Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4562

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُدْرِكُ بْنُ سَعْدٍ الْفَزَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حَيَّانَ أَبَا النَّضْرِ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، [ص:426] عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اسْمَعْ وَأَطِعْ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ، وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ، وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ، وَإِنْ أَكَلُوا مَالَكَ وَضَرَبُوا ظَهْرَكَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعْصِيَةً»

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم تنگی اور آسانی ، پسندیدگی اور ناپسندیدیگی اپنے ساتھ کیے جانے والے ترجیحی سلوک (ہر حال میں حاکم وقت کی) اطاعت کرو، اگر وہ تمہارا مال کھالے اور تمہاری پشت پر مارے ( تو بھی اس کی اطاعت کرو) البتہ اگر کوئی گناہ کا کام ہو، تو اس کی اطاعت نہ کرو“ ۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، [ص:426] ← حَيَّانَ أَبَا النَّضْرِ، ← مُدْرِكُ بْنُ سَعْدٍ الْفَزَارِيُّ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانَ بِالرَّقَّةِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4562

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4563

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَطَبَنَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْجَدْعَاءِ، وَتَطَاوَلَ فِي غَرْزِ الرَّحْلِ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ»، فَقَالَ رَجُلٌ فِي آخِرِ النَّاسِ: مَا تَقُولُ، أَوْ مَا تُرِيدُ؟ فَقَالَ: «أَلَا تَسْمَعُونَ، أَطِيعُوا رَبَّكُمْ، وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ، وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ، وَأَطِيعُوا أُمَرَائَكُمْ تَدْخُلُوا جُنَّةَ رَبِّكُمْ»، فَقُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ: ابْنَ كَمْ كُنْتَ يَوْمَئِذٍ حِينَ سَمِعْتَ هَذَا؟، قَالَ «: سَمِعْتُ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثِينَ سَنَةً»

حضرت ابو امامہ باہلی صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: آپ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی اونٹنی جدعاء پر سوار ہو کر ہمیں خطبہ دے رہے تھے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! تو لوگوں کے پیچھے سے ایک صاحب نے دریافت کیا: آپ ﷺ کیا فرما رہے ہیں آپ ﷺ کی مراد کیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تم لوگ سن رہے ہو تم اپنے پروردگار کی اطاعت کرو، پانچ نمازیں ادا کرو، اپنے اموال کی زکوٰ ۃ ادا کرو، اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو اور اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو جاؤ۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: جب آپ نے یہ بات سنی تھی اس وقت آپ کی عمر کتنی تھی؟ انہوں نے جواب دیا : اس وقت میری عمر تیس سال تھی۔

أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4563

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4564

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ أَبُو طَالِبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، قَالَتْ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ أَوْ بِلَالًا يَقُودُ بِخِطَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرَ رَافِعُ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ بِهِ مِنَ الْحَرِّ، حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَوَقَفَ النَّاسُ وَقَدْ جَعَلَ ثَوْبَهُ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ، قَالَ: فَرَأَيْتُ تَحْتَ غُضْرُوفِهِ الْأَيْمَنِ كَهَيْئَةِ جُمْعٍ، ثُمَّ ذَكَرَ قَوْلًا كَثِيرًا، وَكَانَ فِيمَا يَقُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا»، ثُمَّ قَالَ: «هَلْ بَلَّغْتُ؟ »

سیّدہ ام حصین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ حجۃ الوداع کیا میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی کی لگام تھام کر چل رہے تھے ان میں سے ایک نے لگام تھامی ہوئی تھی دوسرے نے اپنی چادر کو بلند کیا ہوا تھا تا کہ نبی اکرم ﷺ کو دھوپ سے بچا کے رکھیں، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی پھر آپﷺ واپس تشریف لائے اور لوگ ٹھہرے رہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی چادر اپنے بائیں کندھے پر رکھی ہوئی تھی وہ آپﷺ کی دائیں بغل کے نیجے سے گزر رہی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے آپﷺ کے دائیں کندھے کے ابھار کے نیچے ایک ابھری ہوئی چیز دیکھی (شاید اس سے مراد مہر نبوت ہو) (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم ﷺ نے بہت سی باتیں کیں۔ نبی اکرم ﷺ نے جو بات ارشاد فرمائی اس میں ایک بات یہ بھی تھی۔ ”اگر تم پر کسی ایسے حبشی کو امیر مقرر کر دیا جائے جس کے ناک، کان کٹے ہوئے ہوں اور تمہیں اللہ کی کتاب کے مطابق لے کر چلے، تو تم اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرو“ ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے۔

أُمِّ الْحُصَيْنِ ← يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ أَبُو طَالِبٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4564

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4565

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِالرَّيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَجْلَانَ مَوْلَى مُرَّةَ الطَّيِّبِ وَلَقَبُهُ جَبْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ثُمَّ يُلَقِّنُنَا: «فِيمَا اسْتَطَعْتَ»

حضرت عبداللہ بن عم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ اطاعت و فرمانبرداری پر ہم سے بیعت لیتے تھے پھر آپﷺ ہمیں تلقین کرتے تھے ”جتنی تمہارے اندر استطاعت ہو (تم اس پر عمل کرنا)“

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُبَايِعُنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ثُمَّ يُلَقِّنُنَا: «فِيمَا اسْتَطَعْتَ» ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَجْلَانَ مَوْلَى مُرَّةَ الطَّيِّبِ وَلَقَبُهُ جَبْرٌ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِالرَّيِّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4565

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4566

أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُدْرِكُ بْنُ سَعْدٍ الْفَزَارِيُّ أَبُو سَعْدٍ، عَنْ حَيَّانَ أَبِي النَّضْرِ، سَمِعَ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ، سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا [ص:429] عُبَادَةَ»، قُلْتُ: لَبَّيْكَ، قَالَ: «اسْمَعْ وَأَطِعْ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ، وَمَكْرَهِكَ، وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ، وَإِنْ أَكَلُوا مَالَكَ، وَضَرَبُوا ظَهْرَكَ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ مَعْصِيَةً لِلَّهِ بَوَاحًا»

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عبادہ! میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اپنی تنگی اور آسانی، پسندیدگی اور اپنے ساتھ ترجیحی سلوک ( ہر حالت میں ) اطاعت کرنا اگرچہ وہ لوگ تمہارا مال کھالیں اور تمہاری پشت پر ماریں البتہ جب وہ کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کریں ( تو پھر ان کی اطاعت نہ کرنا)

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، ← حَيَّانَ أَبِي النَّضْرِ، ← مُدْرِكُ بْنُ سَعْدٍ الْفَزَارِيُّ أَبُو سَعْدٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ← الصُّوفِيُّ، بِبَغْدَادَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4566

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4567

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا، وَأَمَرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، فَأَوْقَدَ نَارًا، فَقَالَ: ادْخُلُوهَا، فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالَ آخَرُونَ: إِنَّا فَرَرْنَا مِنْهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا: «لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»، أَوْ قَالَ: «أَبَدًا»، وَقَالَ لِلْآخَرِينَ: «خَيْرًا»، وَقَالَ: «أَحْسَنْتُمْ، لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ»

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ایک مہم روانہ کی اور ایک شخص کو ان کا امیر مقرر کیا ان لوگوں نے آگ جلائی تو اس امیر نے کہا: تم لوگ اس میں داخل ہو جاؤ کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا، تو کچھ دوسرے لوگوں نے کہا: ہم اس سے بچنے کےلیے ہی (مسلمان ہوئے ہیں) بعد میں اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو جن لوگوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا، ان سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت کے دن تک اس میں رہتے (راوی کو شک ہے) شاید یہ الفاظ ہیں: ہمیشہ اس میں رہتے، جبکہ دوسرے لوگوں سے آپﷺ نے فرمایا: تم نے اچھا کیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) تم نے احسن اقدام کیا۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بارے میں (حاکم وقت کی) کوئی فرمانبرداری نہیں ہو گی فرمانبرداری صرف نیکی کے کام میں ہو گی۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← زُبَيْدٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4567

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4568

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، بِطَرَسُوسَ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَا: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا طَاعَةَ لِبَشَرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا»

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بارے میں کسی انسان کی فرمانبرداری نہیں ہو گی۔

«لَا طَاعَةَ لِبَشَرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا» ← النَّبِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← زُبَيْدٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، بِطَرَسُوسَ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4568

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4569

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، بِطَرَسُوسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْبَذَشِيُّ، وَهِيَ قَرْيَةٌ بِقَوْمَسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:431] عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا طَاعَةَ لِبَشَرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ»

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بارے میں کسی انسان کی اطاعت نہیں کی جائے گی“۔

«لَا طَاعَةَ لِبَشَرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ» ← النَّبِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← زُبَيْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← [ص:431] عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ← نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْبَذَشِيُّ، وَهِيَ قَرْيَةٌ بِقَوْمَسَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4569

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4570

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ أَبُو حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ، وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے اپنی امت کے بارے میں صرف گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا اندیشہ ہے، جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی (یعنی جب ان کے درمیان لڑائی شروع ہو جائے گی) تو وہ قیامت کے دن تک ان سے اٹھائی نہیں جائے گی (یعنی ان کی آپس کی لڑائی ختم نہیں ہو گی)“

شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ أَبُو حَمْزَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4570

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4571

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ الْمُقْرِيُ أَبُو الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْأَصْفَهَانِيُّ رُسْتَهْ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا»، فَلَقِيتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بِسَنَةٍ فَحَدَّثَنِيهُ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس علم کو یوں نہیں اٹھائے گا اسے الگ کر لے، بلکہ علماء کو اٹھانے کے ذریعے علم کو اٹھا لے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو باقی نہیں رہنے دے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گے ان لوگوں سے سوال کیے جائیں گے تو وہ علم نہ ہونے کے باوجود فتویٰ دیں گے وہ لوگ گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے“۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْأَصْفَهَانِيُّ رُسْتَهْ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ الْمُقْرِيُ أَبُو الْقَاسِمِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4571

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4572

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَدِيٍّ أَبُو نُعَيْمٍ، وَحَاجِبُ بْنُ أَرِّكِينَ، قَالَا: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: «هَذَا أَوَانُ رَفْعِ الْعِلْمُ»، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: لَبِيدُ بْنُ زِيَادٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُرْفَعُ الْعِلْمُ وَقَدْ أُثْبِتَ وَوَعَتْهُ الْقُلُوبُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتُ لَأَحْسِبُكَ أَفْقَهَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ»، ثُمَّ ذَكَرَ ضَلَالَةَ الْيَهُودِ، وَالنَّصَارَى عَلَى مَا فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: فَلَقِيتُ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ، وَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ: صَدَقَ عَوْفٌ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُ بِأَوَّلِ ذَلِكَ يُرْفَعُ؟، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: الْخُشُوعُ حَتَّى لَا تَرَى خَاشِعًا

حضرت عوف بن مالک اشجی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے آسمان کی طرف دیکھا پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ وہ وقت ہے، جب علم کو اٹھا لیا جائے گا انصار میں سے ایک صاحب جن کا نام لبید بن زیاد تھا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا علم کو اٹھا لیا جائے گا، جبکہ اسے ثابت کیا جا چکا ہے اور دلوں نے اسے محفوظ کر لیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں ، تو تمہیں اہل مدینہ کا سب سے زیادہ سمجھدار شخص سمجھتا ہوں (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم ﷺ نے عیسائیوں اور یہودیوں کے پاس اللہ کی کتاب ہونے کے باوجود، ان کے گمراہ ہونے کا ذکر کیا۔راوی بیان کرتے ہیں: پھر میری ملاقات حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور میں نے انہیں حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا: حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے ٹھیک بیان کیا ہے پھر انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ سب سے پہلے کون سے علم کو اٹھایا جائے گا؟ میں نے کہا : جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: پرہیزگاری کو، یہاں تک کہ تم کسی بھی پرہیزگار شخص کو نہیں دیکھو گے۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّهُ ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَدِيٍّ أَبُو نُعَيْمٍ، وَحَاجِبُ بْنُ أَرِّكِينَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4572

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4573

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ لَهُ إِمَامٌ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَاتَ مَيْتَةً الْجَاهِلِيَّةِ مَعْنَاهُ: مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْتَقِدْ أَنَّ لَهُ إِمَامًا يَدْعُو النَّاسَ إِلَى طَاعَةِ اللَّهِ حَتَّى يَكُونَ قِوَامُ الْإِسْلَامِ بِهِ عِنْدَ الْحَوَادِثِ، وَالنَّوَازِلِ، مُقْتَنِعًا فِي الِانْقِيَادِ عَلَى مَنْ لَيْسَ نَعَتُهُ مَا وَصَفْنَا مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «ظَاهِرُ الْخَبَرِ أَنَّ مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ لَهُ إِمَامٌ، يُرِيدُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ مَيْتَةً الْجَاهِلِيَّةِ، لِأَنَّ إِمَامَ أَهْلِ الْأَرْضِ فِي الدُّنْيَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ إِمَامَتَهُ أَوِ اعْتَقَدَ إِمَامًا غَيْرَهُ مُؤْثِرًا قَوْلَهُ عَلَى قَوْلِهِ ثُمَّ مَاتَ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً»

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص ایسی حالت میں مرے اس کا کوئی امام نہ ہو (یعنی وہ کسی مسلمان حکمران کا فرمانبردار نہ ہو) تو وہ شخص زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے“ ۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان” وہ شخص زمانہ جاہلیت کی سی موت مرتا ہے“ اس سے مراد یہ ہے: جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرتے کہ وہ اس بات کا عقیدہ نہ رکھتا ہو کہ اس کا کوئی ایسا امام ہے، جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی طرف دعوت دیتا ہے اور حادثات اور مشکلات پیش آنے پر اسلام کی بنیادوں کی حفاظت کرتا ہے اور وہ شخص اس کی پیروی کرتا ہے، جس کی وہ صفت نہ ہو، جو ہم نے بیان کی ہے، تو ایسا شخص زمانہ جاہلیت کی موت مرتاہے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس روایت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے، جو شخص ایسی حالت میں انتقال کر جائے کہ اس کا کوئی امام نہ ہو اس کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ ہے: وہ شخص زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے اس کی وجہ یہ ہے: اہل زمین کے امام نبی اکرم ﷺ ہیں جو شخص نبی اکرم ﷺ کی امامت کا علم نہیں رکھتا یا وہ نبی اکرم ﷺ کے علاوہ کسی دوسرے امام کا معتقد ہوتا ہے اور اس کے قول کو نبی اکرم ﷺ کے فرمان پر ترجیح دیتا ہے پھر وہ شخص اسی حالت میں مر جاتا ہے، تو ایسا شخص زمانہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔

مُعَاوِيَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4573

chevron_left Previous
1…789…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr