Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ بَيْعَةِ الْأَئِمَّةِ وَمَا يُسْتَحَبُّ لَهُمْ · حديث 4550

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدًا بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَأَتَاهُ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، قَالَ: فَاشْتَرَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايعْ أَحَدًا عَلَى الْهِجْرَةِ حَتَّى يَسْأَلَهُ: «أَعْبُدٌ هُوَ؟ »

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک غلام نے نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر ہجرت کی بیعت کی پھر اس کا مالک اسے تلاش کرتا ہوا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دو سیاہ فام غلاموں کے عوض میں اس غلام کو خرید لیا اس کے بعد آپ ﷺ نے کسی بھی شخص کی بیعت اس وقت تک نہیں کی جب تک اس سے پہلے آپ ﷺ دریافت نہیں کر لیتے تھے کہ کیا وہ غلام ہے۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the sale of imams and what is desirable for them · Hadith 4550

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ بَيْعَةِ الْأَئِمَّةِ وَمَا يُسْتَحَبُّ لَهُمْ · حديث 4551

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: «بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ [ص:416] الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا أَرْفَعُ غُصْنَ الشَّجَرَةِ عَنْ وَجْهِهِ، فَبَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ لَمْ نُبَايعْهُ عَلَى الْمَوْتِ، قُلْنَا لَهُ: كَمْ كُنْتُمْ؟، قَالَ: أَلْفٌ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ»

حضرت معقل بن یسا ر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حدیبیہ کے دن ہم نے نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر بیعت کی میں آپﷺ کے چہرہ مبارک سے درخت کی ایک شاخ کو اٹھا رہا تھا ہم نے آپ ﷺ کی بیعت اس بات پر کی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے ہم نے موت پر آپﷺ کی بیعت نہیں کی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے حضرت معقل رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اس وقت آپ کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: ایک ہزار چار سو۔

وَجْهِهِ، فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ← أَرْفَعُ غُصْنَ الشَّجَرَةِ ← «بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ← مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← خالد بن عبد الله الطحان ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the sale of imams and what is desirable for them · Hadith 4551

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ بَيْعَةِ الْأَئِمَّةِ وَمَا يُسْتَحَبُّ لَهُمْ · حديث 4552

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَالْحَوْضِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَقِّنُنَا: «عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا اسْتَطَعْنَا»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر ہم بیعت کرتے تھے، تو آپﷺ ہمیں یہ تلقین کرتے تھے: (تم یہ کہو) ہم اپنی استظاعت کے مطابق اطاعت و فرمانبرداری کرنے ( کی بیعت کرتے ہیں)

كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ يُلَقِّنُنَا: «عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا اسْتَطَعْنَا» ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ وَالْحَوْضِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the sale of imams and what is desirable for them · Hadith 4552

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ بَيْعَةِ الْأَئِمَّةِ وَمَا يُسْتَحَبُّ لَهُمْ · حديث 4553

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ يُبَايِعْنَهُ، فَقُلْنَ: نُبَايِعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ، وَلَا نَزْنِيَ، وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا، وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا، وَلَا نَعْصِيَكَ فِي مَعْرُوفٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ»، قَالَتْ: فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا، هَلُمَّ نُبَايِعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ، إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ، أَوْ مِثْلَ قَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ»

سیّدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ خواتین کے ہمراہ حاضر ہوئی جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر بیعت کرنی تھی ان خواتین نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! ہم آپ کے دست اقدس پر اس بات کی بیعت کرتی ہیں کہ ہم کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی ہم چوری نہیں کریں گی ہم زنا نہیں کریں گی ہم اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی ہم اپنی طرف سے بنا کر کسی پر جھوٹا الزام نہیں لگائیں گی اور ہم نیکی کے کام میں آپﷺ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اپنی استظاعت کے مطابق اور طاقت کے مطابق ( اس پر عمل کرنا) وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول ہماری اپنی جان سے زیادہ ہمارے بارے میں رحم دل ہیں، یارسول اللہ ﷺ! آپ آگے ہاتھ بڑھائیے تا کہ ہم آپﷺ کی بیعت کریں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتا میں ایک سو خواتین کے ساتھ جس طرح بات کرتا ہوں اسی طرح ایک خاتون کے ساتھ بات کرتا ہوں ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي نِسْوَةٍ يُبَايِعْنَهُ، فَقُلْنَ: نُبَايِعُكَ ← أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ، أَنَّهَا ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the sale of imams and what is desirable for them · Hadith 4553

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ بَيْعَةِ الْأَئِمَّةِ وَمَا يُسْتَحَبُّ لَهُمْ · حديث 4554

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ تَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ «{لَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ} [الممتحنة: 12]»، الْآيَةُ، قَالَتْ: فَوَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى رَأْسِهَا حَيَاءً، فَأَعْجَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى مِنْهَا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: قَرِّي أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ، فَوَاللَّهِ مَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى هَذَا، فَبَايَعَهَا بِالْآيَةِ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیّدہ فاطمہ بن عتبہ بن ربیعہ بیعت کرنے کے لیے آئی نبی اکرم ﷺ نے ان سے اس بات کی بیعت لی کہ وہ چوری نہیں کریں گی اور زنا نہیں کریں گی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس خاتون نے اپنا ہاتھ شرم کی وجہ سے اپنے سر پر رکھ لیا۔ نبی اکرم ﷺ کو اس کی اس حرکت پر حیرانگی ہوئی تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس خاتون سے فرمایا: اے خاتون آپ اس بات کا اقرار کیجئے اللہ کی قسم! ہم خواتین نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر اسی بات کی بیعت کرتی ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے آیت کے (حکم کے) مطابق بیعت لی۔

فَوَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى رَأْسِهَا حَيَاءً، فَأَعْجَبَ النَّبِيُّ مَا رَأَى مِنْهَا، ← جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ تَبَايَعَ النَّبِيَّ فَأَخَذَ عَلَيْهَا أَنْ الْآيَةُ، ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the sale of imams and what is desirable for them · Hadith 4554

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ بَيْعَةِ الْأَئِمَّةِ وَمَا يُسْتَحَبُّ لَهُمْ · حديث 4555

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي فُرَاتٌ الْقَزَّازُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا مَاتَ نَبِيٌّ قَامَ نَبِيٌّ، وَأَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ»، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا يَكُونُ بَعْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: «[ص:419] خُلَفَاءُ وَيَكْثُرُونَ»، قَالَ: فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: «أَدُّوا بَيْعَةَ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ، وَأَدُّوا إِلَيْهِمْ مَا لَهُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَنِ الَّذِي لَكُمْ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بنی اسرائیل میں یکے بعد دیگرے انبیاء تشریف لاتے رہے، جب کسی ایک نبی کا انتقال ہوتا تو دوسرے نبی تشرتیف لے آتے، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ کے بعد کیا ہو گا؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خلفاء ہوں گے اور (خلیفہ ہونے کے دعوے دار ) بہت سے لوگ ہوں گے۔ ان صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! پھر آپ اس صورت حال میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اس کی بیعت کو ادا کرنا جس کی پہلے بیعت کی گئی ہو، ان کا جو حق ہے اسے تم ادا کر دینا اور تمہارا جو حق ہے اس کے بارے میں اللہ تعالٰ حساب لے گا“ ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← فُرَاتٌ الْقَزَّازُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the sale of imams and what is desirable for them · Hadith 4555

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4556

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ، بِالْفُسْطَاطِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جس شخص نے حاکم وقت کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے حاکم وقت کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی“ ۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ، بِالْفُسْطَاطِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4556

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4557

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، يَقُولُ لَنَا: «فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر جب اطاعت و فرمانبرداری کی بیعت کرتے تو آپ ﷺ ہم سے یہ فرما دیتے تھے: جہاں تک تمہاری استطاعت ہو ( تم اس پر عمل کرنا)

لَنَا: فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ ← «كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4557

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4558

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، [ص:422] أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلْقَمَةَ بْنَ مَجَزَرٍ الْمُدْلِجِيَّ عَلَى بَعْثٍ أَنَا فِيهِمْ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا عَلَى رَأْسِ غَزَاتِنَا أَوْ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ اسْتَأْذَنَتْهُ طَائِفَةٌ، فَأَذِنَ لَهُمْ، وَأَمَرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيَّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ، وَكَانَتْ فِيهِ دُعَابَةٌ، فَكُنْتُ فِيمَنْ رَجَعَ مَعَهُ، فَبَيْنَا نَحْنُ فِي الطَّرِيقِ نَزَلْنَا مَنْزِلًا، وَأَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا يَصْطَلُونَ بِهَا، أَوْ يَصْنَعُونَ عَلَيْهَا صَنِيعًا لَهُمْ، إِذْ قَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ: أَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمُ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ؟، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَأَنَا آمُرُكُمْ بِشَيْءٍ أَلَا فَعَلْتُمُوهُ؟، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَإِنِّي أَعَزِمُ عَلَيْكُمْ بِحَقِّي وَطَاعَتِي إِلَّا تَوَاثَبْتُمْ فِي هَذِهِ النَّارِ، قَالَ: فَقَامَ نَاسٌ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُمْ وَاثِبُونَ فِيهَا، قَالَ: أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ، إِنَّمَا كُنْتُ أَضْحَكُ مَعَكُمْ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَمَرَكُمْ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا تُطِيعُوهُ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے حضرت علقمہ بن مجزر مدلجی رضی اللہ عنہ کو ایک مہم پر روانہ کیا جس میں، میں بھی شامل تھا ہم لوگ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب ہم جنگ کے مقام پر یا شاید راستے میں کسی جگہ پر پہنچے تو ایک گروہ ان سے اجازت مانگی۔ انہوں نے ان لوگوں کو اجازت دے دی اور حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کر دیا، وہ غزوہ بدر میں شرکت کرنے کا شرف رکھتے تھے ان کے مزاج میں کچھ شوخی تھی میں ان لوگوں میں شامل تھا جو ان کے ساتھ واپس چلے گئے تھے راستے میں ایک جگہ ہم نے پڑاؤ کیا لوگوں نے آگ جلائی اور اس کے ذرکعے اپنے کام کاج کیے اسی دوران حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کیا تم لوگوں پر میری فرمانبرداری لازم نہیں ہے ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کوجس بات کا حکم دوں گا تم اس پر عمل کرو گے؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں ، تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو اپنے حق اور اپنی فرمانبرداری کے حوالے سے تاکید کرتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ۔ راوی کہتے ہیں، تو کچھ لوگ کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ لگا کہ وہ اس میں کود جائیں گے تو انہوں نے کہا: تم لوگ رک جاؤ میں تو تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تھا پھر جب لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو (حکمران یا امیر) تمہیں معصیت کا حکم دے تو اس کی فرمانبرداری نہ کرو۔

عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4558

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4559

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ، [ص:423] عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ: رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ، وَعَصَى إِمَامَهُ، وَمَاتَ عَاصِيًا، وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ أَبَقَ مِنْ سَيِّدِهِ فَمَاتَ، وَامْرَأَةٌ غَابَ زَوْجُهَا وَقَدْ كَفَاهَا مُؤْنَةَ الدُّنْيَا فَخَانَتْهُ بَعْدَهُ، وَثَلَاثَةٌ لَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ: رَجُلٌ يُنَازِعُ اللَّهَ رِدَاءَهُ، فَإِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرُ وَإِزَارَهُ الْعِزُّ، وَرَجُلٌ فِي شَكٍّ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ، وَالْقَانِطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ»

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین لوگ ایسے ہیں، جن کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا، ایک وہ شخص ( جو مسلمان کی) جماعت سے علیحدہ ہو جائے اور اپنے حاکم کی نافرمانی کرے اور نافرمان ہونے کے عالم میں ہی فوت ہو جائے ایک وہ کنیز جو اپنے آقا کو چھوڑ کر بھاگ جائے اور اسی حالت میں فوت ہو جائے ایک وہ عورت جس کا شوہر موجود نہ ہو، وہ شوہر اس عورت کی دنیاوی ضروریات کو پورا کرتا ہو اور وہ عورت اس کی غیر موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت کرے۔ تین لوگ ایسے ہیں، جن کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ ایک وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی چادر کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے مقابلہ کرتا ہے، کیونکہ اس کی چادر کبریائی ہے اور اس کا ازار عزت ہے ایک وہ شخص جو اللہ کے حکم کے بارے میں شک کرتا ہے اور ایک وہ شخص جو اللہ کی رحمت سے مایوس ہو“ ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← أَبِي عَلِيٍّ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ، [ص:423] ← أَبُو هَانِئٍ ← حَيْوَةُ، ← الْمُقْرِئُ ← هَارُونُ بن معروف ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4559

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4560

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ سُهَيْلَ بْنَ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «آمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ آمُرُكُمْ: أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ، وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَتَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَتَفَرَّقُوا، وَتُطِيعُوا لِمَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ: قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا»، أَمْرٌ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي كُلِّ الْأَحْوَالِ، وَقَوْلُهُ: «وَتَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا»، أَرَادَ بِهِ كِتَابَ اللَّهِ، وَهُوَ فَرْضٌ عَلَى بَعْضِ الْمُخَاطَبِينَ الَّذِينَ تَقَعُ بِهِمُ الْحَاجَةُ إِلَى اسْتِعْمَالِهِ فِي حَالٍ دُونَ حَالٍ، «وَتُطِيعُوا لِمَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ»، لَفْظُهُ عَامٌ لَهُ تَخْصِيصَانِ أَحَدُهُمَا: أَنْ يُؤْمَرَ الْمَرْءُ بِمَا لَهُ فِيهِ رِضًى، وَالثَّانِي إِذَا أُمِرَ مَا اسْتَطَاعَ دُونَ مَا لَا يَسْتَطِيعُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں تمہیں تین باتوں کا حکم دیتا ہوں اور تمہیں تین چیزوں سے منع کرتا ہوں میں تمہیں اس بات کا حکم دیتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو کسی کو اس کا شرک نہ ٹھہراؤ تم سب لوگ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور فرقہ بندی کا شکار نہ ہو اور تم لوگ اس شخص کی اطاعت کرو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاملے کا نگران (یعنی حاکم وقت) بنایا ہے اور میں تمہیں فضول بحث کرنے، بکثرت (غیر ضروری) سوالات کرنے اور مال کو ضائع کرنے سے منع کرتا ہوں“ ۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان کہ” تم اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ“ یہ ایک ایسا فرض حکم ہے، جو تمام مخاطب لوگوں پر ہر حالت میں فرض ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان کہ ” تم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو“۔ اللہ کی رسی سے مراد اللہ کی کتاب ہے اور یہ حکم بعض مخاطب افراد پر فرض ہے اس حکم پر عمل کرنے کی انہیں بعض صورتوں میں ضرورت پیش آتی ہے، جو کسی حالت میں ہوتی ہے کسی حالت میں نہیں ہوتی اور ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے معاملے کا نگران بنایا ہو اس کی تم اطاعت کرو“۔ یہاں الفاظ عام ہیں، لیکن اس میں دو قسم کی تخصیص پائی جاتی ہے ایک یہ کہ آدمی کو اس بات کا حکم دیا جائے جس میں (اللہ تعالیٰ کی) رضامندی پائی جاتی ہو اور دوسرا یہ کہ آدمی کو وہ حکم دیاجائے جس کو پورا کرنے کی اس میں استظاعت ہو، وہ حکم نہ دیا جائے جو اس کی استظاعت سے باہر ہو۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4560

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ طَاعَةِ الْأَئِمَّةِ · حديث 4561

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ الطَّائِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، يَقُولُ لَنَا: «فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر اطاعت اور فرمانبرداری کی بیعت کرتے تھے، تو آپﷺ ہم سے یہ فرماتے تھے۔ ”جتنی تم میں استظاعت ہو“ (اس کے مطابق تم اس پر عمل کرو گے)۔

لَنَا: فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ ← «كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of obedience to the imams · Hadith 4561

chevron_left Previous
1…678…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr