صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 847
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَّالُ (1) ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا مَرَرْتُمْ بِقُبُورِنَا وَقُبُورِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَخْبِرُوهُمْ أَنَّهُمْ فِي النَّارِ» (2) . [1: 83] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمُسْلِمَ إِذَا مَرَّ بِقَبْرِ غَيْرِ الْمُسْلِمِ، أَنْ يَحْمَدَ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا عَلَى هِدَايَتِهِ إِيَّاهُ الْإِسْلَامَ، بِلَفْظِ الْأَمْرِ بِالْإِخْبَارِ إِيَّاهُ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يُخَاطَبَ مَنْ قَدْ بَلِيَ بِمَا لَا يَقْبَلُ عَنِ الْمُخَاطِبِ بِمَا يُخَاطِبُهُ بِهِ
’’ جب تم زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی ہماری اور اپنی یعنی ( ہماری اور اپنے رشتے داروں ) کی قبروں سے گزرو ‘ تو انہیں بتا دو وہ لوگ جہنم میں ہیں ‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) اس حدیث میں نبی اکرمﷺ نے مسلمان کو یہ حکم دیا ہے ‘ جب وہ کسی غیر مسلم کی قبر کے پاس سے گزرے تو اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اسلام کی ہدایت نصیب کی ہے۔ یہاں ’’ امر ‘‘ کے لفظ کے ذریعے اس بات کی اطلاع دی گئی ہے ‘ وہ اہل جہنم ( مٰیں سے ) ہے کیونکہ یہ بات نا ممکن ہے ‘ ا ن کو مخاطب کیا جائے جو بوسیدہ ہو چکے ہیں اور مخاطب کی طرف سے خطاب کو قبول نہیں کر سکتے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يحيى بن اليمان ← الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،
Hadith 847
