صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 668
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ سَهْمٍ قَالَ نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَطْعُونٌ فَأَتَاهُ مُعَاوِيَةُ يَعُودُهُ فَبَكَى أَبُو هَاشِمٍ فقَالَ مُعَاوِيَةُ مَا يُبْكِيكَ أَيْ خَالِ أَوَجَعٌ أَمْ عَلَى الدُّنْيَا فَقَدْ ذَهَبَ صَفْوُهَا فقَالَ عَلَى كُلٍّ لَا وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَبِعْتُهُ قَالَ "إِنَّكَ لَعَلَّكَ أَنْ تُدْرِكَ أَمْوَالًا تُقَسَّمُ بَيْنَ أَقْوَامٍ وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سبيل الله" فأدركت وجمعت 1. [1: 63]
سمرہ بن سہم بیان کرتے ہیں :میں ابو ہاشم بن عتبہ کے ہاں گیا جو طاعون کی بیماری میں مبتلا تھے۔ حضرت معاویہ ؓ بھی ان کی عیادت کے لئے آئے ’ تو ابو ہاسم رونے لگے۔ حضرت معاویہ ؓ نے ان سے کہا: اے ماموں! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا آپ کو کوئی تکلیف ہو رہی ہے؟ یا آپ دنیا ( چھوڑنے کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں) اس کی صفائی ‘ تو رخصت ہو چکی ہے ‘ تو ابو ہاشم نے کہا : دونوں صورتیں نہیں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا میری یہ خواہش تھی کہ میں اس کی پیروی کر لیتا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایاتھا :ہو سکتا ہے تمہیں ایسے اموال ملیں جو لوگوں کے درمیان تقسیم کئے جائیں ‘ تو اس سے تمارے لئے ایک خادم اور اللہ کی راہ میں جانے کے لئے ایک سواری کافی ہے‘‘۔ ( ابو ہاشم نے فرمایا ) مجھے وہ چیز ملی بھی اور میں نے انہیں جمع بھی کیا۔
سَمُرَةََ بْنِ سَهْمٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،
Hadith 668
