Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 655

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ الْفَزَارِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَقُولُ: «هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْ رُؤْيَا»؟ فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُصَّ، وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاةٍ: «إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ، وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي، وَإِنَّهُمَا، قَالَا لِي: انْطَلِقْ، وَإِنِّي انْطَلَقْتُ مَعَهُمَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ، وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِصَخْرَةٍ وَإِذَا هُوَ يَهْوِي بِالصَّخْرَةِ لِرَأْسِهِ، فَيَثْلَغُ بِهَا رَأْسَهُ، فَتُدَهْدِهَهُ الصَّخْرَةُ هَا هُنَا، فَيَقُومُ إِلَى الْحَجَرِ فَيَأْخُذُهُ فَمَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ أَحْسِبُهُ، قَالَ: [ص:428] حَتَّى يَصِحَّ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ، ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الْأُولَى، قَالَ: قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَا هَذَانِ؟، قَالَا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَفَاهُ وَإِذَا آخَرُ عَلَيْهِ بِكَلُّوبٍ مِنْ حَدِيدٍ، فَإِذَا هُوَ يَأْتِيَ أَحَدَ شِقَّيْ وَجْهِهِ فَيُشَرْشِرُ شِدْقَهُ إِلَى قَفَاهُ، وَمِنْخَرَهُ إِلَى قَفَاهُ، وَعَيْنَهُ إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ إِلَى الْجَانِبِ الْآخَرِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِالْجَانِبِ الْأَوَّلِ، فَمَا يَفْرُغُ مِنْ ذَلِكَ الْجَانِبِ حَتَّى يَصِحَّ الْجَانِبُ الْأَوَّلُ كَمَا كَانَ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الْأُولَى، قَالَ: قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا هَذَانِ؟، قَالَا: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَأَتَيْنَا عَلَى مِثْل بِنَاءِ التَّنُّورِ، قَالَ عَوْفٌ: أَحْسِبُ أَنَّهُ، قَالَ: فَإِذَا فِيهِ لَغَطٌ وَأَصْوَاتٌ، فَاطَّلَعْنَا فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ وَإِذَا بِنَهْرٍ لَهِيبٍ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، فَإِذَا أَتَاهُمْ ذَلِكَ اللَّهَبُ تَضَوْضَوْا، قَالَ: قُلْتُ: مَا هَؤُلَاءِ؟، قَالَا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا [ص:429] عَلَى نَهَرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: أَحْمَرَ مِثْلِ الدَّمِ وَإِذَا فِي النَّهَرِ رَجُلٌ يَسْبَحُ، وَإِذَا عِنْدَ شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ قَدْ جَمَعَ عِنْدَهُ حِجَارَةً كَثِيرَةً، وَإِذَا ذَلِكَ السَّابِحُ يَسْبَحُ مَا يَسْبَحُ، ثُمَّ يَأْتِي ذَلِكَ الرَّجُلَ الَّذِي جَمَعَ الْحِجَارَةَ، فَيَفْغَرُ لَهُ فَاهُ فَيُلْقِمُهُ حَجَرًا، قَالَ: قُلْتُ: مَا هَؤُلَاءِ؟، قَالَا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ كَرِيهِ الْمَرْآةِ كَأَكْرَهِ مَا أَنْتَ رَاءٍ رَجُلًا مَرْآهُ، فَإِذَا هُوَ عِنْدَ نَارٍ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: مَا هَذَا؟، قَالَا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَوْضَةٍ فِيهَا مِنْ كُلِّ نَوْرِ الرَّبِيعِ، وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَيِ الرَّوْضَةِ رَجُلٌ قَائِمٌ طَوِيلٌ لَا أَكَادُ أَرَى رَأْسَهُ طُولًا فِي السَّمَاءِ، وأَرَى حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَكْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَيْتُهُمْ قَطُّ وَأَحْسَنَهُ، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: مَا هَؤُلَاءِ؟، قَالَا لِي: انْطَلِقِ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا وَأَتَيْنَا دَوْحَةً عَظِيمَةً لَمْ أَرَ دَوْحَةً قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهَا وَلَا أَحْسَنَ، قَالَا لِي: ارْقَ فِيهَا، قَالَ: فَارْتَقَيْنَا فِيهَا، فَانْتَهَيْنَا إِلَى [ص:430] مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنِ ذَهَبٍ وَلَبِنِ فِضَّةٍ، فَأَتَيْنَا بَابَ الْمَدِينَةِ، فَاسْتَفْتَحْنَا، فَفُتِحَ لَنَا، فَتَلَقَّانَا فِيهَا * رِجَالٌ، شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ، وَشَطْرٌ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ، قَالَ: قَالَا لَهُمُ: اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهَرِ، فَإِذَا نَهَرٌ مُعْتَرِضٌ يَجْرِي كَأَنَّ مَاءَهُ الْمَحْضُ فِي الْبَيَاضِ، فَذَهَبُوا فَوَقَعُوا فِيهِ، ثُمَّ رَجَعُوا وَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ، وَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، قَالَ:، قَالَا: لِي هَذِهِ جَنَّةُ عَدْنٍ، وَهَذَاكَ مَنْزِلُكَ، قَالَ: فَسَمَا بَصَرِي صُعُدًا، فَإِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَةِ الْبَيْضَاءِ، قَالَ:، قَالَا لِي: هَذَاكَ مَنْزِلُكَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا، ذَرَانِي أَدْخُلْهُ، قَالَ:، قَالَا لِي: أَمَّا الْآنَ فَلَا، وَأَنْتَ دَاخِلُهُ، قَالَ: فَإِنِّي رَأَيْتُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ عَجَبًا، فَمَا هَذَا الَّذِي رَأَيْتُ؟، قَالَ:، قَالَا لِي: أَمَا إِنَّا سَنُخْبِرُكَ: أَمَّا الرَّجُلُ الْأَوَّلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ، فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفُضُهُ، وَيَنَامُ عَنِ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُشَرْشَرُ شِدْقُهُ إِلَى قَفَاهُ، وَعَيْنُهُ إِلَى قَفَاهُ، وَمِنْخَرُهُ إِلَى قَفَاهُ، فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَغْدُو مِنْ بَيْتِهِ فَيَكْذِبُ الْكَذْبَةَ فَتَبْلُغُ الْآفَاقَ [ص:431] وَأَمَّا الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ الْعُرَاةُ الَّذِينَ فِي مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ، فَإِنَّهُمُ الزُّنَاةُ وَالزَّوَانِي وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ، فَيَلْتَقِمُ الْحِجَارَةَ، فَإِنَّهُ آكِلُ الرِّبَا، وَأَمَّا الرَّجُلُ الْكَرِيهُ الْمَرْآةِ الَّذِي عِنْدَ النَّارِ يَحُشُّهَا فَإِنَّهُ مَالِكٌ خَازِنُ جَهَنَّمَ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِيلُ الَّذِي فِي الرَّوْضَةِ، فَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ، فَكُلُّ مَوْلُودٍ وُلِدَ عَلَى الْفِطْرَةِ، قَالَ:، فقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ وَأَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنٌ، وَشَطْرٌ مِنْهُمْ قَبِيحٌ، فَهُمْ قَوْمٌ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُمْ». [3: 3]

حضرت سمرہ بن جندب فزاری ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ یہ دریافت کیا کرتے تھے کیا کسی شخص نے کوئی خواب دیکھا ہے ‘ پھر جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تھا وہ شخص اپنا خواب آپ کے سامنے بیان کر دیتا تھا۔ ایک دن نبی اکرمﷺ نے ہم سے فرمایا : گزشتہ رات وہ فرشتے میرتے پاس آئے وہ میرے پاس بھیجے گئے تھے۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا آپ چلئے میں ان دونوں کے ساتھ چل پڑا ہمارا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو لیٹا ہوا تھا‘ اور دوسرا شخص اس کے سرہانے پتھر کے کھڑا ہوا تھا۔ وہ اپنا پتھر اس شخص کے سر پر مار کر اس پتھر کے ذریعے اس کے سر کو کچل دیتا تھا پتھر لڑھکتا ہوا دور چلا جاتا تھا وہ شخص اس پتھر کو لینے کے لئے جاتا تھا ۔ اسے پکڑ کر واپس اس شخص کے پاس آ جاتا تھا ( راوی کہتے ہیں ) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں‘ یہاں تک کہ وہ شخص پہلے کی طرح ٹھیک ہو جاتا تھا پھر وہ دوبارہ اس کے ساتھ وہی عمل کرتا تھا جس طرح پہلی مرتبہ کیا تھا۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں میں نےدریافت کیا : سبحان اللہ ان دونوں کامعاملہ کیا ہے۔ ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا آپ چلتے رہے۔ آپ چلتے رہئے۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں میں نے ان دونوں کے ساتھ چلتا رہا ‘ یہاں تک کہ ہم ایک شخص کے پاس آئے جو گردن کے بل چت لیٹا ہوا تھا‘ اور دوسرے شخص کے پاس لوہے کا بنا ہوا آنکڑا تھا۔ وہ اس کے منہ کے ایک کنارے کی طرف آتا تھا ‘ اور اس کے منہ کو گدی تک چیر دیتا تھا‘ اور اس کے ناک کے نتھنے کو پیچھے گردن تک چیر دیتا تھا‘ اور اس کی آنکھ کو پیچھے گردن تک چیر دیتا تھا۔ پھر وہ دوسری طرف آتا تھا‘ اور اس کے ساتھ اسی طرح کرتا تھا جس طرح پہلی مرتبہ کیا تھا پھر جب وہ دوسری طرف سے فارغ ہوتا تھا ‘ تو پہلی والی طرف پہلے کی طرح ٹھیک ہو چکی ہوتی تھی پھر وہ دوبارہ اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتا تھا جس طرح پہلی مرتبہ کیا تھا۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں میں نے کہا :سبحان اللہ ان دونوں کاکیا معاملہ ہے ۔ اسن دونوں فرشتوں نے کہا : آپ چلتے رہئے ۔ آپ چلتے رہئے۔ میں ان دونوں فرشتوں کے ساتھ چلتا رہا پھر ہم تندور جیسی عمارت کے پاس آئےعوف نامی راوی کہتے ہیں :میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : اس میں سے چیخ و پکار اور آوازیں بلند ہو رہی تھیں ۔ ہم نے اس میں جھانک کے دیکھا ‘ تو ا س میں کچھ برہنہ مرد اور خواتین تھے اور اس تندور کےنیچے آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے۔ جب کوئی شعلہ ان لوگوں کے پا س آ تا تھا ‘ توہو چیخ و پکار کرتے تھے۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں‘ تو ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا آپ چلتے رہئے۔ آپ چلتے رہئے۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ہم ایک نہر کے پاس آئے ( راوی کہتے ہیں ) میرا خیال ہے ۔ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں جس کا پانی خون کی طرح سرخ تھا اس نہر میں ایک شخص کے پاس آتا جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے ‘ تو وہ اپنا منہ اس شخص کے سامنے کھولتا تھا ‘ تو وہ دوسرا شخص اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا تھا۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں میں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ۔ ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا آپ چلتے رہئے ۔ آپ چلتے رہئے۔ نبی اکرمﷺ ارشاد فرماتے ی ہیں ہم چلتے رہے ‘ پھر ہم ایک ایسے شخص کے پاس آئے جس کی شکل انتہائی بد صورت تھی تم نے زندگی میں جو بھی بد صورترین شخص دیکھا ہو گا وہ اس کی مانند تھا وہ شخص ایک آگ کے پاس تھا وہ اسے جلانے کی کوشش کرتا تھا ‘ اور اس کے گرد دوڑتا تھا۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں میں نے ان دونوں سے دریافت کیا : اس کا کیا معاملہ ہے۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا آپ چلتے رہئے۔ آپ چلتے رہئے پھر ہم روانہ ہوئے ’ یہاں تک کہ ہم ایک باغ میں آئے جس میں ہر طرف بہارآئی ہوئی تھی۔ اور اس باغ کے درمیان میں ایک طویل شخص کھڑا ہوا تھا وہ اتنا اونچا تھا کہ مجھے اس کا سر دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں نے اس شخص کے اردگرد اس کے ڈھیر سارے بچے دیکھے ‘ لیکن میں نے ان میں سے کوئی بھی شخص اس سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں :میں نےان دونوں سے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا آپ چلتے ہ رہئے۔ آپ چلتے رہئے۔ پھر ہم لوگ چلتے رہے ‘ یہاں تک کہ ہم ایک برے پھیلے ہوئے درخت کے پاس گئے۔ میں نے اس سے بڑا اور اس سے خوبصورت درخت کے پاس آ گئے ۔ میں نے اس سے بڑا اور اس سے خوبصورت درخت کبھی نہیں دیکھا۔ ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا آپ اس پر چڑھ جائیں نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ہم اس پر چڑھ گئے ‘ تو ہم ایک شہر میں پہنچ گئے جس کی عمارتیں سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی۔ ہم اس شہر کے دروازے پر آئے۔ ہم نے دروازہ کھلونے کے لئے کہا دروازہ کھول دیا گیا ‘ تو ہم نے کہا : یہاں جتنے بھی لوگ ہیں ان میں سے نصف ایسے ہوں گے ‘ جو تم نے سب سے زیادہ خوبصورت لوگ دیکھے ہوں اور نصف ایسے ہیں جو تم نے سب سے زیادہ بدصورت دکھے ہوں۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ان دونوں فرشتوں نے ان لوگوں سے کہا تم لوگ جاؤ اور اس نہر میں داخل ہو جاؤ۔ وہ نہر چوڑی تھی اور بہہ رہی تھی۔ اس کا پانی سفیدی کے اعتبار سے خالص دودھ کی طرح تھا۔ وہ لوگ گئے اور اس میں داخل ہو گئے۔ پھر جب وہ لوگ واپس آئے و ان کی خرابی ختم ہو چکی تھی اور ان کی شکلیں انتہائی خوبصورت ہو چکی تھیں۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا یہ جنت عدن ہے اور یہ آپ کا ٹھکانہ ہے ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں میں نے نگاہ اٹھا کر بلندی کی طرف دیکھا ‘ تو وہاں ایک محل تھا جو سفید بادل کی مانند تھا۔ان دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا یہ آپ کی رہائش گاہ ہے۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں میں نے ان دونوں سے کہا اللہ تعالیٰ تم کو برکت نصیب کرے۔ مجھے موقع دوکہ میں اس کے اندر چلا جاؤں نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ان دونوں نے مجھ سے کہا ابھی نہیں ‘ آپ اس میں داخل ہو جائیں گے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میں نے گزشتہ رات جو حیران کن چیزیں دیکھی ہیں ہیں ‘ تو جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کی حقیقت کیا ہے ‘ تو ان فرشتوں نے مجھ سے کہا ہم آپ کو اس کی حقیقت بتاتے ہیں۔ جہاں تک اس پہلے شخص کا تعلق ہے ‘جس کے پاس آپ تشریف لائے تھے جس کے سر کو پتھر کے ذریعے کچلا جا رہا تھا ‘ تو یہ وہ شخص تھا جس نے قرآن کا علم حاصل کیا اور پھر اسے پرے کر دیا اور ی فرض نماز کے وقت سویا رہ جاتا تھا ۔ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے ‘ جس کے پاس آپ تشریف لائے تھے جس کی باچھوں کو گدی تکک اور اس کی آنکھوں کو گدی تک اور اس کے نتھنوں کو گدی تک چیرا جا رہا تھا ‘ تو یہ وہ شخص تھا جو اپنے گھر سے نکلتا تھا ‘ اور ایک جھوٹ بولتا تھا ‘ اور ا س کا جھوٹ دنیا میں پھی جاتا تھا۔ جہاں تک ان برہنہ مردوں اور خواتین کا تعلق ہے ‘ جو تنور نما عمارت کے اندر موجود تھے ‘ تو یہ زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورتیں تھیں۔ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے ‘ جو نہر میں تھا ‘ اور پتھر منہ میں لے رہا تھا‘ تو یہ سود کھانے والا شخص تھا۔ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے‘ جو انتہائی بد صورت تھا‘ اور جو آگ کے پاس تھا ‘ اور اسے دہکاتا تھا‘ تو یہ ’’ مالک ‘‘ تھا جو جہنم کا داروغہ ہے۔ جہاں تک اس طویل شخص کا تعلق ہے ‘ جو باغ میں تھا‘ تو وہ حضرت ابراہیم ؑ تھے۔ جہاں تک ان کے ارد گرد موجود بچوں کا تعلق ہے ‘ تو ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں : مسلمانوں میں سے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! مشرکین کی اولاد کا کیا حکم ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : مشرکین کی اولاد بھی ( فطرت پر پیدا ہوتی ہے ) جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جن میں سے آدھے لوگ خوبصورت تھے اور آدھے لوگ بدصورت تھے ۔ یہ وہ لوگ ہیں‘ جنہوں نے نیکیوں کے ساتھ برے اعمال بھی کئے۔ ان سے اللہ تعالیٰ نے درگزر کیا۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ فِيمَا ← سمرةَ بنِ جندبٍ الفزاريِّ، ← أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، ← عَوْفٌ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← عِيسَی بْنُ أَحْمَدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Hadith 655

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 656

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنْ جَنَّتِهِ أحد" 1. [3: 9]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اگر بندہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ مٰیں موجود سزا کا پتہ چل جائے ‘ تو کوئی بھی شخص جنت کی امید نہ رکھے اور اگر کافر شخص کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پتہ چل جائے ‘ تو کوئی بھی شخص جنت سے نا امید نہ ہو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ،

Hadith 656

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 657

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ فُضَيْلِ بن عياض عن هشام عن محمدذكر الْإِخْبَارِ عَنْ تَرْكِ الِاتِّكَالِ عَلَى الطَّاعَاتِ وَإِنْ كَانَ الْمَرْءُ مُجْتَهِدًا فِي إِتْيَانِهَا [657] أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَوْ یُؤَاخِذُنِی اللہُ وَابْنِ مَرْیَمَ بِمَا جَنَتْ ھَاتَانِ یَعْنِی الْاِبْھَامَ وَالَّتِیْ تَلِیھَا لَعَذَّبَنَا ثُمَّ لَمْ یَثْلِمْنَا شَیْئًا َ۔(10:3)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اگر اللہ تعالیٰ میرا اور ابن مریم کا ‘ ان دونوں انگلیوں ) کے قصور کی وجہ سے مواخذہ کرے ( نبی اکرمﷺ نے انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی انگلی کی طرف اشارہ کر کے یہ فرمایا ) اور وہ ہمیں عذاب دے ‘ تو وہ ہمارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کرے گا‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ← تَرْكِ الِاتِّكَالِ عَلَى الطَّاعَاتِ وَإِنْ كَانَ الْمَرْءُ مُجْتَهِدًا فِي إِتْيَانِهَا ← محمدذكر الْإِخْبَارِ ← هِشَامٍ ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 657

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 658

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ رِيحٍ أَوْ غَيْمٍ عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا مَطَرَتْ سُرَّ بِهِ وَذَهَبَ ذَلِكَ عَنْهُ فَسُئِلَ فقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلَى أُمَّتِي" 1. [3: 65]

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ‘ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ تیز ہوا والے دن یا بارش والے دن پر پریشان ہو جایا کرتے تھے ۔ آپ ادھر اُدھر آ جایا کرتے تھے جب بارش شروع ہو جاتی تھی ‘ تو آپ خوش ہو جایا کرتے تھے اور آپ کی پریشانی ختم ہو جاتی تھی آپ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں یہ عذاب نہ ہو‘ جو میری امت پر مسلط کر دیا گیا ہو ‘‘۔

عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 658

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 659

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عياض عن هشام بن حسان عن بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ أَنَّ اللَّهَ يُؤَاخِذُنِي وَعِيسَى بِذُنُوبِنَا لَعَذَّبَنَا وَلَا يَظْلِمُنَا شيئا قال وأشار بالسبابة والتي تليه ا" 1. [3: 66]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اگر اللہ تعالیٰ میرا اور عیسیٰ کا ہمارے ذنوب کی وجہ سے مواخذہ کرے اور ہمیں عذاب دے ‘ تو وہ ہمارے ساتھ کوئی زیادتی کرنے والا نہیں ہو گا‘‘۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی شہادت والی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے یہ با ت ارشاد فرمائی:

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ،

Hadith 659

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 660

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنْجِيهِ عمله ولكن سددوا وقاربوا" قالوا ولا أنتذكر الْإِخْبَارِ عَمَّا يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ مِنْ تَرْكِ الِاتِّكَالِ عَلَى مَوْجُودِ الطَّاعَاتِ دُونَ التَّسَلُّقِ بِالِاضْطِرَارِ إِلَيْهِ فِي الْأَحْوَالِ [660] أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنْجِيهِ عَمَلُهُ وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا" قَالُوا وَلَا أَنْتَ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَلَا اَنَا اِلَّا أن یتغمدنی بمغفرۃ وفضل ۔(66:3)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم میں سےکسی بھی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا تاہم تم لوگ میانہ روی اختیار کرو اور انتہا پسندی سے گریز کرو۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : مجھے بھی نہیں : البتہ مجھے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور فضل کے ذریعے ڈھانپ لیا ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 660

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 661

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہٖ وَالنار مثل ذٰلک ۔

حضرت عبد اللہ ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جنت تم میں سے کسی ایک شخص کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور جہنم بھی اسی کی مانند ہے‘‘۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 661

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 662

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ قَالَ حدثنا بن وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بن المسيبذكر الْإِخْبَارِ عَمَّا يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ مِنَ النَّظَرِ فِي الْعَوَاقِبِ فِي جَمِيعِ أُمُورِهِ دُونَ الِاعْتِمَادِ على يومه [662] أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ قَالَ حدثنا بن وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیْلًا وَلَبَکَیْتُمْ کَثِیْرًا ۔(66:3)

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: ’’ اگر تم لوگ وہ بات جان لو‘ جو میں جانتا ہوں ‘ تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو‘‘۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← بن قتيبة

Hadith 662

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 663

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ المعافى بن أبي حنظلة العابدذكر الْإِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مَا يَجِبُ عَلَى الْمُسْلِمِ عِنْدَمَا جَرَى مِنْهُ مِنْ مُقَارَفَةِ الْمَأْثَمِ حِينَ يُزَيِّنُ الشَّيْطَانُ لَهُ ارْتِكَابَ مِثْلِهَا [663] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى بْنِ أَبِي حَنْظَلَةَ الْعَابِدُ بِصَیْدَاءَ فِیْ اٰخَرِیْنَ قَلُوْا حَدَّثَنَا ھِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْاَزْرَقُ حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ اَنَّ ھِشَامُ بْنَ عَبْدِ الْمَلِکِ اَدّٰی عَنِ الزُّھْرِیِّ وَبْعَۃَ اٰلَافِ دِیْنَارٍ دَیْنًا کَانَ عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ لِلزُّھْرِیِّ لَا تَعُوْدَنَّ تَدَّانُ فقَالَ الزُّھْرِیُّ کَیْفَ یَا اَمِیرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَقَدْ حَدَثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَبِّبِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیَرَۃَ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ،

سعید بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں : ہشام بن عبد الملک نے زہری کی طرف سے ساتھ ہزار ادینار ادا کر دیئے جو ان کے ذمے قرض تھے۔ انہوں نے کہا : آپ دوبارہ قرض نہ لیجئے گا ‘ تو زہری نے کہا : اے امیر المؤمنین ! اب کیسے ہو سکتا ہے ‘ جبکہ سعید بن مسیب نے مجھے یہ بات بتائی ہے ۔ حضرت ابوہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جا سکتا ‘‘ روایت کے یہ الفاظ عمر بن سعید سنان کے ہیں۔

مُحَمَّدُ بْنُ المعافى بن أبي حنظلة العابد ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 663

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 664

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ "أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا هَبَّتِ الرِّيحُ عرف ذلك في وجهه" 1. [5: 12]

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : جب تیز ہوا چلتی تھی ‘ تو اس کی وجہ سے پریشانی کا اثر نبی اکرمﷺ کے چہرے پر پتہ چل جاتا تھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 664

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 665

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ الْعَدَوِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عن مطرف بن عبد الله بن الشخيرذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ الْمَرْءَ إِذَا تَهَجَّدَ بِاللَّيْلِ وَخَلَا بِالطَّاعَاتِ يَجِبُ أَنْ تَكُونَ حَالَةُ الْخَوْفِ عَلَيْهِ غَالِبَةً لِئَلَّا يُعْجَبَ بِهَا وَإِنْ كَانَ فَاضِلًا فِي نَفْسِهِ تَقِيًّا فِي دِينِهِ [665] أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ الْعَدَوِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَھُوَ قَائِمٌ یُصَلِّی وبصدرہ أزیز کأزیز المرجل ۔(47:5)

مطرف بن عبد اللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں مسجد میں حاضر ہوا ۔ آپ اس وقت کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے اور آپ کے سینے سے یوںواز آ رہی تھی جس طرح ہنڈیا ابلنے کی آواز ہوتی ہے

مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَوْثَرَۃُ بْنُ اَشْرَسَ الْعَدَوِیُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 665

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْخَوْفِ وَالتَّقْوَی · حديث 666

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ: "اتَّقُوا النَّارَ " ثُمَّ أَعْرَضَ وأشاح ثم قال "اتقوا النار" ثم أعرضذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ الْمَرْءَ إِذَا تَوَاجَدَ عِنْدَ وَعْظٍ كَانَ لَهُ ذَلِكَ [666] أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ: "اتَّقُوا النَّارَ " ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ ثُمَّ قَالَ "اتَّقُوا النَّارَ" ثُمَّ أَعْرَضَ وَاَشَاحَ ثُمَّ قَالَ اتَّقُوْا النَّارَ ثُمَّ اَعْرَضَ وأشاح حتّٰی رأیْنَا اَنَّہٗ یَرَاھَا ثُمَّ قَالَ اتَّقُوْا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ فَاِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِکَلِمَۃٍ طَیْبَۃٍ۔

حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ جہنم سے بچنے کی کوشش کرو پھر آپ نے منہ پھیر لیا اور چہرے کو بچانے کی کوشش کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا :تم لوگ جہنم سے بچنے کی کوشش کرو پھر آپ نے منہ پھیر لیا اور چہرے کو بچانے کی کوشش کی پھر ‘ یہاں تک ہمیں یوں محسوس ہوا کہ آپ اسے دیکھ رہے ہیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ جہنم سے بچنے کی کوشش کرو ‘ خواہ نصف کھجور کے ذریعے ایسا کرو اور اگر تمہیں یہ بھی نہیں ملتی ‘ تو پاکیزہ بات کے ذریعے ( جہنم سے بچنے کی کوشش کرو ) ‘‘۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← خيثمة ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 666

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr