صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ قِرَاءَۃِ الْقرْآنِ · حديث 751
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ثُمَّ سَمِعْتُهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ""3".
حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے وہ اس نبی اکرمﷺ کو سنتا ہے ‘ جو قرآن کو خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کرتا ہے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ’’ وہ قرآن کو خوش الحانی سے پڑھے ‘‘ اس سے مراد اس کو درمندی سے پڑھنا ہے ۔ اگر یہ غنیتہ ( یعنی خوش الحانی ) سے ماخوذ ہوتا ۔ تو آپ یہ کہتے : یتغانی بہ ‘ یہ نہ کہتے : یتغنی بہ۔ قرآن کو درد مند انداز میں پڑھنے کا یہ مطلب نہیں ہے ‘ حلق پر بوجھ لادا جائے یاآواز کو سنوارا جائے یا لغمگی کی پیروی کرتے ہوئے ( آواز میں اتار چڑھاؤ پیدا کیا جائے ) قرآن کو دردمندانہ انداز میں پڑھنے سے مراد یہ ہے ‘ تلاوت کے ہمراہ دو چیزیں ہوں ‘ افسوس کا اظہار کرنا ‘ غمگین ہونا ‘ آدمی سےجو غلطیاں سر زد ہوئی تھیں ان پر افسوس کا اظہار کرنا اور جس توقیر کی خواہش ہو اس پر غمگین ہونا۔ جب دل الم اور تکلیف کو محسوس کرے ‘ تو آواز غمگین ہو جائے اور وہ ترجیح کرے ‘ آنکھیں آنسو بہائیں ‘ اور دل روشن ہو ‘ تو اس صورت میں مناجات کے ہمراہ تہجد پڑھنے والے کو لذت محسوس ہو گی اور ہو شخص مخلوق سے فرار ہو کر خلوت کے گھونسلے ( یعنی اس کی پناہ) میں آ جائے۔ اس بات کی امید رکھتے ہوئے کہااس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہوجائے۔ اس کے جرائم اور عیوب سے درگزر کیا جائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس کی توفیق مانگتے ہیں۔
"مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ ثُمَّ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter Recitation of the Qur’an · Hadith 751
