Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 704

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ أَخْبَرَنِي الْمَاضِي بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أبيهذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ الْمَرْءَ يَجِبُ عَلَيْهِ أَنْ يُقْنِعَ نَفْسَهُ عَنْ فُضُولِ هَذِهِ الدُّنْيَا الْفَانِيَةِ الزَّائِلَةِ بِتَذَكُّرِهَا عَاقِبَةَ الْخَيْرِ وَأَهْلِهِ [704] أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سفيان حدثنا حرملة بن يحيى حدثنا بن وَهْبٍ أَخْبَرَنِي الْمَاضِي بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ لَرَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَرِیْرٌ مُشَبَّکٌ بِالْبَرْدِیِّ عَلِیہِ کِسَاءٌ اَسْوَادُ قَدْ حَشَّوْنَاہُ بِالْبَرْدِیِّ فَذَ خَلَ اَبُوْ بَکْرٍ وَ عُمَرُ عَلَیْہِ فَاِذَا النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ عَلَیْہِ فَلَمَّا فَآھُمَا اسْتَوَی جَالِسًا فَنَظَرَا فَاِذَا اَثَرُ السُّرِیْرِ فِیْ جَنْبِ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فقال اَبُوْ بَکْرٍ عَ عُمَرُ وَبَکَیَا یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یُؤْذِیکَ خُشُونَۃُ مَا نَریٰ مِنْ سَرِیْرِکَ وَفِرَاشِکَ وَھٰذَا کِسْریٰ وَقَیْصَرُ عَلٰی فُرُشِ الْحَرِیْرِ وَالدِّیبَاجِ فقَالَ: لَا ھٰذَا فَاِنَّ فِرَاشَ کِسْریٰ وَقَیْصَرَ فِی النَّارِ وَاِنَّ فِرَاشِیْ وَسَرِیْرِیْ ھذا عاقبتہ إلی الجنۃ ۔(47:5)

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ کا ایک مخصوص پلنگ تھا ‘ جسےمخصوص قسم کے ( کے پتوں‘ یا شاخوں ) کے ذریعے بنا گیا تھا ۔ اس پر سیاہ رنگ کی چادر موجود تھی جس کے اندر ہم نے اس قسم کےپتے بھرے ہوئے تھے ایک مرتبہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ نبی اکرمﷺ اس پر سوئے ہوئے تھے نبی اکرمﷺ نےان دونوں حضرات کو دیکھا ‘ توآپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ۔ان دونوں صاحبان نے دیکھا کہ نبی اکرمﷺ کے پہلو پر پلنگ کانشان موجود ہے ‘ توحضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمر ؓ رو پڑے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کاجو پلنگ اور جو بستر ہم دیکھ رہے ہیں کیا اس کی سختی آپ کو تکلیف نہیں دیتی ہے ‘ جبکہ قیصر اور کسریٰ ریشم اور دیباج کے اوپر آرام کرتے ہیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمانا : تم دونوں یہ بات نہ کرو‘ کیونکہ قیصر اور کسریٰ کے بستر جہنم میں ہوں گ اور میرا پلنگ اور میرا بستر ان کا ٹھکانہ جنت میں ہے۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الْمَاضِي بْنُ مُحَمَّدٍ، ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 704

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 705

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَابِدُ الطَّاحِيُّ بِالْبَصْرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ قال أخبرنا المقرىء قَالَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "طُوبَى لِمَنْ هُدِيَ إِلَى الْإِسْلَامِ وَكَانَ عيشه كفافا وقنعه الله به" 1. [1: 2]

حضرت فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ‘ جسے اسلام کی طرف ہدایت دی گئی۔ ضروریات کے مطابق اسے چیزیں دی گئیں اور اس کو اللہ تعالیٰ نے اس چیز پر قناعت عطا کی ‘‘۔

"طُوبَى لِمَنْ هُدِيَ إِلَى الْإِسْلَامِ وَكَانَ عيشه كفافا وقنعه الله به" ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَّهُ ← فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← أَنَّهُ ← أَبُو هَانِئٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← المقرىء ← نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ ← بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَابِدُ الطَّاحِيُّ بِالْبَصْرَةِ

Hadith 705

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 706

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بن موهب الرملي حدثنا بن وَهْبٍ عَنْ أَبِي هَانِئٍ أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ سَلْمَانَ الْخَيْرَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ عَرَفُوا مِنْهُ بَعْضَ الْجَزَعِ قَالُوا مَا يُجْزِعُكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَقَدْ كَانَتْ لَكَ سَابِقَةٌ فِي الْخَيْرِ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَغَازِيَ حَسَنَةً وَفُتُوحًا عِظَامًا قَالَ يُجْزِعُنِي أَنَّ حَبِيبَنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَارَقَنَا عَهِدَ إِلَيْنَا قَالَ: "لِيَكْفِ الْيَوْمَ مِنْكُمْ كَزَادِ الرَّاكِبِ" فَهَذَا الَّذِي أَجْزَعَنِي فَجُمِعَ مَالُ سَلْمَانَ فَكَانَ قِيمَتُهُ خَمْسَةَ عَشَرَ دينارا"1.

عامر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت سلیمان الخیر ( یعنی حضرت سلمان فارسیؓ ) کے انتقال کا وقت قریب آیا ‘ تو لوگوں نے ان پر گھبراہٹ محسوس کی ۔لوگوں نے دریافت کیا : اے ابو عبدا للہ! آپ کیوں گھبرا رہے ہیں؟ جبکہ آپ کو بھلائی کی طرف سبقت لے جانے کا شرف حاصل ہے ۔آپ نے نبی اکرمﷺ کے ہمراہ غزوات میں شرکت کی ہے اور بڑی فتوحات میں حصہ لیا ہے‘ تو حضرت سلمان فارسی نے فرمایا مجھے یہ چیز گھبراہٹ کا شکار کر رہی ہے کہ ہمارے حبیبؓ جب ہم سے جدا ہوئے تھے‘ تو آپ نے ہم سے یہ عہد لیا تھا آپ نے فرمایا تھا۔ ’’ تم میں سے کسی شخص کے لئے ایک دن کے لئےاتنی چیز کافی ہے‘ جوکسی سوار کا زاد سفر ہوتی ہے‘‘۔ تو یہ چیز مجھے گھبراہٹ کا شکار کر رہی ہے ؟ پھر جب حضرت سلمان فارسیؓ کا مال جمع کیا گیا‘ تو اس کی قیمت پندرہ دینا بنتی تھی ۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :) عامر نامی راوی عامر بن عبد قیس ہیں ‘ جبکہ سلمان خیر سے مراد حضرت سلمان فارسیؓ ہیں۔

اَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیُّ ← أَبِي هَانِئٍ، ← بن وَهْبٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 706

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 707

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَنَزَلَتْ عليه {وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفاً} فَأَخَذْتُهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ رَطْبٌ بِهَا فَمَا أَدْرِي بِأَيِّهَا خَتَمَ {فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُوِنٍَ} [المرسلات: 50] أَوْ {إِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ} [المرسلات: 48] فَسَبَقَتْنَا حَيَّةٌ فَدَخَلَتْ فِي جُحْرٍ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وقيتم شرها كما وقيت شركم" 1. [3: 66]

حضرت عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرمﷺ کےہمراہ ایک غار میں موجود تھے آپ پر یہ سورۃ نازل ہوئی۔ ’’والمرسلت عرفا‘‘ تو میں نے آپ کی زبانی اس سورۃ کو سیکھ لیا حالانکہ یہ ابھی کچھ دیر پہلے آپ پر نازل ہوئی تھی : مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے کون سی آیت پر اسے ختم کیا تھا ؟ فبای حدیث بعدہ یومنون پر یا پھر اس آیت پر واذا قیل لھم ارکعوالا یرکعون اسی دوران ایک سانپ نکل کر گیا اور پھر اپنے بل میں داخل ہو ہو گیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم لوگوں کو اس کے شر سے بچا لیا گیا جس طرح اسے تمہاری طرف سے پہنچنے والے نقصان سے بچایا گیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 707

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 708

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُعْفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ، فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} [المرسلات: 1]، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لَأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْتُلُوهَا» فَابْتَدَرْنَاهَا فَذَهَبَتْ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا». [4: 5]

حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ ایک غار میں موجود تھے۔ آپ پر سورۃ مرسلت نازل ہوئی۔آپ نے اس کی تلاوہ کی میں نے آپ کی زبانی اس کو سیکھ لیا کچھ دیر پہلے آپ پر نازل ہوئی تھی : اسی دوران ایک سانپ نکل کر ہمارے سامنے آیا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اسے مار دو ! ہم تیزی سے اسکی طرف لپکے ‘ تو وہ چلا گیا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اسے تمہارے نقصان سے بچا لیا گیا جس طرح تمہیں اس کے شر سے بچا لیا گیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْجُعْفِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا

Hadith 708

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 709

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنِ الْمُطَّلِبِ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ فَآثِرُوا مَا يَبْقَى عَلَى مَا يفنى" 1. [3: 66]

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص دنیا سے محبت رکھتا ہے یہ چیز اس کی آخرت کو نقصان پہنچاتی ہے ‘ جو شخص آخرت سے محبت رکھتا ہے ‘ تو یہ چیز اس کی دنیا کو نقصان پہنچاتی ہے ‘ تو جو چیز باقی رہنے والی ہے ‘ تم اسے اس چیز پر ترجیح دو ‘ جو فنا ہو جائے گی ‘‘۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← الْمُطَّلِبِ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ

Hadith 709

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 710

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تتخذوا الضيعة فترغبوا في الدنيا" قَالَ عَبْدُ اللہِ وَبِالْمَدِیْنَۃِ وَمَا بِالْمَدِیْنَۃِ وَبِرَاذَانَ وما براذان۔(23:2)

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: زیادہ سازو سامان نہ بناؤ ‘ تم دنیا کی طرف راغب ہو جاؤ گے‘‘۔ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں: جو کچھ ’’ مدینہ ‘‘ میں ہے وہ مدینے میں ہے اورجو کچھ ’’ رازان ‘‘ میں ہے وہ’’ رازان‘‘ میں ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ ← شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 710

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 711

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ بن عجلان عن الأعرجذكر الْأَمْرِ بِالنَّظَرِ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَ الْمَرْءِ فِي أَسْبَابِ الدُّنْيَا [711] أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنَا الليث بن سعد عن بن عَجْلَانَ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنِ الْاَعْرَجِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِذَا رَاَی اَحَدُکُمْ مَنْ فُضِّلَ عَلَیْہِ الْخَلْقِ اَوِ الرِّزْقِ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی مَنْ ھُوَ اَسْفَلُ مِنْہُ مِمَّنْ فضل ھو علیہ ۔(78:1)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرما ن نقل کرتے ہیں: ’’ جب کوئی شخص کسی ایسے شخص کی طرف دیکھے ‘ جس کو تخلیق ( یعنی شکل و صورت ) یا رزق کے حوالے سے اس پر فضیلت دی گئی ہو ‘ تو اسے اس شخص کا بھی جائزہ لینا چاہئے جو اس شخص سے نیچے ہے ‘ جس پر اسے فضیلت دی گئی ہے ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← الْأَعْرَجِ ← بن عَجْلَانَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ← الأعرجذكر الْأَمْرِ بِالنَّظَرِ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَ الْمَرْءِ فِي أَسْبَابِ الدُّنْيَا ← بن عَجْلَانَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ

Hadith 711

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 712

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حدثنا بْنُ أَبِي السَّرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ هو عليه" 2. [1: 78]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جب کوئی شخص کسی ایسے شخص کی طرف دیکھے جسے مال اور تخلیق کے لحاظ سے اس پر فضیلت دی گئی ہے ‘ تو اسے اس شخص کا بھی جائزہ لینا چاہئے جو اس شخص سے بھی نیچے ہے ‘ جس پر اسے فضلت دی گئی ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 712

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 713

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ وَانْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَرُدُّوا نِعْمَةَ الله" 1. [2: 43]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ تم ان لوگوں کی طرف نہ دیکھو ‘ جو تم سے اوپر ہیں تم ان کی طرف دیکھو‘ جو تم سےنیچے ہیں ‘ کیونکہ یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تم اس طرح اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو مسترد نہیں کرو گے۔ ( یعنی انہیں کم تر نہیں سمجو گے)‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 713

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 714

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرٍ الْبَزَّارُ قَالَ حدثنا بن أبي عمرو الْعَدَنِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم: "إذا رأىذكر وَصْفِ الْفَوْقِ الَّذِي فِي خَبَرِ أَبِي صَالِحٍ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ [714] أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرٍ الْبَزَّارُ قَالَ حدثنا بن أبي عمرو الْعَدَنِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا رَأَى اَحَدُکُمْ مَنْ فَوْقَہُ فِی الْمَالِ وَالْحَسَبِ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی مَنْ ھُوَدُوْنَہٗ فِی الْمَالِ وَالْحَسَبِ ۔(43:2)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جب کوئی شخص مال اور حسب کے اعتبار سے اپنے سے اوپر والے شخص کو دیکھے‘ تو اسےمال اور حسب کے اعتبار سے اپنے سے نیچے والے شخص کو بھی دیکھنا چاہئے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← بن أبي عمرو الْعَدَنِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرٍ الْبَزَّارُ

Hadith 714

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 715

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنِ بن عَجْلَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتِ اشْتَدَّ وَجَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وعندهذكر مَا يُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ أَنْ يَكُونَ خُرُوجُهُ مِنْ هَذِهِ الدُّنْيَا الْفَانِيَةِ الزَّائِلَةِ وَهُوَ صِفْرُ الْيَدَيْنِ مِمَّا يُحَاسَبُ عَلَيْهِ مِمَّا فِي عُنُقِهِ [715] أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنِ بن عَجْلَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتِ اشْتَدَّ وَجَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وعنده سَمْعَۃُ دَنَانِیرَ اَوْ تِسْعَۃٌ فقَالَ: یَا عَائَشَۃُ مَا فَعَلَتْ تِلْکَ الذَّھَبْ فَقُلْتُ ھِیَ عِنْدِیْ قَالَ: تَصَدَّقِی بِھَا قَالَتْ فَشُغِلْتُ بِہٖ ثُمَّ قَالَ: یَا عَائِشَۃُ مَا فَعَلَتْ تِلْکَ الذَّھَب فَقُلْتُ ھِیَ عِنْدِیْ فقَالَ: ائْتِنِیْ بِھَا قَالَتْ فَجِئْتُ بِھَا فَوَضُعَھَا فِیْ کَفِّہِ ثُمَّ قَالَ: مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ اَنْ لَوْ لَقِیَ اللہَ وَھٰذِہٖ عِنْدَہٗ مَاظَنُّ مُحَمَّدٍ اَنْ لَوْ لقی اللہ وَھٰذِہٖ عِنْدَہٗ ۔(48:5)

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ کی تکلیف زیادہ ہو گئی آپ کے پاس سات یا شاید نو دینار موجود تھے۔ آپ نے فرمایا : اے عائشہ! تم نے اس سونے کا کیا کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : وہ میرے پاس ہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم اسے صدقہ کر دو ‘ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : میں مشغولیت کی وجہ سے یہ کام نہ کر سکی پھر آپ نے دریافت کیا: اے عائشہ ! تم نے اس سونے کے ساتھ کیا کیا ہے۔ میں نے عرض کی :وہ میرے پاس ہے آپ نےﷺ ارشاد فرمایا : اسے میرے پاس لے کے آؤ ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں : میں وہ لے کر آئی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اسے اپنی ہتھیلی میں لیا اور ارشاد فرمایا : ’’ محمد کے بارے میں کیا گمان کیا جائے گا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ یہ کچھ اس کے پاس ہو‘ محمد ﷺ کے بارے میں کیا گمان کیا جائے گا کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ یہ اس کے پاس ہو‘‘۔

عَائِشَةَ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي حَازِمٍ ← بن عَجْلَانَ ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ

Hadith 715

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr