صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 680
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُمَرَ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ من عند مروان نصف النهار قالذكر وَصْفِ الْغِنَى الَّذِي وَصَفْنَاهُ قَبْلُ [680] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُمَرَ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ نِصْفَ النَّهَارِ قَالَ قَالَ قُلْتَ مَا بَعَثَ اِلَیْہِ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ اِلَّا لِشَیْءٍ سَاَلَہٗ عَنْہُ فَسَاَلْتُہٗ فقَالَ سَاَلَنَا عَنْ اَشْیَاءَ سَمِعْنَاھَا مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : نَضَّرَاللہُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا فَبَلَّغَہُ غَیْرَہُ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ اِلٰی ھُوَ اَفْقَہُ مِنْہُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ لَیْسَ بَفَقِیہٍ ثَلَاثٌ لَا یَغِلُّ عَلَیْھِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ اِخْلَاصُ لِلہِ وَمُنَاصَحَۃُ وُلَاۃِ الأمر ولذوم الجماع فَاِنَّ دَعْوَتَھُمْ تُحِیطُ مِنْ وَرَائِھِمْ وَمَنْ کَانَتِ الدُّنْیَا نِیَّتَہٗ فَرَّقَ اللہُ عَلَیْہِ اَمْرَہُ وَجَعَلَ فَقْرَہُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَلَمْ یَاْتِہٖ مِنَ الدُّنْیَا اِلَّا مَا کُتِبَ لَہٗ وَمَنْ کَانَتِ الْاٰخِرَۃُ نِیَّتَہٗ جَمَعَ اللہُ لَہٗ اَمْرَہُ وَجَعَلَ غِنَاہُ فی قلبہ وأتتہ الدنیا وھی راغمۃ ۔
عبد الرحمٰن بن ابان اپنے والد کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت زید بن ثابت ؓ دوپہر کے وقت مروان کے پاس سے اٹھ کر باہر آئے ‘ تو میں نے سوچا یہ اس وقت ضرور کسی ایسے کام کے سلسلے میں گئے ہوں گے کہ جو مروان ان سے دریافت کرنا چاہتا ہو گا میں نے حضرت زید ؓ سے دریافت کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : اس نے ہم سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا :جو ہم نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سنی ہیں۔ ( حضرت زیدؓ نے بتایا ) میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ اسے خوش رکھے جو ہم سے حدیث سنے اور پھر اسے دوسرے تک پہنچا دے ‘ کیونکہ بعض اوقات علم حاصل کرنے والا شخص اس شخص تک اسے منتقل کر دیتا ہے ‘ جو اس سے زیادہ علم والا ہوتا ہے اور بعض اوقات علم حاصل کرنے والا شخص درحقیقت عالم نہیں ہوتا ‘ تین چیزیں ایسی ہیں ‘ جن کے بارے میں مسلمان کا دل دھوکہ نہیں دیتا ۔ عمل کا اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہونا ‘ مسلمان حکمرانوں کے لئے خیرخواہی اور ان کی جماعت کے ساتھ رہنا ‘ کیونکہ ان کی دعا غیر موجود لوگوں تک محیط ہوتی ہے ‘ جس شخص کی نیت دنیا ہو گی اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو متفرق کر د ے گا اور اس کی غربت کو اس کے سامنے کر دے گا اور دنیا میں سے اسے صرف وہی کچھ ملے گا ‘ تو اس کے نصیب میں لکھا گیا ہے اور جس شخص کی نیت آخرت ہو گی ‘ اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو سمیٹ دے گا۔ اس کے دل میں خوشحالی ڈال دے گا اور دنیا سرنگوں ہو کر اس کے پاس آئے گی‘‘۔
أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانٍ، ← عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،
Hadith 680
