Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2623

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ (1) ، عَنْ (2) خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا بَيْنَهُمَا، كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ: «مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ وَاحِدَةً وَسَجْدَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ» (3) . [1: 78]

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نے نبی اکرمﷺ کو بلند آواز میں مخاطب کیا میں اس وقت ان دونوں کے درمیان تھا اس نے دریافت کیا: رات کے وقت کی نماز کیسی ہونی چاہئے تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: دو دو کر کے ادا کی جائے گی اور جب صبح صادق قریب ہونے کا اندیشہ ہو تو تم صبح صادق ہونے سے پہلے ایک رکعت اور دو سجدے ادا کرلو۔

بَيْنَهُمَا، كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ ← نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، بِوَاسِطَ،

Hadith 2623

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2624

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ فَارْكَعْ وَاحِدَةً تُوتِرُ لَكَ مَا قَدْ صَلَّيْتَ» (1) . [1: 78]

حضرت عبداللہ بن عمرؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: رات کی نماز دو دو کی جائے گی اور جب تم نماز ختم کرنے کا ارادہ کرو تو ایک رکعت ادا کرلو تم نے جو نماز ادا کی ہے وہ طاق ہو جائے گی۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ؛ أَنَّ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 2624

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2625

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلَانَ الثَّقَفِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ» (2) . [1: 92] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَبُو التَّيَّاحِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيُّ، وَأَبُو مِجْلَزٍ اسْمُهُ لَاحِقُ بْنُ حُمَيْدٍ» .

حضرت عبداللہ بن عمرؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: وتر رات کے آخری حصےمیں ایک رکعت ہے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) ابو تیاح نامی راوی کا نام یزیدبن حمید ضبعی ہے جبکہ ابو مجلز نامی راوی کا نام لاحق بن حمید ہے۔

الْوِتْرُ رَکْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبَا مِجْلَزٍ ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلَانَ الثَّقَفِيُّ بِبَغْدَادَ،

Hadith 2625

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2626

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، «فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَخَرَجَ، وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ» (1) . [5: 1] قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثْتُ بِهَذَا بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ ؓ کے ہاں رات بسر کی اس رات نبی اکرمﷺ بھی ان کے ہاں موجود تھے۔ نبی اکرمﷺ نے وضو کیا پھر آپ کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے میں آپ کے بائیں طرف آکر کھڑا ہوا تو آپ نے مجھے پکڑا اور دائیں طرف کر دیا اس رات آپ نے چار رکعات ادا کی پھر نبی اکرمﷺ سوگئےیہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے جب آپ سوتے تھے تو آپ خراٹے لیا کرتے تھے پھر مؤذن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ تشریف لے گئے آپ نے نماز پڑھائی اور ازسرِنو وضو نہیں کیا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2626

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2627

حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ (2) ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُوسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، «فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ» ، قَالَ: «فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، ثُمَّ قُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَجَرَّنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ صَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، قِيَامُهُ فِيهِنَّ سَوَاءٌ» (3) . [5: 1]

حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں: انہوں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ ؓ کے ہاں رات بسر کی نبی اکرمﷺ رات کے وقت نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں۔ میں اٹھا میں نے وضو کیا اور آکر آپ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو نبی اکرمﷺ نے مجھے کھینچا اور مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا۔ نبی اکرمﷺ نے تیرہ رکعات ادا کی ان میں آپ کا قیام برابر تھا۔

يَمِينِهِ، ثُمَّ صَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، قِيَامُهُ فِيهِنَّ سَوَاءٌ» ← يَسَارِهِ، فَجَرَّنِي حَتَّى أَقَامَنِي ← «فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، ثُمَّ قُمْتُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، «فَقَامَ النَّبِيُّ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ» ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُوسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2627

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2628

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، قَالَ: «أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى نَزَلْنَا السُّقْيَا» ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: مَنْ يَسْقِينَا؟ قَالَ: «جَابِرٌ» ، فَخَرَجْتُ فِي فَتَيَانٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَاءَ الَّذِي بِالْأُثَايَةِ (1) ، وَبَيْنَهُمَا قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ مِيلًا، فَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا، حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ عَتَمَةٍ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى بَعِيرٍ يُنَازِعُهُ بَعِيرُهُ إِلَى الْحَوْضِ (2) ، فَقَالَ لَهُ: أَوْرِدْ، فَأَوْرَدَ، فَأَخَذْتُ بِزِمَامِ رَاحِلَتِهِ فَأَنَخْتُهَا، «فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْعَتَمَةَ وَجَابِرٌ إِلَى جَانِبِهِ، فَصَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَجْدَةً» (3) . [4: 1]

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں۔ حدیبیہ کے زمانہ میں ہم نبی اکرمﷺ کے ساتھ آرہے تھے ہم نے سقیا کے مقام پر پڑاؤ کیا تو حضرت معاذ بن جبل ؓ نے دریافت کیا: کون ہمیں پانی پلائے گا تو انہوں نے (شاید نبی اکرمﷺ ) نے فرمایا: جابر! میں انصار کے کچھ نوجوانوں کے ساتھ روانہ ہوا اثایہ کے مقام پر ہم پانی کے پاس آئے ان دونو ں جگہوں کے درمیاں تقریبا 23 میل کا فاصلہ تھا وہاں سے ہم نے خود بھی پانی پیا اپنے جانوروں کو بھی پلایا یہاں تک کہ شام ہو جانے کے بعد ایک شخص اپنے اونٹ پر آیا اس کا اونٹ حوض کی طرف جانے کے لئے اس سے مقابلہ کر رہا تھا اور وہ اس سے کہہ رہاتھا آگے آؤ پھر وہ آگے آیا میں نے اس کی سواری کی لگام پکڑی اور اس کے اونٹ کو بٹھا دیا نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے آپ نے عشاء کی نماز ادا کی حضرت جابر ؓ آپ کے پہلو میں تھے نبی اکرمﷺ نے تیرہ رکعات ادا کی۔

شرحبيل بن سعد ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2628

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2629

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ بِالسِّنْجِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ (1) ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى عَشْرَ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ (2) ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ، وَصَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ» (3) . [5: 1]

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا آپ نے اپنی سواری کو بٹھایا پھر آپ نیچے اترے اور آپ نے دس رکعات دو دو کر کے ادا کی پھر آپ ایک رکعت وتر ادا کئے پھر آپ نے فجر کی دو رکعت (سنت) ادا کئے پھر آپ نے صبح کی نماز ادا کی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← شرحبيل بن سعد ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ بِالسِّنْجِ،

Hadith 2629

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2630

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَا (4) : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا، حَتَّى إِذَا دَخَلَ فِي السِّنِّ كَانَ يَقْرَأُ حَتَّى إِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ، ثُمَّ سَجَدَ» (1) . [5: 47]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ رات کے نوافل بیٹھ کر ادا نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ جب آپ کی عمر زیادہ ہوگئی تو پھر آپ (بیٹھ کر) تلاوت کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ جب تلاوت میں تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتی تھیں تو آپ کھڑے ہو کر ان کی تلاوت کرتے تھے پھر سجدے میں جاتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ← عمرو بن هشام وأحمد بن بكار ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 2630

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2631

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَبُدَيْلٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا» (2) . [5: 1]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ رات کے وقت طویل نماز کھڑے ہو کر بھی ادا کرتے تھے اور طویل نماز بیٹھ کر بھی ادا کرتے ہیں جب آپ کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے تھے تو کھڑے ہوئے ہی رکوع میں چلے جاتے تھے اور جب بیٹھ کر نماز ادا کرتے تھے تو بیٹھے ہوئے ہی رکوع میں چلے جاتے تھے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← أَيُّوبُ وَبُدَيْلٌ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ،

Hadith 2631

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2632

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي شَيْئًا مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ، فَإِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ آيَةً أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً، قَامَ فَقَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ» (1) . [5: 1]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو رات کے نفل کبھی بیٹھ کر ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ جب آپ کی عمر زیادہ ہوگئی تو آپ (بیٹھ کر ) تلاوت کرتے تھے یہاں تک کہ جب کسی سورۃ کی تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتی تھیں تو آپ کھڑے ہو کر ان کی تلاوت کرتے تھے پھر رکوع میں جاتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2632

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2633

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْرَأُ فِي صَلَاتِهِ جَالِسًا حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ، فَكَانَ يَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ آيَةً أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً، قَامَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ رَكَعَ» (2) . [5: 1]

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ رات کی نفل نماز میں بیٹھ کر تلاوت نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ جب آپ کی عمر زیادہ ہوگئی تو آپ بیٹھ کر تلاوت کیا کرتے تھے اور جب کسی سورت کی تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتی تھیں تو آپ کھڑے ہو کر ان کی تلاوت کرتے تھے پھر رکوع میں جاتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2633

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2634

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: «كَانَ يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يُوتِرُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَقْرَأُ، ثُمَّ يَرْكَعُ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ» (1) . [4: 1]

ابو سلمہ بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے نبی اکرمﷺ کی رات کی نفل نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو سیدہ عائشہ ؓ نے بتایا:نبی اکرمﷺ آٹھ رکعات ادا کیا کرتے تھے پھر آپ وتر ادا کرتے تھے پھر بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے پھر آپ کھڑے ہو کر تلاوت کرتے تھے پھر رکوع میں جاتے تھے پھر آپ صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعات (سنت ) ادا کرتے تھے۔

صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ بِاللَّيْلِ، ← أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2634

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr