Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2575

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَسُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ» (1) . [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ثُمَّ لَقِيَ أَبَا مَسْعُودٍ فِي الطَّوَافِ فَسَأَلَهُ، فَحَدَّثَهُ بِهِ» (2) .

حضرت ابو مسعود ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص رات کے وقت سورۃ بقرہ کی آخری دو آیات کی تلاوت کر لیتا ہے یہ دونوں اس کے لئے کا فی ہوتی ہیں۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں) عبدالرحمن بن یزید نے یہ روایت علقمہ کے حوالے سے حضرت ابو مسعود ؓ کے حوالے سے سنی ہے۔ پھر ان کے ملاقات حضرت ابو مسعود ؓ کے ساتھ طواف کے دوران ہوئی۔ انہوں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا۔ تو حضرت ابو مسعود ؓ نے انہیں یہ حدیث بیان کردی۔

أَبِي مَسْعُودٍ ثُمَّ لَقِيَ أَبَا مَسْعُودٍ فِي الطَّوَافِ فَسَأَلَهُ، فَحَدَّثَهُ بِهِ» ← عَلْقَمَةَ ← هَذَا الْخَبَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو حَاتِمٍ ← «مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٍ، وَسُلَيْمَانَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 2575

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2576

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ كُلَّ لَيْلَةٍ؟» قَالُوا: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: « {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} » (1) . [1: 2]

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کیا تم میں سے کوئی ایک شخص اس بات سے عاجز ہے وہ ہر رات تہائی قرآن کے تلاوت کیا کرے ہم نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ کون ایسا کرسکتا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: سورۃ اخلاص کی تلاوت کرنا (ایک تہائی قرآن پڑھنے کے برابر ہے)

وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ ← «أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ كُلَّ لَيْلَةٍ؟» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2576

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2577

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا السَّفَرَ جُهْدٌ وَثُقْلٌ، فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ وَإِلَّا كَانَتَا لَهُ» (1) . [1: 67]

حضرت ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: یہ سفر مشقت اور بوجھ کا باعث ہوتاہے تو جب کوئی شخص وتر ادا کرے تو اسے دو رکعات ادا کر لینی چاہئے اگر وہ (فجر کی نماز کے وقت ) بیدار ہوگیا تو ٹھیک ہے ورنہ یہ دونوں کے لئے کافی ہوں گی۔

كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي سَفَرٍ، ← ثَوْبَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← شُرَيْحٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 2577

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2578

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَهُمْ نَفَرٌ، فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَاذَا مَعَكُمْ مِنَ الْقُرْآنِ؟» فَاسْتَقْرَأَهُمْ، حَتَّى مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ، هُوَ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، فَقَالَ: «مَاذَا مَعَكَ يَا فُلَانُ؟» قَالَ: مَعِي كَذَا وَكَذَا، وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ، قَالَ: «مَعَكَ سُورَةُ الْبَقَرَةِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «اذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ» ، فَقَالَ رَجُلٌ هُوَ أَشْرَفُهُمْ: وَالَّذِي كَذَا وَكَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ (1) ، مَا مَنَعَنِي أَنْ لَا أَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ إِلَّا خَشْيَةَ أَنْ لَا أَقُومَ بِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمِ الْقُرْآنَ وَاقْرَأْهُ وَارْقُدْ، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ، كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا تَفُوحُ رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ، وَمَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ وُكِئَ عَلَى مِسْكٍ» (2) . [3: 28]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک مہم روانہ کی وہ کچھ لوگ تھے نبی اکرمﷺ نے انہیں بلایا اور دریافت کیا: تمہیں کتنا قرآن آ تا ہے؟ نبی اکرمﷺ ان سے قرأت کے بارے میں دریافت کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کا گزر ان میں سے ایک ایسے شخص پر ہوا جو ان میں سب سے کم سن تھا نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اے فلاں تمہیں کتنا قرآن آتا ہے؟ اس نے عرض کی: مجھے فلاں فلاں سورتیں اور سورۃ بقرہ بھی آتی ہے آپ نے دریافت کیا: کیا تمہیں سورۃ بقرہ آتی ہے؟اس نے عرض کی : جی ہاں! نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم جاؤ تم ہی ان لوگوں کے امیر ہو تو ایک صاحب جو ان میں بڑے معزز تھے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! اس ذات کی قسم جس میں یہ یہ خوبیاں پائی جاتی ہیں میں نے قرآن کا علم صرف اس لئے حاصل نہیں کیا کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا میں نوافل میں اس کی تلاوت نہیں کرسکوں گا نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم قرآن کا علم حاصل کرو اور اس کی تلاوت بھی کرو اور سو بھی جایا کرو جو شخص قرآن کا علم حاصل کرتاہے اور پھر (نوافل میں ) ان کی تلاوت کرتاہے اس کی مثال ایک ایسے مشکیزے کی مانند ہے جس میں مشک موجود ہو اور اس کا منہ کھلا ہوا ہو اور اس کی خوشبو ہر طرف پھیل رہی ہو اور جو شخص قرآن کا علم حاصل کرلے اور سو جائے وہ قرآن اس کے ذہن میں ہو تو اس کی مثال ایسے مشکیزے کی طرح ہے جس میں مشک موجود ہو لیکن اس کا منہ بند کردیا گیاہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 2578

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2579

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «نَامَ (1) رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ، أَوْ قَبْلَهُ، أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا» (2) . [5: 1]

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ سوگئے یہاں تک کہ نصف رات ہوگئی۔ نصف رات سے کچھ پہلے یا بعد کا وقت تھا نبی اکرمﷺ بیدار ہوئے۔ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر کر نیندکے اثرات کو دور کیا، پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی اس کے بعد آپ لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف بڑھے اور آپ نے اس سے وضو کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 2579

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2580

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا (1) ، فَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا» (2) . [5: 1]

سیّدہ حفصہ ؓ بیان کرتی ہیں : (بعض اوقات) نبی اکرمﷺ بیٹھ کر نوافل ادا کرنا شروع کرتے تھے آپ جس سورت کی تلاوت کرتے تھے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے یہاں تک کہ وہ اپنی سے طویل سورۃ سے بھی زیادہ طویل محسوس ہوتی تھی۔

حَفْصَۃَ: أَنَّھَا ← الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 2580

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2581

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، أَنَّ كُرَيْبًا أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: مَا (3) صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ قَالَ: «كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ، فَيَسْمَعُ مَنْ كَانَ خَارِجًا» (1) . [5: 1]

۔کریب بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے سوال کیا میں نے کہا: نبی اکرمﷺ رات کے وقت کیسے نماز ادا کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا: نبی اکرمﷺ اپنے حجرے میں تلاوت کررہے ہوتے تھے اور حجرے کے باہر موجود شخص اسے سن سکتا تھا۔

«كَانَ يَقْرَأُ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ، فَيَسْمَعُ مَنْ كَانَ خَارِجًا» ← سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: مَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ بِاللَّيْلِ؟ ← مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، أَنَّ كُرَيْبًا ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبِي ← سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2581

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2582

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ بُرْدٍ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْهَرُ بِصَلَاتِهِ، أَوْ يُخَافِتُ بِهَا؟ قَالَتْ: «رُبَّمَا جَهَرَ بِصَلَاتِهِ، وَرُبَّمَا خَافَتَ بِهَا» ، قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً (2) . [5: 1]

غضیف بن حارث بیان کرتے ہیں : میں نے سیّدہ عائشہ ؓ کی خدمت میں عرض کی : نبی اکرمﷺ کے بارے میں آپ کیا کہتی ہیں؟ آپ نماز پڑھتے وقت بلند آواز میں قرأت کرتے تھے یا پست آواز میں کرتے تھے سیّدہ عائشہ ؓ نے فرمایا، بعض اوقات آپ بلند آواز میں قرأت کرتے تھے اور بعض پست آواز میں کرتے تھے تو میں نے کہا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے اس معاملہ میں گنجائش رکھی ہے۔

قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ النَّبِيَّ يَجْهَرُ بِصَلَاتِهِ، أَوْ يُخَافِتُ بِهَا؟ ← غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← بُرْدٍ أَبِي الْعَلاَءِ ← وُهَيْبٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2582

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2583

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ» (1) . [1: 95]

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جب کسی شخص کو نماز کے وقت نیند آجائے تو اسے سو جانا چاہیے یہاں تک کہ اس کی نیند ختم ہوجائے کیونکہ ایسا ہو سکتا ہے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہوگا اور وہ اونگھ رہا ہو اوراپنی طرف سے دعائے مغفرت کر رہا ہو لیکن در حقیقت خود کو برا بھلا کہہ رہا ہو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 2583

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2584

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا نَعَسَ الرَّجُلُ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَنْصَرِفْ، لَعَلَّهُ يَكُونُ يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ فَيَدْعُو عَلَى نَفْسِهِ وَهُوَ لَا يَدْرِي» (1) . [1: 95]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایاہے: جب کسی شخص کو نماز کے دوران اونگھ آنے لگے تو اسے نماز ختم کر دینی چاہئے کیونکہ ایسا ہو سکتا ہے وہ اپنی طرف سے نماز کے دوران دعامانگ رہا ہو حالانکہ درحقیقت اپنے لئے دعائے ضررکر رہا ہو اور اسے اس بات کا علم بھی نہ ہو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2584

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2585

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ، فَلْيَضْطَجِعْ» (2) . [1: 95]

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جب کوئی شخص رات کے وقت نوافل ادا کر رہا ہو اور قرآن کی تلاوت اس کی زبان پر دشوار ہوجائے اور اسے یہ اندازہ نہ ہو پائے وہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے سو جانا چاہئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2585

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ قِیَامِ اللَّیْلِ · حديث 2586

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ الْحَوْلَاءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ (1) حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى مَرَّتْ بِهَا، وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: هَذِهِ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ، زَعَمُوا أَنَّهَا لَا تَنَامُ بِاللَّيْلِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَنَامُ اللَّيْلَ خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّى تَسْأَمُوا» (2) . [1: 95]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ حولاء بنت تویت ان کے پاس سے گزری۔ نبی اکرمﷺ بھی ان کے پاس موجود تھے سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے کہا: یہ حولاء بنت تو یت ہے۔ لوگ یہ کہتے ہیںیہ رات کے وقت سوتی نہیں ہے سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ رات کے وقت سوتی نہیں ہے تم لوگ اتنا عمل کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ کا فضل اس وقت تک منقطع نہیں ہوتا جب تک تم اکتا ہٹ کا شکار نہیں ہوجاتے۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 2586

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr