Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 692

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ2 قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاكِينُ وَإِذَا أَصْحَابُ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ وَأَصْحَابُ النَّارِ قَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ وَنَظَرْتُ إِلَى النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا النِّسَاءُ" 3. قال أبو حاتم رضى الله تعالى عَنْهُ قَرَنَ عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ المعتمر معتمر بن سليمان. [2: 55]

حضرت اسامہ بن زیدؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تھا اس میں داخل ہونے والے زیادہ تر لوگ غریب لوگ تھے اور خوشحال لوگوں کو وہاں روک لیا گیا تھا ‘ اور جب اہل جہنم میں جانے کا حکم ہوا اور میں نے جہنم کا جائزہ لیا ‘ تو اس میں داخل ہونے والی اکثر خواتین تھیں‘‘۔ امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :عمران بن موسیٰ نامی راوی نے اس روایت میں حضرت اسامہ بن زید ؓ کے ساتھ حضرت سعید بن زیدؓ کو بھی ملا دیا ہے۔ یہاں معمر مانی راوی سے مراد معتمر بن سلیمان ہے۔

أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← أَبِي ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of poverty, asceticism and persuasion · Hadith 692

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 693

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ نَافِعٍ قال سمع بن عمر صوت زمارة راعي قَالَ فَجَعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَعَدَلَ عَنِ الطَّرِيقِ وَجَعَلَ يَقُولُ يَا نَافِعُ أَتَسْمَعُ فَأَقُولُ نَعَمْ فَلَمَّا قُلْتُ لَا رَاجَعَ الطَّرِيقَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يفعله"1. [5: 47]

افع بیان کرتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ایک چروا ہے کہ بانسری کی آواز سنی‘ تو انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھ لیں اور راستے سے ایک طرف ہٹ گئے وہ یہ فرماتے جا رہے تھے : اے نافع ! کیا تمہیں آواز آ رہی ہے ؟ میں جواب دیتا تھا جی ہاں! جب میں نے کہا : اب نہیں آ رہی ‘ تو وہ واپس راستے پر آ گئے پھر انہوں نے فرمایا ’’ میں نے نبی اکرمﷺ کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ‘‘۔

هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يفعله"1. ← يَا نَافِعُ أَتَسْمَعُ فَأَقُولُ نَعَمْ فَلَمَّا قُلْتُ لَا رَاجَعَ الطَّرِيقَ ثُمَّ ← الطَّرِيقِ وَجَعَلَ ← فَجَعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَعَدَلَ ← بن عمر صوت زمارة راعي ← نَافِعٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of poverty, asceticism and persuasion · Hadith 693

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 694

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَانِيُّ1 قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا إِنَّ الدِّينَارَ وَالدِّرْهَمَ أَهْلَكَا مَنْ كَانَ قبلكم وهما مهلكاكم" 2. [3: 66]

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ خبردار ! بیشک درہم اور دینار نے تم سے پہلے لوگوں کو بھی ہلاکت کا شکار کر دیا اور یہ تم لوگوں کو بھی ہلاکت کا شکار کر دیں گے‘‘۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← الْحُسَیْنُ بْنُ حُرَیْثٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of poverty, asceticism and persuasion · Hadith 694

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 695

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خالد حدثنا همام عن قتاد عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بَعَثَتْ بِقِنَاعٍ فِيهِ رُطَبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَقْبِضُ الْقَبْضَةَ فَيَبْعَثُ بها إلى بعضذكر مَا يُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ أَنْ يَذُودَ نَفْسَهُ مِنْ هَذِهِ الْغَرَّارَةِ الزَّائِلَةِ بِبَذْلِ مَا يَمْلِكُ مِنْهَا لِغَيْرِهِ [695] أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خالد حدثنا همام عن قتاد عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ بَعَثَتْ بِقِنَاعٍ فِيهِ رُطَبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَقْبِضُ الْقَبْضَةَ فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ ثُمَّ یَقْبِضُ الْقَبْضَۃَ فَیَبْعَثُ بِھَا اِلٰی اَزْوَاجِہِ ثُمَّ یَبْعَثُ بِھَا وَاِنَّہٗ لَیَشْتَھِیہِ فَعَلَ ذلک غیر مرۃ وإنہ لیشتھیہ ۔(47:5)

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلیم ؓ نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں تازہ کھجوروں کا ایک تھال بھیجا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے مٹھی میں کھجوریں لے کر انہیں اپنی ایک زوجہ محترمہ کی طرف بھجوا دیا پھر آپ نے مٹھی میں کھجوریں لیں اور اپنی ازواج کی طرف بھجوا دیا پھر آپ نے انہیں بھجوا دیا اور آپ کو اس بات کی خواہش بھی تھی آپ نے کئی مرتبہ ایسا کیا اور آپ کو اس بات کی خواہش بھی تھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قتاد ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of poverty, asceticism and persuasion · Hadith 695

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 696

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الْأَدَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قُعَيْسٍ عن نافع عن بن عُمَرَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ فِي غَزَاةٍ كَانَ آخِرُ عَهْدِهِ بِفَاطِمَةَ وَإِذَا قَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ كَانَ أَوَّلُ عَهْدِهِ بِفَاطِمَةَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهَا فَإِنَّهُ خَرَجَ لِغَزْوِ تَبُوكَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَقَامَتْ فَاطِمَةُ فَبَسَطَتْ فِي بَيْتِهَا بِسَاطًا وَعَلَّقَتْ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا وَصَبَغَتْ مِقْنَعَتَهَا بِزَعْفَرَانٍ فَلَمَّا قَدِمَ أَبُوهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَى مَا أَحْدَثَتْ رَجَعَ فَجَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَرْسَلَتْ إِلَى بِلَالٍ فَقَالَتْ يَا بِلَالُ اذْهَبْ إِلَى أَبِي فَسَلْهُ مَا يَرُدُّهُ عَنْ بَابِي فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي رَأَيْتُهَا أَحْدَثَتْ ثَمَّ شَيْئًا" فَأَخْبَرَهَا فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَرَفَعَتِ الْبِسَاطَ وَأَلْقَتْ مَا عَلَيْهَا وَلَبِسَتْ أطمارهاذكر مَا يُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ رِعَايَةُ عِيَالِهِ بِذَبِّهِمْ عَنِ الْأَشْيَاءِ الَّتِي يُخَافُ عَلَيْهِمْ مُتَعَقَّبُهَا [696] أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الْأَدَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قُعَيْسٍ عَنْ نافع عن بن عُمَرَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ فِي غَزَاةٍ كَانَ آخِرُ عَهْدِهِ بِفَاطِمَةَ وَإِذَا قَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ كَانَ أَوَّلُ عَهْدِهِ بِفَاطِمَةَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهَا فَإِنَّهُ خَرَجَ لِغَزْوِ تَبُوكَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَقَامَتْ فَاطِمَةُ فَبَسَطَتْ فِي بَيْتِهَا بِسَاطًا وَعَلَّقَتْ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا وَصَبَغَتْ مِقْنَعَتَهَا بِزَعْفَرَانٍ فَلَمَّا قَدِمَ أَبُوهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَى مَا أَحْدَثَتْ رَجَعَ فَجَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَرْسَلَتْ إِلَى بِلَالٍ فَقَالَتْ يَا بِلَالُ اذْهَبْ إِلَى أَبِي فَسَلْهُ مَا يَرُدُّهُ عَنْ بَابِي فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي رَأَيْتُهَا أَحْدَثَتْ ثَمَّ شَيْئًا" فَأَخْبَرَهَا فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَرَفَعَتِ الْبِسَاطَ وَأَلْقَتْ مَا عَلَيْهَا وَلَبِسَتْ أطمارها فَاَتَاہُ بِلَالٌ فَاَخْبَرَہُ فَاَتَاہُ فَاعْتَنَقَھَا وَقَالَ: ھٰکَذَا اکُوْنِیْ فِدَاکَ أَبِیْ وَأُمِّیْ ۔(8:5)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ جب بھی کسی جنگ میں شریک ہونے کے لئے تشریف لے جاتے تھے ‘ تو آپ سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ ؓ سے ملتے تھے اور جب بھی آپ کسی جنگ سے واپس تشریف لاتے تھے ‘ تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ ؓ سے ملتے تھے جب آپ غزوہ تبوک میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے ‘ تو آپ کے ساتھ حضرت علیؓ بھی تھے ۔ سیدہ فاطمہؓ کھڑی ہوئیں۔ انہوں نے اپنے گھر میں ایک چٹائی بچھا لی گھر کے دروازے پر پردہ لٹکا دیا۔ انہوں نے اس پردے کو زعفران کے ساتھ رنگ دیا تھا جب ان کے والد تشریف لائے اور انہوں نے سیدہ فاطمہ ؓ کے اس عمل کو دیکھا ‘ تووہ واپس تشریف لے گئے اور مسجد میں تشریف فرما ہوئے۔ سیدہ فاطمہ ؓ نے حضرت بلالؓ کو پیغام بھجوایا اور کہا : اے بلال! تم میرے والد کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو کہ آپ میر دروازے سے واپس کیوں چلے گئے۔ حضرت بلالؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا : میں نے دیکھا ہے کہ اس نے وہاں ایک نیا کام کیا تھا۔ حضرت بلال ؓ نے سیدہ فاطمہ ؓ کو اس بارے میں بتایا ‘ تو انہوں نے اس پردے کو اتار دیا اور اس بچھونے کو اٹھا دیا اور اس پر موجود چیزوں کو ایک طرف رکھ کے خود پرانے سے کپڑے پہن لئے پھر حضرت بلالؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی اکرمﷺ کو اس بارے میں بتایا ‘ تو نبی اکرمﷺ آپ کے ہاں تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے انہیں ( سیدہ فاطمہ ؓ کو ) انہوں نے گلے لگایا اور ارشاد فرمایا : ’’ تم اسی طرح رہا کرو‘ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ‘‘۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ قُعَيْسٍ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الْأَدَمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of poverty, asceticism and persuasion · Hadith 696

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 697

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الْأَدَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قُعَيْسٍ عن نافع عن بن عُمَرَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ فِي غَزَاةٍ كَانَ آخِرُ عَهْدِهِ بِفَاطِمَةَ وَإِذَا قَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ كَانَ أَوَّلُ عَهْدِهِ بِفَاطِمَةَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهَا فَإِنَّهُ خَرَجَ لِغَزْوِ تَبُوكَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَقَامَتْ فَاطِمَةُ فَبَسَطَتْ فِي بَيْتِهَا بِسَاطًا وَعَلَّقَتْ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا وَصَبَغَتْ مِقْنَعَتَهَا بِزَعْفَرَانٍ فَلَمَّا قَدِمَ أَبُوهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَى مَا أَحْدَثَتْ رَجَعَ فَجَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَرْسَلَتْ إِلَى بِلَالٍ فَقَالَتْ يَا بِلَالُ اذْهَبْ إِلَى أَبِي فَسَلْهُ مَا يَرُدُّهُ عَنْ بَابِي فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي رَأَيْتُهَا أَحْدَثَتْ ثَمَّ شَيْئًا" فَأَخْبَرَهَا فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَرَفَعَتِ الْبِسَاطَ وَأَلْقَتْ مَا عَلَيْهَا وَلَبِسَتْ أطمارهاذكر مَا يُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ رِعَايَةُ عِيَالِهِ بِذَبِّهِمْ عَنِ الْأَشْيَاءِ الَّتِي يُخَافُ عَلَيْهِمْ مُتَعَقَّبُهَا [696] أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الْأَدَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قُعَيْسٍ عَنْ نافع عن بن عُمَرَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ فِي غَزَاةٍ كَانَ آخِرُ عَهْدِهِ بِفَاطِمَةَ وَإِذَا قَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ كَانَ أَوَّلُ عَهْدِهِ بِفَاطِمَةَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهَا فَإِنَّهُ خَرَجَ لِغَزْوِ تَبُوكَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَقَامَتْ فَاطِمَةُ فَبَسَطَتْ فِي بَيْتِهَا بِسَاطًا وَعَلَّقَتْ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا وَصَبَغَتْ مِقْنَعَتَهَا بِزَعْفَرَانٍ فَلَمَّا قَدِمَ أَبُوهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَى مَا أَحْدَثَتْ رَجَعَ فَجَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَرْسَلَتْ إِلَى بِلَالٍ فَقَالَتْ يَا بِلَالُ اذْهَبْ إِلَى أَبِي فَسَلْهُ مَا يَرُدُّهُ عَنْ بَابِي فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي رَأَيْتُهَا أَحْدَثَتْ ثَمَّ شَيْئًا" فَأَخْبَرَهَا فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَرَفَعَتِ الْبِسَاطَ وَأَلْقَتْ مَا عَلَيْهَا وَلَبِسَتْ أطمارها فَاَتَاہُ بِلَالٌ فَاَخْبَرَہُ فَاَتَاہُ فَاعْتَنَقَھَا وَقَالَ: ھٰکَذَا اکُوْنِیْ فِدَاکَ أَبِیْ وَأُمِّیْ ۔(8:5)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ جب بھی کسی جنگ میں شریک ہونے کے لئے تشریف لے جاتے تھے ‘ تو آپ سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ ؓ سے ملتے تھے اور جب بھی آپ کسی جنگ سے واپس تشریف لاتے تھے ‘ تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ ؓ سے ملتے تھے جب آپ غزوہ تبوک میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے ‘ تو آپ کے ساتھ حضرت علیؓ بھی تھے ۔ سیدہ فاطمہؓ کھڑی ہوئیں۔ انہوں نے اپنے گھر میں ایک چٹائی بچھا لی گھر کے دروازے پر پردہ لٹکا دیا۔ انہوں نے اس پردے کو زعفران کے ساتھ رنگ دیا تھا جب ان کے والد تشریف لائے اور انہوں نے سیدہ فاطمہ ؓ کے اس عمل کو دیکھا ‘ تووہ واپس تشریف لے گئے اور مسجد میں تشریف فرما ہوئے۔ سیدہ فاطمہ ؓ نے حضرت بلالؓ کو پیغام بھجوایا اور کہا : اے بلال! تم میرے والد کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو کہ آپ میر دروازے سے واپس کیوں چلے گئے۔ حضرت بلالؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا : میں نے دیکھا ہے کہ اس نے وہاں ایک نیا کام کیا تھا۔ حضرت بلال ؓ نے سیدہ فاطمہ ؓ کو اس بارے میں بتایا ‘ تو انہوں نے اس پردے کو اتار دیا اور اس بچھونے کو اٹھا دیا اور اس پر موجود چیزوں کو ایک طرف رکھ کے خود پرانے سے کپڑے پہن لئے پھر حضرت بلالؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی اکرمﷺ کو اس بارے میں بتایا ‘ تو نبی اکرمﷺ آپ کے ہاں تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے انہیں ( سیدہ فاطمہ ؓ کو ) انہوں نے گلے لگایا اور ارشاد فرمایا : ’’ تم اسی طرح رہا کرو‘ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ‘‘۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ قُعَيْسٍ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الْأَدَمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of poverty, asceticism and persuasion · Hadith 697

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 698

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الأعمش عن مجاهد عن بن عُمَرَ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي أَوْ قَالَ بِمَنْكِبَيَّ فقَالَ: "كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سبيل" قال فكان بن عمر يقول إذا أصبحت فلا تنتظرذكر الْإِخْبَارِ عَنِ الْوَصْفِ الَّذِي يَجِبُ أَنْ يَكُونَ الْمَرْءُ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا الْفَانِيَةِ الزَّائِلَةِ [698] أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عن مجاهد عن بن عُمَرَ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي أَوْ قَالَ بِمَنْكِبَيَّ فقَالَ: "كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سبيل" قال فكان بن عُمَرَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرُ الْمَسَاءَ وَاِذَا اَمْسَیْتَ فَلَا تَنْتَظِرُ الصَّبَّاحَ وَخُذْ مِنْ صِحْتَکِ لمرضک وَمِنْ حَیَاتِکَ لِمَوْتِکَ۔

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ‘بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے میرے کندےھے کو پکڑا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) میرے دونوں کندھوں کو پکڑا اور فرمایا : ’’ تم دنیا میں ہوں رہو جیسے تم اجنبی ہو یا تم مسافر ہو‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن عمرؓ یہ فرمایا کرتے تھے جب تم صبح کر لو‘ تو شام کا انتظام نہ کرو اور جب شام کر لو ‘ تو صبح کا انتظار نہ کرو اور بیماری سے پہلے اپنی صحت کو اور مرنے سے پہلےاپنی زندگی کو غنیمت سمجھو۔ اسحاق نامی راوی کہتے ہیں:حسن بن قزعہ بیان کرتے ہیں :یحییٰ بن معین نے مجھ سے صرف اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا ہے۔

فكان بن عُمَرَ ← "كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سبيل" ← بِمَنْكِبَيَّ ← أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ بِمَنْكِبِي أَوْ ← بن عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ ← الْوَصْفِ الَّذِي يَجِبُ أَنْ يَكُونَ الْمَرْءُ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا الْفَانِيَةِ الزَّائِلَةِ ← إذا أصبحت فلا تنتظرذكر الْإِخْبَارِ ← فكان بن عُمَرَ ← "كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سبيل" ← بِمَنْكِبَيَّ ← أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ بِمَنْكِبِي أَوْ ← بن عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of poverty, asceticism and persuasion · Hadith 698

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 699

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ قَالَ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سُوَيْدٍ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "أحساب أهل الدنيا المال" 1. [3: 66]

عبد اللہ بن زید اپنے والد حضرت زید ؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اہل دنیا کے نزدیک ‘ حسب برتری کا معیار ) مال ہے ‘‘۔

أَبِيهِ بُرَيْدَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← أَبِيهِ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ← سُوَيْدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سُوَيْدٍ الْمَرْوَزِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of poverty, asceticism and persuasion · Hadith 699

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 700

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ أَحْسَابَ أَهْلِ الدُّنْيَا الَّذِي يَذْهَبُونَ إِلَيْهِ لهذا المال" 1. [3: 66]

عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ اہل دنیا کے نزدیک حسب ( یعنی برتری ) کا معیار مال ہے ‘ جس کی طرف وہ جاتے ہیں ‘‘۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of poverty, asceticism and persuasion · Hadith 700

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 701

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بشارذكر الْإِخْبَارِ عَمَّا يَؤُولُ مُتَعَقِّبُ أَمْوَالِ أَهْلِ الدُّنْيَا الَّتِي هِيَ أَحْسَابُهُمْ إِلَيْهِ [701] أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَھُوَ غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ سَمِعْتُ قَتَادَۃَ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ اِنْتُھَیْتُ اِلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ یَقْرَاُ:( اَلْھَا کُمُ التَّکَاثُرُ() التکاثر:1)

مطرف اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے۔ کثرت تمہیں غفلت کا شکار کر دے گی‘‘۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ابن آدم کہتا ہے : یہ میرا مال ہے ‘ یہ میرا مال ہے ‘ حالانکہ تمہارا مال وہ ہے ‘ جو کھا کر تم فنا کر دو ‘ یا جسے پہن کر تم پرانا کر دو‘ یا جسے صدقہ کر کے تم آگے بھیج دو۔

أَبِيهِ ← مُطَرِّفًا ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَهُوَ غُنْدَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ← الْإِخْبَارِ عَمَّا يَؤُولُ مُتَعَقِّبُ أَمْوَالِ أَهْلِ الدُّنْيَا الَّتِي هِيَ أَحْسَابُهُمْ إِلَيْهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of poverty, asceticism and persuasion · Hadith 701

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 702

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بِسْطَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُتَيٍّ1 عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إن مطعم بن آدَمَ ضُرِبَ لِلدُّنْيَا مَثَلًا بِمَا خَرَجَ مِنِ بن آدَمَ وَإِنْ قَزَّحَهُ وَمَلَّحَهُ فَانْظُرْ مَا يَصِيرُ إليه" 2. [3: 66]

حضرت ابی بن کعبؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اب آدم نے جو کچھ کھایا ہے‘ اس کےذریعے دنیا کی مثال بیان کی جاسکتی ہے ‘ جو ابن آدم کے جسم سے نکلتا ہے۔ وہ اگرچہ اس میں مصالحہ ڈالتا ہے اور نمک ڈالتا ہے لیکن تم اس بات کا جائزہ لو ( کہ آدمی کےپیٹ میں رہ کر ) وہ کیا بن جاتا ہے‘‘۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عُتَيٍّ1 ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← مُوسَى بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of poverty, asceticism and persuasion · Hadith 702

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 703

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالْأُبُلَّةِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَضْبَاءُ لَا تُسْبَقُ كُلَّمَا سَابَقُوهَا سَبَقَتْ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ فسبقها فَسَبَقَهَا فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَى ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْتَفِعَ شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ الْقَذِرَةِ إِلَّا وَضَعَهَا الله" 1. [3: 66]

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کی اونٹنی عضباء سے آ گے کوئی نہیں نکل سکتا تھا جب بھی اس کے ساتھ مقابلہ ہوتا تھا وہ آگے نکل جاتی تھی ۔ ایک مرتبہ ایک دیہاتی ایک اونٹ پر بیٹھ کر آیا ۔ اس نے اس اونٹنی کے ساتھ مقابلہ کیا ‘ تو وہ آگے نکل گیا یہ بات نبی اکرمﷺ کے اصحاب کو گراں گزری جب نبی اکرمﷺ نے ان کے چہرے پر یہ چیز ملاحظہ کی ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ پر یہ بات پر لازم ہے کہ اس دنیا میں جب کسی چیز کو سر بلندی عطا کرے ‘ تو اسے پستی بھی عطا کرے‘‘۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of poverty, asceticism and persuasion · Hadith 703

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr