Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 763

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَسَنُ (1) بْنُ قَزَعَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ، فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا، وَبِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ» (2) . [1: 67] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الِاسْتِطَاعَةَ مَعَ الْفِعْلِ لَا قَبْلَهُ

حضرت عبد اللہ ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قرآن کو یاد کرتے رہو ‘ کیونکہ یہ آدمی کےسینے سے اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے جتن تیزی سے جانور اپنی رسی چھڑا کر نکلتا ہے اور کسی شخص کا یہ کہنا بہت برا ہے کہ میں فلاں ‘ فلاں آیت کو بھول گیا ہو ‘ بلکہ وہ اسے بھلا دی گئی ہے ‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) اس حدیث میں اس بات کی دلیل موجود ہے ‘ استطاعت فعل کے ہمراہ ہو گی اس سے پہلے نہیں ہو گی۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ← حَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ الْبَصْرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 763

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 764

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَصَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ» (1) . [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ‘نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قرآن کا علم حاصل کرنے والے کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی مانند ہے اگر وہ اس کا دھیان رکھے گا ‘ تو اسے روک کے رکھے گا اوراگر چھوڑ دے گا ‘ تو وہ چلا جائے گا‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 764

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 765

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مَثَلَ صَاحِبِ الْقُرْآنِ مَثَلُ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا عَقَلَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ» (1) . [3: 28]

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ‘نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قرآن کا عالم ( یا حافظ ) کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی مانند ہے اگر وہ اس کا خیال رکھے گا ‘ تو اسے روک کے رکھے گا اوراگر چھوڑ دے گا ‘ تو وہ چلا جائے گا‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 765

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 766

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: اقْرَأْ [وَارْقَ] وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي دَارِ الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ كُنْتَ تَقْرَؤُهَا» (2) . [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قرآن کے حافظ سے قیامت کے دن یہ کہاجائے گا : تم تلاوت کرنا شروع کرو اور ( جنت کے درجات پر ) چڑھنا شروع کرو اور تم اسی طرح ٹھہر ‘ ٹھہر کر تلاوت کرو جس طرح تم دنیا میں ٹھہر ‘ٹھہر کر تلاوت کرتے تھے ‘ تمہارا مقام اس آخری آیت کے پاس ہو گا ‘ جس کی تم تلاوت کرو گے‘‘۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 766

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 767

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ (1) الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ، مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرَانِ» (2) . [1: 2]

سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’ جو شخص قرآن کی تلاوت کرتا ہ اور مہارت کے ساتھ اس کی تلاوت کرتا ہے ‘ تو وہ معزز نیک ( فرشتوں ) کے ساتھ ہو گا اور جو شخص قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے مشکل کا سامنا کرتا ہے اس کے لئے دو گنا اجر ہے‘‘۔

عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 767

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 768

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ أَبُو عَمْرٍو بِنَسَا، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا جَلَسَ قَوْمٌ فِي مَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ اللَّهِ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ» (1) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب بھی کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی مسجد میں بیٹھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔ آپس میں ایک دوسرے کو اس کا درس دیتے ہیں ‘ تو ان لوگوں پر سکنیت نازل ہوتی ہے رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے۔ فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس موجود ( فرشتوں کے سامنے ) ان لوگوں کا ذکر کرتا ہے اور جس شخص کا عمل اسے سست کر دے اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ أَبُو عَمْرٍو بِنَسَا،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 768

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 769

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَدَابَّتُهُ مُوثَقَةٌ، فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ، تَرَى مِثْلَ الضَّبَابَةِ أَوِ الْغَمَامَةِ قَدْ غَشِيَتْهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «اقْرَأْ يَا فُلَانُ، تِلْكَ السَّكِينَةُ أُنْزِلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ، أَوْ لِلْقُرْآنِ» (1) . [1: 2]

حضرت براء ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص سورۃ کہف کی تلاوت کر رہا تھا۔اس کا جانور بندھا ہوا تھا۔ اس جانور نے اچھلنا شروع کر دیا۔ اس شخص نے ایک بادل دیکھا ‘ جس نے اسے ڈھانپ لیا تھا وہ شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’ اے فلاں ! تم تلاوت کرت رہتے یہ سکنیت تھی جو قرآن کےپاس ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) قرآن کی وجہ سے نازل ہو ری تھی‘‘۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 769

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 770

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، طَعْمُهَا مُرٌّ، وَلَا رِيحَ لَهَا» (1) . [1: 2]

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ و ہ مومن جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے اس کی مثال ناشپاتی کی طرح ہے ‘ جس کا ذائقہ بھی میٹھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی پاکیزہ ہوتی ہے اور وہ مومن جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا۔ اس کی مثال کھجور کی طرح ہے ‘ جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے ‘ لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی اور وہ فاجر ( یعنی منافق یا کافر ) شخص جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے اس کی مثال ریحانہ کی مانند ہے ‘ جس کی خوشبو عمدہ ہوتی ہے ‘ لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور وہ فاجر ( یعنی کافر یا منافق ) شخص جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا ۔ اس کی مثال حنظلہ کی مانند ہے ‘ جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی‘‘۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 770

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 771

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ، أَوِ الْفَاجِرِ، الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ، أَوِ الْفَاجِرِ، الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، طَعْمُهَا مُرٌّ وَلَا رِيحَ لَهَا» (1) . [3: 82]

حضرت موسیٰ اشعریؓ ‘روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ وہ مومن جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے ‘ اس کی مثال ناشپاتی کی مانند ہے ‘ جس کا ذائقہ بھی میٹھا ہوتا ہے اس کی خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے اور وہ مومن جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا۔ اس کی مثال کھجور کی مانند ہے ‘ جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے ‘ لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی۔ اور جو منافق ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) فاجر شخص قرآن کی تلاوت کرتاہے اس کی مثال ریحانہ نامی پھل کی طرح ہے ‘ جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہیں ‘ لیکن اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور جو منافق ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے ) فاجر شخص قرآن کی تلاوت نہیں کرتا ہے ۔ ا س کی مثال حنظلہ کی مانند ہے ‘ جس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی‘‘۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 771

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 772

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ تَلَقَّى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إِلَى عُسْفَانَ وَكَانَ نَافِعٌ عَامِلًا لِعُمَرَ عَلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي؟ يَعْنِي أَهْلَ مَكَّةَ، قَالَ: ابْنَ أَبْزَى، قَالَ: وَمَنِ ابْنُ أَبْزَى؟، قَالَ: رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي، قَالَ عُمَرُ: اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى؟، فَقَالَ لَهُ: إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَيَرْفَعُ بِهَذَا الْقُرْآنِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ» (2) . [1: 2]

ابو طفیل بیان کرتے ہیں : نافع بن عبد حارث کی ملاقات حضرت عمربن خطاب ؓ سے ’’ عسفان ‘‘ کے مقام پر ہوئی۔ نافع حضرت عمرؓ کی طرف سے مکہ مکرمہ کے گورنر تھے۔ حضرت عمرؓ نے دریافت کیا :تم نے اپنے پیچھے کس کو مکہ میں اپنا نائب مقرر کیا ہے ‘ تو انہوں نے جواب دیا : ابن ابزیٰ کو حضرت عمرؓ نے دریافت کیا۔ ابن ابزیٰ کون ہے ؟ اس نے جواب دیا: ایک آزاد کردہ غلام ہے ‘ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم نے ان لوگوں پراپنا ایک آزاد کردہ غلام نائب بنا دیا ہے ‘ تو نافع نے ان سے گزارش کی کہ وہ اللہ کی کتاب کا عالم ہے ‘ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا : تمہارے نبی نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس قرآن کی وجہ سے کچھ لوگوں کو سر بلندی عطا فرمائے گا اور کچھ دوسرے لوگوں کو پستی عطا کرے گا‘‘۔

اثِلَةَ، ← أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 772

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 773

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ عَيَّاشَ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرِئْنِي الْقُرْآنَ، قَالَ: «اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ الر» ، قَالَ الرَّجُلُ: كَبُرَ سِنِّي، وَثَقُلَ لِسَانِي، وَغَلُظَ قَلْبِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ حم» ، فَقَالَ الرَّجُلُ مِثْلَ ذَلِكَ (1) : وَلَكِنْ أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ سُورَةً جَامِعَةً، فَأَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ} [الزلزلة: 1] حَتَّى بَلَغَ: {مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: 7-8] ، قَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَزِيدَ عَلَيْهَا حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ، وَلَكِنْ أَخْبِرْنِي بِمَا عَلَيَّ مِنَ الْعَمَلِ أَعْمَلْ مَا أَطَقْتُ الْعَمَلَ، قَالَ: «الصَّلَوَاتُ الْخُمْسُ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَيْتِ، وَأَدِّ زَكَاةَ مَالِكَ، وَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ» (2) .

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے قرآن پڑھنا سکھائیے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ’’ الر ‘‘ سے شروع ہونے والی تین سورتوں کی تلاوت سیکھ لو اس شخص نے عرض کہ : میری عمر زیادہ ہو گئی ہے ۔ زبان وزنی ہو ہو گئی ہے دل سخت ہو گیا ہے ( یعنی حافظہ کمزور ہے ) نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم ’’ حم ‘‘ سے شروع ہونے والی تین سورتیں سیکھ لو اس شخص نے اسی کی مانند کلمات کہے اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے ایک جامع سورۃ پڑھنا سکھا دیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے سے سورۃ زلزال پڑھنا سکھا دی ‘ یہاں تک کہ جب آپ اس آیت پر پہنچے : ’’ جو شخص ذرّے کے وزن جتنی بھلائی کر ے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ذرّے کے وزن جتنی برائی کرے گا وہ اسےدیکھ لے گا‘‘۔ اس شخص نے عرض کی : اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کےہمراہ مبعوث کیا ہے ۔ میں اس بات کی پرواہ نہیں کروں گا کہ میں اس کے علاوہ مزید بھی کچھ سیکھو ‘ یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤں۔ آپ مجھے یہ بتا دیجئے مجھ پر کون سا عمل کرنا لازم ہے میں وہ عمل کروں گا ‘ جس کی میں طاقت رکھتا ہوں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : پانچ نمازیں پڑھنا ‘ رمضان کے روزے رکھتا بیت اللہ کا حج کرنا اور تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو ‘ نیکی کا حصہ دو اور برائی سے روکو ‘‘۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ: ← عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ عَيَّاشَ بْنَ عَبَّاسٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 773

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 774

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ آدَمَ غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَعْنِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَنَزَلَ، فَمَشَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى جَانِبِهِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ الْقُرْآنِ» ؟، قَالَ: فَتَلَا عَلَيْهِ: « {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: 2] » (1) . [1: 2]

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرت ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ سفر کر رہے تھے ۔ آپ سواری سے نیچے اترے آپ کے صاحب میں سے ایک صحاب آپ کے پیچھے کی طرف گئے نبی اکرمﷺ نے ان کی طرف توجہ کی اور ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں قرآن کے سب سے افضل حصے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرمﷺ نے ان کے سامنے یہ تلاوت کی۔ ’’ الحمد اللہ رب العلمین ‘‘ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ’’ کیا میں تمہیں قرآن کے افضل کے بارے میں نہ بتاؤں ‘‘ اس سے آپ کی مراد یہ ہے : ( جسے پڑھنا ) تمہاےلئے افضل ہے ‘ ایسا نہیں ہے ‘ قرآن کا ایک حصہ دوسرے سے افضل ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے بارےمیں یہ بات نا ممکن ہے ‘ اس میں ’’ تفاضل ‘‘ ہو ( یعنی کسی ایک حصے کو دوسرے پر فٖضیلت ہو )

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَعْنِيُّ ← أحمد بن آدم غندر ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 774

chevron_left Previous
1…131415…22
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr