Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 835

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَبَّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» (1) . [1: 104]

حضرت سمرہ بن جندبؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلام چار کلمات ہیں : سبحان اللہ والحمد اللہ، ولا اللہ الہ اللہ واللہ اکبر ‘‘

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 835

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 836

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (2) ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ الْكَلَامِ أَرْبَعٌ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» (3) . [1: 104]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے: ’’ سب سے بہترین کلام چار کلمات ہیں تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ ان میں سے کسی کے ذریعے بھی آغاز کر لو‘‘۔ سبحان اللہ والحمد اللہ ولا اللہ الہ اللہ و اللہ اکبر

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو حَمْزَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ

Hadith 836

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 837

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ فِي يَدِهَا نَوًى أَوْ حَصًى تُسَبِّحُ، فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هَذَا وَأَفْضَلُ؟ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ» (1) . [1: 104]

عائشہ بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص ) بیان نقل کرتی ہیں۔ وہ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ ایک خاتون کے پاس تشریف لے گئے جن کے ہاتھ میں گٹھلیاں تھیں۔ جن پر وہ گن کر تسبیحات پڑھ رہی تھیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں بتاؤں جو تمہارے لئے زیادہ آسان اور زیادہ فضیلت والی ہو ( وہ یہ کلمات ہے ) ’’ میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو ان چیزوں کی تعداد کے مطابق ہو جنہیں آسمان میں پیدا کیا میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو ان چیزوں کی تعداد کے مطابق ہو جنہیں زمین میں پیدا کیا پاکی بیان کرتا ہوں ان چیزوں کی تعداد کے برابر جنہیں پیدا کرنا ہے۔ ’’ پھر تم اللہ اکبر بھی اسی کی مانند کہو الحمد للہ بھی اسی کی مانند کہو لا الٰہ الا اللہ الا اللہ بھی اسی کی مانند کہو اور ولا حول ولا قوۃ بھی اسی کی مانند پڑھو ‘‘۔

عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 837

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 838

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأَجْرِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَولَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَتَصَدَّقُونَ بِهِ، كُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ذر غفاریؓ ‘ بیان کرتے ہیں :کچھ صحابہ کرام ؓ نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! صاحب حیثیت لوگ اجر لے گئے ہیں۔ وہ نماز ادا کرتے ہیں جس طرح ہم نماز ادا کرتے ہیں وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں ‘ لیکن وہ اپنے اضافی مال کو صدقہ کر دیتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جسے تم صدقہ کیا کرو۔ سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے۔ اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے ۔ الحمد اللہ کہنا صدقہ ہے لا اللہ الا اللہ پڑھنا صدقہ ہے نیکی کا حکم دیناصدقہ ہے ۔ برائی سے منع کرنا صدقہ ہے۔

لِلنَّبِيِّ ← أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← یَّحْیَی بْنِ عَقِیلٍ ← وَاصِلٌ مَوْلٰی اَبِیْ عُیَیْنَۃَ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 838

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 839

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الْكَلَامِ أَرْبَعٌ، لَا تُبَالِي بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» (2) . [1: 2]

حضرت سمرو بن جندب ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ سب سے زیادہ فضیلت والا کلام چار کلمات ہیں تم اس بات کی پرواہ نہ کرو کہ کس کے ذریعے آغاز کرتے ہو۔ سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر ‘‘

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 839

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 840

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اسْتَكْثِرُوا مِنَ الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ» ، قِيلَ: وَمَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: «التَّكْبِيرُ، وَالتَّهْلِيلُ، وَالتَّسْبِيحُ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو سعید خدریؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ باقی رہنے والی نیکیوں کی کثرت کرو ‘ عرض کی گئی : یا رسول اللہ! اس سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس سے مراد سبحان اللہ ، الحمد اللہ ، اللہ اکبر اور ولا حول ولا قوۃ پڑھنا ہے ‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Hadith 840

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 841

أَخْبَرَنَا عَزُّوزُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَابِدُ بِطَرَسُوسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» (1) . [1: 104]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ دو کلمات ایسے ہیں جو زبان پر آسمان ہیں اور میزان میں وزنی ہو ں گے۔ ( وہ یہ ہیں : ) سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ، ← عَزُّوزُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَابِدُ بِطَرَسُوسَ،

Hadith 841

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 842

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ هَانِئَ بْنَ عُثْمَانَ، عَنْ أُمِّهِ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، عَنْ جَدَّتِهَا يَسِيرَةَ، وَكَانَتْ إِحْدَى الْمُهَاجِرَاتِ، قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُنَّ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّقْدِيسِ، وَاعْقِدْنَ (2) بِالْأَنَامِلِ، فَإِنَّهُنَّ مَسْؤُولَاتٌ وَمُسْتَنْطَقَاتٌ» (3) . [1: 2]

حجیضہ بنت یاسر اپنی دادی سیدہ یسیرہ کا بیان نقل کرتی ہیں : یہ ہجرت کرنے والی خواتین میں سے ایک ہے وہ بیان کرتی ہے نبی اکرمﷺ نے ہم سے فرمایا : خواتین تسبح تہلیل اور تقدیس پڑھا کرو اور اپنی انگلیوں کے پوروں پر انہیں شمار کیاکرو کہ ان سے سوال کیا جائے گا اور انہیں گویائی عطا کی جائے گی۔

لَنَا رَسُولُ اللَّهِ «عَلَيْكُنَّ بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ وَالتَّقْدِيسِ، وَاعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ، فَإِنَّهُنَّ مَسْؤُولَاتٌ وَمُسْتَنْطَقَاتٌ» ← جَدَّتِهَا يَسِيرَةَ، وَكَانَتْ إِحْدَى الْمُهَاجِرَاتِ، ← أُمِّهِ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، ← هَانِئَ بْنَ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 842

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 843

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ (2) بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ بِيَدِهِ» (3) . [1: 2]

’’ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو اپنے دست مبارک پر تسبیح شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے‘‘۔ ذِکْرُ تَفَضُّلِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا عَلٰی حَامِدِہٖ بِاِعْطَائہٖ مِلْءَ الْمِیْزَانِ ثَوَابًا فِی الْقِیَامَۃِ اللہ تعالیٰ کا اپنی حمد بیان کرنے والے شخص کو یہ فضیلت عطا کرنا کہ قیامت کے دن اسے میزان بھر کر اجر وثواب عطا کرے گا

«رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ بِيَدِهِ» ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← الْاَعْمَشِ ← عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Hadith 843

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 844

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ اَخِیْہِ زَیْدِ بْنِ سَلَّامِ اَنَّہٗ اَخْبَرَہٗ ، عَنْ جَدِّہِ اَبِیْ سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمٍ ، اَنَّ اَبَا مَالِکٍ الْاَشْعَرِیَّ حَدَّثَہٗ ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اِسْبَاغُ الْوُضُوْءِ شَطْرُ الْاِیْمَانِ ، وَالْحَمْدُ لِلہِ تَمْلَاُ الْمِیْزَقنَ ، وَالتَّسْبِیْحُ وَالتَّکْبِیرُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ، وَالصَّلَاۃُ نُورٌ ، وَالزَّکَاۃُ بُرْھَانٌ ، وَالصَّدَقَۃُ ضِیَاءٌ ، وَالْقُرّْنُ حُجَّۃٌ لَکَ اَوْ عَلَیْکَ ، کُلُّ النَّاسِ یَغْدُوْ ، فَبَائِعٌ نَفْسَہٗ فَمُعْتِقُھَا ، اَوْ مُوبِقُھَا ۔(2:1)

حضرت ابو مالک اشعریؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : اچھی طرح وضو کرنا نصف ایمان ہے۔ الحمد اللہ پڑھنا میزان کو بھر دیتا ہے سبحان اللہ ، الحمد ، اللہ اکبر پڑھانا آسمانوں اور زمین کے ( درمیان کی جگہ کو ) بھر دیتا ہے نماز نور ہے زکوٰۃ برہان ہے صدقہ روشنی ہے قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے ہر شخص نکلتا ہے اور وہ اپنے آپ کا سودا کرتا ہے ‘ تو یا ‘ تو خود کو آزاد کروا لیتا ہے یا خود کو غلام بنا لیتا ہے‘‘۔

عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمٍ اَنَّ اَبَا مَالِکٍ الْاَشْعَرِیَّ ← جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ، ← اَخِیْہِ زَیْدِ بْنِ سَلَّامِ اَنَّہٗ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 844

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 845

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَفْصٍ ابْنِ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَلْقَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ» ، فَلَمَّا جَلَسَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ قُلْتَ؟» فَرَدَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا، قَالَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدِ ابْتَدَرَهَا عَشَرَةُ أَمْلَاكٍ كُلُّهُمْ حَرِيصٌ عَلَى أَنْ يَكْتُبُوهَا، فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُونَهَا، فَرَجَعُوهُ إِلَى ذِي الْعِزَّةِ جَلَّ ذِكْرُهُ، فَقَالَ: اكْتُبُوهَا كَمَا، قَالَ عَبْدِي» (1) . [1: 2] قَالَ الشَّيْخُ: مَعْنَى «قَالَ عَبْدِي» فِي الْحَقِيقَةِ: أَنِّي قَبِلْتُهُ.

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ ایک حلقے میں بیٹھاہوا تھا۔ اسی دوران ایک شخص آیا۔ اس نےنبی اکرمﷺ کو سلام کیا اور حاضرین کو بھی سلام کیا۔ اس نے کہا: السلام علیکم نبی اکرمﷺ نے فرمایا : وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ برکاتہ ‘ یا‘ وہ شخص بیٹھ گیا تو اس نے کہا: ’’ اللہ تعالیٰ کے لئے ہر طرح کی حمد مخصوص ہے۔ ایسی حمد جو زیادہ ہو پاک ہو اس میں برکت موجود ہے ‘ جسےہمارا پروردگار پسند کرے‘‘۔ تونبی اکرمﷺ نے اس شخص سے دریافت کیا : تم نے کیا کلمات کہے ہیں۔ نبی اکرمﷺ کے سامنے یہ کلمات اس نے دوبارہ دوہرایئے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بارہ فرشتے تیزی سے اس کی طرف لپکے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کی یہ خواہش تھی وہ اسے نوٹ کر لے پھر انہیں یہ سمجھ نہیں آئی وہ اسے کیسے نوٹ کریں۔ وہ واپس اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گئے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم اسے ایسے نوٹ کر لو جس طرح میرے بندے نے کہے ہیں‘‘۔ شیخ کہتے ہیں : ’’ میرے بندے نے کہا : ‘‘ کا مطلب درحقیقت یہ ہے ‘ میں نے اس کو قبول کر لیا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حفص ابْنِ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 845

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 846

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ، مِنْ وَلَدِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَفْضَلُ الذِّكْرِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ» (1) . [1: 2]

حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ سب سے افضل ذکر لا الہ الا اللہ اور سب سے افضل دعا الحمد اللہ ‘‘ ہے۔

«أَفْضَلُ الذِّكْرِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ» ← النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، ← مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ، مِنْ وَلَدِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 846

chevron_left Previous
1…19202122
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr