Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 680

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُمَرَ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ من عند مروان نصف النهار قالذكر وَصْفِ الْغِنَى الَّذِي وَصَفْنَاهُ قَبْلُ [680] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُمَرَ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ نِصْفَ النَّهَارِ قَالَ قَالَ قُلْتَ مَا بَعَثَ اِلَیْہِ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ اِلَّا لِشَیْءٍ سَاَلَہٗ عَنْہُ فَسَاَلْتُہٗ فقَالَ سَاَلَنَا عَنْ اَشْیَاءَ سَمِعْنَاھَا مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : نَضَّرَاللہُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا فَبَلَّغَہُ غَیْرَہُ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ اِلٰی ھُوَ اَفْقَہُ مِنْہُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ لَیْسَ بَفَقِیہٍ ثَلَاثٌ لَا یَغِلُّ عَلَیْھِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ اِخْلَاصُ لِلہِ وَمُنَاصَحَۃُ وُلَاۃِ الأمر ولذوم الجماع فَاِنَّ دَعْوَتَھُمْ تُحِیطُ مِنْ وَرَائِھِمْ وَمَنْ کَانَتِ الدُّنْیَا نِیَّتَہٗ فَرَّقَ اللہُ عَلَیْہِ اَمْرَہُ وَجَعَلَ فَقْرَہُ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَلَمْ یَاْتِہٖ مِنَ الدُّنْیَا اِلَّا مَا کُتِبَ لَہٗ وَمَنْ کَانَتِ الْاٰخِرَۃُ نِیَّتَہٗ جَمَعَ اللہُ لَہٗ اَمْرَہُ وَجَعَلَ غِنَاہُ فی قلبہ وأتتہ الدنیا وھی راغمۃ ۔

عبد الرحمٰن بن ابان اپنے والد کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت زید بن ثابت ؓ دوپہر کے وقت مروان کے پاس سے اٹھ کر باہر آئے ‘ تو میں نے سوچا یہ اس وقت ضرور کسی ایسے کام کے سلسلے میں گئے ہوں گے کہ جو مروان ان سے دریافت کرنا چاہتا ہو گا میں نے حضرت زید ؓ سے دریافت کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : اس نے ہم سے کچھ چیزوں کے بارے میں دریافت کیا :جو ہم نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سنی ہیں۔ ( حضرت زیدؓ نے بتایا ) میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ اسے خوش رکھے جو ہم سے حدیث سنے اور پھر اسے دوسرے تک پہنچا دے ‘ کیونکہ بعض اوقات علم حاصل کرنے والا شخص اس شخص تک اسے منتقل کر دیتا ہے ‘ جو اس سے زیادہ علم والا ہوتا ہے اور بعض اوقات علم حاصل کرنے والا شخص درحقیقت عالم نہیں ہوتا ‘ تین چیزیں ایسی ہیں ‘ جن کے بارے میں مسلمان کا دل دھوکہ نہیں دیتا ۔ عمل کا اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہونا ‘ مسلمان حکمرانوں کے لئے خیرخواہی اور ان کی جماعت کے ساتھ رہنا ‘ کیونکہ ان کی دعا غیر موجود لوگوں تک محیط ہوتی ہے ‘ جس شخص کی نیت دنیا ہو گی اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو متفرق کر د ے گا اور اس کی غربت کو اس کے سامنے کر دے گا اور دنیا میں سے اسے صرف وہی کچھ ملے گا ‘ تو اس کے نصیب میں لکھا گیا ہے اور جس شخص کی نیت آخرت ہو گی ‘ اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو سمیٹ دے گا۔ اس کے دل میں خوشحالی ڈال دے گا اور دنیا سرنگوں ہو کر اس کے پاس آئے گی‘‘۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانٍ، ← عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 680

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 681

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحَرِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ قَالَ: "انْظُرْ أَرْفَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَيْنَيْكَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ فِي حُلَّةٍ جَالِسٌ يُحَدِّثُ قَوْمًا فَقُلْتُ هَذَا قَالَ: "انْظُرْ أَوْضَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَيْنَيْكَ" قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا رُوَيْجِلٌ مِسْكِينٌ فِي ثَوْبٍ لَهُ خَلْقٍ قُلْتُ هَذَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَذَا خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ قَرَارِ الأرض مثل هذا" 1. [3: 9]

حضرت ابوذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ مسجد میں موجود تھا اسی دوران آپ نے ارشاد فرمایا : تم مجھے دیکھ کر بتاؤ کہ مسجد میں تمہارے سامنے کون سا شخص سب سے بلند تر حیثیت کا مالک ہے ؟ میں نے اس بات کا جائزہ لیا‘ تو وہاں ایک شخص حلہ پہن کر لوگوں کے ساتھ بیٹھا بات چیت کر رہا تھا میں نےجواب دیا: یہ والا شخص ‘ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم اب اس بات کا جائزہ لو کہ تمہارے سامنے کون سا شخص سب سے کم ترحیثیت کا مالک ہے ‘ تو میں نے اس بات کا جائزہ لیا ‘ تو وہاں ایک غریب سا شخص پرانے سے کپڑوں میں بیٹھا ہوا تھا میں نے عرض کی : یہ والا شخص ’ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ( غریب شخص ) قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس ( امیر آدمی جیسے) زمین بھر لوگوں سے بہتر ہو گا۔

بَيْنَمَا ← اَبِیْ ذَرٍّ ← خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 681

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 682

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: "رَأَيْتُ سَبْعِينَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصُّفَّةِ مَا عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ رِدَاءٌ إِلَّا إِزَارٌ أَوْ كِسَاءٌ مُتَوَشِّحًا به قد عقده خلفه" 1. [3: 9]

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کے ستر اصحاب کو صفہ میں دیکھا ہے ان میں سے کسی ایک کے پاس بھی چادر نہیں ہوتی تھی صرف چھوٹا تہبند ہوتا تھا یا ایک چادر ہوتی تھی جسے وہ تو شیخ کے طور پر لپیٹ لیتا تھا ‘اور اپنے پیچھے باندھ لیتا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← الْفُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 682

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 683

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ1 بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَا كان طعامنا على عهد رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلَا الأسودان التمر والماء ۔(47:5)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں ہماری خوراک صرف دو سیاہ چیزیں ہوتی ہیں کھجور اور پانی۔

مَا كان طعامنا على عهد رَسُوْلُ اللہِ اَلَا الأسودان التمر والماء ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 683

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 684

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَمِّي حدثنا أبي عن بن إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: "مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّا كُنَّا نَشْبَعُ مِنَ التَّمْرِ فَقَدْ كَذَبَكُمْ فَلَمَّا افْتَتَحَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْظَةَ أصبنا شيئا من التمر والودك"1. [5: 47]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : جو شخص تمہیں یہ بات بتائے کہ ہم پیٹ بھر کر کھجوریں کھا لیا کرتے تھے۔ اس نے تمہارے ساتھ غلط بیانی کی ہے‘ جب نبی اکرمﷺ نے قریظہ کو فتح کیا ‘ تو ہمیں کچھ کھجوریں اور چربی ملی تھی۔

مَنْ حَدَّثَکُمْ ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← بن إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← عَمِّي، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 684

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 685

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ [ص:461] وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ أَتَرَى كَثْرَةَ الْمَالِ هُوَ الْغِنَى؟ »، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَتَرَى قِلَّةَ الْمَالِ هُوَ الْفَقْرُ؟ »، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «إِنَّمَا الْغِنَى غِنَى الْقَلْبِ، وَالْفَقْرُ فَقْرُ الْقَلْبِ» ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فقَالَ: «هَلْ تَعْرِفُ فُلَانًا»؟ قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَكَيْفَ تَرَاهُ وَتَرَاهُ؟ » قُلْتُ: إِذَا سَأَلَ أُعْطِيَ، وَإِذَا حَضَرَ أُدْخِلَ، ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، فقَالَ: «هَلْ تَعْرِفُ فُلَانًا؟ » قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَمَا زَالَ يُحَلِّيهِ وَيَنْعَتُهُ حَتَّى عَرَفْتُهُ»، فَقُلْتُ: قَدْ عَرَفْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَكَيْفَ تَرَاهُ أَوْ تَرَاهُ؟ » قُلْتُ: رَجُلٌ مِسْكِينٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، فقَالَ: «هُوَ خَيْرٌ مِنْ طِلَاعِ الْأَرْضِ مِنَ الْآخَرِ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا يُعْطَى مِنْ بَعْضِ مَا يُعْطَى الْآخَرُ؟، فقَالَ: «إِذَا أُعْطِيَ خَيْرًا فَهُوَ أَهْلُهُ، وَإِنْ صُرِفَ عَنْهُ فَقَدْ أُعْطِيَ حَسَنَةً». [3: 9]

حضرت ابوذر غفاریؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابو ذر غفاری ! کیا تم یہ سمجھتے ہو مال کا زیادہ ہونا خوشحالی ہے۔ میں نے عرض کی :جی ہاں ‘ یا رسو ل اللہ ! نبی اکرمﷺ نےفرمایا : تو تم ی سمجھتے ہو گے کہ مال کا کم ہونا غربت ہے میں نے عرض کی : جی ہاں ‘ یا رسو ل اللہ! ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اصل خوشحالی دل کا خوشحال ہونا ہے اور اصل غربت دل کا غریب ہونا ہے۔ پھر نبی اکرمﷺ نے قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا : کیا تم فلاں شخص کو جانتے ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ‘ یا رسول اللہ ! نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : تمہاری اس کے بارے میں کیا رائے ہے اور اسے کیا سمجھا جاتا ہے؟ میں نےعرض کی : جب وہ کوئی چیز مانگے ‘ تو اسے دیدی جائے جب وہ کہیں آئے ‘ تو اسے اندر آنے دیا جائے پھر نبی اکرمﷺ نے اہل صفہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا اور فرمایا : کیا تم فلاں کو جانتے ہو ؟ میں نے عرض کہ : نہیں ۔ اللہ کی قسم! یا رسول اللہ ! میں اسے نہیں جانتا پھر نبی اکرمﷺ اس کا حسب نسب میرے سامنے بیان کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ میں نے اس کو پہچان لیا ‘ تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! مجھے اس کی شناخت ہو گئی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تمہاری اس کے بارے میں کیا رائے ہے اور اسے کیا سمجھا جاتا ہے۔ میں نے عرض کی : وہ صفہ سے تعلق رکھنے والا ایک غریب آدمی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ ( غریب آدمی ) اس دوسرے ( امیر آدمی جیسے ) زمین بھر لوگوں سے زیادہ بہتر ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! اس شخص کو اس چیز میں سےکچھ حصہ عطا نہیں کیا گیا جو دوسرے کو دی گئی ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر اس کو بھلائی دی گئی ہے ‘ تو یہ اس کا زیادہ اہل ہے اور اگر اس کو اس سےپھیر لیا گیا ہے ‘ تو اسے نیکی عطا کی گئی ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ [ص:461] وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 685

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 686

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ خُلَيْدٍ الْعَصَرِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا وَبِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ اللَّهُمَّ مَنْ أَنْفَقَ فَأَعْقِبْهُ خَلَفًا وَمَنْ أَمْسَكَ فَأَعْقِبْهُ تلفا" 1. [3: 9]

حضرت ابو درداء ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جب بھی سورج نکلتا ہے ‘ تو اس کے پہلو میں دو فرشتے ہوتے ہیں جو یہ اعلان کرتے ہیں‘‘۔ ’’ اے اللہ ! جو شخص ( تیری راہ میں ) خرچ کرتا ہے ‘ تو اسے اس کے بدلے میں مزید عطا کر اور جو شخص خرچ نہیں کرتا ہے ‘ تو اس کے بدلے میں اس کا نقصان کر دے‘‘۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← خُلَيْدٍ الْعَصَرِيِّ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 686

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 687

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ قالذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا جَعَلَ الدُّنْيَا سِجْنًا لِمَنْ أَطَاعَهُ وَمَخْرَفًا لِمَنْ عَصَاهُ [687] أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ وَھِشَامُ بْنُ عَمَّارِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: الدُّنْیَا سجن الْمُؤْمِن وَجَنَّۃُ الْکَافِر ۔(66:3)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت ہے ‘‘۔

إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 687

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 688

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وجنة الكافر" 1. [1: 2]

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اور کافر کے لئے جنت ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 688

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 689

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَزِيرُ بْنُ صُبَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قوله: {كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ} قَالَ: "مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا وَيُفَرِّجَ كربا ويرفع قوما ويضع آخرين" 2. [3: 66]

حضرت ابو درداء ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں یہ بات بیان کی ہے۔ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے ) ’’ ہر روز اس کی نئی شان ہوتی ہے‘‘۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں اس کی شان میں یہ بات شامل ہے کہ وہ گناہ کی مغفرت کر دیتا ہے ‘ پریشانی کو ختم کر دیتا ہے۔ ایک قوم کو سر بلندی نصیب کرتا ہے اور دوسری کو پست کر دیتا ہے۔

"مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا وَيُفَرِّجَ كربا ويرفع قوما ويضع آخرين" ← النَّبِيِّ فِي قوله: {كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ} ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ ← الْوَزِيرُ بْنُ صُبَيْحٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ

Hadith 689

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 690

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَيْرُوتَ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا بن جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ رَبٍّ يَقُولُ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يقول: "لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا بَلَاءٌ وَفِتْنَةٌ" 1. [3: 66]

ابو عبد رب بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت معاویہ ؓ کو اس مبنر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہتےہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’‘ دنیا میں سے صرف آزمائش اور فتبہ باقی رہ گیا ہے‘‘۔

"لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا بَلَاءٌ وَفِتْنَةٌ" ← رَسُولِ اللَّهِ ← مُعَاوِيَةَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ ← أَبَا عَبْدِ رَبٍّ ← بن جَابِرٍ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَیْرُوتَ،

Hadith 690

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 691

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قال حدثنا بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ هِنْدٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَمَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ هِنْدٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ "سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ وَمَاذَا فُتِحَ مِنَ الْخَزَائِنِ أَيْقِظُوا صَوَاحِبَ الْحُجَرِ فَرُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ يوم القيامة" 1. [3: 6]

سیدہ امام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں : ایک رات نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سےپاک ہے ‘ کتنے ہی فتنے نازل کر دئیے گئے ہیں اور کتنے ہی خزانوں کے دروازے کھول د ئیے گئے ہیں ۔ حجرے میں رہنے والی خواتین کو بیدار کر دو‘ کیونکہ دنیا میں بہت سی با پردہ عورتیں قیامت کے دن بے پردہ ہو ں گی ‘‘۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← هِنْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← أُمِّ سَلَمَةَ وَمَعْمَرٍ ← هِنْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 691

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr