Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4538

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: «ائْذَنِي لَهُ، فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ»، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ، فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ، فَلَمَّا دَخَلَ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْ عَائِشَةُ، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ، أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے اند آنے کی اجازت دے دو یہ اپنے خاندان کا بہت برا شخص ہے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) جب وہ شخص اندر آیا، تو نبی اکرم ﷺ نے س کے ساتھ نرمی کے ساتھ بات چیت کی جب وہ چلا گیا تو میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے اس کے بارے میں پہلے، تو یہ بات ارشاد فرمائی تھی پھر آپ ﷺ نے اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے سائشہ! اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قدرو منزلت کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے برا شخص وہ ہو گا، جسے لوگ اس کے شر سے بچنے کے لیے ( اس کے حال پر) چھوڑیں (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)

عَائِشَةَ تَقُولُ: اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ رَجُلٌ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4538

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4539

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَّبَ إِلَيْهِ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ، وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ، وَقَدِيدٌ، قَالَ أَنَسٌ: «فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ»، قَالَ: «فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک درزی نے نبی اکرم ﷺ کی دعوت کی اس نے آپ ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا تھا حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گیا اس نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ”جو “کی نبی ہوئی روٹی اور شوربا پیش کیا جس میں کدو تھا اور گوشت تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ پیالے میں کدو تلاش کر رہے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس دن کے بعد میں ہمیشہ کدو کو پسند کرتا ہوں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ، اَنَّہٗ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4539

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4540

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فِي ذَاتِ السَّلَاسِلِ، فَسَأَلَهُ أَصْحَابُهُ أَنْ يُوقِدُوا نَارًا، فَمَنَعَهُمْ، فَكَلَّمُوا أَبَا بَكْرٍ، فَكَلَّمَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا يُوقِدُ أَحَدٌ مِنْهُمْ نَارًا إِلَّا قَذَفْتُهُ فِيهَا، قَالَ: فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَهَزَمُوهُمْ، فَأَرَادُوا أَنْ يَتَّبِعُوهُمْ، فَمَنَعَهُمْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ذَلِكَ الْجَيْشُ ذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَكَوْهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آذَنَ لَهُمْ أَنْ يُوقِدُوا نَارًا فَيَرَى عَدُوُّهُمْ قِلَّتَهُمْ، وَكَرِهْتُ أَنْ يَتَّبِعُوهُمْ فَيَكُونُ لَهُمْ مَدَدٌ فَيُعْطِفُوا عَلَيْهِمْ، فَحَمِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «لِمَ؟ » قَالَ: لَأُحِبُّ مَنْ تُحِبُّ، قَالَ: «عَائِشَةُ»، قَالَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ*»

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے انہیں، جنگ ذات سلاسل میں بھیجا ان کے ساتھیوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ آگ جلا لیں، تو حضرت عمر و رضی اللہ عنہ نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا لوگوں نے اس بارے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بات کی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے بات کی تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو بھی شخص آگ جلائے گا میں اسے اس آگ میں ڈال دوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب ان لوگوں کا دشمن سے سامنا ہوا تو انہوں نے دشمن کو شکست دے دی (دشمن بھاگ کھڑا ہوا) ان لوگوں نے ان کے پیچھے جانے کا ارادہ کیا، تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں روک لیا جب یہ لشکر واپس آیا، تو لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا اور حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی شکایت لگائی تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں نے اس لیے انہیں آگ جلانے کی اجازت نہیں دی، کیونکہ دشمن کو ان کی تعداد کی کمی کا اندازہ ہو جاتا تھا اور میں نے س لیے انہیں دشمن کے پیچھے نہیں جانے دیا کہ اگر دشمن کو کہیں سے مدد حاصل ہو گئی تو وہ ان پر غالب آ جائے گا، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے فیصلے کی تعریف کی انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو۔ انہوں نے عرض کی : اس لیے تا کہ آپﷺ جس سے محبت کرتے ہیں میں بھی اس سے محبت رکھوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عائشہ۔ انہوں نے دریافت کیا: مردوں میں کون ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابوبکر

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4540

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4541

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِمَّنْ لَقِيَ الْوَفْدَ، وَذكَرَ أَبَا نَضْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَدْعُو لَهُ مَنْ وَرَاءِنَا مِنْ قَوْمِنَا، وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ أَوْ عَمِلْنَا، فَقَالَ: «آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُوا [ص:406] الصَّلَاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَتَصُومُوا رَمَضَانَ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا عِلْمُكَ بِالنَّقِيرِ؟، قَالَ: «الْجِذْعُ تَنْقُرُونَهُ وَتُلْقُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ، أَوِ التَّمْرِ، ثُمَّ تَصُبُّونَ عَلَيْهِ الْمَاءَ كَيْ يَغْلِيَ، فَإِذَا سَكَنَ شَرِبْتُمُوهُ، فَعَسَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَضْرِبَ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ»، قَالَ: وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ بِهِ ضَرْبَةٌ كَذَلِكَ، قَالَ: كُنْتُ أُخَبِّأَهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَفِيمَ تَأْمُرُنَا أَنْ نَشْرَبَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: «اشْرَبُوا فِي أَسْقِيَةِ الْأَدَمِ الَّتِي تُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضُنَا كَثِيرُ الْجِرْذَانِ لَا يَبْقَى بِهَا أَسْقِيَةُ الْأَدَمِ، قَالَ: «وَإِنْ أَكَلَهَا الْجِرْذَانُ»، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: «إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عبدالقیس قبیلے کا وفد جب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ہم ربیعہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے کفار رہتے ہیں اس لیے ہم صرف حرمت والے مہینے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں آپ ہمیں ایسی چیز کا حکم دیجئے جس کی ہم اپنے پیچھے موجود اپنی قوم کے افراد کو تعلیم دیں اور اس وقت جب ہم اس کو اختیار کریں اور اس پر عمل کریں۔ اس کے ذریعے جنت میں داخل ہو جائیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں ( میں تمہیں یہ حکم دیتا ہوں) تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور مالِ غنیمت میں سے خمس ادا کرو اور میں چار چیزوں سے تمہیں منع کرتا ہوں دباء، حنتم، مزفت، نقیر۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! نقیر کے بارے میں آپ ﷺ کیا جانتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کھجور کے تنے کو سوراخ کر کے اس میں تم لوگ چھوہارے یا کھجور ڈال دیتے ہو پھر تم اس پر پانی انڈیل دیتے ہو تا کہ اس میں جوش آ جائے پھر جب وہ پر سکون ہو جائے، تو تم اسے پی لیتے ہو، تو ہو سکتا ہے (اسے پینے کے بعد نشے کی حالت میں ) کوئی شخص اپنے چچا زاد کو اپنی تلوار کے ذریعے قتل کر دے۔ راوی بیان کرتے ہیں: حاضرین میں سے ایک شخص نے ایسا کیا ہوا تھا وہ صاحب کہتے ہیں میں نبی اکرم ﷺ سے حیا کرتے ہوئے اس بات کو چھپایا ہوا تھا۔ لوگوں نے عرض کی: پھر آپﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں اللہ کے نبی ہم کیا پئیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ چمڑے سے بنے ہوئے مشکیزے میں پانی پیو جس کے منہ کو بند کیا گیا ہے۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! ہماری سرزمین پر چوہے بہت زیادہ ہیں وہ چمڑے کی کسی چیز کو باقی نہیں رہنے دیتے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگرچہ اسے چوہے نے کاٹ لیا ہو یہ بات آپ ﷺ نے دو مرتبہ یا تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے عبدالقیس قبیلے کے سردار سے فرمایا: تمہارے اندر دو خصوصیات ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے برباری اور مروت۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← غَيْرُ وَاحِدٍ مِمَّنْ لَقِيَ الْوَفْدَ، وَذكَرَ أَبَا نَضْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4541

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4542

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ، لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، قَالَ: «فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا، قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِهِمْ فَجَزَّأَهُمْ، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً»

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مرنے کے قریب چھ غلام آزاد کر دئیے اس شخص کے پاس ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی تو نبی اکرم ﷺ نے اس بارے میں شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں بلایا ان کے حصے کیے پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور دو کو آزاد قرار دیا اور چار کو غلام رہنے دیا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4542

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4543

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا فِي نَفَرٍ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا، فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا، وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا، وَفَزِعْنَا، فَكُنْتُ أَوَّلُ مَنْ فَزِعَ، فَخَرَجْتُ أُتْبِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْتَ حَائِطًا لِلْأَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ، فَدُرْتُ لَهُ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا، فَإِذَا رَبِيعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ الْحَائِطِ مِنْ خَارِجِهِ، وَالرَّبِيعُ: الْجَدْوَلُ، فَاحْتَفَزْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَبُو هُرَيْرَةَ؟ » فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «مَا جَاءَ بِكَ؟ »، قُلْتُ: قُمْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا، فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا، [ص:409] وَكُنْتُ أَوَّلُ مَنْ فَزِعَ، فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ، فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ، وَهَؤُلَاءِ النَّاسُ وَرَائِي، فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ» وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ، وَقَالَ: «اذْهَبْ بِنَعْلَيَّ هَاتَيْنِ فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ»، فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا هَاتَانِ النَّعْلَانِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قُلْتُ: هَاتَانِ نَعْلَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَنِي بِهِمَا فَمَنْ لَقِيتُ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَضَرَبَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ خَرَرْتُ لِاسْتِي، فَقَالَ: ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَرَجَعْتُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجْهَشْتُ بِالْبُكَاءِ، وَأَدْرَكَنِي عُمَرُ عَلَى أَثَرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «مَا لَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ »، قُلْتُ: لَقِيتُ عُمَرَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ، فَضَرَبَنِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لِاسْتِي، فَقَالَ: ارْجِعْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عُمَرُ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟ »، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، بَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ: مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ يُبَشِّرُهُ بِالْجَنَّةِ؟، قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَخَلِّهِمْ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ہم چھ افراد تھے۔ نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان سے اٹھ کر تشریف لے گئے آپ ﷺ کو آنے میں تاخیر ہو گئی تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ ﷺ کو روک نہ دیا گیا ہو (یعنی کوئی نقصان نہ پہنچایا گیا ہو) ہم گھبرا گئے سب سے پہلے میں گھبرا کر نبی اکرم ﷺ کے پیچھے گیا، یہاں تک کہ میں نبو نجار سے تعلق رکھنے والے ایک انصاری کے باغ کے پاس آیا میں نے اس کے اردگرد چکر لگایا کہ کیامجھے اس کے اندر جانے کا دروازہ ملتا ہے، تو وہاں ایک درخت کی شاخ باغ کی دیوار سے اندر جاری رہی تھی۔ (راوی کہتے ہیں: ) ربعی جدول کو کہتے ہیں۔ میں نے اسے ہٹایا اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گیا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم ابو ہریرہ ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، یارسول اللہ ﷺ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم کیوں آئے ہو؟ میں نے عرض کی: آپﷺ ہمارے درمیان سے اٹھ کر تشریف لے گئے پھر آپ ﷺ کافی دیر تک ہمارے پاس تشریف نہیں لائے، تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ ﷺ کو راستے میں روک نہ لیا گیا ہو، تو ہم گھبرا گئے سب سے پہلے میں گھبرا کر اٹھا اور اس باغ میں آ گیا میں اس میں یوں داخل ہوا ہوں جس طرح لومڑی داخل ہوتی ہے لوگ میرے پیچھے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! آپ نے اپنے نعلین مجھے عطا کیے اور آپ نے فرمایا: میرے یہ نعلین لے کر جاؤ اور اس سے باغ سے باہر تمہیں جو بھی ایسا شخص ملتا ہے، جو دل کے یقین کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) سب سے پہلے میری ملاقات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے دریافت کیا: اے ابوہریرہ! یہ نعلین کس کے ہیں؟ میں نے جواب دیا: یہ نبی اکرم ﷺ کے نعلین ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے (یہ نشانی کے طور پر مجھے دئیے ہیں) اور مجھے ان کے ہمراہ بھیجا ہے، اس باغ کے باہر مجھے جو بھی ایسا شخص ملتا ہے، جو یقین قلب کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو میں سے جنت کی خوشخبری دے دوں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ میرے سینے پر مارا تو میں الٹا ہو کر پیچھے گر گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! واپس جاؤ۔ میں واپس نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا؟ میں نے عرض کی : اور میں رو رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی میرے پاس آ گئے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: ابوہریرہ کیا ہوا میری ملاقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے انہیں اس پیغام کے بارے میں بتایا جس کے ہمراہ آپ نےمجھے بھیجا تھا تو انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا کہ میں الٹا ہو کر گر گیا انہوں نے کہا: تم واپس جاؤ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے عمر! تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان ہوں آپﷺ کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے یہ اسے جنت کی بشارت دیدے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں۔ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ ایسا نہ کیجئے ، کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے، اس صورت میں لوگ اسی پر تکیہ کر لیں گے آپﷺ انہیں عمل کرنے دیجئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم انہیں کرنے دو۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو كَثِيرٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عمر بن يونس الحنفي ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4543

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4544

َخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، فَقَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، فَقَامَ بِنَاحِيَةٍ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ - أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ -، «ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَصَلُّوا، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُمْ تَوَضَّؤُوا»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (ایک مرتبہ) عشاء کی نماز قائم ہو گئی ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کھڑا ہوا اس نے عرض کی: مجھے آپ ﷺ سے ایک کام ہے نبی اکرم ﷺ (مسجد کے) ایک گوشے میں ( اس شخص کے ہمراہ) کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ لوگ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کچھ لوگ اونگھنے لگے پھر نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے نماز ادا کی لوگوں نے بھی نماز ادا کی۔ راوی نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ ان لوگوں نے از سر نو وضو کیا تھا ( یا وضو نہیں کیا تھا)۔

أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، فَقَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← َخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4544

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ بَيْعَةِ الْأَئِمَّةِ وَمَا يُسْتَحَبُّ لَهُمْ · حديث 4545

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ»

حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر نماز قائم کرنے ، زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے کی بیعت کی تھی۔

«بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ» ← جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the sale of imams and what is desirable for them · Hadith 4545

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ بَيْعَةِ الْأَئِمَّةِ وَمَا يُسْتَحَبُّ لَهُمْ · حديث 4546

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: «بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ»، فَكَانَ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا أَوْ بَاعَهُ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ: اعْلَمْ أَنَّ مَا أَخَذْنَا مِنْكَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِمَّا أَعْطَيْنَاكَهُ فَاخْتَرْ

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر اطاعت و فرمانبرداری کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی رکھنے کی بیعت کی تھی۔ (راوی کہتے ہیں) ان کا ( یعنی نبی اکرم ﷺ کا یا شاید حضرت جریر رضی اللہ عنہ کا) یہ معمول تھا کہ جب وہ کوئی چیز خریدتے تھے یا کوئی چیز فروخت کرتے تھے، تو دوسرے فریق یہ کہتے تھے: یہ بات جان لو کہ ہم نے جو چیز تم سے حاصل کی ہے وہ ہمارے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے، جو ہم نے تمہیں دی ہے، تو اب تمہیں اختیار ہے (یعنی تم سودا مکمل کر لو)

جَرِيرٌ ← أَبِي زُرْعَةَ ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the sale of imams and what is desirable for them · Hadith 4546

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ بَيْعَةِ الْأَئِمَّةِ وَمَا يُسْتَحَبُّ لَهُمْ · حديث 4547

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا [ص:413] أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: «بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُومَ، أَوْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُ مَا كُنَّا، لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: «سَمِعَ عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر آسانی، تنگی اور پسندیدگی اور زبردستی ہر حال میں فرمانبرداری کرنے کی بیعت کی تھی اور اس بات کی بیعت کی تھی کہ ہم حکومت کے معاملے میں حکمرانوں سے کوئی جھگڑا نہیں کریں گے اور ہم حق کو قائم رکھیں گے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) حق کے مطابق بات کہیں گے خواہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں اور ہم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہیں کریں گے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) عبادہ بن ولید نے حضرت عباد بن صامت رضی اللہ عنہ سے حدیث کا سماع کیا ہے۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the sale of imams and what is desirable for them · Hadith 4547

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ بَيْعَةِ الْأَئِمَّةِ وَمَا يُسْتَحَبُّ لَهُمْ · حديث 4548

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، يَقُولُ لَنَا: » فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ «

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم نے نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر اطاعت وفرمانبرداری کی بیعت کی تو آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: جہاں تک تمہاری استطاعت ہو (تم اس پر عمل کرو گے)

لَنَا: فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ ← «كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the sale of imams and what is desirable for them · Hadith 4548

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ بَيْعَةِ الْأَئِمَّةِ وَمَا يُسْتَحَبُّ لَهُمْ · حديث 4549

أَخْبَرَنَا السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نُبَايعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، يَقُولُ لَنَا: «فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر اطاعت و فرمانبرداری کی بیعت کی تو آپﷺ نے ہم سے فرمایا: جہاں تک تمہاری استطاعت ہو (تم اس پر عمل کرو گے)

لَنَا: فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ ← كُنَّا نُبَايعُ رَسُولَ اللَّهِ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← السَّامِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the sale of imams and what is desirable for them · Hadith 4549

chevron_left Previous
1…567…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr