صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1253
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ. عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ السِّبَاعِ وَالدَّوَابِّ فقال رسول الله صلى الله عليه وَسَلَّمَ: اِذَا کَانَ الْمَاءُ قُلَّتَیْنِ لَمْ یُنَجِّسْہُ شَیْءٌ۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ ھٰذِہِ لَفْظَۃُ اِخْبَارٍ مُرَادُہُ الْاِعْلَامُ عَمَّا سُئِلَ عَنْہُ یَعْنِیْ لَا ینجسہ شیء مما سألنی عنہ۔
عبید اللہ بن عبداللہ اپنے والد (حضرت عبد اللہ بن عمر) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا: جس میں سے درندے اور جانور بھی آکر پیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی۔ "جب پانی دو قلے ہو جائے، تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے"۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:) یہ الفاظ اطلاع دینے کے ہیں۔ اس سے مراد اس چیز کے بارے میں اطلاع دینے کے ہیں جس کے بارے میں دریافت کیا گیا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا ہے، ان میں سے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے۔
أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ. ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Hadith 1253
