاحب کی چھری بھی روشن ہوگئی اور ان میں سے ہر ایک اپنی چھڑی کی روشنی میں چلتا ہوا اپنے گھر تک پہنچ گیا۔

ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2030

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2031

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھَمَّامٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائبَ، عَنْ اَبِیْ وَائلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ: جَدَّبَ لَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (السَّمَرَ) بَعْدَ صَلَاۃِ الْعَتَمَۃِ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں:اللہ کے رسولﷺ نے ہمارے لئے عشاء کی نماز کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند قرار دیاہے۔

جَدَّبَ لَنَا رَسُوْلُ اللہِ (السَّمَرَ) بَعْدَ صَلَاۃِ الْعَتَمَۃِ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي وَائِلٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2031

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2032

اَخْبَرَنَا الْ حَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: اَنَّ عَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ، وَاُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ، خَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ لَیْلَۃٍ طَلْمَاءَ حِنْدِسٍ، فَکَانَ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا عَصًا، فَاَضَائَتْ عَصَا اَحَدِ ھِمَا کَاَشَدِّ شَیْءٍ، فَلَمَّا تَفَرَّقَا اَضَائَتْ عَصَا کُلِّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں:حضرت عباد بن بشرؓ اور حضرت اسید بن حضیر ؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت سے ایک تاریک رات میں اٹھے تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے پاس اپنی لاٹھی تھی۔ ان دونوں میں سے ایک کی لاٹھی انتہائی روشن ہوگئی جب یہ دونوں (واپس جاتے ہوئے راستے میں) ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے ، تو ان دونوں میں سے ہر ایک کی لاٹھی روشن ہوگئی ۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْ حَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ

Hadith 2032

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2033

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عَلِیٍّ ، الْحَنَفِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: انْظَرْنَا الْحَسَنَ، وَرَاثَ عَلَیْنَا حَتّٰی قَرُبْنَا مِنْ وَّقْتِ قِیَامِہٖ، جَاءَ، فَقَالَ : دَعَانَا جِیرَانْنَا ھٰؤُلَاءِ ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: انْتَظَرْنَا النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ، حَتّٰی کَانَ شَطْرُ اللَّیْلِ، فَجَاءَ، فَصَلّٰی لَنَا ، ثُمَّ خَطَبَنَا فَقَالَ: اِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا، وَرَقَدُوْا، وَاِنَّکُمْ لَنْ تَزَالُوْا فِیْ صَلَاۃٍ مُذِ انْتَظَرْ تُمُ الصَّلَاۃَ قَالَ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: اِنَّ الْقَوْمَ لَا یَزَالُوْنَ بِخَیْرٍ مَا انْتَظَرُوْا الْخَیْرَ

قرہ بن خالد بیان کرتے ہیں:ہم حسن بصری کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ کافی دیر تک ہمارے پاس نہیں آئے، یہاں تک کہ جب ان کے اٹھنے کا وقت قریب آیا، تو وہ اس وقت تشریف لے آئے۔ انہوں نے فرمایا: ہمارے ان پڑوسیوں نے بلالیا تھا، پھر انہوں نے یہ بات بتائی۔ حضرت انس بن مالک ؓ نے یہ بات بیان کی ہے۔ ایک رات ہم نبی اکرمﷺ کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ نصف رات ہوگئی پھر آپ تشریف لائے آپ نے ہمیں نماز پڑھائی پھر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: لوگ نماز ادا کر کے سو بھی چکے ہیں اور تم لوگ جب سے نماز کا انتظار کررہے تھے نماز کی حالت میں شمار ہوگے۔ حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں:جو لوگ بھلائی کا جب تک انتظار کرتے رہتے ہیں وہ بھلائی کی حالت میں شمارہوتے ہیں۔

قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 2033

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2034

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الْاَعْمَشِ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَزَالُ یَسْمُرُ عِنْدَ اَبِیْ بَکْرٍ اللَّیْلَۃَ فِی الْاَمْرِ مِنْ اُمُورِ الْمُسلِمِیْنِ وَاِنَّہٗ سَمَرَ عِنْدَہٗ ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَاَنَا مَعَہٗ۔

حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں:ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ حضرت ابوبکر ؓ کے ہاں رات کے وقت مسلمانوں کے کسی معاملے سے متعلق بات چیت کرتے رہے۔ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر ؓ نبی اکرمﷺ کے ہاں رات کے وقت بات چیت کرتے رہے۔ میں اس وقت ان کے ساتھ تھا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2034

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2035

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْجُنَیْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ ذَاتَ یَوْمٍ، فَعَرَضَ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَکَلَّمَہٗ فِیْ حَاجَۃٍ لَہٗ ھُوِ یًّامِنَ اللَّیْلِ حَتّٰی نَعَسَ بَعْضُ الْقَوْمِ

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں:ایک دن نماز قائم ہوگئی تو نبی اکرمﷺ کے پاس ایک شخص آیا اس نے پست آواز میں آپ کے ساتھ اپنی کسی ضرورت کے بارے میں بات چیت کی۔ یہ رات کے وقت کی بات ہے(یہ بات چیت اتنی طویل ہوگئی )، حاضرین میں سے بعض لوگ سوگئے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← هُشَيْمٌ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 2035

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr