Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2004

اَخْبَرَنَا انْنُ خُزَیْمَۃَ ، قَاَلَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ حُنَیْنِ بْنِ اَبِیْ حَکِیمٍ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ سَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اقْرَءُ وا الْمُعَوِّذَاتِ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ

حضرت عقبہ بن عامر ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: ہر نماز کے بعد ذات کی تلاوت کرو۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← حُنَیْنِ بْنِ اَبِیْ حَکِیمٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← انْنُ خُزَیْمَۃَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2004

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2005

اَخْبَرَنَا الْفضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْھَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الْاَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَیّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ وَّرَّادٍ، قَالَ: کَتَبَ مُعَاوِیَۃُ اِلَی الْمُعِیْرَۃِ: اَیُّ شَیْءٍ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاۃِ؟ قَالَ: کَانَ یَقُوْلُ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاتِہ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَلَاشَرِیکَ لَہُ الْمُلْکُ، وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ، قَدِیر، اللھُمَّ لَامَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ، وَلَامُعْطِی لِمَا مَنَعْتَ، وَلَایَنْفَعْ ذَاالْجَدِّ مَنْکَ الْجَدُّ

وراد بیان کرتے ہیں: حضرت معاویہ ؓ نے حضرت مغیرہؓ کو خط لکھا، نبی اکرم ﷺ جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے ، تو آپ کیا پڑھا کرتے تھے حضرت مغیرہ ؓ نے بتایا:نبی اکرمﷺ ہر نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے: اللہ تعالٰی کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی ایک معبود ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اےاللہ ! جسے تو عطا کردے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے۔ اور تیری مرضی کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی۔

كان ← اِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاۃِ؟ ← مُعَاوِیَۃُ اِلَی الْمُعِیْرَۃِ: اَیُّ شَیْءٍ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ ← وَرَّادٍ ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2005

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2006

اَخْبَرَنَا اَھْمَدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ زُھَیْرٍ، بِتُسْتَرَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ اَبِیْ بُکَیْرٍ الْکَرْمَانِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ اَبِیْ بُکَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ھُشَیْم، قَالَ: اَخْبَرَنَا دَاوٗدُ بْنُ اَبِیْ ھِنْدَ، وَغَیْرُہُ، عَنِ الثُّعْبِیِّ ، قَالَ: اَخْبَرَنِیْ وَرَّاد اَنَّ مُعَوِیَۃَ کَتَبَ اِلَی مُغِیْرَۃِ: اَنِ کْتُبْ اِلَیَّ بِشَیْءٍ سَمِعْتَہٗ مِنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَتَبَ اِلَیْہِ: اَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ حِیْنَ عَفْرُعُ مِنْ صَلَاتِہ: لَا اِلٰہَ اَلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ ، لَہُ الْمُلْکُ ، وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر، اللھُمَّ لَا مَانِعَ لَمَّا اَعْطَیْتَ، وَلَامُعْطِیِ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَایَنْفَعْ ذَاالْجَدِّ مَنْکَ الْجَدُّ

وراد بیان کرتے ہیں:حضرت معاویہ ؓ نے حضرت مغیرہؓ کو خظ لکھا، آپ مجھے کوئی چیز تحریر کر کے بھیجیں جو آپ نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سنی ہو، تو انہوں نے خط میں لکھا، نبی اکرمﷺ کو سنا ہے، جب آپ نماز پڑھ کے فارغ ہوتے تو آپ یہ پڑھتے تھے۔ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اےاللہ! جسے تو عطا کردے۔ اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے اورتیری مرضی کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت شخص کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی۔

رَسُولِ اللَّهِ ← اِلَیْہِ: اَنِّیْ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← اِلَیَّ بِشَیْءٍ ← اِلَی مُغِیْرَۃِ: اَنِ ← وَرَّاد اَنَّ مُعَوِیَۃَ ← الثُّعْبِیِّ ← دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَغَيْرِهِ، ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← عبد الله بن محمد بن يحيى بن أبي بكير الكرماني ← اَھْمَدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ زُھَیْرٍ، بِتُسْتَرَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2006

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2007

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیُّ قَالَ: حَدَّثَنَا اَبِیْ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَہُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ وَرَّادًا ، کَاتَبَ الْمُعِیْرَۃِ، یُحَدِّثُ، اَنَّ الْمُعِیْرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ، خَتَبَ اِلٰی مُعَاوِیَۃَ: اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا قَضَی صَلَاتَہُ، فَسَلَّمَ، قَالَ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ، وَلَہُ الْحَمْدَ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر ، اللھُمَّ لَا مَانِعَ لَمَّا اَعْطَیْتَ، وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَایَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مَنْکَ الْجَدُّ۔ اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ فِیْ عَقِبِہ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبِیْ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ،عَنِ الْحَکَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَیْمِرَۃَ، عَنْ وَّرَّادٍ،عَنِ الْمُغِیْرَۃِ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، مَثْلَ ذٰلِکَ

وراد جو حضرت مغیرہؓ کے سیکرٹری ہیں وہ بیان کرتے ہیں:حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے حضرت معاویہ ؓ کو خط میں لکھا ، جب نبی اکرمﷺ نماز مکمل کرکے سلام پھیرتے تو آپ یہ پڑھتے تھے۔ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اس کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ ! جسے تو عطا کردے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی کچھ دینے والا نہیں ہے اور تیری مرضی کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت شخص کی حیثیت کام نہیں آتی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت مغیرہ ؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ سے اسی کی مانند منقول ہے۔

اَنَّ الْمُعِیْرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ، خَتَبَ اِلٰی مُعَاوِیَۃَ: ← وَرَّادًا کَاتَبَ الْمُعِیْرَۃِ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2007

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2008

اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْسَی بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ الْمَکِّیِّ ، اَنَّہٗ حَدَّثَہُ اَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ الزُّبَیْرِ ، کَانَ یَقُوْلُ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ، لَا اِلٰہَ اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ، وَلَہُ الْحَمْدُ ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اَلَّا بَاللہِ ، لَا نَعْبُدُ اِیَّاہُ، لَہُ الْمَنُّ ، وَلَہُ النِّعْمَۃُ، وَلَہُ الفَضْلُ وَالثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ وَلَوْ الْکَافِرُوْنَ ، وَیَقُوْلُ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ ھٰوُلَاءِ الْکَلِمَاتِ دُبُرَ کُلِّ صَلَاۃٍ

ابوز بیر مکی بیان کرتے ہیں:حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے۔ اللہ تعالٰی کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالٰی کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ احسان اسی کا ہے نعمت اسی کی دی ہوئی ہے۔ فضل اسی کا ہے اچھی تعریف اسی کے لئے ہے۔ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ہم لوگ دین کو اسی کے لئے خالص کرتے ہیں اگر چہ یہ بات کافروں کو اچھی نہ لگے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ فرمایا کرتے تھے۔ نبی اکرمﷺ بھی نماز کے بعد یہ کلمات پڑھاکرتے تھے۔

أَبِي الزبير المكي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2008

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2009

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَدَائِنِیُّ ، بِمِصْرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَصْبَغَ بْنِ الْفَرَجِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ الْمَکِّیّ، اَنَّہٗ حَدَّثَہُ اَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ الزُّبَیْرِ، کَانَ یَقُوْلُ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ ، وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر،لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللہِ، لَانَعْبُدُ اِلَّا اِیَّاہُ ، لَہُ الْمَنُّ ، وَلَہُ النِّعْمَۃُ ، وَلَہُ الْفَضْلُ وَالثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ وَیَقُوْلُ: (متن حدیث): کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ ھٰؤُلَاءِ الْکَلِمَاتِ دُبُرَ کُلِّ صَلَاۃٍ

ابوزبیر مکی بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نماز کے بعد یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالٰی کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ احسان اسی کے لئے مخصوص ہے۔ نعمت اسی کے لئے مخصوص ہے۔ فضل اسی کے لئے مخصوص ہے اور اچھی تعریف اسی کے لئے مخصوص ہے اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ہم لوگ دین کو اسی کے لئے خالص کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات کا فروں کو ناپسند ہو۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں نبی اکرمﷺ ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔

اَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ الزُّبَیْرِ، کَانَ ← أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ أَنَّهُ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← المنذر بن عبد الله ← مُحَمَّدُ بْنُ أَصْبَغَ بْنِ الْفَرَجِ ← اَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَدَائِنِیُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2009

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2010

اَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ الدَّوْرَقِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ اَبِیْ عُثْمَانَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا اَبُو الزُّبَیْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ الزُّبَیْرِ، یَخْطُبُ عَلٰی ھٰذا الْمِنْبَرِ وَھُوَ یَقُوْلُ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا سَلَّمَ اِذَا سَلَّمَ فِیْ دُبُرِ الصَّلَاۃِ یَقُوْلُ: لَااِلٰہَ اِلَّا للہُ ، لَا نَعْبُدُ اِیَّاہُ، اَھْلُ النِّعْمَۃِ وَالْفَضْلِ، وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّ ینَ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ

ابوزبیر بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کو اس منبر پر خظبہ دیتے ہوئے سنا ہے انہوں نے یہ فرمایا تھا نبی اکرمﷺ نماز کا سلام پھیرےنے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے۔ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ نعمت فضل اور اچھی تعریف کا اہل ہے۔ اللہ تعالٰی کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ہم دین کو اسی کے لئے خالص کرتے ہیں اگرچہ یہ بات کافروں کو بری لگے۔

کَانَ رَسُوْلُ اللہِ اِذَا سَلَّمَ اِذَا سَلَّمَ فِیْ دُبُرِ الصَّلَاۃِ ← عَبْدَ اللہِ بْنَ الزُّبَیْرِ، یَخْطُبُ عَلٰی ھٰذا الْمِنْبَرِ وَھُوَ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2010

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2011

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَکِیع، قَالَ: حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارِ ، عَنْ اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ طَلْحَۃَ، عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ: جَائَتْ اُمّ سُلَیْمٍ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللہِ عَلِّمْنِیْ کَلِمَاتٍ اَدْعُو بِھِنَّ فِیْ صَلَاتِی، فَقَالَ: سَبِّحِی اللہَ عَشْرًا ، وَاحْمَدِیہِ وَاحْمَدِیہِ عَشْرًا، وَکَبِّرِیہِ عَشْرًا ، ثُمَّ سَلِیہِ حَاجَتَکِ

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں:سیّدہ ام سلیم نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ مجھے ایسے کلمات کی تعلیم دیجئے جن کے ذریعے میں نماز میں دعا مانگا کروں ، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:تم دس مرتبہ سبحان اللہ پڑھو۔ دس مرتبہ الحمداللہ پڑھو اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھو پھر تم اپنی حاجت کا سوال کرو۔

جَائَتْ اُمّ سُلَیْمٍ اِلَی النَّبِیِّ فَقَالَتْ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ طَلْحَۃَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2011

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2012

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَااَبُوْ خَیْشَمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ، وَابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائبِ ، عَنْ اَبْیِہ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: خَصْلَتَانِ لَا یُحْصِھُمَا رَجُلٌ اِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ ، ھُمَا یَسِیْرٌ وَمَنْ یَّعْمَلُ بِھِمَا قَلِیْلٌ، یُسَبِّحُ اللہَ دُبُرَ کُلِّ صَلَاۃٍعَشْرًا ، وَیحْمَدُہُ عَشْرًا ، وَیُکَبِّرُ عَشْرًا ، قَالَ: فَاَنَا رَاَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَعْقِدُھَا بِیَدِہِ ، قَالَ: فَقَالَ: خَمْسُونَ وَمِائَۃٌ بِالِلّسِان، وَاَلْفٌ وَاَلْفٌ وَخَمْسُ مَائَۃٍ فِی الْمِیزَانِ، وَاِذَا اَویٰ اِلٰی فِرَاشِہِ سَبَّحَ وَحَمَّدَ وَکَبَّرَ مِائِۃٌ بَاللِّسَانِ ، وَاَلْفٌ فِی الْمِیزَانِ، فَاَیُّکُمْ یَعْمَلُ فِی الْیَوْمِ الْوَاحِدِ اُلْفِیَنَّ وَخَمْسَ مِائَۃِ سَیْنَۃٍ قَالَ: کَیْفَ لَا یُحْصِیھِمَا؟ قَالَ : اَحَدَکُمْ الشَّیْطَانُ ، وَھُوَ فِیْ صَلَاۃٍ، فَیَقُوْلُ: اذْکُرْ کَذَا، اذْکُرْ کَذَا، حَتَّی شَغَلَہٗ، وَلَعَلَّہُ اَنْ لَّایَعْقِلَ، وَیَاْتِیہِ فِیْ مَضْجَعِہٖ فَلَا یَزَالُ یُنَوِّ مُہْ حَتّٰی یَنَامَ

حضرت عبداللہ بن عمروؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: دوخصوصیات ایسی ہے جن دونوں کو جو بھی مسلمان حاصل کرلے گا وہ جنت میں داخل ہوگا یہ دونوں آسان ہیں، لیکن ان پر عمل کرنے والے لوگ کم ہیں، ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ ، دس مرتبہ الحمدللہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنا، راوی بیان کرتے ہیں:میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا ، آپ اپنی انگلیوں پر انہیں سمار کررہے تھے، پھر آپ نے ارشاد فرمایا:یہ زبان پر پڑھنے کے حساب سے (روزانہ ) ایک سو پچاس ہوں گے اور میزان میں ایک ہزار پانچ سو ہوں گے۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ جب آدمی اپنے بستر پر جائے ، تو ایک سو مرتبہ سبحان اللہ الحمد اللہ اور اکبر پڑھے تو یہ زبان پر پرھنے کے حساب سے ایک سوہوں گے اور نامہ اعمال میں ایک ہزار ہوں گے تو تم میں سے کون شخص ایک دن میں دوہزار پانچ سو برائیاں کرتاہے ۔ راوی نے دریافت کیا:کوئی شخص ان دونوں پر عمل کیوں نہیں کرسکتا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: شیطان کسی شخص کے پاس آیا ہے اور وہ شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہتا ہے فلاں چیز کو یاد کرو، یہاں تک کہ اسے مصروف کردیتاہے اور ایسا بھی ہوتا ہے ، آدمی کو یہ یادہی نہیں رہتا (کہ اس نے تسبیح پڑھے بغیر) سوجاتاہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِیْرٌ، وَابْنُ عُلَیَّۃَ، ← حَدَّثَنَااَبُوْ خَیْشَمَۃَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2012

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2013

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ الْفَضْلِ الْکَلَاعِیُّ ، بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَکَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّی ، قَالَا: حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ الْوُ حَاظِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِکٌ ، عَنْ اَبِیْ عُبَیْدٍ، حَاجِبِ سُلَیْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَبَّحَ اللہَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ دُبُرَ صَلَاتِہٖ ، وَحَمِدَہٗ ثَلَاثًا ، وَثَلَاثِیْنَ، وَکَبَّرَہُ ثَلَاثً وَثَلَاثِیْنَ، وَخَتَمَ الْمَائَۃَ بِلا اِلٰہَ اِلَّااللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِ یکَ لَہٗ ، لَہُ الْمُلْکُ، وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ، غُفِرَتْ لَہٗ ذُنُوْبُہُ وَلَوْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبِحْرِ

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: جو شخص نماز کے بعد تیس مرتبہ سبحان اللہ تیس مرتبہ الحمد للہ اور تیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھتا ہے اور یہ (درج ذیل ) کلمہ پڑھ کر پورا ایک سو کرلیتا ہے ۔ اللہ تعالٰی کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے حمد اسی کے لئے مخصوص ہے وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ تو اس شخص کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے اگر چہ وہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، حَاجِبِ سُلَیْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ ← مَالِكٍ، ← یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ الْوُ حَاظِیُّ ← عِمْرَانُ بْنُ بَکَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّی ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2013

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2014

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃِ، قَالَا: حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْاَ عْلٰی، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَم،رٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَیْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ سُمِیٍّ ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃِ ، قَالَ: جَا َٔ الْفُقَرَاءُ اِلٰی رَسُوْلِ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوْا: ذَھَبَ اَھْلُ الدُّثُورِ مِنَ الْاَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلٰی وَالنَّعِیمِ الْمُقِیمِ ، یُصَلُّونَ کَمَا نُصَلِّیْ ، وَیَصُوْمُوْنَ کَمَا نَصُوْمُ، وَلَھُمْ فُضْولُ اَمْوَالٍ یَحُجُّونَ بِھَا وَیَعْتَمِرُوْنَ وَیُجَاھدُوْنَ وَیَنَصَدَّقُوْنَ، قَالَ: اَفَلَا اَدُلُّکُمْ عَلٰی اَمْرٍ اِنْ اَخَذْتُمْ مَنْ سَبَقَکُمْ، وَلَمْ یُدْرِ کُکُمْ اَحَدٌ، بَعْدَکُمْ ، وَکُنْتُمْ خَیْرَ مَنْ اَنْتُمْ بَیْنَ ظَھْرَیْہِ اِلَّا اَحَدٌ عَمِلَ بِمِثْلِ اَعْمَالِکُمْ؟تُسَبِّحُونَ، وَتُحَمِّدُوْنَ ، وَتُکَبِّرُوْنَ خَلْفَ کُلِّ صَلَاۃٍ ثَلَاۃٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں:غریب لوگ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عر ض کی:مال دولت والے لوگ بلند درجات اور قائم رہنے والی نعمتیں حاصل کر گئے کیونکہ وہ اسی طرح نماز ادا کرتے ہیں جس طرح ہم نماز ادا کرتے ہیں ۔ وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس اضافی اموال ہوتے ہیں جس کی مدد سے وہ حج کرلیتے ہیں اور عمرہ کرتے ہیں جہاد میں حصہ لیتے ہیں۔ صدقہ و خیرات کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہاری رہنمائی ایسی چیز کی طرف نہ کروں ، اگر تم اسے اختیار کرلوگے تو تم اس تک پہنچ جاؤ گے ، جو تم سے آگے ہے اور تمہارے پیچھے والا کوئی شخص تم تک نہیں پہنچ سکے گا اور باقی سب لوگوں کے درمیان تم سب سے بہترین ہوگے ماسوائے اس شخص کے جو تمہارے اس عمل کی مانند کرلے تم لوگ ہر نماز کے بعد 33،33 مرتبہ سبحان اللہ الحمد اللہ ، اللہ اکبر پڑھاکرو۔

جَا الْفُقَرَاءُ اِلٰی رَسُوْلِ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُعْتَم،رٌ، ← حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْاَ عْلٰی، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2014

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْقُنُوْتِ · حديث 2015

اَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَوْزَاعِیُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عَائِشَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ: قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ: یَا رَسُوْلَ اللہِ ، ذَھَبَ اَصْحَابُ الدُّثُورِ بَالْاَجْرِ، یُصَلُّونَ کَمَانُصَلِّیْ، وَیَصُوْمُوْنَ کَمَا نَصُوْمُ، وَلَھُمْ فُضُولُ اَمْوَالِ یَتَصَدَّقُوْنَ بِھَا، فَھَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَااَبَا ذَرِّ، اَلا اُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ تُدْرِکُ بِھِنَّ سَبَقَکَ ، وَلَا یَلْحَقُکَ مَنْ خَلْفَکَ ، اِلَّا مَنْ اَخَذَ بِمِثْلِ عَمَلِکَ؟ قَالَ بَلٰی رَسُوْلَ اللہِ ، قَالَ : تُکَبِّرُاللہَ دُبُرَ کُلِّ صَلَاۃٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ، وَتُحَمِّدُہُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ ، وَتُسَبِّحُہُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ، وَتَخْتِمُھَا بِلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیکَ لَہٗ ، لَہُ الْمُلْکُ ، وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں:حضرت ابوذر غفاری ؓ نے عرض کی :یا رسول اللہ(ﷺ)! مال دار لوگ اجر لے گئے ہیں وہ لوگ اسی طرح نماز اداکرتے ہیں جس طرح ہم نماز ادا کرتے ہیں۔ وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس اضافی اموال ہوتے ہیں، جنہیں وہ صدقہ کردیتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:اے ابوذر کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں ، تم ان کی مدد سے اس شخص تک پہنچ جاؤ گے جو تم سے آگے ہے اور تم سے پیچھے والا شخص تم تک نہیں پہنچ سکے گا۔ ماسوائے اس شخص کے جو تمہارے اس عمل کی مانند عمل کو اختیار کرے۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ نے عرض کی:جی ہاں ، یا رسول اللہ ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ اللہ اکبر کہو اور تینتیس مرتبہ الحمد اللہ پڑھو اور تینتیس مرتبہ سبحان اللہ پڑھو اور یہ کلمہ پڑھ کر سے ختم کرو۔ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ۔ وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے ۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔

أَبُو ذَرٍّ ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عَائِشَۃَ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in Qunoot · Hadith 2015

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr