صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4526
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ [ص:385] أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَا: وَاللَّهِ لَوْ بَعَثَنَا هَذَيْنِ الْغُلَامَيْنِ، قَالَ: لِي وَلِلْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ، فَأَدَّيَا مَا يُؤَدِّي النَّاسُ، وَأَصَابَا مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَةِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُمَا فِي ذَلِكَ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: مَاذَا تُرِيدَانِ؟ فَأَخْبَرَاهُ بِالَّذِي أَرَادَا، فَقَالَ: لَا تَفْعَلَا، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ بِفَاعِلٍ، فَقَالَا: لِمَ تَصْنَعُ هَذَا، فَمَا هَذَا مِنْكَ إِلَّا نَفَاسَةٌ عَلَيْنَا فَوَاللَّهِ لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنِلْتَ صِهْرَهُ، فَمَا نَفِسْنَا ذَلِكَ عَلَيْكَ، فَقَالَ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ أَرْسِلُوهُمَا، ثُمَّ اضْطَجَعَ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ سَبَقْنَاهُ إِلَى الْحُجْرَةِ، فَقُمْنَا عِنْدَهَا حَتَّى مَرَّ بِنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بِآذَانِنَا، وَقَالَ: «أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ»، وَدَخَلَ، فَدَخَلْنَا مَعَهُ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي بَيْتِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَ: فَكَلَّمْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْنَاكَ لِتُؤَمِّرَنَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَنُصِيبُ مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَةِ، وَنُؤَدِّي إِلَيْكَ مَا يُؤَدِّي النَّاسُ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ، حَتَّى أَرَدْنَا أَنْ نُكَلِّمَهُ، قَالَ: فَأَشَارَتْ إِلَيْنَا زَيْنَبُ مِنْ وَرَاءِ حِجَابِهَا كَأَنَّهَا تَنْهَانَا عَنْ كَلَامِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ، فَقَالَ: «أَلَا إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِمُحَمَّدٍ، وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ»، ادْعُ لِي مَحْمِيَةَ بْنَ جُزْءٍ - وَكَانَ عَلَى الْعُشُورِ -، وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ «، قَالَ: فَأَتَيَا، فَقَالَ لِمَحْمِيَةَ: » أَنْكِحْ هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَكَ «، لِلْفَضْلِ، فَأَنْكَحَهُ، وَقَالَ لِأَبِي سُفْيَانَ: » أَنْكِحْ [ص:386] هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَكَ «، قَالَ: فَأَنْكَحَنِي، ثُمَّ قَالَ لِمَحْمِيَةَ: » أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ «
عبدالمطلب بن ربیعہ بیان کرتے ہیں: حضرت ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس بن عبدالمطلبرضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم ان دو لڑکوں کو (نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجیں، تو یہ مناسب ہو گا) راوی کہتے ہیں: انہوں نے مجھے اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجا تا کہ نبی اکرم ﷺ ان دونوں کو زکوٰۃ کی وصولی کا نگران مقرر کر دیں اور جو تنخواہ لوگوں کو دیتے ہیں انہیں بھی دیا کریں اور جو فائدہ لوگوں کو حاصل ہوتا ہے ان دونوں کو بھی حاصل ہو ۔ راوی کہتے ہیں: یہ دونوں صاحبان ابھی وہیں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران حضرت علی بن ابو طالبرضی اللہ عنہ تشریف لے آئے انہوں نے دریافت کیا: آپ دونوں کیا چاہتے ہیں؟ ان دونوں صاحبان نے اپنے ارادے کے بارے میں انہیں بتایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ دونوں ایسا نہ کریں اللہ کی قسم ! نبی اکرمﷺ ایسا نہیں کریں گے ان دونوں نے دریافت کیا: یہ آپ کیوں کہہ رہے ہیں؟ یہ آپ صرف ہمارے ساتھ حسد کی وجہ سے کہہ رہے ہیں۔ آپ کو نبی اکرم ﷺ کا ساتھ نصیب ہوا، آپ نبی اکرم ﷺ کے داماد ہیں، لیکن ہم نے تو آپ سے حسد نہیں کیا۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نےفرمایا: میں ابوالحسن ہوں تم ان دونوں کو بھیج دو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ لیٹ گئے جب نبی اکرم ﷺ نے ظہر کی نماز ادا کر لی تو ہم آپﷺ سے پہلے ہی آپ ﷺ کے حجرہ مبارک کے پاس آکر کھڑے ہو گئے جب نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے ہمارے کان پکڑے اور فرمایا: جو تمہارے ذہن میں ہے بیان کرو پھر نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ کے ہمراہ ہم بھی اندر گئے اس دن نبی اکرم ﷺ سیّدہ زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں مقیم تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم دونوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں بات چیت کی ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تا کہ آپ ہمیں زکوٰۃ وصول کرنے کا نگران مقرر کریں اور اس جو فائدہ لوگوں کو ہوتا ہے وہ ہمیں بھی حاصل ہو (یعنی ہمیں بھی تنخواہ ملے) ہم بھی آپ کو وہ چیز ادا کریں گے جو لوگ ادا کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں، نبی اکرم ﷺ خاموش رہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھا کر گھر کی چھت کی طرف دیکھا، یہاں تک کہ ہم نے یہ خواہش کی کہ آپ سے اس بارے میں بات چیت نہ کی ہوتی۔ راوی بیان کرتے ہیں: پردے کے پیچھے سے سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ہمیں اشارہ کیا کہ ہم نبی اکرم ﷺ سے بات نہ کریں پھر نبی اکرم ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: خبردار! محمد اور محمد کے گھر والوں کے لیے زکوٰۃ مناسب نہیں ہے”یہ لوگوں کا مال ہے تم محمیہ بن جزء کو میرے پاس بلا کر لاؤ یہ صاحبعشر“ وصول کرنے کے نگران تھے اور ابو سفیان بن حارث کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ راوی کہتے ہیں: وہ دونوں حضرات آ گئے، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اس لڑکے کی شادی اپنی بیٹی کے ساتھ کر دو۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات حضرت فضل رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمائی تو انہوں نے ان کے ساتھ شادی کر دی۔ نبی اکرم ﷺ نے ابو سفیان بن حارث سے فرمایا: اس لڑکے کی شادی اپنی بیٹی کے ساتھ کر دو۔ راوی کہتے ہیں، تو انہوں نے میری شادی کر دی پھر انبی اکرم ﷺ نے حضرت محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: خمس میں سے ان دونوں کا مہر ادا کر دو۔
عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِیِّ
Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4526
