Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1253

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ. عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ السِّبَاعِ وَالدَّوَابِّ فقال رسول الله صلى الله عليه وَسَلَّمَ: اِذَا کَانَ الْمَاءُ قُلَّتَیْنِ لَمْ یُنَجِّسْہُ شَیْءٌ۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ ھٰذِہِ لَفْظَۃُ اِخْبَارٍ مُرَادُہُ الْاِعْلَامُ عَمَّا سُئِلَ عَنْہُ یَعْنِیْ لَا ینجسہ شیء مما سألنی عنہ۔

عبید اللہ بن عبداللہ اپنے والد (حضرت عبد اللہ بن عمر) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا: جس میں سے درندے اور جانور بھی آکر پیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی۔ "جب پانی دو قلے ہو جائے، تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے"۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:) یہ الفاظ اطلاع دینے کے ہیں۔ اس سے مراد اس چیز کے بارے میں اطلاع دینے کے ہیں جس کے بارے میں دریافت کیا گیا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا ہے، ان میں سے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے۔

أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ. ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1253

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1254

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ قَالَ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ اَبَیْہِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَا یَبُولَنَّ اَحَدُکُمْ فِیْ الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِیْ لَا یَجْرِی ثُمَّ یغتسل منہ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "کوئی شخص ٹھہرئے ہوئے پانی میں جو بہتا نہ ہو اس میں ہرگز پیشاب نہ کرے کہ پھر وہ اس میں سے غسل کرلے گا۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:) میں نے ابن ابو امیہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حامد بن یحیٰ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سفیان کو یہ بیان کرئے ہوئے سنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابو زناد کو موسیٰ بن ابو عثمان کے حوالے سے چار روایات کو نقل کرتے ہوئے سنا ہے اور ان میں سے ایک میں بھول گیا ہوں۔ ان کی مراد چار احادیث ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← أَبِيهِ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ

Hadith 1254

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1255

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ1 الْمُغَفَّلِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ فِي مُغْتَسَلِهِ فَإِنَّ عَامَّةَ الوسواس يكون منه2.

حضرت عبد اللہ بن معقل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے، آدمی غسل کی جگہ پر پیشاب کرلے، کیونکہ عام طور پر وہ اس کی وجہ سے وسو سے پیدا ہوتے ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ1 الْمُغَفَّلِ ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1255

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1256

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ 1، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ أَوْ يشرب" 2.

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "کوئی شخص ٹھہرئے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے کہ پھر وہ اس میں سے ہی وضو کےلے گا یا اسے پی لے گا"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1256

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1257

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قال حدثنا يحيى القطان عن بْنِ عَجْلَانَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَبُولُ 1أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَلَا يَغْتَسِلُ فيه من الجنابة" 2.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "کوئی بھی شخص ٹھہرئے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے اور نہ ہی اس میں غسل جنابت کرے"۔

"لَا يَبُولُ 1أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَلَا يَغْتَسِلُ فيه من الجنابة" ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← بن عَجْلَانَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1257

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1258

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم إذا لقي الرجل من أَصْحَابِهِ مَسَحَهُ وَدَعَا لَهُ قَالَ فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا بكرة، فَحِدْتُ عَنْہُ ثُمَّ اَتَیْتُہٗ حِیْنَ ارْتَفَعَ النَّھَارُ فَقَالَ اِنِّیْ رَاَیْتُکَ فَحِدْتَ عَنِّیْ فَقُلْتُ اِنِّیْ کُنْتُ جُنْبًا فَخَشِیتُ اَنْ تَمَسَّنِیْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ الْمُسْلِمَ لاینجس۔

۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جب بھی کسی شخص کے ساتھ آپ کی ملاقات ہوتی تھی، تو آپ اس پر ہاتھ پھیرتے تھے اور اس کے لیے دعائے رحمت کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک دن میں نے آپ کو صبح کے وقت دیکھا تو میں آپ کے سامنے آنے سے ہٹ گیا پھر میں دن چڑھنے کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں دیکھا تھا تم میرے سامنے سے ہٹ گئے تھے۔ میں نے عرض کی: میں اس وقت جنابت کی حالت میں تھا۔ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ آپ مجھے مس نہ کردیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کبھی نجس نہیں ہوتا۔

رَسُوْلُ اللہِ اِنَّ الْمُسْلِمَ لاینجس۔ ← اِنِّیْ رَاَیْتُکَ فَحِدْتَ عَنِّیْ فَقُلْتُ اِنِّیْ کُنْتُ جُنْبًا فَخَشِیتُ اَنْ تَمَسَّنِیْ ← فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا بكرة، فَحِدْتُ عَنْہُ ثُمَّ اَتَیْتُہٗ حِیْنَ ارْتَفَعَ النَّھَارُ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إذا لقي الرجل من أَصْحَابِهِ مَسَحَهُ وَدَعَا لَهُ ← حُذَيْفَةَ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← الشَّيْبَانِيِّ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1258

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1259

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ 2 قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ3 عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي رافع، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ لَقِیَنِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَنَا جُنُبٌ فَمَشِیْتُ مَعَہٗ وَھُوَ اٰخِذٌ بِیَدِیْ فَانْسَلَلْتُ مِنْہُ فَانْطَلَقْتُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ اِلَیْہِ فَجَلَسْتُ مَعَہٗ اَیْنَ کُنْتَ یَا اَبَ ھِرٍّ قُلْتُ لَقِیتَنِیْ وَاَنَا جُنُبٌ فَکَرِھْتُ اَنْ اُجَالِسَکَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا ینجس۔

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی۔ میں جنابت کی حالت میں تھا۔ میں آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا پھر میں آپ کے پاس سے چلا گیا۔ میں واپس آیا اور میں نے غسل کیا پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے ساتھ بیٹھ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تم کہاں چلے گئے تھے۔ میں نے عرض کی: جب آپ سے میری ملاقات ہوئی تھی، تو میں جنابت کی حالت میں تھا۔ مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں ایسی حالت میں آپ کے ساتھ بیٹھا رہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک مومن نجس نہیں ہوتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 1259

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr