Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 619

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ "يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَّالَمُوا يَا عِبَادِي إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَنَا الَّذِي أَغْفِرُ الذُّنُوبَ وَلَا أُبَالِي" فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ وَقَالَ فِي آخِرِهِ وَكَانَ أَبُو إِدْرِيسَ إِذَا حَدَّثَ بهذا الحديث جثا على ركبتيه1. [3: 68]

حضرت ابوذر غفاریؓ ‘ نبی اکرمﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اے میرے بندو! میں نےاپنی ذات کے لئے ظلم کو حرام قرار دیا ہے اور میں نے اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے ‘ تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو‘ اے میرے بندو! بیشک تم رات دن خطائیں کرتے ہو اور میں وہ ہوں جو گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہوں اور میں اس کی پرواہ نہیں کرتا ‘‘۔ اس کے بعد راوی نے طویل حدیث ذکر کی ہے ‘ جس کے آخر میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ۔ ابو ادریس مانی راوی جب اس حدیث کو بیان کرتے تھے ‘ تو وہ گھٹنوں کے بل جھک جایا کرتے تھے۔

الله تَبَارَكَ وَتَعَالَى ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا

Hadith 619

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 620

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ النَّخَعِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ لِعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَدْ آنَ لَكَ أَنْ تَزُورَنَا فقَالَ أَقُولُ يَا أُمَّهْ كَمَا قَالَ الْأَوَّلُ زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا قَالَ فَقَالَتْ دَعُونَا مِنْ رَطَانَتِكُمْ هَذِهِ قال بن عمير أخبرينا بأعجب شيء رأيته منذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ الْمَرْءَ عَلَيْهِ إِذَا تَخَلَّى لُزُومُ الْبُكَاءِ عَلَى مَا ارْتَكَبَ مِنَ الْحَوْبَاتِ وَإِنْ كَانَ بَائِنًا عَنْهَا مُجِدًّا فِي إِتْيَانِ ضِدِّهَا [620] أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ النَّخَعِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ لِعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَدْ آنَ لَكَ أَنْ تَزُورَنَا فقَالَ أَقُولُ يَا أُمَّهْ كَمَا قَالَ الْأَوَّلُ زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا قَالَ فَقَالَتْ دَعُونَا مِنْ رَطَانَتِكُمْ هَذِهِ قَالَ بن عُمَيْرٍ أَخْبِرِينَا بِأَعْجَبِ شَيْءٍ رَأَيْتِهِ مِنْ مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قال فَسَکَتَتْ ثُمَّ قَالَتْ لَمَّا کَانَ لَیْلَۃٌ مِنَ اللَّیَالِیْ قَالَ یَا عَائِشَۃُ ذَرِیْنِیْ اَتَعَبَّدُ اللَّیْلَۃَ لِرَبِّی قُلْتُ وَاللہِ اِنِّیْ لَاُحِبُّ قُرْبَکَ وَاُحِبُّ مَا سَرَّکَ قَالَتْ فَقَامَ فَتَطَھَّرَ ثُمَّ قَامَ یُصَلِّیْ قَالَتْ فَلَمْ یَزَلْ یَبْکِی حَتّٰی حِجْرَہٗ قَالَتْ ثُمَّ بَکَی فَلَمْ یَزَلْ یَبْکِی حَتّٰی بَلَّ لِحْیَتَہٗ قَالَتْ ثُمَّ بَکَی فَلَمْ یَزَلْ یَبْکِی حَتّٰی بَلَّ الْاَرْضَ فَجَاءَ بِلَالٌ یُؤْذِنُہُ بِالصَّلَاۃِ فَلَمَّا رَآہُ یَبْکِی قَالَ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمِ لِمَ تَبْکِ وَقَدْ غَفَرَ اللہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَاَخَّرَ قَالَ اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُورًا لَقَدْ نَزَلَتْ عَلَیَّ اللَّیْلَۃَ اٰیَۃٌ وَیْکٌ لِمَنْ قَرَاَھَا وَلَمْ یَتَفَکَّرْ فِیْھَا: (اِنَ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ) الآیۃ کلھا( آل عمران:190)

عطا بیان کرتے ہیں: میں اور عبید بن عمیر سیّدہ عائشہ ؓ کی خدمت میں داخل ہوئے ‘ تو سیّدہ عائشہ ؓ نے عبید بن عمیر سے فرمایا : تمہیں ہمارےہاں آنے کا موقع ملا ہے‘ تو انہوں نے عرض کی : امی جان میں یہ کہوں گا ‘ جیسے پہلے لوگوں میں سےکسی نے کہا ہے : وقفے کے ساتھ ملا کرو محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ سیّدہ عائشہ ؓ نے فرمایا اس طرح کی چکنی چپڑی باتیں ہمارے ساتھ نہ کرو۔ ابن عمیر نے عرض کی: آپ ہمیں ا س چیز کے بارے میں بتائیے جو آپ نے نبی اکرمﷺ کے بارے میں سب سے حیرت انگیز چیز دیکھی ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ ؓ خاموش ہو گئیں پھر انہوں نےبتایا : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے رات کے وقت ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! تم مجھے موقع دو تاکہ میں آج رات اپنے پروردگار کی عبادت کر وں میں نے عرض کی : اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ کو پسند کرتی ہوں اور میں اس چیز کو بھی پسند کرتی ہوں جو آپ کو اچھی لگے۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے آپ نے اچھی طرح وضو کیا پھر آپ کھڑے ہو کر نوافل ادا کرنے لگے ۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ رونےلگے‘ یہاں تک کہ آپ کی آنکھ کا سوراخ گیلا ہو گیا۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : پھر آ ّپ رونے لگے اور مسلسل روتے رہے ‘ یہاں تک کہ آپ کی داڑھی بھیگ گئی۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: پھر آپ روتے رہے ‘ پھر اتنی دیر تک روتے رہے کہ زمین بھیگ گئی۔ پھر بلا ل آئے اور آپ کو ( فجر کی ) نماز کے لئے بلایا جب انہوں نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا ‘ تو عرض کی : یا رسول اللہ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ( ذنب) کی مغفرت کر دی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ آج رات مجھ پر ایک آیت نازل ہوئی ہے۔اس شخص کے لے بربادی ہے ‘ جو اس کی تلاوت کرے اور اس میں غورو فکر نہ کرے۔ ( و ہ آیت یہ ہے ) ’’ آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ‘‘ یہ مکمل آیت ہے۔

لِعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَدْ ← وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ عَلَى عَائِشَةَ ← دَخَلْتُ ← عَطَاءٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← إبراهيم بن سويد النخعي ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 620

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 621

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حدثنا بن أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَجْلَانَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ذَكَرُوا الْفَرَحَ عِنْدَ رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلمذكر الْإِخْبَارِ عَمَّا يَقَعُ بِمَرْضَاةِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا مِنْ تَوْبَةِ عَبْدِهِ عَمَّا قَارَفَ مِنَ الْمَأْثَمِ [621] أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حدثنا بن أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَجْلَانَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ذَكَرُوا الْفَرَحَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرُوا الضَّالَّۃَ یَجِدُھَا الرَّجُلُ فقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَللہُ اَشَدُّ فَرَحًا بَتَوْبَۃِ اَحَدِکُمْ مِنْ الضَّالَّۃِ یَجِدُھا الرَّجُلُ بِاَرْضِ الْفَلَاۃِ ۔(28:3)

۔ حضرت ابو رہریرہؓ ‘ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے نبی اکرمﷺ کے سامنے خوشی کا ذکر کر کیا پھر انہوں نے ایسی گمشدہ چیز کا ذکر کیا جسےکوئی شخص پا لیتا ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک کی توبہ اسے اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے کہ جتنا کوئی شخص بے آپ و گیاہ جگہ پر اپنی گمشدہ چیز کو پا کر ہوتا ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَجْلاَنَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلَ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 621

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 622

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فقَالَ أَيْ رَبِّ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا أَوْ قَالَ عَمِلْتُ عَمَلًا فَاغْفِرْ لِي فقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدِي عَمِلَ ذَنْبًا فعلم أن له ربا يغفرذكر الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى أَنَّ تَوْبَةَ الْمَرْءِ بَعْدَ مُوَاقَعَتِهِ الذَّنْبَ فِي كُلِّ وَقْتٍ تُخْرِجُهُ عَنْ حَدِّ الْإِصْرَارِ عَلَى الذَّنْبِ [622] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَنَّ رَجُلًا أَذْنَبَ ذَنْبًا فقَالَ أَيْ رَبِّ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا أَوْ قَالَ عَمِلْتُ عَمَلًا فَاغْفِرْ لِي فقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدِي عَمِلَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَیَاْخُذُبِہٖ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ ثُمَّ اَذْنَبَ ذَنْبًا اٰخَرَ اَوْ قَالَ عَمِلَ ذَنْبًا اٰخَرَ قَالَ رَبِّ اِنِّیْ عَمِلْتُ ذُنْبًا فَاغْفِرْلِیْ فقَالَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلِمَ عَبْدِیْ اَنَّ لَہٗ رَبًّا یَغْفِرُ الذَّنْبَ وَیَاْخُذْ بِہٖ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ اَنَّ لَہٗ رَبًّا یغْفِرُ الذَّنْبَ وَیَاْخُذۃ بِہٖ اُشْھِدُ کُمْ اَنِّیْ قَدْ غَفَرْتُ لَعَبْدِیْ فَلْیَعْمَلُ مَاشَآء

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک شخص نے گناہ کا ارتکاب کیاپھر وہ بولا : اے میرے پروردگار ! میں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں :) میں نے ایک عمل کیا ہے ‘ تو میری مغفرت کر دے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے نے گناہ کا ارتکاب کیا وہ یہ بات جانتا ہے کہ اس کا ایک پروردگار ہے ‘ جو گناہوں کی مغفرت کر سکتا ہے ۔ اور اس پر گرفت بھی کر سکتا ہے ‘ تو میں نے اپنے بندے کی مغفرت کی دی پھر اس شخص نے دوسرے گناہ کا ارتکاب کیا۔ ( راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں: ) اس نے دوسرا گنا ہ گیا‘ تو اس نے عرض کہ : اے میرےپروردگار! میں نے گناہ کاارتکاب کیا ہے‘تو میری مغفرت کر دے‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ میرا بندہ یہ بات جانتا ہے کہ اس کا ایک پروردگار ہے‘ تو گناہوں کی مغفرت کر سکتا ہے اور اس پر گرفت بھی کر سکتا ہے ‘ تو میں نے اپنے بندے کی مغرت کر دی پھر اس شخص نے دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب کیا۔ ( راوی کہتے ہیں کہ شاید یہ الفاظ ہیں: ) کسی اور گناہ کا ارتکاب کیا پھر اس نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے ‘ تو میری مغفرت کر دے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک پروردگار ہے ‘جو گناہوں کی مغفرت بھی کر سکتا ہے اور اس پر گرفت بھی کر سکتا ہے ۔ اے فرشتو! میں تمہیں گواہ بنا رہا ہوں کہ میں نے اپنے بندے کی مغفرت کر دی ہے اب وہ جو چاہے عمل کرے‘‘۔

عَمِلْتُ عَمَلًا فَاغْفِرْ لِي ← أَيْ رَبِّ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا أَوْ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← هَمَّامٌ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← عمر بن مُحَمَّد بن يُوسُف

Hadith 622

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 623

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بن الحكم الفزاريذكر مَغْفِرَةِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا لِلْتَائِبِ الْمُسْتَغْفِرِ لِذَنْبِهِ إِذَا عَقِبَ اسْتِغْفَارَهُ صَلَاةٌ [623] أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الحكم الفزاري کُنْتُ اِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَدِیْثًا یَنْفَعْنِی اللہُ بِمَاشَاءَ اَنْ یَّنْفَعَنِیْ حَتّٰی اَبُوْ بَکْرٍ وَکَانَ اِذَا حَدَّثَنِیْ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْضُ اَضْحَابِہٖ اسْتَحْلَفْتُہٗ فَاِنْ حَلَفَ صَدَّقْتُہٗ وَاِنَّہٗ حَدَّثَنِیْ اَبُوْ بَکْرِ وَصَدَّقَ اَبُوْ بَکْرٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ قَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ یُذْنِبُ ذُنْبَا ثُمَّ یَتَوَضَّاُ ثُمَّ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ یَسْتَغْفِرُ اللہَ لِذٰلِکَ الذَّنْبِ اِلَّا غَفَرَ اللہُ لَہٗ ۔(00:00)

حضرت علیؓ بیان کرتےہیں : جب میں نبی اکرمﷺ کی زبانی کوئی بات سنتا تھا‘ تو اللہ تعالیٰ کو جو منظور ہوتا تھا وہ اس کے ذریعے مجھے نفع عطا کر دیتا تھا‘ یہاں تک کہ حضرت ابو بکرؓ نے مجھے حدیث بیان کی ۔ نبی اکرمﷺ کےاصحاب میں سے کوئی شخص جب بھی نبی اکرمﷺکے حوالے سے کوئی حدیث میرے سامنے بیان کرتا تھا ‘ تو میں اس سے حلف لیا کرتا تھا اگر وہ حلف اٹھا لیتا ‘ تو میں اس کی بات کی تصدیق کرتا تھا۔ حضرت ابو بکرؓ نے مجھے حدیث بیان کی اور حضرت ابو بکرؓ نے سچ بیان کیا۔ انہوں نے بتایا : نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے :

أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 623

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 624

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ فِي آخَرِينَ قَالَا حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ عَنِ ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ أَوْ سَعِيدٍ أَوْ كِلَاهُمَا شَكَّ حَامِدٌ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: "يَا عَائِشَةُ إِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَذْنَبَ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ" 1. مَا رَوَى وَائِلٌ عَنِ ابْنِهِ إِلَّا ثلاثة أحاديث قاله الشيخ. [00: 00]

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا :ُ اے عائشہ! اگر تم نے گناہ کا رادہ کیا تھا ‘ تو تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کر و اور توبہ کرو ‘ کیونکہ بندہ جب گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے وائل نے اپنے صاحبزادے کے حوالے سے صرف تین روایات ذکر کی ہیں ۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ أَوْ سَعِيدٍ أَوْ كِلَاهُمَا شَكَّ حَامِدٌ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، ← وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ فِي آخَرِينَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 624

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 625

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأعلى بن حماد عَنْ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ جَلَّ وَعَلَا قَالَ: "أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا فقَالَ أَيْ رَبِّ أَذْنَبْتُ فقَالَ أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ وَيَأْخُذُ بِالذُّنُوبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فقَالَ أَيْ رَبِّ أَذْنَبْتُ فقَالَ أَذْنَبَ عَبْدِي وَعَلِمَ أَنَّ رَبَّهُ يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ" 1. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ قَوْلُهُ "اعْمَلْ مَا شِئْتَ" لَفْظَةُ تَهْدِيدٍ أُعْقِبَتْ بِوَعْدٍ يُرِيدُ بِقَوْلِهِ "اعْمَلْ مَا شِئْتَ" أَيْ لَا تَعْصِ وَقَوْلُهُ قَدْ غَفَرْتُ لَكَ۔

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کےحوالے سےان کے پروردگار کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ میرا بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے‘ پھر وہ یہ کہتا ہے : اے میرے پروردگار ! میں نے گناہ کا ارتکاب کر لیا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے گناہ کا ارتکاب کیا اور وہ دوبارہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور کہتا ہے : اے میرے پروردگار! میں نے گناہ کا ارتکاب کر لیا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نےگناہ کا ارتکاب کر لیا ہے اور وہ یہ بات جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں کی مغفرت بھی کر سکتا ہے اور گناہوں پہ گرفت بھی کر سکتا ہے۔ ( اےمیرے بندے ! ) تم جو چاہو عمل کرو‘ میں نے تمہاری مغفرت کر د ی ہے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کے یہ الفاظ : ’’ تم جو چاہو عمل کرو‘‘۔ یہ تہدید کے الفاظ ہیں جس کے عقب میں وعدہ ہے۔ اور نبی اکرمﷺ کےاس قول سے مراد: ’’ تم جو چاہو عمل کرو ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے : تم نافرمانی نہ کرو اور نبی اکرمﷺ کے الفاظ ’’ میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے‘‘ اس سے مراد یہ ہے ‘ جب تم توبہ کر لو۔

أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا فَعَلِمَ ← أَيْ رَبِّ أَذْنَبْتُ ← "أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا ← رَبِّهِ جَلَّ وَعَلَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 625

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 626

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا بن ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ أُسَامَةَ بن سلمان قا حَدَّثَنَا أَبُو ذَرٍّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا لَمْ يَقَعِ الْحِجَابُ" قِيلَ وَمَا يَقَعُ الْحِجَابُ قَالَ "أَنْ تَمُوتَ النَّفْسُ وَهِيَ مشركة" 1. [1: 2]

حضرت ابو ذر غفاریؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مغفرت کرتا رہتا ہے ‘جب تک حجاب واقع نہیں ہوتا دریافت کیا گیا: حجاب واقع ہونے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ کہ آدی ایسی حالت میں میرے کہ وہ مشرک ہو‘‘۔

"أَنْ تَمُوتَ النَّفْسُ وَهِيَ مشركة" ← "إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا لَمْ يَقَعِ الْحِجَابُ" قِيلَ وَمَا يَقَعُ الْحِجَابُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو ذَرٍّ ← أُسَامَةَ بن سلمان قا ← مَكْحُولٌ ← أَبِيهِ ← بن ثَوْبَانَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 626

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 627

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ محمد حدثنا عمرو بن عثمان حدثناذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ مَكْحُولًا سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ عُمَرَ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ أُسَامَةَ كَمَا سَمِعَهُ مِنْ أُسَامَةَ سَوَاءً [627] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبِیْ حَدَّثَنَا بْنُ ثَوْبَانَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ مَّکْحُولٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ نُعَیْمٍ حَدَّثَھُمْ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ سَلْمَانَ اَنَّ اَبَا ذَرٍّ حَدَّثَھُمْ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَنَّ اللہَ یَغْفِرُ لِعَبْدِہٖ مَالَمْ یَقَعِ الْحِجَابُ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللہِ وَمَا وُقُوْعُ الْحِجَابِ قَالَ أَنْ تَمُوْتَ النَّفْصُ وَھِیَ مُشْرِکَۃٌ ۔(2:1)

حضرت ابو ذر غفاریؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مغفرت اس وقت تک کرتا رہتا ہے ‘ جب تک حجاب واقع نہیں ہوتا ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسو ل اللہ! حجاب کے واقع ہونے سےکیا مرا د ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : کوئی شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ مشرک ہو‘‘۔

اُسَامَۃَ بْنِ سَلْمَانَ اَنَّ اَبَا ذَرٍّ ← عُمَرَ بْنِ نُعَیْمٍ ← مَكْحُولٌ ← أَبِيهِ ← بن ثَوْبَانَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أُسَامَةَ كَمَا سَمِعَهُ مِنْ أُسَامَةَ سَوَاءً ← هَذَا الْخَبَرَ مِنْ عُمَرَ بْنِ نُعَيْمٍ ← عمرو بن عثمان حدثناذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ مَكْحُولًا ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Hadith 627

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 628

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قال حدثنا بن ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ جُبَيْرِ بن نفيرذكر تَفَضُّلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا عَلَى التَّائِبِ بِقَبُولِ تَوْبَتِهِ كُلَّمَا أَنَابَ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ حَالَةَ الْمَنِيَّةِ بِهِ [628] أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ حدثنا بن ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ جُبَيْرِ بن نفير عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ اللہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یقبل توبۃ لعبد مالم یغرغر ۔(00:00)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے‘جب تک اس پر نزع کا عالم طاری نہیں ہوتا‘‘۔

جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← مَكْحُولٌ ← أَبِيهِ ← بن ثَوْبَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 628

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 629

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ عَنْ هِشَامٍ عَنِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ الله عليه" 1. [00: 00]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص مغرب کی طرف سے سورج نکلنے سے پہلے توبہ کر لے‘ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن سِيرِينَ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← هَارُونُ بن معروف ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 629

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 630

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَنَّ عَوْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَمُوتُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ النَّارَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا" قَالَ فَاسْتَحْلَفَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَفَ فَلَمْ يُحَدِّثْنِي سَعِيدٌ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ وَلَمْ يُنْكِرْ على عون قوله"1. [1: 2]

عون بن عبد اللہ اور سعید بن ابو بردہ بیان کرتے ہیں : ان دونوں حضرات نے ابو بردہ کو عمر بن عبد العزیز کو اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جو بھی مسلمان فوت ہوتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی یہودی یا عیسائی کو جہنم میں داخل کر دیتا ہے‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : عمر بن عبد العزیز نے ان سے اس اللہ کے نام کی قوم لی جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ انہوں نے تین مرتبہ ان سے یہ قسم لی کہ ان کے والد نے نبی اکرمﷺ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی تھی‘ تو انہوں نے یہ قسم اٹھا لی۔ سعید نامی راوی نے مجھے یہ حدیث بیان نہیں کی ہے کہ انہوں نے ان سے قسم لی تھی ‘ تاہم انہوں نے عون ک بیان کا انکار بھی نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← سَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا بُرْدَةَ ← قَتَادَةُ أَنَّ عَوْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 630

chevron_left Previous
1234…22
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr