صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2587
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَبْلٍ مَمْدُودٍ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا الْحَبْلُ؟» قَالُوا: فُلَانَةٌ تُصَلِّي، فَإِذَا خَشِيَتْ أَنْ تُغْلَبَ أَخَذَتْ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِتُصَلِّي (1) مَا عَقَلَتْهُ، فَإِذَا غُلِبَتْ فَلْتَنَمْ» (2) . [4: 3]
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ مسجد میں دوستونوں کے درمیان بندھی ہوئی رسی کے پاس سے گزرے توآپ نے دریافت کیا: یہ رسی کیوں ہے لوگوں نے عرض کی : فلاں خاتون نماز ادا کرتی ہے اسے یہ اندیشہ ہوتا ہے اسے نیند آرہی ہے تو اسے پکڑ لیتی ہے تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اسے اس وقت تک نماز ادا کرنی چاہئے جب تک وہ جاگ رہی ہو اور جب نیند آنے لگے تو اسے سو جانا چاہئے۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ
Hadith 2587
