صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 811
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي (1) ، وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً» (2) . [1: 2]
حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ وہ جب جہاں مجھے یاد کرتا ہے میں وہاں ہوتا ہوں اگر وہ مجھے دل میں یاد کرتا ہے ‘ تو میں اسے دل میں ‘ یاد کرتا ہوں اور اگر وہ لوگوں میں مجھے یاد کرتا ہے ‘ تو میں اس سے بھی بہترین گروہ میں اسے یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت مجھے یاد کرتا ہے ‘ تو میں ایک بالشت اس کے قریب ہوتا ہوں وہ چل کر میری طرف آتا ہے ‘ تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات سے بلند و برتر ہے ‘ مخلوق کی صفات میں سے کوئی چیز اس کی طرف منسوب کی جائے کیونکہ کوئی بھی چیز اس کی مثل نہیں ہے ۔یہ الفاظ ( جو اس روایت میں استعمال ہوئے ہیں ) یہ اس عام محاورے کے مطابق ہیں جو لوگوں کے درمیان رائج ہے ۔ جو شخص تنہائی میں زبان کے ذریعے یا عمل کے ذریعے اپنے پروردگار کا ذکر کرتا ہے ‘ جس کے ذریعے وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں قرب حاصل کرے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے تحت ‘ اپنی ملکوت میں مغفرت کے ہمراہ اس کا ذکر کرتا ہے اور جو شخص اپنے پروردگار کا ذکر اس کے بندوں کی موجودگی میں کرتاہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے اس شخص کا ذکر مغفرت کے ہمراہ کرتا ہے۔ اس نے اپنے بندے کے ذکر کو قبول کر لیا ہے ( اس کے ہمراہ بندے کا ذکر کرتا ہے ) اور جو شخص ایک بالشت جتنی فرمانبرداری کے ہمراہ پروردگار کے قریب ہے ‘ تو پروردگار کی طرف سے مہربانی اور رحمت ایک ذراع ( درمیانی بڑی انگلی کےک کناے سے لے کر کہنی تک ) جتنا اس کے قریب ہوتی ہیں ۔ جو شخص ایک ذراع جتنی فرمانبرداری کے ہمراہ ( اپنے ) خالق کے قریب ہوتا ہے ‘ تو اس ( پروردگا ) کی طرف سے مغفرت ایک باع ( دونوں بازوؤں کےپھیلاؤ ) سے زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے ‘ جو شخص مختلف طرح کی نیکیاں پیدل چلنے جتنی سرعت کے ساتھ کرتا ہے ‘ تو وسائل ، مہربانی اور رحمت کے وجود اور مغفرت اتنی تیزی سے اس کی طرف آتے ہیں جس طرح دوڑنا ہوتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ بلند و برتر ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ،
Hadith 811
