Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 13

حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَھْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ عَنْ مَّالِکِ بْنِ اَنَسٍ عَنْ سَالَمٍ اَبِیْ النَّصْرِ عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ رَافِع عِنْ اَبِیْ رَفِع قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا اَعْرِفَنَّ الرَّجُلَ یَاْتِیِہِ الْاَمْرُ مِنْ َمْرِیْ اِمَّا اَمَرْتُ بِہٖ وَاِمَّا نَھَیْتُ عَنْہُ فَیَقُوْلُ مَانَدْرِیْ مَا ھٰذَا عِنْدَنَا کِتَابُ اللہِ لَیْسَ ھٰذَا فِیْہِ۔(2:1)

حضرت ابورافعؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’میں کسی ایسے شخص کو نہ پاؤں‘ جس کے پاس میرے احکام میں سے کوئی حکم آئے ‘ جس کے بارے میں ‘ میں نے کرنے کا حکم دیا ہو ‘یا جسے کرنے سے میں نے منع کیا ہو۔ اور وہ شخص یہ کہے :ہمیں نہیں معلوم یہ کیا چیز ہے؟ ہمارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے۔ یہ حکم اس میں‘ تو نہیں ہے‘‘۔

اَبِیْ رَفِع ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← سَالَمٍ اَبِیْ النَّصْرِ ← مالک بن أنس ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 13

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 14

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ قَالَ حَدَّثِنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ صَفْوانَ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا بَھْزُ بْنُ اَسَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عن اُنس بن مَالِکٍ اِنَّ نَفَرًا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَاَلُوْا اَزْوَاجَ النَّنِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلِہٖ فِی السِّرِّ فَقَالَ بَعْضُھُمْ :لَا اَتَزَوَّجُ وَقَالَ بَعْضُھُمْ لَا اکُلُ اللَّحْمَ وَقَالَ بَعْضُھُمْ :لَا اَنَامُ عَلٰی فِرَاشٍ فَحَمِدَ اللہَ وَاَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ اَقْوَامٍ قَالُوْا کَذَا وَکَذَا لَکِنِّیْ اُصَلِّی وَاَنَامُ وَاَصُومُ وَاُفْطِرُ وَاَتَزَوَّجُ النِّسَا َٔ فَمَنْ رَّغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ ۔ (2:61)

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتےہیں: نبی اکرمﷺ کے کچھ اصحاب نے نبی اکرمﷺ کی ازواج سے آپﷺ کے پوشیدہ اعمال کے بارے میں دریافت کیا: (یعنی آپ خلوت میں جو عبادت کرتے تھے، اس کے بارے میں درےافت کیا ) تو ان افراد میں سے ایک نے یہ کہا: ہیں شادی نہیں کروں گا۔ ایک نے یہ کہا: میں گوشت نہیں کھاؤں گا۔ایک نے یہ کہا: میں بچھونے پر نہیں سوؤں گا۔ (نبی اکرمﷺ نے بعد میں اس بارے میں خطاب کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا ء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ’’لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ وہ ’’اس‘ اس طرح کی باتیں کرتےہیں‘ جہاں تک میرا معاملہ ہے‘ تو میں ( رات کے وقت نفل ) نماز ادا بھی کرتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں۔میں (نفلی) روزہ رکھ بھی لیتا ہوں اور ترک بھی کر دیتا ہوں‘ میں نے خواتین کے ساتھ شادیاں بھی کی ہیں‘ جو شخص میری سنت سے منہ موڑتا ہے۔ اس کی مجھ سےکوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔

سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي". ← کَذَا وَکَذَا لَکِنِّیْ اُصَلِّی وَاَنَامُ وَاَصُومُ وَاُفْطِرُ وَاَتَزَوَّجُ النِّسَا فَمَنْ رَّغِبَ ← مَا بَالُ أَقْوَامٍ ← بَعْضُھُمْ :لَا اَنَامُ عَلٰی فِرَاشٍ فَحَمِدَ اللہَ وَاَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ ← بَعْضُھُمْ لَا اکُلُ اللَّحْمَ ← بَعْضُھُمْ :لَا اَتَزَوَّجُ ← عَمَلِہٖ فِی السِّرِّ ← اُنس بن مَالِکٍ اِنَّ نَفَرًا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ سَاَلُوْا اَزْوَاجَ النَّنِیِّ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 14

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 15

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الدَّغُولِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّھْلِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا بن اَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِبْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِِ وَسَلَّمَ رَاٰی خَاتَمًا مِنْ ذَھَبٍ فِیْ یَدِ رَجُلٍ فَنَزَعَہٗ فَطَرَحَہُ فَقَالَ: یَعْمِدُ اَحَدُ ھُمْ اِلٰی جَمْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَیَجْعَلُھَا فِیْ یَدِہِ فَقِیْلَ لِلرَّجُلِ بَعْدَ مَا ذَھَبَ خُذْ خَاتَمَکَ فَانْتَفِعْ بِہٖ فَقَالَ: لَا وَاللہِ لَا اٰخُذَہٗ اَبَدًا وَقَدْ طَرَحَہُ رَسُوْلُ اللہ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (2:5)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی بنی ہوئی انگوٹھی دیکھی تو اسے اتارا اور ایک طرف رکھ دیا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ایک شخص جہنم کے انگارے کی طرف جاتا ہے‘ اور اسے اپنے ہاتھ میں رکھ لیتا ہے‘‘۔ (راوی بیان کرتے ہیں ) جب نبی اکرمﷺ تشریف لے گئے‘ تو ان صاحب سے یہ کہا گیا: تم اپنی انگوٹھی لو اور اس کے ذریعے نفع حاصل کرو (یعنی اسے فروخت کر کے اس کی قیمت استعمال کرو ) تو اس شخص نے کہا: جی نہیں‘ اللہ کی قسم!میں اسے کبھی نہیں لوں گا‘ جب کہ نبی اکرمﷺ نے اسے ایک طرف کردیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← کُرَیْبٍ مَوْلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِبْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ

Hadith 15

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 16

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْازْدِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبَْاھِیْمَ قَالَ اَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ ھِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ یَّحْیَ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا نُوْدِیَ بِالْاَ ذَانِ اَدْبَرَ الشَّیْطَانُ لَہٗ ضُرَاطٌ حَتّٰی لَا یَسْمَعَ الْاَذَانَ فَاِذَا قُضِیَ الْاَذَانُ اَقْبَلَ فَاِذَا ثُوِّبَ بِھَا اَدْبَرَ فَاِذَا قُضِیَ التَّثْوِیْبُ اَقْبَلَ یَخْطُرُ بَیْنَ الْمَرْ ِٔ وَنَفْسِہِ اذْکُرْکَذَا لِمَا لَمْ یَکُنْ یَدْکُرْ حَتّٰی یَظَلَّ الرَّجُلُ اِنْ یَّدْرِیْ کَمْ صَلّٰی فَاِذَا لَمْ یَدُرِ کَمْ صَلّٰی فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَھُوَجَالَسٌ۔ (5:18)

حضرت ابو ہریرہؓ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’جب اذان دی جاتی ہے‘ تو شیطان پیٹھ پھیر کر وہاں تک چلا جاتا ہے‘ جہاں تک وہ اذان کی آواز نہ سن سکے اور اس کی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے‘ جب اذان مکمل ہو جاتی ہے‘ تو وہ پھر آ جاتا ہے‘ پھر جب اقامت کہی جاتی ہے‘ تو وہ پھر پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے‘ جب اقامت مکمل ہو جاتی ہے‘ تو وہ پھر آ جاتا ہے‘ اور آدمی کے دل میں مختلف طرح کے خیالات پیدا کرتا ہے‘ تم فلاں چیز یاد کرو تم فلاں چیز ےیاد کرو! اور ایسی چیزیں‘ یاد کرواتا ہے‘ جو آدمی نے ویسے یاد نہیں کرنی تھیں۔ حتٰی کہ آدمی کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے؟ تو جب آدمی کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے؟ تو اسے (آخری قعدہ میں) بیٹھنے کے دوران دو مرتبہ سجدہ سہو کر لینا چاہئے۔ (امام ابن حبانؓ فرماتے ہیں:) نبی اکرمﷺ کا یہ حکم ایسے شخص کےلئے ہے‘ جسے اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جاتا ہے اور اسے یہ پتہ نہیں چل پاتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کر لی ہے؟ تو وہ (قعدہ اخیرہ میں) بیٹھنے کے دوران دو مرتبہ سجدۂ سہو کر لے گا‘ یہ حکم ’’مجمل‘‘ہے‘اس کی وضاحت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل میں ہے جس کا ذکر ہم نے کیا ہے۔ کسی بھی شخص کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ ان روایات کو اختیار کرے‘جن میں یہ مذکور ہے کہ سجدۂ سہو سلام پھیرنے سے پہلے کیا جائے گا اور پھر وہ شخص ان روایات کو ہر طرح کی صورتحال میں اختیار کرے اور ان تمام روایات کو ترک کر دے جن میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرنے کا ذکر ہے۔ اسی طرح کسی بھی شخص کے لئے یہ بات بھی جائز نہیں ہے کہ وہ صرف ان روایات کو اختیار کر لے جن میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کرنے کا ذکر ہےاور پھر ان روایات پر ہر طرح کی صورتحال کرے اور ان دوسری تمام روایات کو ترک کر دے جن میں سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کرنے کا ذکر ہے۔ (امام ابن حبانؓ فرماتے ہیں:) ہم یہ کہتے ہیں: یہ چار طرح کی روایات ہیں اور یہ بات لازم ہے کہ ان عمل کیا جائے، اور ان میں سے کسی کو بھی ترک نہ کیا جائے‘ تو جس طرح کی صورتحال درپیش ہو اس کے مطابق،اس بارے میں منقول حدیث کے مطابق عمل کیا جائے۔اگر کوئی شخص اپنی نماز کی دو یا تین رکعات ادا کر لینے کے بعد بھول کر سلام پھیر دیتا ہے‘ تو وہ اپنی نماز کو مکمل کر لے گا اور سجدہ سہو سلام پھیرنے کے بعد کرے گا۔جیسا کہ حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت عمران حصینؓ سے منقول روایت میں مذکور ہے جن کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔اگر وہ دو رکعات اددا کر لینے کے بعد (بیٹھنے کی بجائے) کھڑا ہو جاتا ہے۔ بیٹھتا نہیں ہے‘ تو وہ اپنی نماز جاری رکھے گا اور سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کر لے گا۔ جیسا کہ ابن بحینہؓ سے منقول روایت میں مذکور ہے۔اگر اسے تین یا چار رکعات کی ادائیگی کے حوالے سے سک ہوتا ہے‘ تو وہ یقین پر بناء قائم کرے گا۔جیسا کہ ہم نے بیان کیاہے۔ اگر آدمی کو شک لاحق ہو‘ اور اسے یہ سمجھ نہ آئے کہ اس نے کتنی نماز (یعنی کتنی رکعات) ادا کی ہیں‘ تو وہ غالب گمان قائم کرنے کی کوشش کرے۔ (اور اس کی بنیاد پر) اپنی نماز کو مکمل کر لے۔ وہ (اس صورتحال میں) سلام پھیرنے کے بعد سجدۂ سہو کرے گا۔ اس کی بنیاد حٖضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے منقول حدیث ہے۔ جسے ہم ذکر کر چکے ہیں۔ (تو اس صورت میں) آدمی تمام احادیث پر عمل کرنے والا بن جائے گا، جن کو ہم نے ذکر کیا ہے۔ اگر ان چار صورتوں کے علاوہ کوئی اور صورت کسی شخص کو درپیش ہوتی ہے‘ تو اسے اس صورت کی طرف لوٹایا جائے گا‘ جو ان چارصورتوں جن کا ہم ذکر کر چکے ہیں ان میں سے جس صورت کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← یَّحْیَ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← اِسْحَاقُ بْنُ اِبَْاھِیْمَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 16

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 17

اَخْبَرَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ اِسْمَاعِیْلَ بِبُسْتَ وَمُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ مَوْلٰی ثَقِیْفٍ بِنِیْسَابُوْرَ قَالَا: حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ حَدّّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ عَنِ الْعَلَا ِٔ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَتَدْ خُلُنَّ الْجَنَّۃَ کُلُّکُمْ اِلَّا مَنْ اَبٰی وَشَرَدَ عَلَی اللہِ کَشِرَادِ الْبَعِیْرِ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللہِ وَمَنْ یَّاْبٰی اِنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ؟ قَالَ: مَنْ اَطَاعَنِیْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ اَبٰی۔(1:2)

حضرت ابو سعید خدریؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے: ’’اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے‘ تم سب لوگ ضرور جنت میں داخل ہو گے۔ ماسوائے اس شخص کے‘ جو انکار کرے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوں سرکشی کرے‘ جس طرح اونٹ سرکشی کرتا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون شخص جنت میں داخل ہونے سے انکار کرے گا؟بنی اکرمﷺ نے فرمایا: جو شخص میری اطاعت کرے گا‘ وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا‘‘۔ (امام ابن حبانؓ فرماتے ہیں:) اللہ تعالیٰ کے رسول کی فرمانبرداری یہ ہے: آپ کی سنت کی ،اس کی کیفیت اور کمیت کو ترک کرتے ہوئے پیروی کی جائے اور ہر اس شخص کے قول کو مسترد کرتے ہوئے جس نے اللہ تعالیٰ کے دین کے بارےمیں اپنی کوئی رائے پیش کی ہو‘ کو بنی اکرمﷺ کی سنت کے برخلاف ہو۔ آدمی اس سنت کو ترک کرنے کے لئے کمزور تاویلات اور فضول اکتراعی باتوں کا حیلہ پیش کرنے کی کوشش نہ کرے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَا بْنِ الْمُسَیَّبِ ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 17

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 18

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ اَبِیْ ازِّنَادِ عَنِ الْاَعْرَج عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَسُفْیَانَ عَنِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَرُوْنِیْ مَاتَرَکْتُکُمْ فَاِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکثْرَۃِ سُؤَ الَھِمْ وَاخْتِلَافِھِمْ عَلٰی اَنْبِیَائھِمْ مَا نَھَیْتُکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوا وَمَا اَمَرْتُکُمْ بِہٖ فَاْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ: فَحَدَّثْتُ بِہٖ اَیَانَ بْنَ صَالِحِ فَقَالَ لِی: مَا اَجْوَدَ ھٰذِہِ الْکَلِمَۃَ قَوْلَہٗ: فَاْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ۔(3:6)

حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’جن چیزوں کو میں ترک کر دوں‘تم ان چیزوں کے بارے میں مجھے ایسے ہی رہنے دو‘کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنےانبیاءسے بکثرت سوالات کرنے اور ان سے اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے۔ میں تم لوگوں کو جس چیز سے منع کروں‘اس سے باز آ جاؤ اور میں تمہیں جس بات کا حکم دوں‘تم سے جہاں تک ہو سکےاس پر عمل کرو‘‘۔ ابن عجلان کہتے ہیں:میں نے یہ حدیث ابان بن صالح کو سنائی تو انہوں نے مجھے فرمایا۔ یہ کلمہ کتنا عمدہ ہے ( یعنی نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان) ’’جہاں تک تم سے ہو سکے تم اس پر عمل کرو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← بن عَجْلَانَ ← اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَسُفْیَانَ ← الْأَعْرَجِ ← اَبِیْ ازِّنَادِ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 18

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 19

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إسماعیل البخاری حدثناإسماعیل ابن اَبِیْ اُوَیْسٍ حَدَّثَنِیْ مَالِکْ عَنْ اَبِیْ الزِّنَادِ عَنِ الْاَعْرَجِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّمَا اَھْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ سُؤَ الُھُمْ وَاخْتِلَافْھُمْ عَلٰی أنبیائھم فإذا نھیتکم عَنْ شَیْ ٍٔ فَاجْتَنِبُوہُ وَاِذَا اَمَرْتُکُمْ بِاَمْرٍ فِاْتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ۔(2:1)

حضرت ابو ہریرہؓ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’بے شک تم سے پہلے کےلوگ اپنے انبیاء سے (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے‘ تو جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں‘ تو تم اس سے اجتناب کرو اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں‘ تو جہاں تک تمہارہے لے ممکن ہو‘ تم اس پر عمل کرو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إسماعیل البخاری حدثناإسماعیل ابن اَبِیْ اُوَیْسٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 19

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 20

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا بْنُ اَبِیْ السَّرِیِّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ھَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ: ھٰذَا مَا حَدَّثَنَا اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی للہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مانَھَیْتُکُمْ عَنْ شَیْءٍ فَاجْتَنِبُوہُ وَمَا اَمَرْتُکُمْ بَالْاَمْرِ فَإَتُوْ امِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ۔(2:3)

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’میں تمہیں جس چیز سے منع کر دوں‘ تم اس سے اجتناب کرو اور تمہیں جس بات کا حکم دوں جہاں تک تم سے ہو سکے تم اس پر عمل کرو‘‘۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 20

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 21

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ قَالَ حدثنا بْنُ اَبِیْ السَّرِیِّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ھَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَرُوْنِیْ مَا تَرَکْتُکُمْ فَاِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ قَبْلِکُمْ بِسُؤَالِھِمْ وَاِخْتِلَافِھِمْ عَلٰ اَنْبِیَائھِمْ فَاِذَا بَھَیْتُکُمْ عَنْ شَیْءٍ فَاجْتَنِبُوہُ وَاِذَا أَمَرْتُکُمْ بِالشَّیْءٍ فَأُتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ۔(2:25)

جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کر دوں‘ تو تم اس سے اجتناب کر اور جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں‘ تو جہاں تک تم سے ہوسکے تم اس پر عمل کرو۔ جس چیز کے بارے میں میں تمہیں چھوڑ دوں تم بھی مجھے ویسے رہنے دو‘ کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء سے ( غیر ضروری ) سوالات کرنے اور اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے۔ حضرت ابو ہریرہؓ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 21

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 22

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُالْاَعْلٰی بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالَ اَخْبَرَنَا ھِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائشَۃَ وَثَابِتٍّ عَنْ اَنَسِ بْنُ مَالِکٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اَصْوَاتًا فَقَالَ:مَا ھٰذِہِالْاَصْوَاتُ؟ قَالُوْا النَّخْلُ یَاْبِرُوْنَہٗ فَقَالَ: لَوْلَمْ یَفْعَلُوْا لَصَلُحَ ذٰلِکَ فَاَمْسَکُوا فَلَمْ یَاْبِرُوْا عَامَّتَہٗ فَصَارَ شِیصًا فَذُکِرَ ذٰلِکَ لَلنَّبِیِْ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اِذَا کَانَ شَیْءٌ مِنْ اَمْرِ دُنْیَا کُمْ فَشَاْنُکُمْ وَاَذَا کَانَ شَیْءٌ مِّنْ أَمْرِ دِیْنِکُمْ فَإلَیَّ۔(2:25)

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ اور حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے کچھ آوازیں سنیں۔ آپ نے دریافت کیا: یہ کس بات کی آواز یں ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی: لوگ کھجور وں کی پیوند کاری کر رہے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر وہ ایسا نہ کریں‘ تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔ (راوی کہتے ہیں ) تو وہ لوگ اس عمل سے باز آ گئے۔ انہوں نے اس سال پیوند کاری نہیں کی تو پیداوار ٹھیک نہیں ہوئی۔ اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا گیا‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا: اگر تمہارا کوئی دنیاوی معاملہ ہو‘ تو اسے تم خود سنبھالو اور اگر کوئی دینی معاملہ ہو‘ تو وہ میری طرف آئے گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَائشَۃَ وَثَابِتٍّ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُالْاَعْلٰی بْنُ حَمَّادٍ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 22

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 23

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الرُّرمِیِّ قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوالنَّجَاشِیِّ قَالَ حَدَّثَنِیْ رَافِعُ بْنُ خَدِیج قَالَ قَدِمَ نَبِیُّ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِیْنَہَ وَھُمْ یُؤَبِّرُوْنَ النَّخْلَ یَقُوْلُ یُلَقِّحُوْنَ قَالَ: فَقَالَ: مَا تَصْنَعُوْنَ؟ فَقَالُوْا: شَیْئًا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَہٗ فَقَالَ: لَوْ لَمْ تَفْعَلُوْا کَاکَ خَیْرًا فَتَرَکُوھَا فَنَفَضَتْ اَوْ نَقَصَتْ فَذَکَرُوْا ذٰلِکَ لَہٗ فَقَالَ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ اِذَا حَدَّثْنُکُمْ بِشَیْءٍ مِّنْ اَمْرِ دَیْنِکُمْ فَخُذُوْا بِہٖ وَاِذَا حَدَّثْنُکُمْ بِشَیْءٍ مِّنْ دُنْیَا کُمْ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ۔(3:68) قَالَ عِکْرَمَۃُ ھٰذَا أَوْ نَحْوَہٗ اَبُو النَّجَاشِیِّ مَوْلٰی رَافِعِ اسْمُہُ عَطَاءُ بْنُ صُھَیْبٍ قَالَہُ الشَّیْخُ

حضرت رافع بن خدیجؓ بیان کرتے ہیں: ’’جب نبی اکرمﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے‘ تو لوگ کھجوروں کی پیوند کاری کیا کرتے تھے۔ لوگ اسے پیوند کاری کا نام دیتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: تم لوگ کیا کرتے ہو؟ لوگوں نے عرض کی: یہ ایک ایسا طریقہ ہے‘ جو وہ لوگ پہلے استعمال کیا کرتے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم یہ نہ کرو‘ تو یہ زیادہ بہترہے‘ تو لوگوں نے اسے ترک کر دیا‘ تو پیداوار کم ہو گئی۔ لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں ایک انسان ہوں‘ جب میں تمہارے سامنے کسی دینی معاملے کے بارے میں کوئی چیز بیان کروں‘ تو تم اسے اختنار کر لو اور جب میں تمہارے سامنے کسی دنیاوی معاملے کے بارے میں کوئی چیز بیان کروں‘ تو میں ایک انسان ہوں‘‘َ عکرمہ کہتے ہیں: یہ یا اس کی مانند الفاظ ہیں۔ ابو نجاشی ( نامی راوی) حضرت رافع بن خدیجؓ کا غلام ہے اور اس کا نام عطاء بن صہیب ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← أَبُوالنَّجَاشِيِّ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ الرُّرمِیِّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ

Hadith 23

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 24

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا اَبُوْ الْوَلَیْدِ حَدَّثَنَا لَیْتُ بن سعد عَنِ ابنِ شِھَابٍ عِنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ اَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ الزُّبَیْرِ حَدَّثَہٗ اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْانْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَیْرَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ شِرَاج الْحَرَّۃِ الَّتِیْ یَسْلُقُونَ بَھَا النَّخْلَ فَقَالَ الْاَنْصَارِیُّ سَرِّحِ الْمَاءَ یَمُرَّ فَاَبٰی عَلَیْہِ الزُّبَیْرُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اسْقِ یَا زُبَیْرُ ثُمَّ اَرْسِلْ اِلٰی جَارِکَ فَغَضِبَ الْاَنْصَارِیُّ وَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللہِ اِنْ کَانَ اِبْنُ عَمَّنِکَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّا قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِسْقِ یَا زُبَیْرُ ثُمَّ احْبِسِ الْمَآءَ حَتّٰی یَرْجِعَ إلَی الْجَدْرِ قَالَ الزُّبَیْرُ: فَوَاللہِ لَاَحْسَبُ ھٰذِ الْاٰیَۃَ نَزَلَتْ فِیْ ذٰلِکَ (فَلا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ) الآیۃ۔ (5:36)

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے انہیں بتایا کہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا نبی اکرمﷺ کے سامنے حرہ سے آنے والی پانی کی نالی کے بارے میں حضرت زبیرؓ کے ساتھ جھگڑا ہو گیا جس کے ذریعے کھجوروں کے باغوں کو سیراب کیا جاتا تھا۔ اس انصاری نے کہا: آپ پانی کو چھوڑ دیجئے تاکہ وہ گزر جائے‘ تو حضرت زبیرؓ نے اس کی یہ بات تسلیم نہیں کی (نہ مقدمہ نبی اکرمﷺ نے سامنے پیش ہو ا تو ) نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اے زبیر! (تم اپنے باغ کو سیراب کر لو) پھر اپنے پڑوسی کے لئے (پانی کو ) چھوڑ دو‘ تو وہ انصاری غصے میں آگیا اور بولا : یا رسول اللہ! (آپ نے یہ فیصلہ اس لئے دیا ہے ) کیونکہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں‘ تو نبی اکرمﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہو گیا پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اے زبیر! تم اپنے (باغ کو ) سیراب کرو اور پھر پانی کو روکے رکھو‘ یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک پہنچ جائے‘‘۔ حضرت زبیرؓ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی تھی: ’’تمہارے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے‘ جب تک آپس ک اختلافی معاملات کے بارے میں تمہیں ثالث تسلیم نہ کریں‘‘۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← لَیْتُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 24

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr