صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 727
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عن وهب بن خالد عن بن الديلمي قال: ذِكْرُ الْإِخْبَارِ عَمَّا يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ مِنْ تَسْلِيمِ الْأَشْيَاءِ إِلَى بَارِئِهِ جَلَّ وَعَلَا [727] أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عن وهب بن خالد عن بن الديلمي قال: اَتَیْتُ اُبَیَّ بْنَ کَعْبِ فَقُلْتُ لَہٗ وَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ شَیْءٌ مِنَ الْقَدَرِ فَحَدِّثْنِیْ بِشَیْءٍ لَعَلَّہُ اَنْ یَّذْھَبَ مَنْ قَلْبِیْ فقَالَ اِنَّ اللہَ لَوْ عَذَّبَ اَھْلَ سَمَاوَاتِہٖ وَاَھْلَ اَرْضِہِ عَذَّبَھُمْ غَیْرَ ظَالِمٍ لَھُمْ وَلَوْ رَحِمَھُمْ کَانَتْ اَنَّ مَا اَصَابَکَ لَمْ یَکُنْ لَیُخْطِئَکَ وَاَنَّ مَا أخطئک لَمْ یَکُنْ یِیُصِیْبَکَ وَلَوْمُتَّ عَلٰی غَیْرِ ھٰذَا لَدَخَلْتَ النَّارَ قِالَ ثُمَّ اَتَیْتُ عَبْدَ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فقَالَ مِثْلَ قَوْلِہٖ ثُمَّ اَتَیْتُ حُزَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ فقَالَ مِثْلَ قَوْلِہٖ ثُمَّ اَتَیْتُ زَیْدَبْنَ ثَابِتٍ فَحَدَّثَنِیْ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذٰلِکَ۔(66:3)
ابن دیلمی بیان کرتے ہیں :میں حضرت ابی بن کعبؓ کی خٰدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے کہا: میرے ذہن میں تقدیر کے حوالے سےکچھ الجھن ہے ‘ تو آپ مجھے کوئی حدیث بیان کیجئے تاکہ اس کے ذریعے سے میرے ذہن کی یہ الجھن ختم ہو جائے ‘ تو حضرت ابی بن کعب ؓ نے فرمایا : ’’اگر اللہ تعالیٰ آسمانوں کے رہنے والے اور زمین کے رہنے والے تمام لوگوں کو عذاب دیدے ‘ تو وہ انہیں عذاب دیتے ہوئے ان کے ساتھ ظلم کرنے والا نہیں ہو گا اور اگر وہ ان سب پر رحم کر دے‘تو اس کی رحمت ان لوگوں کے لئے ان کے اعمال سے زیادہ بہتر ہے ‘ اگر تم اللہ کی راہ میں اُحد پہاڑ جتنا خرچ کرو ‘ تو بھی اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے اسے اس وقت تک قبول نہیں کرے گا ‘ جب تک تم تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے اور تم یہ بات جان نہیں لیتے کہ جو صورت حال تمہیں لاحق ہوئی وہ تمہیں لاحق ہو کے رہنی تھی اور جو صورتحال تمہیں لا حق نہیں ہوئی ہے وہ تمہیں کبھی لا حق نہیں ہونی تھی اگر تم اس کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مرو گے ‘ تو تم جہنم میں جاؤ گے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہٰیں :پھر میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تو انہوں نے بھی اس کی مانند الفاظ بن ثابت ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ تو انہوں نے نبی اکرمﷺ کے حولاے سے اسی کی مانند حدیث مجھے بیان کی۔
بن الديلمي ← وَهْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبِي سِنَانٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of godliness and trust · Hadith 727
