Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ · حديث 3200

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ وَسَيَأْتِي مَنْ يَنْهَى عَنْ ذلك وابن عباس جالس إلى جنبه1. [15:5]

سماک حنفی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا: نبی اکرم ﷺ نے خانہ کعبہ کے اند ر نماز ادا کی ہے اور عنقریب وہ شخص آجائے گا جو اس سے منع کرے گا (راوی کہتے ہیں) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس وقت ان کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے۔

ذلك وابن عباس جالس إلى جنبه1. ← صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ فِي الْبَيْتِ وَسَيَأْتِي مَنْ يَنْهَى ← ابْنِ عُمَرَ ← سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3200

صیح ابن حبان · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ · حديث 3201

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يوسف بن عِیسیٰ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسیٰ ، عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْبَیْتِ بَیْنَ السَّارِیَتَیْنِ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے خانہ کعبہ کے اندر دوستونوں کے درمیان نماز ادا کی تھی۔

صَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ فِی الْبَیْتِ بَیْنَ السَّارِیَتَیْنِ ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← يُوسُفُ بْنُ عِيسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 3201

صیح ابن حبان · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ · حديث 3202

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ الْكَعْبَةَ وَمَعَهُ بِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ1 فأغلقوا عليهم الباب من دَاخِلٍ ، فَلَمَّا خَرَجُوا سَاَلْتُ بِلَالًا ، قُلْتُ : اَیْنَ صَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : رَاَیْتُہٗ صَلّٰی عَلٰی وَجْھِہِ حِینَ دَخَلَ بَیْنَ الْعَمُودَیْنِ عَنْ یَّمِیْنِہِ ، ثُمَّ لُمْتُ نَفْسِی اَنْ لَّا اَکُوْنَ سَاَلْتُہٗ کَمْ صَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے آپ ﷺ کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہہ بھی تھے ان حضرات نے داخل ہونے والوں کے لئے دروازہ بند کر دیا جب یہ حضرات باہر تشریف لائے، تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہہ سےدریافت کیا: میں نے کہا: نبی اکرم ﷺ نے کہاں نماز ادا کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ نے اندر تشریف لانے کے بعد سامنے کی طرف رخ کر کے دائیں طرف موجود دو ستونوں کے درمیان نماز ادا کی تھی۔ (حضرت اب عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:) پھر میں نے اپنے آپ کو یہ ملامت کی میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہہ سے یہ دریافت کیوں نہیں کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے کتنی رکعات ادا کی تھیں۔ اس بات کے بیان کا تذکرہ کہ نبی اکرم ﷺ نے خانہ کعبہ میں جن دوستونوں کے درمیان نماز ادا کی تھی وہ نماز آگے والے دو ستونوں کے درمیان ادا کی تھی

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 3202

صیح ابن حبان · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ · حديث 3203

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَمَعَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَجَافُوا الْبَابَ عَلَيْهِمْ طَوِيلًا ثُمَّ فُتِحَ فَكُنْتُ أَوْلَ مَنْ دَخَلَ فَلَقِيتُ بِلَالًا فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كم صلى1. [15:5]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے آپ ﷺ کے ہمراہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما ، حضرت بلال رضی اللہ عنہہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہہ تھے ان حضرات نے دروازے کو کافی دیر بند رکھا پھر اسے کھول دیا گیا، تو سب سے پہلے میں اندر داخل ہوا میری ملاقات حضرت بلال رضی اللہ عنہہ سے ہوئی، تو میں نے دریافت کیا: نبی اکرم ﷺ نے کہاں نماز ادا کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سامنے والے دوستو نوں کے درمیان۔ (حضرت ابو عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:) مجھے یہ خیال نہیں رہا کہ میں ان میں سے یہ دریافت کر وں کہ نبی اکرم ﷺ نے کتنی رکعات اد ا کی ہیں۔

دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ الْبَيْتَ وَمَعَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3203

صیح ابن حبان · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ · حديث 3204

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عن نافع عن بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ وَبِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ مَعَهُ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ وَمَكَثَ فِيهَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أعمدة1. [15:5]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی الل عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ ، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما ، حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہہ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے ، تو ان حضرات نے دروازے کو بند کر دیا وہ اندر ٹھہرے رہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیا ن کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے، تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہہ سےدریافت کیا: نبی اکرم ﷺ نے کہاں نماز ادا کی ہے، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم ﷺ نے ایک ستون کو اپنے بائیں طرف رکھا اور دوستونوں کو اپنے دائیں طرف رکھا اور تین ستونوں کو اپنے پیچھے کی طرف رکھا۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) ان دنوں خانہ کعبہ کے اندر چھ ستون ہوتے تھے۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 3204

صیح ابن حبان · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ · حديث 3205

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ: رأيت بن عُمَرَ دَاخِلَ الْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ صَلَّى أَرْبَعًا فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَلَمَّا صَلَّى قُلْتُ:أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: ها هنا أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلى1. [15:5] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : سَمِعَ ھٰذَا الْخَبَرَ ابْنُ عُمَرَ بِلَالٍ ، وَاُسَامَۃِ بْنِ زَیْدٍ ، لِاَنَّھُمَا کَانَ مَعَ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْکَعْبَۃِ فَمَرَّۃً اَدَّی الْخَبَرَ عَنْ بِلَالٍ ، وَمَرَّۃً اُخْرَی عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ فَالطَِّیْقَانِ جَمِیْعًا مَحْفُوْظَانِ

ابو شعثا ء بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے، یہاں تک کہ جب و ہ دو ستونوں کےدرمیان پہنچے، تو انہوں نے چار رکعات اد ا کیں میں ان کے پاس کھڑا ہو گیا جب انہو ں نے نماز ادا کر لی، تو میں نے دریافت کیا: نبی اکرم ﷺ نے کہاں نماز ادا کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: یہاں۔ مجھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے یہ بات بتائی ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو ( یہاں) نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ روایت حضرت بلال رضی اللہ عنہہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنی ہے کیونکہ خانہ کعبہ میں یہ دونوں حضرات نبی اکرم ﷺ کے ساتھ موجود تھے تو ایک مرتبہ انہوں نے یہ روایت حضرت بلال رضی اللہ عنہہ کے حوالے سے نقل کر دی اور دوسری مرتبہ یہ روایت حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل کر دی تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔

أَبِي الشَّعْثَاءِ، ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 3205

صیح ابن حبان · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ · حديث 3206

أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ بِبَلَدِ الْمَوْصِلِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ1 عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مالك بن أنس عن نافع عن بن عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ مِقْدَارُ ثَلَاثَةِ أذرع2. [15:5]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نماز ادا کر رہے ہوتے تھے جب کہ آپ ﷺ کے اور قبلہ کے درمیان تین بالشت کا فاصلہ ہوتا تھا۔

كَانَ النَّبِيُّ يُصَلِّي وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ مِقْدَارُ ثَلَاثَةِ أذرع2. ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مالک بن أنس ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ1 عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ بِبَلَدِ الْمَوْصِلِ

Hadith 3206

صیح ابن حبان · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ · حديث 3207

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ وَفِيهَا سِتُّ سَوَارِي فَقَامَ عِنْدَ كل سارية ودعا ولم يصل1. [15:5]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اس میں چھ ستون تھے آپﷺ ہر ستون کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے دعا مانگی وہاں آپﷺ نے نماز ادا نہیں کی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3207

صیح ابن حبان · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ · حديث 3208

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: حَدَّثَنَا الضحاك بن مخلد عن بن جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ قَالَ: لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ فَصَلَّى عِنْدَ الْبَابِ وقال: ها هنا قبلة فصله1. قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : ھٰذَانِ خَبَرَانِ قَدْ عَوَّلَ اَئِمَّتُنَا رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْھِمْ وَرِضْوَانُہُ عَلَی الْکَلَامِ فِیْھِمَا عَلَی النَّفْیِ وَالْاِثْبَاتِ ، وَزَعَمُوا اَنَّ بِلَالًا ، اَثْبَتَ صَلَاۃَ الْمُصْطَفٰی صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْکَعْبَۃِ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، یَنْفِیْھَا ، وَالْحَکَمُ الْمُثْبِتُ لِلشَّیءِ اَبَدًا ، لَا لِمَنْ یَّنْفِیْہِ ، وَھٰذَ شَیْءٌ یَلْزَمُنَا فِیْ قِصَّہِ اُحُدٍ فِیْ نَفْیِ جَقابِرِ بْنِ عَبْدِاللہِ، الصَّلَاہَ عَلٰی شُھَدَاءِ اُحُدٍ ، وَغَسْلَھُمْ فِیْ ذٰلِکَ الْیَوْمِ ، وَالْاَشْبَہُ عِنْدِیْ فِی الْفَصْلِ بَیْنَ ھٰذَیْنِ الْخَبَرَیْنِ بِاَنْ یُجْعَلَا فِیْ فِعْلَیْنِ مُتَبَایِنَیْنِ ، فَیُقَالُ : اِنَّ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَتَحَ مَکَّۃَ دَخَلَ الْکَعْبَۃَ فَصَلّٰی فِیْھَا عَلٰی مَا رَوَاہُ اَصْحَابُ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ بِلَالٍ ، وَاُسَامَۃِ بْنِ زَیْدٍ ، وَکَانَ ذٰلِکَ یَوْمَ الْفَتْحِ ، کَذٰلِکَ قَالَہٗ حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَیُجْعَلُ نَفْیُ ابْنِ عَبَّاسٍ صَلَاۃَ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْکَعْبَۃِ فِیْ حَجَّتِہِ الَّتِی حَجَّ فِیْھَا ، حَتّٰی یَکُوْنَ فِعْلَانِ فِیْ حَالَتَیْنِ مُتَبَایِنَتَیْنِ ، لِاَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ نَفَی الصَّلَاۃَ فِی الْکَعْبَۃِ عَنِ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَزَعَمَ اَنَّ اُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ اَخْبَرَہُ بِذٰلِکَ ، وَاَخْبَرَ اَبُو الشَّعْثَاءِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلّٰی فِی الْبَیْتِ ، وَزَعَمَ اَنَّ اُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ اَخْبَرَہُ بِذٰلِکَ ، فَاِذَا حُمِلَ الْخَبَرانِ عَلٰی مَا وَصَفْنَا فِی الْمَوْضِعَیْنِ الْمُتَبَایِنَیْنِ بَطَلَ التَّضَادُّ بَیْنَھُمَا ، وَصَحَّ اسْتِعْمَالُ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا

ابن جریج بیان کرتے ہیں: میں نے عطاء سے دریافت کیا: کیا آپ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے تم لوگوں کو ( خانہ کعبہ کا) طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے تمہیں اس کے اندر داخل ہونے کا حکم نہیں دیا گیا ، تو عطاء نے جواب دیا: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس کے اندر جانے سے منع نہیں کرتے تھے تاہم میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں: حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے مجھے بتا یا کہ نبی اکرم ﷺ جب خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے ،تو آپ ﷺ نے اس کے تمام گوشوں میں دعا مانگی تھی آپ ﷺ نے اس کے اندر نماز ادا نہیں کی تھی، یہاں تک کہ آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور آپ ﷺ نے خانہ کعبہ کے دروازے کے قریب نماز ادا کر کے یہ ارشاد فرمایا: قبلہ اس طرف ہے تم اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرو۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ان دونوں روایات کی ہماری آئمہ نے یہ تاویل بیان کی ہے کہ ان دونوں میں مذکور کلام کو نبی اور اثبات پر محمول کیا جائے گا ان حضرات نے یہ بات بیان کی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہہ نے خانہ کعبہ کے اندر نبی اکرمﷺ کی نماز ادا کرنے کے اثبات کا ذکر کیا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی نفی کی ہے ، تو کسی چیز کو ثابت کرنے کا حکم اسے بدل دیتا ہے، جو اس کی نفی کر رہا ہو۔ اور واقعہ اُحد میں یہ چیز ہم پر لازم ہوتی ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے غزوہ احد کی نماز جنازہ ادا کرنے اور اس دن میں ان حضرات کو غسل دینے کی نفی کی ہےاور میرے نزدیک زیادہ مناسب یہ ہے : ان دونوں روایات میں فصل کیا جائے کہ ان دونوں میں مذکورہ فعل کو دو مختلف صورتوں پر محمول کیا جائے اور یہ بات کہی جائے اور یہ بات کہی جائے کہ جب نبی اکرم ﷺ نے مکہ فتح کیا تھا۔ اور خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے۔ تو آپ نے اس میں نما زادا کی تھی۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگردوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے اور یہ فتح مکہ کے دن کی بات ہے۔ جس کا ذکر حسان بن عطیہ نے نافع کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا ہے جبکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نبی اکرم ﷺ کے نماز ادا کرنے کی نفی کو اس صورت حال پر محمول کیا جائے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے انہیں اس بارے میں بتا یا ہے جبکہ ابو شعثاء نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خانہ کعبہ کے اندر نماز ادا کی تھی اور وہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے انہیں اس بارے میں بتا یا تھا۔ سو جب اس روایت کو اس صورتحا ل پر محمول کیا جائے گا جس کا ذکر ہم نے کیا ہے، جو دو مختلف موقعوں کی بات ہے، تو اس صورت میں ان کے درمیان تضاد ختم ہو جائے گا اور ان میں سے ہر ایک کو مخصوص صورتحال پر محمول کیا جا سکے گا۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← دُخُولِهِ وَلَكِنْ ← لَمْ يَكُنْ يَنْهَى ← إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ ← بن جُرَيْجٍ ← الضحاك بن مخلد ← مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3208

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr