Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2599

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَوَعْدُكَ حَقٌّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» (1) . [5: 1]

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نبی اکرمﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں جب آپ رات کے وقت بیدار ہوتے تھے تو تکبیر کہتے پھر یہ پڑ ھتے تھے: اے اللہ ! حمد تیرے لئے مخصوص ہے توآسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے۔ حمد تیرے لئے مخصوص ہے تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا پروردگار ہے تو حق ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے ہی لئے اسلام قبول کیا میں تجھ پر ہی ایمان لایا میں نے تجھ پر ہی توکل کیا تیری ہی طرف رجوع کیا میں تجھے ہی ثالث سمجھتا ہوں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ اے اللہ! میں نے جو پہلے کیا جو بعد میں کروں گا جو پوشیدہ طور پر کیا اور جو علانیہ طور پر کیا ان سب کے حوالے سے میری مغفرت کردے تو میرا معبور ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبور نہیں ہے۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ، ثُمَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2599

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2600

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ (2) بْنُ يُونُسَ (3) ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ (4) ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ: «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لَمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ، فَإِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» (1) . [5: 1]

ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں میں نے عائشہ صدیقہ ؓ سے دریافت کیا۔ نبی اکرمﷺ جب رات کے وقت بیدار ہوتے تھے تو آپ اپنی نماز کا آغاز کس چیز سے کرتے تھے ؟ انہوں نے بتا یا: نبی اکرمﷺ جب رات کے وقت کھڑے ہوتے تھے تو آپ اپنی نماز کے آغاز (میں یہ دعاپڑھتے تھے) اے اللہ ! اے جبرائیل ، میکائیل اور اسرافیل کے پروردگار! اے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے اے غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے تو اس دن لوگوں کے درمیان فیصلہ دے گا جس کے بارے میں لوگ اختلاف رکھتے ہیں۔ تو میری ہدایت اس چیز کی طرف کر جس حق کے بارے میں اختلاف کیا جاتا ہے۔ بے شک تو جسے چاہتاہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت نصیب کرتا ہے۔

أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2600

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2601

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الصَّلَاةَ، قَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ» . قَالَ عَمْرٌو: «وَهَمْزُهُ: الْمُوتَةُ، وَنَفْخُهُ: الْكِبْرُ، وَنَفْثُهُ: الشِّعْرُ» . (1) . [5: 1]

حضرت جبیر بن معطم ؓ کے صاحب زادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا جب آپ نے نماز شروع کی تو یہ پڑھا: اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے وہ بڑا ہے اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ وہ بڑا ہے ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو زیادہ ہو میں ہر صبح و شام اللہ تعالیٰ کے ہر عیب سے پاک ہونے کو بیان کرتا ہوں۔ میں ہر صبح وشام اللہ تعالیٰ کے ہر عیب سے پاک ہونے کو بیان کرتا ہوں ۔ اے اللہ! میں شیطان سے اس کے ہمز اور اس کے نفت سے اور اس کے نفخ سے پناہ مانگتا ہوں ۔ عمر و نامی راوی کہتے ہیں: ہمز سے مراد مرگی اس کی نفخ سے مراد تکبر اور اس کے نفث سے مراد شعر کہنا ہے۔

أَبِيهِ ← ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ2 ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 2601

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2602

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ بِهِ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ، «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي: يَبْدَأُ فَيُكَبِّرُ عَشْرًا، ثُمَّ يُسَبِّحُ عَشْرًا، وَيَحْمَدُ عَشْرًا، وَيُهَلِّلُ عَشْرًا، وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا، وَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي عَشْرًا، وَيَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ضِيقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ عَشْرًا» (2) . [5: 1]

عاصم بن حمید بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرمﷺکی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہؓ سے سوال کیا وہ کہتے ہیں میں نے دریافت کیا: نبی اکرم ﷺ جب رات کے نوافل پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو آپ کس چیز سے آغاز کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے: تم سے پہلے کسی نے بھی مجھ سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا۔ نبی اکرمﷺ جب رات کے وقت نوافل ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تو آپ ﷺ پہلے دس مرتبہ اللہ اکبر کہتے تھے پھر دس مرتبہ سبحان اللہ کہتے تھے دس مرتبہ الحمد اللہ کہتے تھے پھر مرتبہ لاالہ الا اللہ پڑھتے تھے۔ پھر دس مرتبہ استغفار پڑھتے تھے اور یہ کہتے تھے: اے اللہ! تو میری مغفرت کردے مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ۔ تو مجھے رزق عطا کر۔ یہ بھی آپ دس مرتبہ پڑھتے تھے پھر آپ قیامت کے دن کی تنگی سے دس مرتبہ اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔

عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ ← أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 2602

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2603

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ (1) ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ رَفَعَ صَوْتَهُ طَوْرًا» ، وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ (2) . [4: 1]

حضرت ابوہریرہ ؓ کے بارےمیں بات منقول ہے جب وہ رات کے وقت نوافل اداکرتے تھے تو وہ اپنی آواز کو کچھ بلند کیا کرتے تھے وہ یہ بات ذکر کرتے تھے نبی اکرمﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ رَفَعَ صَوْتَهُ طَوْرًا» وَيَذْكُرُ ← أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، ← أَبِيهِ ← عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ،

Hadith 2603

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2604

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ (1) ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَمَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا وَسَأَلَ، وَلَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا وَتَعَوَّذَ» (2) . [4: 1]

حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں۔ ایک رات میں نے نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی آپ جب بھی کسی ایسی آیت کی تلاوت کرتے جس میں رحمت کا مضمون ہوتا تو وہاں ٹھہر کر اس رحمت کا سوال کرتے تھےاور جب بھی کسی ایسی آیت کی تلاوت کرتے جس میں عذاب کا ذکر ہوتا تو آپ وہاں ٹھہر کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔

حُذَيْفَةَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Hadith 2604

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2605

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَمَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَسَأَلَ، وَلَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا وَتَعَوَّذَ» (1) . [5: 1]

حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک رات نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی تو آپ جب بھی رحمت کے مضمون والی آیت پر پہنچتے تو وہاں آپ ٹھہر کر اس رحمت کا سوال کرتے تھے اور جب بھی عذاب کے مضمون والی آیت پڑھتے تو وہاں ٹھہر کر اس عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے۔

حُذَيْفَةَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Hadith 2605

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2606

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَبْدَأْ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ» (2) . [1: 67]

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا ہے: جب کوئی رات کے وقت بیدار ہو تو اسے آغاز میں دو مختصر رکعات ادا کرنی چاہئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ،

Hadith 2606

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2607

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَوْمًا بَعْدَمَا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ، فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ، فَأَذِنَ لَنَا، فَمَكَثْنَا هُنَيْهَةً، فَخَرَجَتِ الْخَادِمُ، فَقَالَتْ: أَلَا تَدْخُلُونَ؟ قَالَ: فَدَخَلْنَا، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ يُسَبِّحُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا وَقَدْ أُذِنَ لَكُمْ؟ فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنَّا ظَنَنَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْبَيْتِ نَائِمٌ، قَالَ: ظَنَنْتُمْ بِآلِ أُمِّ عَبْدٍ غَفْلَةً، ثُمَّ أَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ، قَالَ: يَا جَارِيَةُ، انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ؟ قَالَ: فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ قَدْ طَلَعَتْ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا، قَالَ مَهْدِيٌّ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَلَمْ يُهْلِكْنَا بِذُنُوبِنَا، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ كُلَّهُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، «إِنِّي لَأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِي كَانَ يَقْرَؤُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنَ الْمُفَصَّلِ، وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم» (1) . [5: 47]

ابووائل بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے انہیں دروازے پر سلام کہا اور انہوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی ہم تھوڑی دیر ٹھہرے رہے۔ خادمہ باہر آئی انہوں نے دریافت کیا:آپ لوگ اندر کیوں نہیں آتے؟ راوی کہتے ہیں: ہم لوگ اندر گئے تو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیٹھے ہوئے تھے اور تسبیح پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا : جب تم لوگوں کو اجازت مل گئی تھی تو تم لوگ اندر کیوں نہیں آئے۔ ان لوگوں نے کہا: جی نہیں ہم یہ گمان کر رہے تھے اہل خانہ میں سے کچھ لوگ سوئے ہوئے ہوں گے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا: تم نے ام عبد کے گھرانے کے بارے میں غفلت کا گمان کیا تھا پھر وہ تسبیح پڑھنے کی طرف متوجہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ جب انہوں نے یہ گمان کیا سورج نکل آیا ہوگا تو انہوں نے فرمایا: اے لڑکی جاکر دیکھو سورج نکل آیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: اس لڑکی نے دیکھاتو وہ نکل چکا تھا تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: ہر طرح کی حمد اللہ کے لئے مخصوص ہے جس نے ہمیں یہ دن بھی عطا کیا ہے مہدی نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں ہلاک نہیں کیا ہے حاضرین میں سے ایک صاحب نے گزارش کی گزشتہ رات میں نے تمام مفصل آیتوں کی تلاوت کی تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: یہ تو شعر پڑھنے کی طرح تیزی سے پڑھنا ہوا مجھے ایک دوسرے کے قریب قریب کی وہ سورتیں یا دہیں جنہیں نبی اکرمﷺ تلاوت کیا کرتے تھے وہ مفصل سورتوں سے تعلق رکھنے والی اٹھارہ سورتیں ہیں اور ال حم سے تعلق رکھنے والی دوسورتیں ہیں۔

أَبِي وَائِلٍ ← وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2607

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2608

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، [ص:343] عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ، أَوْ فُسْطَاطَهُ، «فَقَامَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ، فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً»

حضرت زید بن خالد جہنی ؓ بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ سوچا آج رات میں نبی اکرمﷺ کی نماز کا جائزہ لوںگا۔ وہ کہتے ہیں میں آپ کی چوکھٹ پر (شاید یہ الفاظ ہے) آپ کے خیمہ کے باہر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے دو مختصر رکعات ادا کی پھر آپ نے دورکعات ادا کی جو لمبی تھیں پھر آپ نے دورکعات ادا کی جو اس سے پہلے کی دو رکعات سے کچھ کم تھیں پھر آپ نے دورکعات ادا کی جو ان سے پہلے کی دو رکعات سے کچھ کم تھیں پھر آپ نے دورکعات ادا کی جو ان کی دو رکعات سےکچھ کم تھیں پھر آپ نے وتر ادا کئے تو یہ تیرہ رکعات ہوگئیں۔

لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ اللَّيْلَةَ، ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ ← [ص:149] ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 2608

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2609

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَقُلْتُ: يَقْرَأُ مِائَةَ آيَةٍ ثُمَّ يَرْكَعُ، فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَخْتِمُهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَمَضَى، فَقُلْتُ: يَخْتِمُهَا ثُمَّ يَرْكَعُ، فَمَضَى حَتَّى قَرَأَ سُورَةَ النِّسَاءِ، ثُمَّ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، يَقُولُ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى، لَا يَمُرُّ بِآيَةِ تَخْوِيفٍ أَوْ تَعْظِيمٍ إِلَّا ذَكَرَهُ» (1) . [5: 1]

حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں: ایک رات میں نے نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی نبی اکرمﷺ نے سورہ بقرۃ کی تلاوت شروع کی میں نے سوچا آپ ایک سو آیات کی تلاوت کر کے رکوع میں چلیں جائیں گے لیکن آپ مسلسل تلاوت کرتے رہے میں نے سو چادو رکعات میں یہ سورۃ پوری پڑھ لیں گے لیکن آپ مسلسل تلاوت کر تے رہے میں نے سوچا آپ یہ سورۃ مکمل کر کے پھر رکوع میں جائیں گے لیکن آپ مسلسل تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع کی پھر آپ نے سورہ ال عمران بھی پڑھ لی۔ پھر آپ رکوع میں گئے اور تقریبا اتنی دیر رکوع میں رہے جتنا آپ نے قیام کیا تھا آپ اس میں سبحان ربی العظیم پڑھتے رہے پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا۔سمع اللہ لمن حمدہ، ربنا ولک الحمد پڑھا پھر آپ نے اتنا طویل قیام کیا پھر آپ سجدے میں گئے تو آپ نے سجدے کو طول دیا سجدے میں سبحان ربی الاعلیٰ پڑھتے رہے (اس تلاوت کے دوران ) آپ جب بھی خوف دلانے یا عظمت کے اظہار والی کسی آیت کی تلاوت کر تے تھے تو آپ اس کا ذکر کیا کرتے تھے۔

حُذَيْفَةَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2609

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2610

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْغُضَائِرِيُّ بِحَلَبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ فِي سُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً» ، تُرِيدُ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ (1) . [5: 1]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ اتنی دیر سجدے میں ٹھہرے رہتے تھے جتنی دیر میں کوئی شخص پچاس آیات کی تلاوت کر لیتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ کی مراد یہ تھی آپ رات کی نفل نماز میں ایسا کیا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْغُضَائِرِيُّ بِحَلَبَ،

Hadith 2610

chevron_left Previous
1…45678
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr