Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2016

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثنٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَھْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَزِیدَ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَبَّحَ اللہَ فِیْ دُبْرِ کُلِّ صَلَاۃٍ ثَلَاثِینَ، وَحَمَدَہٗ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ، وَکَبَّرَہُ ثَلَاثًاوَثَلَاثِینَ، فَتِلْکَ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ، وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَۃِ : لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ ، لَہٗ الْمُلْکُ ، وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ، غُفِرَتْ لَہٗ خَطَایَاہُ وَاِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ تینتیس مرتبہ الحمد اللہ پڑھتا ہے تینتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھتا ہے، تو یہ ننانوے بن جاتے ہیں۔ وہ اس کلمے کو پڑھ کر سوکومکمل کرے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی ایک معبود ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ (نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں) تو اس شخص کے گناہوں کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ اگر چہ وہ سمندرکی جھاگ کے برابر ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2016

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2017

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ قُدَامَۃَ عُبَیْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ ، عَنْ کَثِیْرِ بْنِ اَفْلَحَ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، اَنَّہٗ قَالَ: اُمِرْنَا اَنْ نُسَبِّحَ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ، وَنُحِمِّدَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ، وَنُکَبِّرَ اَرْبَعًا وَثَلَاثِینَ ، فَاُبِیَ رَجُلٌ فِیْ مَنَامِہٖ، فَقِیلَ لَہٗ : اِنَّہٗ اَمَرَکُمْ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اَنْ تُسَبِّحُوا فِیْ دُبُرُ کُلُّ صَلَاۃٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ، وَتُحَمِّدُ وا ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ ، وَتُکَبِّرُ وْا اَرْبَعًا وَثَلَاثِینَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اجْعَلُوھَا خَمْسًا وَعِشْرِیْنَ، وَاجْعَلُوْا فَیْہِ التَّھْلِیْلَ، فَلَمَّا اَصبَحَ، اَتَی رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَاَخْبَرَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَافْعَلُوْہُ

حضرت زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں: ہمیں ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ پڑھنے، تینتیس مرتبہ الحمد اللہ پڑھنے اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا حکم دیا گیا پھر ان کے خواب میں ایک شخص آیا اور ان سے کہا گیا:حضرت محمدﷺ نے آپ کو ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ پڑھے ، تینتیس مرتبہ الحمد اللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ حضرت زید نے جواب دیا:جی ہاں ، تو اس شخص نے کہا: آپ اسے پچیس پچیس مرتبہ پڑھ لیں اور اس میں لا الہ الا اللہ کو بھی شامل کرلیں جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا : تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:تم ایسا کرلو۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2017

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2018

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائبِ ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: خَصْلَتَانِ لَا یُحْصِیھِمَا عَبْدٌ اِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَھُمَا یَسِیْرً وَمَنْ یَّعْمَلُ بِھِمَا قَلِیْلٌ ، یُسبْحُ اللہَ اَحَدُکُمْ فِیْ دُبُرُ کُلُّ صَلَاۃٍ عَشْرًا، وَیُحَمِّدُہُ عَشْرًا، وَیُکَبِّرُ ہُ عَشْرًا، فَتِلْکَ خَمْسُونَ وَمِائَۃٌ بِاللِّسَانِ ، وَاَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَۃٍ فِی الْمِیزَانِ، وَاِذَا اَویٰ اِلٰی فِرَاشِہِ یُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ، وَیُحَمِّدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ ، وَیُکَبِّرُ اَرْبَعًا وَثَلَاثِین، فَتِلْکَ مِائَۃٌ بَاللِّسَانِ ، وَاَلْفٌ فِی الْمِیزَانِ، قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فَاَیُّکُمْ یَعْمَلُ فِیْ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ اَلْفَیْنِ وَخَمْسَ مِائَۃِ سَیّئَۃٍ؟ قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو: وَرَاَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَعْقِدُھُنَّ بِیَدِہٖ، قَالَ: فَقِیلَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ ، وَکَیْفَ لَا یُحْصِیھَا؟ قَالَ : یَاْبِیْ اَحَدَکُمُ الشَّیْطَانُ، وَھُوَ فِیْ صَلَاتِہٖ ، فَیَقُوْلُ: اذْ کُرْ کَذَا ، اذْکُرْ کَذَا، وَیَاْتِیہِ عِنْدَ مَنَامِہٖ فَیُنَوِّ مُہُ۔ قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ: کَانَ اَیُّوْبُ حَدَّثَنَا ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائبِ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَطَاءٌ الْبَصْرَۃَ، قَالَ لَنَا اَیُّوْبُ، قَدْ قَدِمَ صَاحِبُ حَدِیْثِ التَّسْبِیحِ، فَاذُھَبُوا فَاسْمَعُوْہُ مِنْہُ

حضرت عبداللہ بن عمرو ﷺ رواایت کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: دو خصوصیات ایسی ہیں، جن کو جو بھی بندہ اختیار کرلے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ یہ دونوں آسان ہیں لیکن ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں۔ایک یہ، کوئی شخص نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ دس مرتبہ الحمد اللہ دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھے تو یہ ( ایک دن اور رات میں) زبان سے پڑھنے کے حساب سے ایک سو پچاس ہوگے اور میزان میں ایک ہزار پانچ سو ہوگے (دوسری عادت یہ ہے)، جب کوئی شخص اپنے بستر پر جائے تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ تینتیس مرتبہ الحمد اللہ چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھے تو یہ زبان پر پڑھنے کے حساب سے ایک سو ہوں گے اور میزان میں ایک ہزار ہوں گے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم میں سے کون شخص روزانہ ہزار پانچ سو برائیاں کرتاہے۔ حضرت عبداللہ بن عمروﷺ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا ، آپ اپنے دست مبارک کے ذریعے انہیں شمار کررہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: عرض کی گئی : یا رسول اللہ(ﷺ)! کوئی شخص ان دونوں پر کیوں عمل نہیں کرے گا؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا؟ تم میں سے کسی ایک کے پاس شیطان آتا ہے اور وہ آدمی اس وقت نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، تو شیطان کہتا ہے تم فلاں چیز کو یاد کرو فلاں چیز کو یاد کرو اور جب آدمی سونے لگتا ہے اس وقت شیطان آدمی کے پاس آتا ہے اور اسے سُلا دیتا ہے۔ حماد بن زید نے یہ بات بیان کی ہے ایوب نے عطاء بن سائب کے حوالے سے یہ حدیث ہمیں سنائی تھی۔ جب عطاء بصرہ آئے تو ایوب نے ہمیں کہا کہ تسبیح والی اس حدیث کو نقل کرنے والے صاحب تشریف لے آئے ہیں۔ تم لوگ جاؤ اور ان سے اسے سن لو۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 2018

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2019

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنِ قَحْطَبَۃَ، بَفَمِ الصِّلْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْاَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، وَحَمْزَۃُ الزَّیَّاتُ ، وَمَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ لَیْلٰی ، عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مُعَقِّبَاتٌ لَا یَخِیبُ قَائلُھُنَّ : تُسَبِّحُ اللہَ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثَینَ ، وَتُحَمَّدْہُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ وَتُکَبِّرُہُ اَرْبَعًا وَثَلَاثِینَ

حضرت کعب بن عجرہ ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں، (نماز ) کے بعد پڑھے جانے والے کچھ کلمات ایسے ہیں، جنہیں پڑھنے والا شخص رسوا نہیں ہوگا تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ تینتیس مرتبہ الحمداللہ چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھو۔

النَّبِيِّ ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ وَمَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ← شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ

Hadith 2019

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2020

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ: اَخْبَرَنَا الْمُقْرِءُ، حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ، سَمِعْتُ عُقْبَۃَ بْنَ مُسْلِمٍ التُّجِیْبِیُّ ، یَقُوْلُ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیُّ ، عَنِ الصَّنَا بِحِیُّ ، عَنْ مُّعَاذِ بْنِ جَبَلٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اَخَذَبِیَدِ مُعَاذٍ، فَقَالَ: یَا مُعَاذُ ، وَاللہِ اِنِّیْ لَاُجِبُّکَ، فَقَالَ مُعَاذٌ: بِاَبِیْ اَنْتَ وَاَنْتَ وَاُمِّی ، وَاللہِ اِنِّیْ لَاُجِبُّکَ، فَقَال: یَا مُعَاذُ، اُوصِیکَ اَنْ لَّا تَدَعَنَّ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ اَنْ تَقُوْلَ: اللھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ ، وَشُکْرِکَ و وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔ قَالَ: وَاَوْصَی بِذٰلِکَ مُعَاذٌ الصُّنَا بِحِیَّی ، وَاَوْصَی بِذٰلِکَ الصُّنَا بِحِیُّ اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، وَاَوْصَی بِذٰ لِکَ اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عُقْبَۃَ مُسْلِمِ

حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے حضرت معاذ کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا:اے معاذ اللہ کی قسم!میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔ حضرت معاذؓ نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ اللہ کی قسم! میں بھی آپ سے محبت رکھتا ہوں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:اے معاذ میں تمہیں یہ تلقین کررہا ہوں، تم ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا۔ اے اللہ ! تو اپنے ذکر ، اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کے بارے میں میری مدد کر۔ راوی بیان کرتے ہیں:حضرت معاذؓ نے (اپنے شاگرد) صنابحی کو ان کلمات کی تلقین کی تھی ۔ صنابحی نے ابو عبدالرحمٰن نامی راوی کو تلقین کی تھی۔ ابو عبدالرحمٰن نے عقبہ بن مسلم نامی راوی کو ان کی تلقین کی۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← الصَّنَا بِحِیُّ ← اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیُّ ← عُقْبَۃَ بْنَ مُسْلِمٍ التُّجِیْبِیُّ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← الْمُقْرِءُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2020

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2021

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحْاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا الْمُقْرِءُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَۃَ بْنَ مُسْلِمٍ التُّجِیْبِیَّ، یَقُوْلُ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیُّ، عَنِ الصُّنَابِحِیّ، عَنْ مُّعَاذِ بْنِ جَبَلٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اَخَذَ بِیَدِہِ یَوْمًا، فَقَالَ: یَا مُعَاذُ اِنِّیْ وَاللہِ لَاُحِبُّکَ فَقَالَ مُعَاذٌ: بِاَبِیْ وَاُمِّی یَا رَسُوْلَ اللہِ، وَاَنَا وَاللہِ اُحِبُّکَ، فَقَالَ: اُوصِیکَ یَا مُعَاذُ، لَاتَدَعْ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ اَنْ تَقُوْلَ: اللھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ، وَشُکْرِکَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔ وَاَوْصَی بِذٰلِکَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الصُّنَابِحیَّ وَاَوْصَی بِذٰلِکَ الصُّنَابِحِیُّ اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، وَاَوْصَی بِہٖ اَبُوْ عَبْد، الرَّحْمٰنِ عُقْبَۃَ بْنَ مُسْلِمٍ

حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرمﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! اللہ کی قسم ! میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔حضرت معاذؓ نے عرض کی:یا رسول اللہ (ﷺ )! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ اللہ کی قسم ! میں بھی آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:اے معاذ! میں تمہیں یہ تلقین کررہا ہوں، تم ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھنا اور کبھی نہ چھوڑنا۔ اے اللہ ! تو اپنے ذکر اپنے شکر اور فریقے سے اپنی عبادت کے بارے میں میری مدد کر۔ (راوی بیان کرتے ہیں) حضرت معاذ نے صنابحی کو ان کلمات کی تلقین کی تھی۔ صنابحی نے ابو عبدالرحمٰن کو تلقین کی تھی اور ابو عبدالرحمٰن نے عقبہ بن مسلم کو ان کلمات کی تلقین کی تھی۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← الصُّنَابِحِیّ، ← اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیُّ ← عُقْبَۃَ بْنَ مُسْلِمٍ التُّجِیْبِیُّ ← الْمُقْرِءُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2021

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2022

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوٗدُ بْنُ رُشَیْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ حَسَّانَ الْکِنَانِیِّ، عَنْ مُّسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِیْمِیِّ ، عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سَرِیَّۃٍ، فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمُغَارَ، اسْتَحْثَثْتُ فَرَسِی، فَسَبَقْتُ اَصْحَابِیْ ، فَتَلَقَّانِی الْحَیُّ بِالرَّنِیْنِ، فَقُلْتُ: قُوْلُوْا: لَا اِلٰا اللہُ تُحَرَّزُوا، فَقَالُوھَا، فَلَامَنِیْ اَصْحَابِیْ وَقَالُوْا: حُرِمْنَا الْغَنِیمَۃَ بَعْدَ اَنْ رُدَّتْ بِاَیْدِینَا ، فَلَمَّا، عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اَخْبَرُوْہُ بِمَاصَنَعْتُ، فَدَعَانِی، فَحَسَّنَ لِی مَا صَنَعْتُ ، وَقَالَ: ثُمَّ قَالَ لِی: اِنِّیْ سَاکْتُبُ لَکَ کِتَابًا، وَاُوصِی بِکَ مَنْ یّکُوْنُ بَعْدِی مِنْ اَئمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ قَالَ: فَکَتَبَ لِی کِتَابًا، وَخَتَمَ عَلَیْہِ ، وَدَفَعَہٗ اِلَیَّ وَقَالَ: اِذَا صَلَّیْتَ الْمَغْرِبَ، فَقُلْ قَیْلَ اَنْ تُکَلِّمَ اَحَدًا: اللھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّتٍ، فَاِنَّکَ اِنْ مُّتَّ مِنْ لَّیْلَتِکَ تِلْکَ کَتَبَ اللہُ لَکَ جَوَازًا مِنَ النَّارِ، وَاِذَا صَلَّیْتَ الصُّبْحَ فَقُلْ قَبْلَ اَنْ تُکَلِّمَ اَحَدًا: اللھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَاِنَّکَ اِنْ مُّتَّ مِنْ بَّوْمِکَ ذٰلِکَ کَتَبَ اللہُ لَکَ جَوَازًا مِنَ النَّارِ قَالَ: فَلَمَّا قَبَضَ اللہُ رَسُوْلَہٗ، اَتَیْتُ اَبَابَکْرٍ بِالْکِتَابِ، فَفَضَّہُ، فَقَرَاَہُ وَاَمَرَ لِی بِعَطَاءٍ وَخَتَمَ عَلَیْہِ، ، ثُمَّ اَتَیْتُ بِہٖ عُمَرَ، فَقَرَاَہُ، وَاَمَرَلِی ، وَخَتَمَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ اَتَیْتُ بِہٖ عُثْمَانَ، فَفَعَلَ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَارِثِ: تُوُفِّیَ الْحَارِثُ بْنُ مُسْلِمِ فِیْ خِلَافَۃِ عُثْمَانِ، وَتَرَکَ الْکِتَابَ عِنْدَنَا، فَلَمْ یَزَلْ عِنْدَنَا حَتّٰی عُمَرُ بْنُ عَبْدِ العَزِیْزِ اِلَی الْوَالِی بِبَلَدِ نَا یَاْمُرْہُ بِاشْخَاصِی اِلَیْہِ وَالْکِتَابَ، فَقَدِْمْتُ عَلَیْہِ ، فَفَضَّہُ، وَاَمَرَلِی ، وَخَتَمَ عَلَیْہِ، وَقَالَ: اَمَااِنِّیْ لَوْ شِئْتُ اَنْ یَّاْتِیَکَ ذٰلِکَ وَاَنْتَ فِیْ مَنْزِلِکَ فَعَلْتُ ، وَلٰکِنْ اَحْبَبْتُ اَنْ تُحَدِّثَنِیْ بَالْحَدِیْثِ عَلٰی وَجْھِہِ، قَالَ: فَحَدَّثْتُہُ

مسلم بن حارث اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا جب ہم مطلوبہ مقام کے قریب پہنچے ،تو میں نے اپنے گھورے کو ایڑلگائی اور اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا۔ رنین کے مقام پر ایک قبیلے سے میرا سامنا ہوا۔میں نے کہا:تم لوگ لا الہ الا اللہ پڑھ لو تم لوگ محفوظ رہوگے۔ ان لوگوں نے یہ کلمہ پڑھ لیا میرے ساتھیوں نے مجھے ملامت کی اور کہا ہم لوگ مال غنیمت سے محروم رہ گئے ہیں۔ اور یہ ہمارے ہاتھ آتے رہ گیا، پھر ہم نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے میرے ساتھیوں نے آپ کو میرے طرز عمل کے بارے میں بتایا: تو نبی اکرمﷺ نے مجھے بلوایا اور میرے اس عمل پر تحسین کا اظہار کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں میں سے ہر ایک انسان کے عوض میں تمہارے لئے اجر نوٹ کرلے گا۔ عبدا لرحمٰن نامی راوی بیان کرتے ہیں : وہ ثواب میں بھول گیا ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے مجھ سے فرمایا میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھواؤں گا اور (اس تحریر میں) میں اپنے بعد آنے والے مسلمانوں کے حکمران کو تمہارے بارے میں (عطیات دینے کی ہدایت کوں گا)۔ میں تمہیں اس بات کی تلقین کروں گا، میرے بعد مسلمانوں کے حکمران کون لوگ ہوں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ نے میرے لئے ایک تحریر لکھوائی ۔ اس پر مہر لگوائی اور اسے میرے سپرد کردایا۔ آپ نے ارشاد فرمایا۔ جب تم مغرب کی نماز ادا کرلو تو کسی کے ساتھ بات چیت کرنے سے پہلے سات مرتبہ یہ کلمہ پڑھو۔ اے اللہ! تو مجھے جہنم سے نجات عطا کر۔ اگر تم اس دن میں فوت ہو جاتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آگ سے آزادی کو نوٹ کرلے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ کا وصال ہوگیاتو میں وہ تحریر لے کر حضرت ابوبکر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت ابو بکرؓ نے اس مہر کو توڑا اور اس مکتوب کو پڑھا پھر انہوں نے مجھے ادائیگی کا حکم دیا اور اس پر مہر لگا دی پھر میں حضرت عمر ؓ کے پاس (ان کے عہد خلافت میں) آیا انہوں نے اس کو پڑھا اور میرے لئے ادائیگی کا حکم دیا۔ انہوں نے بھی اس پر مہر لگادی پھر میں اسے لے کر حضرت عثمانؓ کے پاس آیا، تو انہوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ مسلم بن حارث نامی راوی بیان کرتے ہیں: حضرت حارث بن مسلم ؓ کا انتقال حضرت عثمانؓ کے عہد خلافت میں ہوا تھا۔ وہ تحریر ہمارے پاس موجود رہی ، یہاں تک کہ عمر بن عبدالعزیز نے ہمارے علاقے کے گورنر کو خط لکھ کراسے حکم دیا، وہ مجھے اور اس تحریر کو عمر بن عبدالعزیز کی خدمت میں پیش کرے میں عمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا۔ انہوں نے اس مہر کو تو ڑا میرے لئے ادائیگی کا حکم دیا اور پھر اس پر مہر لگا دی۔ پھر ارشاد فرمایا:میں چاہتا تو یہ سب کچھ تمہارے پاس تمہارے گھر میں پہنچ سکتا تھا لیکن میں یہ چاہتا تھا، تم مجھے یہ حدیث بیان کرو ،راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں یہ حدیث سنائی۔

أَبِيهِ ← مُسْلِمُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيُّ ← عبدُالرحمنِ بنُ حسانَ الكنانيُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2022

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2023

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ فِیْ عَقِبِہٖ، حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِیْنِیِّ ، حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، حَدَّثَنَا اَبِیْ ، عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ یَزِیدُ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَکْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَعِیشَ ، عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ دُبُرَ صَلَاتِہٖ اِذَا صَلّٰی : لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ ، لَہُ الْمُلْکُ، وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ، کُتِبَ لَہٗ بِھِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِیَ عَنْہُ بِھِنَّ عَشْرُ سَیِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَہٗ بِھِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَکُنَّ لَہٗ عِتْقَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَکُنَّ لَہٗ حَرَسًا مِنَ الشَّیْطَانِ حَتّٰی یُمْسِیَ، وَمَنْ قَالَھُنَّ حِیْنَ یُمْسِی کَانَ لَہٗ مِثْلُ ذٰلِکَ حَتّٰی یُصْبِحَ

ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت منقول ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جوشخص نماز پڑھ لینے کے بعد یہ کلمہ پڑھ لے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ تو ان کلمات کی وجہ سے اس شخص کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جائیں گی ان کی وجہ سے اس کے دس گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ ان کی وجہ سے اس کے دس درجات بلند ہوں گے اور یہ کلمات اس کے لئے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے اور یہ کلمات اس کے لئے شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہوں گے، جو شخص شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لے گا، تو صبح تک اسے یہ خصوصیت حاصل رہے گی۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ یَعِیشَ ← مَكْحُولٌ ← یَزِیدُ بْنِ جَابِرٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ فِیْ عَقِبِہٖ،

Hadith 2023

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2023

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا اَبِیْ، عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ یَزِیدُ بْنِ جَابِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَعِیشَ ، عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ اِذَا اَصْبَحَ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ، کُتِبَ لَہٗ بِھِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِیَ بِھِنَّ عَنْہُ عَشْرُ شَیِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَہٗ بِھِنَّ عَشْرُدَرَجَاتٍ، وَکُنَّ لَہٗ عَدْلَ عَتَاقَۃِ اَرْبَعِ رِقَابٍ، وَکُنَّ لَہٗ حَرَسًا مِنَ الشَّیْطَانِ حَتّٰی یُمْسِیَ، وَمَنْ قَالَھُنَّ اِذَا صَلَّی الْمَغْرِبَ دُبُرَ صَلَاتِہٖ فَمِثْلُ ذٰلِکَ حَتّٰی یُصْبِحَ

حضرت ابو ایوب انصاری ؓ روایت کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھ لے: اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی ایک معبودہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے وہ ہر شے پر قدرت رکھتاہے۔ آدمی دس مرتبہ کلمہ پڑھے تو ان کلمات کے عوض میں اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کی جائیں گی۔ اس کے دس گناہ ختم کئے جائیں گے۔ ان کلمات کی وجہ سے اس کے دس درجات بلند کئے جائیں گے اور یہ کلمات اس شخص کے لئے چار غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے اور یہ کلمات اس کے لئے شام تک شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہوں گے، جو شخص مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد ان کلمات کو پڑھ لے ، تو اسے صبح تک یہ خصوصیت حاصل رہے گی۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ یَعِیشَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← یَزِیدُ بْنِ جَابِرٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← الْفَضْلُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ سَعْدٍ،

Hadith 2023

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2024

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوْسٰی ، عَنْ شَیْبَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنْ مُّسْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَمْرِو بْنِ مَیْمُوْنٍ الْاَوْدِیِّ ، قَالَا: کَانَ سَعْدٌیُعَلِّمُ بَنِیْہِ ھٰؤُلاءِ الْکَلِمَاتِ کَمَا یُعَلِّمُ الْمَکْتَبْ الْغِلْمَانَ، یَقُوْلُ: اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَتَعَوَّذُ بِھِنَّ بَعْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ: اللہُمَّ اِنِّیْ اَعُوذُ بِکَ مِنْ الْبُخْلِ ، وَاَعُوذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ ، وَاَعُوذُبِکَ مِنْ اَنْ اُرَدَّ اِلٰی اَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا ، وَاَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقبْرِ

عبد الملک بن عمیر مصعب بن سعد اور عمروبن میمون اودی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں۔ حضرت سعد ؓ اپنے بچوں کو ان کلمات کی تعلیم یوں دیتے تھے جس طرح (مدرسے میں) استاد شاگردوں کو تعلیم دیتا ہے وہ یہ فرماتے تھے۔ نبی اکرمﷺ نماز کے بعد ان کلمات کے ذریعے پناہ مانگتے تھے۔ اےاللہ!میں کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں اس بات سے تیری پناہ مانگتاہوں مجھے سٹھیا جانے والی عمر تک لوٹا دیا جائے اور میں دنیا کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

کَانَ سَعْدٌیُعَلِّمُ بَنِیْہِ ھٰؤُلاءِ الْکَلِمَاتِ کَمَا یُعَلِّمُ الْمَکْتَبْ الْغِلْمَانَ، ← مُّسْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَمْرِو بْنِ مَیْمُوْنٍ الْاَوْدِیِّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2024

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2025

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ: اَخْبَرَنَا ھَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَمَّہِ الْمَا جِشُونِ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنِ الْاَعْرَجِ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ رَافِیِ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاۃِ وَسَلّمَ ، قَالَ: اللھُمَّ اغْفِرْلِی مَاقَدَّمْتُ، وَمَا اَخَّرْتُ ، وَمَا اَسْرَرْتُ ، وَمَا اَعْلَنْتُ ، وَمَا اَسْرَفتُ، وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنِّی ، اَنْتَ الْمُقَدَّمُ ، وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا اِلٰہَ اِلَّااَنْتَ

حضرت علی بن ابو طالب ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے ، تو آپ یہ پرھتے تھے۔ اے اللہ! جو میں نے پہلے کیا، اور جو بعد میں کروں گا اور جو میں نے پوشیدہ طور پر کیا جو اعلانیہ طور پر کیا ، اور جو اسراف کیا، اور ہر وہ چیرز جس کے بارے میں، تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ان سب کے حوالے سے میری مغفرت کردے ،توآگے کرنے والا ہے، تو پیچھے کرنے والا ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔

کَانَ رَسُوْلُ اللہِ اِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاۃِ وَسَلّمَ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَیْدِ اللہِ بْنِ رَافِیِ ← الْأَعْرَجِ ← عَمَّہِ الْمَا جِشُونِ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← هاشم بن القاسم ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2025

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2026

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِی السَّرِیِّ ، قَالَ: قُرِءَ عَلٰی حَفْصِ بْنِ مَیْسَرَۃَ، قَالَ: وَاَنَا اَسْمَعُ ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ مُوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ اَبِیْ مَرْوَانَ ، عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ کَعْبًا حَلَفَ لَہٗ بِالَّذِی فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوْسٰی ، اَنَّا نَجِدُ فِی الْکِتَابِ اَنَّ دَاوٗدَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ اِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاۃِ ، قَالَ: اللھُمَّ اَصْلِحْ لِی دِینِی الَّذِی جَعَلْتَہٗ لِی عِصْمَۃَ اَمْرِی، وَاَصْلِحْ لِی دُنْیَایَ الَّتِیْ جَعَلْتَ فِیْھَا مَعَاشِی، اللھُمَّ اِنِّنیْ اَعُوذُبِکَ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَبِعَفْوِ کَ مِنْ نِقْمَتِکَ، وَاَعُوذُبِکَ مِنْکَ ، اللھُمَّ لَامَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ، وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ وَحَدَّثَنِیْ کَعْبٌ ، اَنَّ صُھَیْبًا حَدَّثَہُ، اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُھُنَّ عِنْدَ انْصِرَافِہِ مِنْ صَلَاتِہٖ۔

عطاء بن ابو مروان اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، کعب نے (شاید اس سے مراد کعب الاحبار ہیں)اس ذات کی قسم اٹھائی جس نے حضرت موسٰی ؑ کے لئے دریا کو چیر دیا اور یہ بات بیان کی ، ہم نے کتاب (یعنی تورات ) میں یہ بات پائی ہے اللہ کے نبی حضرت داؤد ؑ جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے، تو یہ کلمات پڑھتے تھے۔ اے اللہ! تو میرے لئے میرے دین کو ٹھیک کر دے جس تو نے میرے انجام کا ذریعہ بنایا ہے اور میرے لئے میری دنیا کو ٹھیک کردے جس میں ، تو نے میری زندگی رکھی ہے۔ اے اللہ! میں تیری ناراضگی کے مقابلے مین تیری رضا مندی کی تیرے انتقام لینے کے مقابلے میں تیری معافی کی اور تیری ذات کے مقابلےمیں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! جسے تو عطا کردے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے اور تیری ذات کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت شخص کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی۔ راوی بیان کرتے ہیں:کعب الا حبار نے مجھے یہ بات بتائی ، حضرت صہیب ؓ نے انہیں یہ بات بتائی تھی ، نبی اکرمﷺ بھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔

أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← أسمع ← قُرِءَ عَلٰی حَفْصِ بْنِ مَیْسَرَۃَ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 2026

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr