صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 25
اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی حَدَّثَنَا اَبُوْ خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ الْقَعْقَاع عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ نعْمٍ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ بَعَتَ عَلِیٌّ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ الْیَمَنِ بِذَھَبٍ فِیْ اَدَمِ فَقَسَّمَھَمَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ زَیْدِ الْخَیْلِ وَالْاَقُرَع بْنِ حَابِسٍ وَعبَیْنَۃَ بْنِ حِصْنٍ و؟عَلْقَمَۃَ بْنِ عُلَا ثَۃَ فَقَالَ اُنَاسٌ مِنَ الْمُھَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ: نَحْنُ اَحَقُّ بِھٰذَا فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَشَقَّ عَلَیْہِ وَقَالَ: اَلَا تَاْمَنُونِیْ وَاَنَا اَمِیْنُ مَنْ فِی السَّمَاءِ یَاْتِیْنِیْ خَبَرُ مَنْ فِی السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً فَقَامَ إلَیْہِ نَاْتِیْءُ الْعَیْنِیْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَیْنِ نَاشِزُ الْوَجْہِ کَتُّ الِلّحْیَۃِ مَحْلُوقُ الرَّاْسِ مُشَمَّرُ الْاِزَارِ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللہِ اِتَّقِ اللہَ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :اَوَلَسْتُ بِاَحَقِّ اَھْلِ الْاَرْضِ اَنْ اَتَّقِیَ اللہَ ثُمَّ اَدْبَرَ فَقَامَ اِلَیْہِ خَالِدٌ سَیْفُ اللہِ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللہِ اَلا اَضْرِبُ عُنُقَہُ فَقَالَ : لَا اِنَّہٗ لَعَلَّہُ یُصَلِّی قَالَ : اِنَّہٗ رُبَّ مُصَلٍّ یَقُوْلُ بِلِسَانِہٖ مَا لَیْسَ فِیْ قَلْبِہٖ قَالَ : اِنِّیْ لَمْ اُومَرْ بَنْ اَشُقَّ قُدُوبَ النَّاسِ وَلَا اَشُقَّ بُطُونَھُم فَنَظَرَ اِلَیْھِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ وَھُوَ مُقَفَّی فَقَالَ : اِنَّہٗ سَیَخْرُجُ من ضِئْضِیْء ھٰذَا قَوْمٌ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللہِ لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَ ھُمْ یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّھْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ قَالَ عُمَارَۃُ فَحَسِبْتُ اَنَہٗ قَالَ: لَئنْ اَدْرَکْتُھُمْ لَاَقْتُلَنَّھُمْ قَتْلَ ثَمُوْدَ۔ (3:10)
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں: حضرت علیؓ نے یمن سے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں چمڑے میں کچھ سونا بھیجا۔ نبی اکرمﷺ نے وہ سونا زید خلیل ‘ اقرع بن حابس‘ عینیہ اور علقمہ بن علاثہ کے درمیان تقسیم کردیا۔ مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے یہ کہا: ہم اس کے زیادہ حق دار تھے۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرمﷺ کو ملی تو یہ بات آپﷺ کو گراں گزری آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ کیا تم لوگ مجھے امین نہیں سمجھتے ہو؟ حالانکہ میں اس ذات کا امین ہوں‘جو آسمان میں ہے‘ میرے پاس آسمان ہیں موجود ذات کی خبریں صبح و شام آتی ہیں ‘‘۔ (راوی کہتے ہیں:) تو چھوٹی آنکھوں اور ابھرے ہوئے گالوں ‘ تنگ پیشانی‘ گھنی داڑھی‘منڈے ہوئے سر اور اوپر کئے ہوئے تہبند والا ایک شخص نبی اکرمﷺ کے سامنے کھڑا ہوا۔اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا میں تمام اہل زمین سے زیادہ اس بات کا حق دار نہیں ہوں کہ میں اللہ سے ڈروں؟ پھر وہ شخص وہاں سے چلا گیا‘ تو اللہ کی تلوار حضرت خالدؓ اٹھ کر اس کی طرف جانے لگے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں۔ نبی اکرمﷺ نے اشاد فرمایا: جی نہیں! ہو سکتا ہے‘ وہ شخص نماز ادا کر رہا ہو۔ حضرت خالدؓ نے عرض کی گئی: نمازی ایسے ہیں‘ جو زبان کے ذریعے وہ بات کہتے ہیں‘ جو ان کے دل میں نہیں ہوتی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دل چیر کے دیکھوں‘ یا ان کے پیٹ چیر کے دیکھوں۔ پھر نبی اکرمﷺ نے اس شخص کی طرف دیکھا وہ اس وقت واپس جا رہا تھا‘ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: عنقریب اس کی اولاد میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے‘ جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کریں گے‘ لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی‘ اور وہ لوگ دین سے ہوں خارج ہو جائیں گے‘ جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے‘‘۔ عمارہ نامی راوی یہ بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے۔ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے یہ ارشاد فرمایا : ’’اگر میں نے ان لوگوں کا زمانہ پا لیا‘ تو میں انہیں اس طرح قتل کروں گا‘ جس طرح قوم ثمود کو قتل کیا گیا تھا‘‘۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى
Hadith 25
