صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4538
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: «ائْذَنِي لَهُ، فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ»، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ، فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ، فَلَمَّا دَخَلَ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْ عَائِشَةُ، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ، أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ»
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے اند آنے کی اجازت دے دو یہ اپنے خاندان کا بہت برا شخص ہے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) جب وہ شخص اندر آیا، تو نبی اکرم ﷺ نے س کے ساتھ نرمی کے ساتھ بات چیت کی جب وہ چلا گیا تو میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے اس کے بارے میں پہلے، تو یہ بات ارشاد فرمائی تھی پھر آپ ﷺ نے اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے سائشہ! اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قدرو منزلت کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے برا شخص وہ ہو گا، جسے لوگ اس کے شر سے بچنے کے لیے ( اس کے حال پر) چھوڑیں (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)
عَائِشَةَ تَقُولُ: اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ رَجُلٌ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ
Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4538
