صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 823
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْبُخَارِيِّ بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الصُّوَرِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ أَنْ يَنْفُخَ؟» ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا نَقُولُ يَوْمَئِذٍ؟، قَالَ: «قُولُوا: حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» (1) .
حضرت ابو سعید خدریؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’میں کیسے نعمت میں رہ سکتا ہوں جبکہ ( صور میں ) پھونک مارنے والےنے اپنا منہ صور کے ساتھ لگایا ہوا ہے اور اس نے اپنی پیشانی کو اس بات کے انتظار میں تیا ر رکھا ہوا ہے کب اسے پھونک مانے کا حکم ہوتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں پھر اس دن کیا کہنا چاہئے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم یہ کہون : حَسْبُنَا اللہُ وَنِعمَ الْوَکِیْلُ ( ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے وہ بہترین کار ساز ہے ) ‘‘ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابو یعلیٰ نے انی سند کے ساتھ اسی کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نےیہ الفاظ نقل کئے ہیں ۔ حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ، عَلَی اللہِ تَوَکَّلْنَا ’’ تم لوگ یہ کہو ہمارے لئے اللہ تعالیٰٰ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے اور ہم اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کرتے ہیں‘‘۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْبُخَارِيِّ بِبَغْدَادَ،
Hadith 823
