Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4574

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ مِنْ بَنِي لَيْثٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ»، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: «لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، أَوْ لِلْمُؤْمِنِينَ، وَعَامَّتِهِمْ»

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دین خیر خواہی کا نام ہے“ ۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی لوگوں نے دریافت کی یا رسول اللہ ﷺ! کس کی؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی اس کی کتاب کی اس کے رسول کی مسلمانوں کے حکمرانوں کی (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) مومنوں کے حکمرانوں کی اور ان کے عام افراد کی (خیر خواہی کرنا)“

لِمَنْ ← «الدِّينُ النَّصِيحَةُ»، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ مِنْ بَنِي لَيْثٍ، ← سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4574

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4575

أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ بَنَانَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ بَنَانَ، بِوَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْبَزَّازُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، [ص:436] عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُ سُهَيْلًا، فَقُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ حَدِيثًا كَانَ يُحَدِّثُ عَمْرٌو، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِيكِ، سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِيكِ، قَالَ سَمِعْتُهُ مِنَ الَّذِي سَمِعَهُ مِنْهُ أَبِي، صِدِّيقٍ لِأَبِي، كَانَ يَأْتِي مِنَ الشَّامِ، يُقَالُ لَهُ: عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ سَمِعْتُهُ أَخْبَرَ ذَلِكَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، أَلَا إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، أَلَا إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ»، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ؟، قَالَ: «لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَعَامَّتِهِمْ»

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”خبردار! دین خیر خواہی کا نام ہے خبردار بے شک دین خواہی کا نام ہے۔ خبردار! بے شک دین خیر خواہی کا نام ہے۔ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ ﷺ! کس کی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلمان حکمرانوں کی اور ان کے عام افراد کی (خیر خواہی کرنا)“

اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْبَزَّازُ، ← الْوَلِيدُ بْنُ بَنَانَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ بَنَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4575

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4576

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْزَةَ الْمَعْوَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَامِي فِيكُمُ الْيَوْمَ، فَقَالَ: «أَلَا أَحْسِنُوا إِلَى أَصْحَابِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَفْشُو [ص:437] الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ عَلَى الشَّهَادَةِ لَا يُسْأَلُهَا، وَيَحْلِفُ الرَّجُلُ عَلَى الْيَمِينِ لَا يُسْأَلُهَا، فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ، وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، وَلَا يَخْلَوَنَّ أَحَدُكُمْ بِامْرَأَةٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا، وَمَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ، وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ»

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ”جابیہ “کے مقام پر ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ہمارے درمیان نبی اکرم ﷺ بھی اسی طرح کھڑے ہوئے تھے جس طرح آج میں تمہارے درمیان کھڑا ہوا ہوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: خبردار! میرے ساتھیوں کے ساتھ اچھائی کرنا پھر ان کے بعد والے لوگ ہیں پھر ان کے بعد جھوٹ پھیل جائے گا، یہاں تک کہ کوئی آدمی گواہی دے گا حالانکہ اس سے گواہی نہیں مانگی گئی ہو گی اور کوئی شخص قسم اٹھا لے گا حالانکہ اس سے اس کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہو گا، تو تم میں سے جو شخص جنت میں داخل ہونا چاہتا ہو وہ (مسلمانوں کی ) جماعت کا لازم پکڑ لے، کیونکہ شیطان ایک شخص کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو آدمیوں سے زیادہ دور ہوتا ہے اور کوئی بھی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز نہ ہو، کیونکہ ان دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ہو گا اور جس شخص کو برائی لگتی ہو اور اچھائی اچھی لگتی ہو وہ مومن ہے۔

قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ مُقَامِي فِيكُمُ الْيَوْمَ، ← خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ، ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← عَليّ بن حَمْزَة المعولي ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4576

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4577

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، بِتُسْتَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:438] مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ شُرَيْحٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَيَكُونُ بَعْدِي هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ فَارَقَ الْجَمَاعَةِ أَوْ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمْرُهُمْ جَمِيعٌ، فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ، فَإِنَّ يَدَ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ يَرْتَكِضُ»

حضرت عرفجہ بن شریح اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب میرے بعد مختلف طرح کے فتنے ہوں گے تو جس شخص کو تم دیکھو کہ (مسلمانوں کی ) جماعت سے الگ ہو گیا ہے یا وہ حضرت محمد ﷺ کی امت کے درمیان تفرقہ پیدا کرنا چاہتا ہے، جب کہ وہ لوگ اکٹھے ہوں، تو تم اسے قتل کر دو خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو، بے شک اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور بے شک شیطان اس شخص کے ساتھ ہوتا ہے، جو (مسلمانوں کی ) جماعت سے علیحدگی اختیار کرتا ہے “۔

النَّبِيِّ ← عرفجة بن شريح الأشجعي ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ← [ص:438] مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4577

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4578

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ لَيَالِي الْحَرَّةِ، فَقَالَ: ضَعُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ آتِ لِأَجْلِسَ، إِنَّمَا جِئْتُ لِأُكَلِّمَكَ كَلِمَتَيْنِ سَمِعْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَمْ تَكُنْ لَهُ حُجَّةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ مَاتَ مُفَارِقَ الْجَمَاعَةِ، فَإِنَّهُ يَمُوتُ مَوْتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ»

زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ”حرہ“ کی راتوں میں ابن مطیع کے پاس تشریف لائے ، تو انہوں نے کہا: ابو عبدالرحمٰن (یعنی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) کیلئے تکیہ لگاؤ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں یہاں بیٹھنے کیلئے نہیں آیا ہوں میں تمہارے ساتھ دو باتیں کرنے کیلئے آیا ہوں جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہیں۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص (حاکم وقت کی) اطاعت و فرمانبرداری سے ہاتھ کھینچ لے قیامت کے دن اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہو گی اور جو شخص (مسلمانوں کی) جماعت سے علیحدہ ہو کر مرے وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے“۔

رَسُولِ اللَّهِ ← إِنِّي لَمْ آتِ لِأَجْلِسَ، إِنَّمَا جِئْتُ لِأُكَلِّمَكَ كَلِمَتَيْنِ سَمِعْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← ضَعُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، ← أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ لَيَالِي الْحَرَّةِ، ← زيد بن أسلم أنه ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4578

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4579

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ جُنْدُبٍ الْبَجَلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ فَقَتْلُهُ قِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ»

حضرت جندب بجلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص گمراہی کے جھنڈے تلے مارا جائے وہ زمانہ جاہلیت کی موت مارا جاتا ہے“۔

جُنْدُبٍ الْبَجَلِيِّ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4579

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4580

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ شَاكِي، فَقُلْتُ: حَدِّثْنِي حَدِيثَ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ سَمِعْتُ غَيْلَانَ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: حَدَّثَنِي عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ الْقَيْسِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ، وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ فَمِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا، وَفَاجِرَهَا، لَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا، وَلَا يَفِي بِذِي عَهْدِهَا، فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يُقَاتِلُ لِعَصَبَةٍ، أَوْ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ، فَقَتْلُهُ قِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص (حاکم وقت کی) اطاعت سے نکل گیا اور اس نے (مسلمانوں کی ) جماعت سے علیحدگی اختیار کی اور پھر وہ (اسی حالت میں ) مر جائے، تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے اور جو شخص میری امت پر خروج کر کے ہر نیک اور گنہگار کو مارنا شروع کر دیتا ہے وہ مومن کو چھوڑتا نہیں ہے اور معاہدے ( یعنی ذمی کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کو) پورا نہیں کرتا تو ایسا شخص زمانہ جاہلیت کی طرح قتل ہوتا ہے اور جو شخص کسی گمراہی کے جھنڈے تلے کسی گروہ کی تائید میں لڑائی کرتا ہے یا کسی گروہ کے حق میں ناراض ہوتا ہے (اور جنگ کرتے ہوئے مارا جاتا ہے) تو اس کا قتل زمانہ جاہلیت کا قتل ہو گا“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ الْقَيْسِيِّ، ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← أَيُّوبَ، ← أَيُّوبُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: ← غَيْلَانَ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ، وَلَكِنْ ← حَدِيثَ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ ← دَخَلْتُ عَلَى حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ شَاكِي، فَقُلْتُ: ← عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4580

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4581

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِي عَلَى قُرَيْشٍ حَقًّا، وَإِنَّ لِقُرَيْشٍ عَلَيْكُمْ حَقًّا مَا حَكَمُوا، وَعَدَلُوا، وَائْتُمِنُوا، فَأَدُّوا وَاسْتُرْحِمُوا، فَرَحِمُوا، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک میرا قریش پر حق ہے اور قریش کا تم لوگوں پر حق ہے، جب وہ فیصلہ کرتے ہوئے انصاف سے کام لیں اور انہیں امانت سپرد کی جائے ، تو اسے ادا کریں اور جب ان سے رحم مانگا جائے، تو وہ رحم کریں، جو شخص ایسانہیں کرتے گا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوگی“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4581

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4582

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ*، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ كَانَ يَرْمِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ خَلْفِهِ لَيَنْظُرَ أَيْنَ يَقَعُ نَبْلُهُ، فَيَتَطَاوَلُ أَبُو طَلْحَةَ بِصَدْرِهِ يَتَّقِي بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: هَكَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے آگے کھڑے ہو کر تیر پھینک رہے تھے نبی اکرم ﷺ نے انکے پیچھے سے سر اٹھا کر یہ دیکھنا چاہا کہ ان کا تیر کہاں گرتا ہے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے سینے کو پھیلا لیا تا کہ اس کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کو بچائیں انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ ﷺ اسی طرح رہیں (یعنی میرے پیچھے رہیں) اللہ تعالیٰ مجھے آپﷺ پر فدا کرے آپ ﷺ کی بجائے میں ان کے سامنے رہتا ہوں۔

حُمَيْدٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4582

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4583

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، «أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ، وَهُوَ مُلَثَّمٌ، وَعِنْدَهُ عُرْوَةُ، قَالَ: فَجَعَلَ عُرْوَةُ يَتَنَاوَلُ لِحْيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُحَدِّثُهُ، قَالَ: فَقَالَ الْمُغِيرَةُ لِعُرْوَةَ: لَتَكُفَّنَّ يَدَكَ عَنْ لِحْيَتِهِ، أَوْ لَا تَرْجِعُ إِلَيْكَ»، قَالَ: فَقَالَ عُرْوَةُ: مَنْ هَذَا؟، قَالَ: هَذَا ابْنُ أَخِيكَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَقَالَ عُرْوَةُ: يَا غُدَرُ، مَا غَسَلْتَ رَأْسَكَ مِنْ غَدْرَتِكَ بَعْدُ «

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ تلوار لے کر نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھڑے ہوئے انہوں نے منہ پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا نبی اکرم ﷺ کے پاس (قریش کا سردار) عروہ موجود تھا عروہ نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کی داڑھی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے عروہ سے کہا: یا تو تم اپنا ہاتھ نبی اکرم ﷺ کی داڑھی سے پیچے کر لو، یا پھر یہ تمہارے پاس صحیح سلامت واپس نہیں جائے گا۔ عروہ نے دریافت کیا: یہ کون شخص ہے، تو انہوں نے کہا: یہ تمہارا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ ہے، تو عروہ نے کہا: اے وعدہ خلاف! تم نے اپنی وعدہ خلافی کے بعد اپنا سر نہیں دھویا۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4583

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4584

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ لِي عَلَى قُرَيْشٍ حَقًّا، وَإِنَّ لِقُرَيْشٍ عَلَيْكُمْ حَقًّا، مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا، وَائْتُمِنُوا فَأَدُّوا، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرا قریش پر حق ہے اور قریش کا تم لوگوں پر ہے، جب تک وہ فیصلہ کرتے ہوئے انصاف سے کام لیں اور جب ان کے سپرد امانت کیجائے تو اسے ادا کریں اور جب ان سے رحم طلب کیا جائے ، تو رحکم کریں۔“

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4584

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4585

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ، قَالَ: كَلِمَتَيْنِ سَمِعْتُهُمَا مَا أُحِبُّ أَنْ لِي بِوَاحِدَةٍ مِنْهُمَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، إِحْدَاهُمَا مِنَ النَّجَاشِيِّ، وَالْأُخْرَى مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا الَّتِي سَمِعْتُهَا مِنَ النَّجَاشِيِّ: فَإِنَّا كُنَّا عِنْدَهُ إِذْ جَاءَهُ ابْنٌ لَهُ مِنَ الْكُتَّابِ، فَعَرَضَ لَوْحَهُ، قَالَ: وَكُنْتُ أَفْهَمُ بَعْضَ كَلَامِهِمْ، فَمَرَّ بِآيَةٍ، فَضَحِكْتُ، فَقَالَ: مَا الَّذِي أَضْحَكَكَ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأُنْزِلَتْ مِنْ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ إِنَّ [ص:446] عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ قَالَ: إِنَّ اللَّعْنَةَ تَكُونُ فِي الْأَرْضِ إِذَا كَانَتْ إِمَارَةُ الصِّبْيَانِ، وَالَّذِي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «اسْمَعُوا مِنْ قُرَيْشٍ وَدَعُوا فِعْلَهُمْ»

حضرت عامر بن شہر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دو کلمات سنے ہیں مجھے یہ بات پسند نہیں ہے، ان میں سے کسی ایک کلمے کے عوض میں مجھے دنیا اور اس میں موجود سب چیزیں مل جائین ان میں سے ایک نجاشی کی زبانی سنا ہے اور دوسرا نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنا ہے، جہاں تک اس کلمے کا تعلق ہے جو میں نے نجاشی کی زبانی سنا ہے، تو وہ یوں ہے، میں نجاشی کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران اس کا بیٹا مدرسے سے اس کے پاس آیا اس لڑکے نے اپنی تختی اس کے سامنے پیش کی حضرت عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ان کا کچھ کلام سمجھ لیتا تھا جب وہ ایک آیت کے پاس سے گزرے تو مجھے ہنسی آ گئی نجاشی نے دریافت کیا: تم کس بات پر ہنسے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عرش والی ذات کی طرف سے یہ بات نازل ہوئی ہے، حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اس سرزمین پر لعنت ہوتی ہے جہاں بچوں کی حکومت ہو۔ (حضرت عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قریش کی فرمانبرداری کرو اور ان کے ذاتی عمل کو (ان کے حال پر) چھوڑ دو۔“

كَلِمَتَيْنِ سَمِعْتُهُمَا مَا أُحِبُّ ← عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4585

chevron_left Previous
1…8910…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr