Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1312

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ غُلَامُ طَالُوتَ بْنِ عَبَّادٍ بِالْبَصْرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ قَالَ اجْتَمَعَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمٌ مِنْ غَنَمِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ: "ابْدُ يَا أَبَا ذَرٍّ". قَالَ فَبَدَوْتُ فِيهَا إِلَى الرَّبَذَةِ1 قَالَ فَكَانَ يَأْتِي علي الخمس والست وَاَنَا جُنُبٌ فَوَجَدْتٌ فِیْ نَفْسِیْ فَاَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ مُسْنِدٌ ظَھْرَہٗ اِلَی الْحُجْرَۃِ فَلَمَّا رَآنِیْ قَالَ مَالَکَ یا أباذر ؟ قال ففلست قال: مالک یَا اَبَا ذَرٍّ ثَکِلَتْکَ اُمُّکَ ؟ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جُنُبٌ قَالَ فَاَمَرَ جَارِیَۃً سَوْدَاءَ فَجَاءَتْ بِعْسٍّ فِیْہِ مَاءٌ فَاسْتَتَرْتُ بِالْبَعِیْرِ وَبِالثَّوْبِ فَاغْتَسَلْتُ فَکَاَنَّمَا وَضَعَ عَنِّیْ جَبَلًا فَقَالَ ادْنُ فَاِنَّ الصَّعِیْدَ الطَّیِّبَ وَضُوْءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ عَشْرَ حِجَجٍ فَاِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْیُمِسَّ بَشَرَتَہُ الْمَاءَ۔

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقے کی بکریاں میں سے کچھ بکریاں اکٹھی ہوگئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر تم بدویت کی زندگی بسر کرو۔ راوی کہتے ہیں میں انہیں لے کر ربذہ کے مقام پر آگیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں پانچ یا چھ دن تک جنابت کی حالت میں رہا۔ مجھے بہت الجھن محسوس ہوتی تھی۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ حجرے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ جب آپ نے مجھے ملاحظہ کیا، تو دریافت کیا: اے ابوذر تجھے کیا ہوا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں بیٹھ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے ابوذر کیا ہوا ہے۔ تیری ماں تجھے روئے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہوگئی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سیاہ کنیز کو حکم دیا وہ پانی کا برتن لے کر آئی۔ میں نے اونٹ کی اوٹ میں کپڑے کا پردہ کیا اور غسل کرلیا، تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے اپنے اوپر سے پہاڑ اتار دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگے آجاؤ پاک مٹی مسلمان کے لئے طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے، اگرچہ دس سال گزر جائیں پھر جب وہ پانی پالے تو اسے اپنے جلد پر پانی لگا لینا چاہیے۔ (یعنی غسل کر لینا چاہیے)

أَبَا ذَرٍّ ← عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّيْرَفِيُّ غُلَامُ طَالُوتَ بْنِ عَبَّادٍ

Hadith 1312

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1313

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السِّكِّينِ بِوَاسِطَ وَكَانَ يَحْفَظُ الْحَدِيثَ وَيُذَاكِرُ بِهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسْتَامِ قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ1 بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَإِنْ لم يجد الماء عشر سنين" 2.

۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسْتَامِ ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السِّكِّينِ بِوَاسِطَ وَكَانَ يَحْفَظُ الْحَدِيثَ وَيُذَاكِرُ بِهِ

Hadith 1313

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1314

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ عَطَاءً عَمَّهُ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فِي شِتَاءٍ فَسَأَلَ فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ فَمَاتَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا لَھُمْ قَتَلُوْہُ قَتَلَھُمْ اللہُ ثَلَاثًا قَدْ جَعَلَ اللہُ الصَّعِیْدَ اَوِ التَّیَمُّمَ طَھُورًا۔ قَالَ شک ابن عباس ثم أثبتہ بعد

۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک آدمی سردی کے موسم میں جنابت کا شکار ہوگیا۔ اس نے مسئلہ دریافت کیا، تو اسے غسل کرنے کی ہدایت کی گئی (غسل کرنے کی وجہ سے اس کا انتقال ہوگیا) اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: لوگوں نے اس کو کیوں مروا دیا، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو برباد کرے یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی (اور پھر فرمایا) اللہ تعالیٰ نے مٹی کو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تیمم کو طہارت کے حصول کا ذریعہ بنایا ہے۔ روایت کے الفاظ میں یہ شک حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اسے شک کے بغیر ذکر کیا۔

الْوَلِيدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِِي رَبَاحٍ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1314

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1315

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ كَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ 1، وأنه أصابهم برد شدید لم یرو مِثْلَہٗ فَخَرَجَ لِصَلَاۃِ الصُّبْحِ قَالَ وَاللہِ لَقَدِ احْتَلَمْتُ الْبَارِحَۃَ فَغَسَلَ مَغَابَتَہُ وَتَوَضَّا وُضُوْءَہُ لِلصَّلَاۃِ ثُمَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِھِمْ فَلَمَّا قَدِمَ عِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَاَلَ رَسُوْلَ اللہَ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَصْحَابَہُ فَقَالَ: ( متن حدیث ) : کیف وجدتم عمرا و أصحابہ ؟ فَاَثْتَوْا عَلَیْہِ خَیْرًا وَّقَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنَا وَھُوَ جُنُبٌ فَاَرْسَلَ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی عَمْرٍو فَسَالَہٗ فَاَخْبَرَہٗ بِذٰلِکَ وَبِالَّذِیْ لَقِیَ مِنَ الْبَرْدِ وَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللہَ قَالَ( وَلَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ (النساء29) وَلَوِ اغْتَسَلْتُ مُتُّ فَضَحِکَ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی عمرو۔

۔ابو قیس جو حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام ہیں بیان کرتے ہیں: حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ایک مہم پر تھے۔ لوگوں کو اتنی شدید سردی کا سامنا کرنا پڑا کہ اس طرح کی سردی انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ حضرت عمر و بن العاص صبح کی نماز کے لئے تشریف لائے اور فرمایا گزشتہ رات مجھے احتلام ہوگیا تھا، تو انہوں نے اپنی شرم گاہ کو دھویا اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرکے لوگوں کو نماز پڑھا دی۔ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا تم نے عمر و اور اس کے ساتھیوں کو کیسا پایا تو لوگوں نے ان کی تعریف کی اور یہ بات کہی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے جنابت کی حالت میں ہمیں نماز پڑھا دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر و کو بلوایا اور ان سے دریافت کیا،تو حضرت عمرو نے آپ کو بتایا اور جس سردی کا سامنا کرنا پڑا اس کے بارے میں بتایا: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: " تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو" اگر میں غسل کر لیتا تو میں مر جاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمرو کی اس بات پر ہنس پڑے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 1315

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1316

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الهاد أن نافعا حدثه عن بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنَ الْغَائِطِ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ عِنْدَ بِئْرِ جَمَلٍ1 فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْحَائِطِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى الْحَائِطِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجُلِ السَّلَامَ 2.

۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کرکے تشریف لائے بحر جمل کے قریب آپ کا سامنا ایک شخص سے ہوا اس نے آپ کو سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا۔ آپ دیوار کے پاس تشریف لائے آپ نے اپنا دست مبارک دیوار پر رکھا پھر آپ کےاپنے چہرے اور دونوں بازوؤں پر ہاتھ پھیرا (یعنی تیمم کیا اور) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے سلام کا جواب دیا۔

بن عُمَرَ ← يَزِيدَ بْنِ الهاد أن نافعا ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1316

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّيَمُّمِ · حديث 1317

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: "خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسَ هُمْ عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَجَاءَ أُنَاسٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالُوا أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا. قَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ مَا هَذَا بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تحته 1.

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں شریک تھے ہم "بیداء" کے یا شاید "ذات الحبیش" کے مقام پر پہنچے تو ہار گر گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہار کی تلاش میں وہاں پڑاؤ کرلیا۔ لوگ بھی آپ کے ساتھ وہاں رک گئے۔ وہاں آس پاس پانی نہیں تھا۔ لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں تھا۔ کچھ لوگ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور بولے: کیا آپ نے یہ ملاحظہ فرمایا ہے، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو یہاں رکنے پر مجبور کر دیا ہے حالانکہ یہاں آس پاس پانی نہیں ہے، اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (سیدہ عائشہ پر) ناراضگی کا اظہار کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ کہا وہ اپنا ہاتھ میرے پہلو پر مارتے رہے، لیکن میں نے حرکت اس لئے نہیں کی تھی، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (میری گود) میں سر رکھ کر سو رہے تھے پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو صبح کا وقت ہوگیا تھا اور پانی موجود نہیں تھا، تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کے حکم سے متعلق آیت نازل کردی تو لوگوں نے تیمم کیا۔ اس پر حضرت اسید بن حضیر جو نقباء میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے یہ کہا ہے اے آل ابو بکر یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، جس اونٹ پر میں سوار تھی جب ہم نے اس کو اٹھایا تو اس کے نیچے سے ہمیں ہار مل گیا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ،

Hadith 1317

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr