Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2635

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبُو حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ (2) سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ تَجَوَّزَ بِرَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَنَامُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ طَهُورُهُ وَسِوَاكُهُ، فَيَقُومُ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي، وَيَتَجَوَّزُ بِرَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ يُوتِرُ بِالتَّاسِعَةِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمُ، جَعَلَ الثَّمَانَ سِتًّا، وَيُوتِرُ بِالسَّابِعَةِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فِيهِمَا: {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} ، وَ {إِذَا زُلْزِلَتْ} » (1) . [5: 34] أَبُو حُرَّةَ اسْمُهُ وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ

سعد بن ہشام بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ ؓ سے نبی اکرمﷺ کی رات کی نفل نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو سیدہ عائشہ ؓ نے بتایا: نبی اکرمﷺ جب عشاء کی نماز ادا کر لیتے تھے تو وہ مختصر رکعت ادا کرتے تھے پھر آپ سو جاتے تھےآپ کے وضو کا پانی اور آپ کی مسواک آپ کے سرہانے موجود ہوتی تھیں پھر آپ بیدار ہو کر مسواک کرتے تھے اور وضو کرتے تھے نماز ادا کرتے تھے دو مختصر رکعت ادا کرتے تھے پھر آپ کھڑے ہو کر آٹھ رکعات ادا کرتے جن میں ایک جتنی قرأت کرتے تھے پھر آپ نویں رکعت کے ذریعے انہیں وتر کر لیتے تھے پھر آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے جب نبی اکرمﷺ کی عمر زیادہ ہوگئی اور آپ کا جسم بھاری ہوگیا تو آپ نے آٹھ رکعات کو چھ کر دیا اور ساتویں رکعت کے ذریعے وتر ادا کر لیتے تھے پھر آپ بیٹھ کر دورکعات ادا کرتے تھے جن میں آپ سورہ الکفرون اور سورہ زلزال کی تلاوت کرتے تھے۔

صَلَاةِ النَّبِيِّ بِاللَّيْلِ، ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو حُرَّةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← بُنْدَارٌ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2635

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2636

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، [ص:363] ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ، فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوئَيْنِ، لَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أَرْقُبُهُ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، فَقَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَتَتَامَّتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، فَإِذَا بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَكَانَ فِي دُعَائِهِ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» قَالَ كُرَيْبٌ: فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ، فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ وَذَكَرَ: «عَصَبِي، وَلَحْمِي، وَدَمِي، وَشَعْرِي، وَبَشَرِي»، وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہؓ کے ہاں رات بسر کی۔ رات کے وقت نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے۔ آپ نے قضائے حاجت کی پھر آپ نے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو دھویا پھر آپ سو گئےپھر آپ بیدار ہوئے آپ مشکیز ے کے پاس آئے آپ نے اس کا منہ کھولا آپ نے وضو کیاجو درمیانے درجے کا تھا آپ نے اس میں زیادہ مرتبہ اعضاء کو نہیں دھویا آپ نے پورا وضو کیا پھر آپ کھڑے ہوگئے اور نماز ادا کرنے لگے میں بھی اٹھا میں نے یوں ظاہر کیا جیسے ابھی بیدار ہوا ہوں اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کا جائزہ لے رہا تھا میں اٹھا میں نے وضو کیا نبی اکرمﷺ نماز ادا کر رہے تھے میں آپ کی بائیں طرف آکر کھڑا ہوگیا آپ نے میرے کا ن پکڑے اور مجھے گھما کر اپنے دائیں طرف کر دیا۔ نبی اکرمﷺ کی نماز تیرہ رکعات میں پوری ہوئی آپ لیٹ گئے اور سوگئے یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگےآپ سوتے تھے تو خراٹے لیا کرتے تھے پھر حضرت بلال ؓ آپ کو نماز کے لئے بلانے کے لئے آئے نبی اکرمﷺ اٹھے آپ نے نماز ادا کی اور ازسر نو وضو نہیں کیا اور اس (نماز) میں یہ دعا پڑھی: اے اللہ! تو میرے دل میں نور کر دے میری بصارت میں نور کر دے ۔ میری سماعت میں نور کردے میرےدائیں طرف نور کردے میرے بائیں طرف نور کردے میرے اوپر نور کردے میرے نیچے نور کردے میرے آگے نورکر دے میرے پیچھے نور کردے اور میرے لئے نور کو زیادہ کردے۔ کریب نامی راوی بیان کرتے ہیں: میری ملاقات حضرت عباس ؓ کی اولاد میں سے کسی سے ہوئی انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی جس میں یہ الفاظ بھی بیان کئے۔ میرے پٹھوںمیرے گوشت میرے خون میرے بالوں اور میری کھال میں (نور) کر دے۔ انہوں نے دو خصلتوں کا ذکر بھی کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2636

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2637

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، وَجُمْعَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَلْخِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا أَلْفَاهُ السَّحَرَ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا» ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (1) . [5: 1]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے آپ کو سحری کے وقت اپنے ہاں ہمیشہ سوئے ہوئے پایاہے۔ ان کی مراد نبی اکرمﷺ تھے۔

«مَا أَلْفَاهُ السَّحَرَ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا» يَعْنِي النَّبِيَّ ← عَائِشَةَ ← عَمِّهِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، وَجُمْعَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَلْخِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2637

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2638

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَاَلْتُ عَائِشَۃَ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ِاللَّیْلِ ، فَقَالَتْ :کَانَ یَنَامُ اَوَّلَ اللَّیْلِ ثُمَّ یَقُوْمُ ، فِاِذَا کَانَ مِنَ السَّحَرِ اَوْتَرَ، ثُمَّ اَتَی فِرَاشَہُ ، فَاِنْ کَانَتْ لَہٗ حَاجَۃُ الْمَرْءِ بِاَھْلِہٖ کَانَ ، فَاِذَا سَمِعَ الْاَذَانَ وَثَبَ ، فَاِنْ کَانَ جُنْبًا اَفَاضَ عَلَیْہِ الْمَاءَ وَاِلَّا تَوَضَّاَ ، ثُمَّ خَرَجَ اِلَی الصَّلَاۃِ

اسود بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ؓ سے نبی اکرمﷺ کی رات کے (نفل ) نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا: نبی اکرمﷺ رات کے ابتدائی حصے میں سو جاتے تھے پھر آپ نوافل ادا کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ جب سحری کا وقت قریب آتا تو آپ وتر ادا کر لیتے تھے پھر آپ اپنے بستر پر آتے اگرآپ کو وہ خواہش ہوتی جو کسی مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ ہوتی ہے تو آپ اسے پوری کرتے تھے جب آپ اذان کی آواز سنتے تو جلدی سے اٹھ جاتے اگر جنابت کی حالت میں ہوتے تو غسل کرلیتے ورنہ وضو کر کے نماز کے لئے تشریف لے جاتے ۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں) ان روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے اگر چہ بظاہر اور معانی میں اختلاف محسوس ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ رات کے وقت مختلف (تعداد میں ) نوافل ادا کرتے تھے ایک رات میں ایک طریقے کے مطابق اور دوسری رات میں دوسرے طریقے کے مطابق ادا کرتے تھے تو صحابہ کرام میں سے جس نے نبی اکرمﷺ کو جس طریقے کےمطابق نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا اسے آگے بیان کردیا اور جو مشاہدہ کیا اس کے بارے میں خبر دے دی ۔ اللہ تعالی ٰ نے اپنے محبوب کو ان کی اُمت کے لئے زبانی اور عملی طور پر معلم بنا کر بھیجا تھا تو رات کے نوافل کے بارے میں نبی اکرمﷺ کے افعال کا اختلاف اس بات کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ آدمی کو اس بارے میں اختیار ہےکہ نبی اکرمﷺ نے اپنے رات کے نوافل کے بارے میں جو طریقہ اختیار کیا آدمی ان میں سے کسی ایک طریقے کےمطابق نوافل ادا کرلے ایسا نہیں ہے کہ اس کے لئے یہ حکم ہو کہ وہ ان میں سے کسی ایک طریقے کی ہی پیروی کر سکتا ہے تمام طریقوں کی پیروی نہیں کر سکتا۔

صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ اللَّيْلَ ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2638

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2639

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ يُسَبِّحُ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا يُصَلِّي، ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمَتِهِ تِلْكَ، فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ، وَصَلَاتُهُ تِلْكَ الْآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ» (1) . [5: 1]

یعلیٰ مملک بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرمﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ ؓ سے نبی اکرمﷺ کی رات کی (نفل) نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو سیدہ ام سلمہؓ نے بتایا: نبی اکرمﷺ عشاء کی نماز ادا کرتے تھے پھر آپ تسبیح پڑھتے تھے پھر اس کے بعد رات کے وقت جب اللہ کو منظور ہوتا تھا نماز ادا کرتے تھے پھر آپ نماز ختم کر کے اتنی ہی دیرکے لئے سو جاتے تھے جتنی دیر آپ نماز ادا کرتے رہے تھے پھر آپ اپنی اس نیند سے بیدار ہو کے اتنی دیر نماز ادا کرتے رہتے تھے جتنی دیرسوئے رہتے تھے آپ کی آخری نماز صبح صادق تک جاری رہتی تھی۔

صَلَاةِ النَّبِيِّ بِاللَّيْلِ، ← يَعْلَى بْنُ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2639

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2640

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ تَجَوَّزَ بِرَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَنَامُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ طَهُورُهُ وَسِوَاكُهُ، فَيَقُومُ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي، وَيَتَجَوَّزُ بِرَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي ثَمَانَ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ يُوتِرُ بِالتَّاسِعَةِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمُ، جَعَلَ الثَّمَانِ سِتًّا، وَيُوتِرُ بِالسَّابِعَةِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فِيهِمَا: {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} ، وَ {إِذَا زُلْزِلَتْ} » (1) . [5: 1]

سعدبن ہشام انصاری بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے سیدہ عائشہ ؓ سے نبی اکرمﷺ کی رات کی (نفل ) نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا:نبی اکرمﷺ جب عشاء کی نماز ادا کرلیتے تھے تو دو مختصر رکعات ادا کرتے تھے پھر آپ سو جاتے تھے آپ کے وضو کا پانی اور آپ کی مسواک آپ کے سرہانے موجود ہوتے تھے پھر آپ بیدار ہوکے مسواک کرتے تھے پھر وضوکرتے تھے اور نماز ادا کرتے تھے آپ پہلے دو مختصر رکعات ادا کرتے تھے پھر آپ آٹھ رکعات ادا کرتے تھے جن میں تقریبا ایک جتنی تلاوت کرتے تھے آپ نویں رکعت کے ذریعے انہوں طاق کر لیتے تھے پھر آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے جب نبی اکرمﷺ کی عمر زیادہ ہوگئی آپ کا جسم بھاری ہوگیا تو آپ نے آٹھ رکعات کی جگہ چھ ادا کرنا شروع کردیں اور ساتویں رکعت کے ذریعے انہیں طاق کر لیتے تھے پھرآپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کر تے تھے جس میں آپ سورۃ الکفرون اور سورۃ زلزال کی تلاوت کرتےتھے۔

صَلَاةِ النَّبِيِّ بِاللَّيْلِ، ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو حُرَّةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2640

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2641

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِبَاحَةِ قَوْلِ الْإِنْسَانِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ فِي الْإِنْسَانِ مَا إِذَا سَمِعَهُ اغْتَمَّ بِهِ، إِذَا أَرَادَ هَذَا الْقَائِلُ بِهِ إِنْبَاهَ غَيْرِهِ دُونَ الْقَدْحِ فِي هَذَا الَّذِي قَالَ فِيهِ مَا قَالَ»

حضرت عبداللہ بن عمروؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: اے عبداللہ بن عمرو! تم فلاں شخص کی مانندنہ ہو جانا جو پہلے رات کے وقت نوافل ادا کیا کرتا تھا اور پھر اس نے رات کے قیام کو ترک کردیا۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہےکہ آدمی کےلئے کسی دوسرے شخص کی غیر موجود گی میں اس کے بارے میں کوئی ایسی بات کہنا جائز ہےکہ اگر وہ شخص خود اس بات کو سن لے تو غمگین ہوجائے جبکہ کہنے والے شخص کا مقصد اس کی برائی بیان کرنانہ ہو بلکہ کسی اور شخص کو کسی حوالے سے تنبیہ کرنا مقصودہو

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2641

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2642

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ، وَكَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ، أَوْ مَرِضَ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً» قَالَتْ: «وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلَّا رَمَضَانَ» (1) . [1: 2] قَالَ: أَبُو حَاتِمٍ: «فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِفَرْضٍ، إِذْ لَوْ كَانَ فَرْضًا لَصَلَّى مِنَ النَّهَارِ مَا فَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ جب کوئی عمل کرتے تھے تو باقاعدگی سے کیا کرتے تھے اگر آپ رات کے وقت سو جاتے یا بیماری کی وجہ سے (رات کے نوافل ادا نہیں کر پاتے ) تو آپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرمﷺ کو کبھی بھی ساری رات صبح صادق تک نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی رمضان کے مہینے کے علاوہ کبھی آپ کو مسلسل (پورا مہینہ ) روزے رکھتے ہوئے دیکھاہے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ وتر فرض نہیں ہیں کیونکہ اگر یہ فرض ہوتے تو آپ دن کے وقت اپنی رات کے وقت رہ جانے والی 13 رکعات ادا کرتے۔

عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عِيسَى؛ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2642

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2643

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ [ص:370] بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ الْقَارِيِّ مِنْ بَنِي قَارَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ، أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ بِاللَّيْلِ»

حضرت عمر بن خطاب ؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: جو شخص اپنے معمول کے وظیفے کو سر انجام دینے سے پہلے سو جائے یا اس میں سے کوئی چیز رہ جائے تو وہ اگر اسے (اگلے دن ) فجر کی نماز سے لے کر ظہر کی نماز تک کے درمیانی حصے میں پڑھ لے تو اس کے نامہ اعمال میں یہ اسی طرح نوٹ کیا جائے گا جس طرح اس کے رات کے وقت پڑھنے کو نوٹ کیا جاتا ہے۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2643

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2644

أَخْبَرَنَا أَبُو فِرَاسٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمْعَةَ الْأَصَمُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَعِيشَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ» ، وَقَالَتْ: «كَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ أَوْ مَرِضَ صَلَّى بِالنَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصُّبْحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلَّا رَمَضَانَ» (1) . [5: 47] أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ،

سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ جب کوئی عمل کرتے تھے تو اس کو باقاعدگی سے کیا کرتےتھے سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺجب رات کے (نوافل ) ادا کئے بغیر سو جاتے یا بیماری کی وجہ سے (انہیں ادا نہ کر پاتے ) تو آپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے میں نے کبھی نبی اکرمﷺ کو ساری رات صبح صادق تک نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی آپ کو رمضان کے مہینے کے علاوہ کسی پورے مہینے میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا۔

عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَعِيشَ، ← أَبُو فِرَاسٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمْعَةَ الْأَصَمُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2644

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2645

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ مِنَ اللَّيْلِ، مَنَعَهُ عَنْ ذَلِكَ النَّوْمُ أَوْ غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً» (1) . [5: 1]

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ جب رات کے وقت نوافل ادا نہیں کر پاتے تھے نیند کی وجہ سے آپ ادا نہیں کرتے تھے یا آپ کی آنکھ لگ جاتی تھی تو ّآپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتےتھے۔

ذَلِكَ النَّوْمُ أَوْ غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً» ← «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا لَمْ يُصَلِّ مِنَ اللَّيْلِ، مَنَعَهُ ← عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2645

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2646

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ، وَكَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ، أَوْ مَرِضَ، صَلَّى مِنَ النَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً» قَالَتْ: «وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلَّا رَمَضَانَ» (2) . [5: 1]

سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ جب کوئی عمل کرتے تھے تو اسے باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے جب آپ رات کے وقت سو جاتے یا بیمار ہوجاتے (اس وجہ سے رات کے نوافل ادا نہیں کر پاتے) توآپ اگلے دن بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے) سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے کبھی بھی نبی اکرمﷺ کو ساری رات صبح صادق تک نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی رمضان کے مہینے کے علاوہ آپ کو کسی اور مہینے میں پورا مہینہ روزے رکھتے ہوئے دیکھا۔

عَائِشَةَ ← سعد بن هشام الأنصاري: ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the rising of the night · Hadith 2646

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr