Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4526

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ [ص:385] أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَا: وَاللَّهِ لَوْ بَعَثَنَا هَذَيْنِ الْغُلَامَيْنِ، قَالَ: لِي وَلِلْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّرَهُمَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ، فَأَدَّيَا مَا يُؤَدِّي النَّاسُ، وَأَصَابَا مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَةِ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُمَا فِي ذَلِكَ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: مَاذَا تُرِيدَانِ؟ فَأَخْبَرَاهُ بِالَّذِي أَرَادَا، فَقَالَ: لَا تَفْعَلَا، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ بِفَاعِلٍ، فَقَالَا: لِمَ تَصْنَعُ هَذَا، فَمَا هَذَا مِنْكَ إِلَّا نَفَاسَةٌ عَلَيْنَا فَوَاللَّهِ لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنِلْتَ صِهْرَهُ، فَمَا نَفِسْنَا ذَلِكَ عَلَيْكَ، فَقَالَ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ أَرْسِلُوهُمَا، ثُمَّ اضْطَجَعَ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ سَبَقْنَاهُ إِلَى الْحُجْرَةِ، فَقُمْنَا عِنْدَهَا حَتَّى مَرَّ بِنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بِآذَانِنَا، وَقَالَ: «أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ»، وَدَخَلَ، فَدَخَلْنَا مَعَهُ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي بَيْتِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَ: فَكَلَّمْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْنَاكَ لِتُؤَمِّرَنَا عَلَى هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَنُصِيبُ مَا يُصِيبُ النَّاسُ مِنَ الْمَنْفَعَةِ، وَنُؤَدِّي إِلَيْكَ مَا يُؤَدِّي النَّاسُ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ، حَتَّى أَرَدْنَا أَنْ نُكَلِّمَهُ، قَالَ: فَأَشَارَتْ إِلَيْنَا زَيْنَبُ مِنْ وَرَاءِ حِجَابِهَا كَأَنَّهَا تَنْهَانَا عَنْ كَلَامِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ، فَقَالَ: «أَلَا إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِمُحَمَّدٍ، وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ»، ادْعُ لِي مَحْمِيَةَ بْنَ جُزْءٍ - وَكَانَ عَلَى الْعُشُورِ -، وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ «، قَالَ: فَأَتَيَا، فَقَالَ لِمَحْمِيَةَ: » أَنْكِحْ هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَكَ «، لِلْفَضْلِ، فَأَنْكَحَهُ، وَقَالَ لِأَبِي سُفْيَانَ: » أَنْكِحْ [ص:386] هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَكَ «، قَالَ: فَأَنْكَحَنِي، ثُمَّ قَالَ لِمَحْمِيَةَ: » أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ «

عبدالمطلب بن ربیعہ بیان کرتے ہیں: حضرت ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس بن عبدالمطلبرضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم ان دو لڑکوں کو (نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجیں، تو یہ مناسب ہو گا) راوی کہتے ہیں: انہوں نے مجھے اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجا تا کہ نبی اکرم ﷺ ان دونوں کو زکوٰۃ کی وصولی کا نگران مقرر کر دیں اور جو تنخواہ لوگوں کو دیتے ہیں انہیں بھی دیا کریں اور جو فائدہ لوگوں کو حاصل ہوتا ہے ان دونوں کو بھی حاصل ہو ۔ راوی کہتے ہیں: یہ دونوں صاحبان ابھی وہیں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران حضرت علی بن ابو طالبرضی اللہ عنہ تشریف لے آئے انہوں نے دریافت کیا: آپ دونوں کیا چاہتے ہیں؟ ان دونوں صاحبان نے اپنے ارادے کے بارے میں انہیں بتایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ دونوں ایسا نہ کریں اللہ کی قسم ! نبی اکرمﷺ ایسا نہیں کریں گے ان دونوں نے دریافت کیا: یہ آپ کیوں کہہ رہے ہیں؟ یہ آپ صرف ہمارے ساتھ حسد کی وجہ سے کہہ رہے ہیں۔ آپ کو نبی اکرم ﷺ کا ساتھ نصیب ہوا، آپ نبی اکرم ﷺ کے داماد ہیں، لیکن ہم نے تو آپ سے حسد نہیں کیا۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نےفرمایا: میں ابوالحسن ہوں تم ان دونوں کو بھیج دو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ لیٹ گئے جب نبی اکرم ﷺ نے ظہر کی نماز ادا کر لی تو ہم آپﷺ سے پہلے ہی آپ ﷺ کے حجرہ مبارک کے پاس آکر کھڑے ہو گئے جب نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے ہمارے کان پکڑے اور فرمایا: جو تمہارے ذہن میں ہے بیان کرو پھر نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ کے ہمراہ ہم بھی اندر گئے اس دن نبی اکرم ﷺ سیّدہ زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں مقیم تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم دونوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں بات چیت کی ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تا کہ آپ ہمیں زکوٰۃ وصول کرنے کا نگران مقرر کریں اور اس جو فائدہ لوگوں کو ہوتا ہے وہ ہمیں بھی حاصل ہو (یعنی ہمیں بھی تنخواہ ملے) ہم بھی آپ کو وہ چیز ادا کریں گے جو لوگ ادا کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں، نبی اکرم ﷺ خاموش رہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھا کر گھر کی چھت کی طرف دیکھا، یہاں تک کہ ہم نے یہ خواہش کی کہ آپ سے اس بارے میں بات چیت نہ کی ہوتی۔ راوی بیان کرتے ہیں: پردے کے پیچھے سے سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ہمیں اشارہ کیا کہ ہم نبی اکرم ﷺ سے بات نہ کریں پھر نبی اکرم ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: خبردار! محمد اور محمد کے گھر والوں کے لیے زکوٰۃ مناسب نہیں ہے”یہ لوگوں کا مال ہے تم محمیہ بن جزء کو میرے پاس بلا کر لاؤ یہ صاحبعشر“ وصول کرنے کے نگران تھے اور ابو سفیان بن حارث کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ راوی کہتے ہیں: وہ دونوں حضرات آ گئے، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اس لڑکے کی شادی اپنی بیٹی کے ساتھ کر دو۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات حضرت فضل رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمائی تو انہوں نے ان کے ساتھ شادی کر دی۔ نبی اکرم ﷺ نے ابو سفیان بن حارث سے فرمایا: اس لڑکے کی شادی اپنی بیٹی کے ساتھ کر دو۔ راوی کہتے ہیں، تو انہوں نے میری شادی کر دی پھر انبی اکرم ﷺ نے حضرت محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: خمس میں سے ان دونوں کا مہر ادا کر دو۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِیِّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4526

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4527

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ فُلَانٍ، خُذِي أَيَّ الطُّرُقِ شِئْتِ، فَقُومِي فِيهِ حَتَّى أَقُومَ مَعَكِ»، فَخَلَا مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِيهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون کچھ ذہنی مریض تھی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! مجھے آپ سے ایک کام ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے ام فلاں تم جس بھی جگہ پر چاہو جتنی دیر چاہو میں تمہارے ساتھ ہوں پھر نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات چیت کی، یہاں تک کہ اس عورت نے اپنی ضروریات کو پورا کر لیا۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ، فَقَالَتْ: ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4527

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4528

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: [ص:388] حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَتَبْسُطُ لَهُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ، وَتَأْخُذُ مِنْ عَرَقِهِ فَتَجْعَلُهُ فِي طِيبِهَا، وَتَبْسُطُ لَهُ الْخُمْرَةَ فَيُصَلِّي عَلَيْهَا»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ سیّدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے وہ نبی اکرم ﷺ کے لیے چٹائی بچھا دیتی تھیں نبی اکرم ﷺ اس پر آرام فرمایا کرتے تھے وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کا پسینہ لے کر اپنی خوشبو میں مل لیتی تھیں پھر وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کے لیے چٹائی بچھاتی تھیں، تو نبی اکرم ﷺ اس پر نماز ادا کیا کرتے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← [ص:149] ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَنْبَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4528

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4529

- أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ، قَالَ: خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ بِالْأَذَانِ، وَكَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْعَى بِذِي قَرَدٍ، فَلَقِيَنِي [ص:389] غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ: أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: مَنْ أَخَذَهَا؟، قَالَ: غَطَفَانُ، قَالَ: فَصَرَخْتُ، فَقُلْتُ: يَا صَبَاحَاهُ، فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَى وَجْهِي حَتَّى أَدْرَكْتُ الْقَوْمَ، وَقَدْ أَخَذُوا يَسْتَقُونَ مِنَ الْمَاءِ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ، وَكُنْتُ رَامِيًا، وَجَعَلْتُ أَقُولُ: أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ ... وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ حَتَّى اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ، وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً، قَالَ: وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَاءَ وَهُمْ عِطَاشٌ، فَابْعَثْ إِلَيْهِمُ السَّاعَةَ، فَقَالَ: «يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ، مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ، إِنَّهُمُ الْآنَ بِغَطَفَانَ يُقْرَوْنَ»، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا وَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اذان ہونے سے پہلے (اپنے گھر سے ) نکلا نبی اکرم ﷺ کی اونٹنیاں اس وقت ذی قرد کے مقام پر چل رہی تھیں میری ملاقات حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام سے ہوئی اس نے بتایا: نبی اکرم ﷺ کی انٹنیاں پکڑی گئی ہیں میں نے دریافت کیا: انہیں کس نے پکڑا ہے اس نے جواب دیا : غطفان (قبیلے کے لوگوں نے پکڑا ہے) حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے بلند آواز میں چیخ ماری ”خطرہ ہے“ پورے مدینہ منورہ تک میری آواز گئی پھر میں سامنے کی سمت دوڑ پڑا، یہاں تک کہ میں ان لوگوں کے پاس پہنچ گیا وہ اس وقت پانی پلا رہے تھے میں نے انہیں تیر مارنے شروع کیے میں بڑا اچھا تیر انداز تھا میں ساتھ یہ بھی کہتا جا رہا تھا۔ ”میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کمینے لوگوں کی بربادی کا دن ہے“ ۔ (حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں)، یہاں تک کہ میں نے ان سے اونٹنیوں کو حاصل کر لیا میں نے ان سے تیس چادریں بھی حاصل کر لیں اسی دوران نبی اکرم ﷺ اور لوگ تشریف لے آئے میں عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے ان لوگوں کو پانی پر گھیر لیا تھا وہ لوگ پیاسے ہیں آپ اسی وقت ان کے پیچھے کسی کو روانہ کر دیں ( تو وہ پکڑے جا سکتے ہیں) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے اکوع کے بیٹے تم کامیاب ہو گئے ہو تو بس ٹھیک ہے۔ وہ لوگ اس وقت غفطان قبیلے تک پہنچ چکے ہو ں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم روانہ ہوئے نبی اکرم ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے اپنی انٹنی پر بٹھا لیا، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے۔

خَرَجْتُ قَبْلَ ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4529

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4530

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَالَ الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي بِمَكَّةَ مَالًا، وَإِنَّ لِي بِهَا أَهْلًا، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ آتِيَهُمْ، فَأَنَا فِي حَلٍّ إِنْ أَنَا نِلْتُ مِنْكَ، أَوْ قُلْتُ شَيْئًا، «فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ مَا شَاءَ»، قَالَ: فَأَتَى امْرَأَتَهُ حِينَ قَدِمَ، فَقَالَ: اجْمَعِي لِي مَا كَانَ عِنْدَكَ، فَإِنِّي [ص:391] أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ مِنْ غَنَائِمِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَإِنَّهُمْ قَدِ اسْتُبِيحُوا وَأُصِيبَتْ أَمْوَالُهُمْ، قَالَ: وَفَشَا ذَلِكَ بِمَكَّةَ، فَأَوْجَعَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَظْهَرَ الْمُشْرِكُونَ فَرَحًا وَسُرُورًا، وَبَلَغَ الْخَبَرُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَعَقَرَ فِي مَجْلِسِهِ، وَجَعَلَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُومَ، قَالَ مَعْمَرٌ: فَأَخْبَرَنِي الْجَزَرِيُّ، عَنْ مِقْسَمٍ قَالَ: فَأَخَذَ الْعَبَّاسُ ابْنًا لَهُ يُقَالُ لَهُ: قُثَمٌ، وَكَانَ يُشْبِهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَلْقَى، فَوَضَعَهُ عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ يَقُولُ: حِبِّي قُثَمْ حِبِّي قُثَمْ ........ شَبِيهُ ذِي الْأَنْفِ الْأَشَمْ نَبِيُّ رَبِّ ذِي النِّعَمْ ........ بِرَغْمِ أَنْفِ مَنْ رَغَمَ قَالَ مَعْمَرٌ، قَالَ ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، ثُمَّ أَرْسَلَ غُلَامًا لَهُ إِلَى الْحَجَّاجِ بْنِ عِلَاطٍ فَقَالَ: وَيْلَكَ مَا جِئْتَ بِهِ، وَمَاذَا تَقُولُ؟، فَمَا وَعَدَ اللَّهُ خَيْرٌ * مِمَّا جِئْتَ بِهِ، قَالَ الْحَجَّاجُ لِغُلَامِهِ: أَقْرِئْ أَبَا الْفَضْلِ السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ: فَلْيُخْلِ لِي بَعْضَ بُيُوتِهِ لِآتِيَهُ، فَإِنَّ الْخَبَرَ عَلَى مَا يَسُرُّهُ، فَجَاءَ غُلَامُهُ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ، قَالَ: أَبْشِرْ أَبَا الْفَضْلِ فَوَثَبَ الْعَبَّاسُ فَرَحًا حَتَّى قَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ الْحَجَّاجُ، فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ جَاءَ الْحَجَّاجُ فَأَخْبَرَهُ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ افْتَتَحَ خَيْبَرَ وَغَنَمَ أَمْوَالَهُمْ، وَجَرَتْ سِهَامُ اللَّهِ [ص:392] فِي أَمْوَالِهِمْ، وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، واتَّخَذَهَا لِنَفْسِهِ، وَخَيَّرَهَا بَيْنَ أَنْ يُعْتِقَهَا فَتَكُونُ زَوْجَتُهُ أَوْ تَلْحَقَ بِأَهْلِهَا، فَاخْتَارَتْ أَنْ يُعْتِقَهَا وَتَكُونُ زَوْجَتُهُ»، وَلَكِنِّي جِئْتُ لِمَالٍ كَانَ لِي هَا هُنَا أَرَدْتُ أَنْ أَجْمَعَهُ وأَذْهَبَ بِهِ، فَاسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لِي أَنْ أَقُولَ مَا شِئْتُ، فَاخْفِ عَنِّي ثَلَاثًا، ثُمَّ اذْكُرْ مَا بَدَا لَكَ، قَالَ: فَجَمَعَتِ امْرَأَتُهُ مَا كَانَ عِنْدَهَا مِنْ حُلِيٍّ وَمَتَاعٍ جَمَعَتْهُ فَدَفَعْتُهُ إِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَمَرَّ بِهِ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ثَلَاثٍ أَتَى الْعَبَّاسُ امْرَأَةَ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ زَوْجُكِ، فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ قَدْ ذَهَبَ، وَقَالَتْ: لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَا الْفَضْلِ، لَقَدْ شَقَّ عَلَيْنَا الَّذِي بَلَغَكَ، قَالَ: أَجَلْ لَا يُخْزِينِي اللَّهُ، وَلَمْ يَكُنْ بِحَمْدِ اللَّهِ إِلَّا مَا أَحْبَبْنَاهُ، وَقَدْ أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ، «أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَتَحَ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَرَتْ فِيهَا سِهَامُ اللَّهِ، وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ لِنَفْسِهِ»، فَإِنْ كَانَ لَكِ حَاجَةٌ فِي زَوْجِكِ فَالْحَقِي بِهِ، قَالَتْ: أَظُنُّكَ وَاللَّهِ صَادِقًا، قَالَ: فَإِنِّي صَادِقٌ وَالْأَمْرُ عَلَى مَا أَخْبَرْتُكِ، قَالَ: ثُمَّ ذَهَبَ حَتَّى أَتَى مَجَالِسَ قُرَيْشٍ وَهُمْ يَقُولُونَ: لَا يُصِيبُكَ إِلَّا خَيْرٌ أَبَا الْفَضْلِ، قَالَ: لَمْ يُصِبْنِي إِلَّا خَيْرٌ بِحَمْدِ اللَّهِ، وَقَدْ أَخْبَرَنِي الْحَجَّاجُ، «أَنَّ خَيْبَرَ فَتَحَهَا اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَرَتْ فِيهَا سِهَامُ اللَّهِ، وَاصْطَفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ لِنَفْسِهِ»، وَقَدْ سَأَلَنِي أَنْ أُخْفِيَ عَنْهُ ثَلَاثًا، وَإِنَّمَا جَاءَ لِيَأْخُذَ [ص:393] مَا كَانَ لَهُ ثُمَّ يَذْهَبَ، قَالَ: فَرَدَّ اللَّهُ الْ كَآبَةَ الَّتِي كَانَتْ بِالْمُسْلِمِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ، وَخَرَجَ الْمُسْلِمُونَ مَنْ كَانَ دَخَلَ بَيْتَهُ مُكْتَئِبًا حَتَّى أَتَوُا الْعَبَّاسَ، فَأَخْبَرَهُمُ الْخَبَرَ، فَسُرَّ الْمُسْلِمُونَ، وَرَدَّ اللَّهُ مَا كَانَ مِنْ كَآبَةٍ أَوْ غَيْظٍ، أَوْ خِزْيٍ عَلَى الْمُشْرِكِينَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جن نبی اکرم ﷺ نے خیبر فتح کر لیا تو حضرت حجاج بن علاطرضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! مکہ میں میری زمین ہے اور میرے بال بچے بھی وہاں ہیں میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان کے پاس چلا جاؤں آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں (جھوٹ موٹ کے طور پر ) آپ کے خلاف بات کروں، یا کوئی بات کہوں، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دے دی کہ وہ جا چاہیں کہہ دیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب وہ اپنی بیوی کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا: تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اکٹھا کر کے مجھے دو میں یہ چاہتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ اور ان کے اصحاب سے بکریاں خرید لوں، کیونکہ انہیں اس کی ضرورت ہے اور ان کے اموال تباہ ہو گئے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: یہ بات مکہ میں پھیل گئی اس سے مسلمانوں کو بہت افسوس ہوا اور مشرکین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی یہ اطلاع حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تک بھی پہنچی تو وہ جہاں تھے وہیں بیٹھے رہ گئے ان سے کھڑا بھی نہ ہوا گیا۔ مقسم نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے قثم کو لیا وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے ساتھ لٹا لیا انہیں اپنے سینے پر رکھا ور یہ کہا۔ ”میرا محبوب قثم جو مرتبے والی شخصیت (یعنی نبی اکرم ﷺ) کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے، جو اس پروردگار کے بھیجے ہوئے نبی ہیں جو نعمتیں عطا کرتا ہے خواہ کسی کو یہ کتنا ہی برا لگے“ ۔ حضر ت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر انہوں نے اپنے لڑکے کو حضرت حجاج بن علاط رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور کہا تمہارا ستیاناس ہو تم کیا اطلاع لے کر آئے ہو اور کیا کہتے پھر رہے ہو تم جو اطلاع لے کر آئے ہو اللہ تعالیٰ نے اس شکل میں بھلائی کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ تو حجاج نے حضر ت عباس رضی اللہ عنہ کے غلام سے کہا تم حضرت ابوالفضل رضی اللہ عنہ( یعنی حضرت عباس بن عبدالمطلبرضی اللہ عنہ) کو میری طرف سے سلام کہہ دینا اور ان سے یہ کہنا کہ وہ اپنے گھر میں مجھ سے تنہائی میں ملنے کا موقع دیں انہیں ایسی اطلاع ملے گی جو انہیں خوش کر دے گی۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا غلام آیا اور جب وہ دروازے پر پہنچا تو بولا اے ابوالفضل آپ خوشخبری قبول کیجئے، تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ انتہائی خوش ہوئے، یہاں تک کہ انہوں نے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اس نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بتایا جو حجاج نے اسے بتایا تھا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اس غلام کو آزاد کر دیا پھر حجاج آئے انہوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو صورت حال کے بارے میں بتایا کہ نبی اکرم رضی اللہ عنہ نے خیبر کو فتح کر لیا ہے اور ان لوگوں کا مالِ غنیمت حاصل کر لیا ہے اور ان کے اموال میں اللہ تعالیٰ کا حصہ بھی جاری ہوا ہے اور نبی اکرم ﷺ نے سیّدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو اپنے لیے مخصوص کر لیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کو یہ اختیار دیا ہے، اگر وہ چاہیں، تو نبی اکرم ﷺ انہیں آزاد کر کے ان کے ساتھ شادی کر لیں ورنہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جائے، تو اس خاتون نے اس بات کو اختیار کیا کہ نبی اکرم ﷺ اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی کر لیں۔ (حضرت حجاج نے بتایا) میں اپنے مال کی وجہ سے یہاں آیا ہوں جو یہاں ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ اسے اکٹھا کروں اور اسے ساتھ لے کر چلا جاؤں میں نبی اکرم ﷺ سے اس بات کی اجازت مانگی، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی کہ میں جو چاہوں وہ بیان کر دوں آپ تین دن تک اس بات کو خفیہ رکھیں اس کے بعد آپ جیسے مناسب سمجھیں اس کا ذکر کر دیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان کی اہلیہ نےجو کچھ موجود تھا اس سب کو اکٹھا کیا جس کا تعلق زیورات اور سازوسامان سے تھا اس خاتون نے اسے اکٹھا کیا اور ان کے سپرد کیا، تو وہ اس سامان کو ساتھ لے کر روانہ ہو گئے۔ تین دن گزرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ حضرت حجاج رضی اللہ عنہ کی اہلیہ کے پاس آئے اور دریافت کیا: تمہارے شوہر کا کیا حال ہے اس خاتون نے انہیں بتایا وہ تو چلے گئے ہیں اس خاتون نے کہا: اے ابوالفضل اللہ تعالیٰ آپ کو رسوائی سے محفوظ رکھے آپ تک جو اطلاع پہنچی ہے وہ ہمیں بہت گراں گزری ہے، تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں اللہ تعالیٰ مجھے رسوائی سے محفوظ رکھے، لیکن اللہ کے فضل سے جو ہم پسند کرتے ہیں وہی ہو گا۔ حجاج نے مجھے بتا دیا تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے خیبر کو فتح کر لیا ہے اور خیبر میں اللہ تعالیٰ کا حصہ بھی مقرر ہو گیا ہے اور نبی اکرم ﷺ نے سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنی ذات کے لیے مخصوص کر لیا ہے اور اگر تم اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتہ ہو، تو اس کے پاس چلی جاؤ۔ اس خاتون نے کہا: اللہ کی قسم ! آپ کے بارے میں میرا یہی گمان ہے، آپ سچ بول رہے ہیں، تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سچ ہی بول رہا ہوں اور صورت حال اسی طرح ہے، جس طرح میں تمہیں بتائی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے اور قریش کی محفل میں تشریف لے آئے وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے اے ابوالفضل آپ کو تو ہمیشہ بھلائی ہی لاحق ہوئی ہے، تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب بھی اللہ کے فضل سے مجھے صر ف بھلائی ہی لاحق ہوئی ہے۔ حجاج نے مجھے یہ بات بتائی ہے، اللہ تعالیٰ نے خیبر کو اپنے رسول کے لیے فتح کر دیا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کا حصہ مقرر ہوا ہے اور نبی اکرم ﷺ نے سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنی ذات کے لیے مخصوص کر لیا ہے۔ حجاج نے مجھ سے یہ کہا تھا: میں تین دن تک اس بات کو پوشیدہ رکھوں۔ حجاج یہاں اس لیے آیا تھا تا کہ اس کی جو چیزیں یہاں ہیں وہ انہیں حاصل کر لے اس کے بعد وہ چلا گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو مسلمانوں کو مشرکین کے حوالے سے جو پریشانی تھی اللہ تعالیٰ نے اسے ختم کر دیا اور جو بھی مسلمان اپنے گھر میں چھپ کے بیٹھے ہوئے تھے وہ باہر نکل آئے، یہاں تک کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں اصل صورت حال بتائی تو مسلمان اس سے بہت خوش ہوئے اور انہیں جو دکھ اور پریشانی اور مشرکین کے حوالے سے جو تکلیف تھی وہ اللہ تعالیٰ نے ختم کر دی۔

الْحَجَّاجُ بْنُ عِلَاطٍ: ← لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ خَيْبَرَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4530

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4531

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ حِينَ وُلِدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، فَقَالَ: «هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ؟ »، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ، ثُمَّ فَغَرَفَا الصَّبِيِّ فَمَجَّهُ فِي [ص:394] فِيهِ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حِبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرُ»، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں صاحب زادے عبداللہ کی پیدائش پر اسے ساتھ لے کر ایک چادر میں لپیٹ کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گیا نبی اکرم ﷺ اس وقت (صدقے کے) اونٹوں پر نشان لگا رہے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کھجور ہے میں نے جواب دیا : جی ہاں میں نے کچھ کھجوریں آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیں۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اپنے منہ میں ڈالا انہیں چبایا پھر آپﷺ نے وہ بچے کے منہ میں ڈال دی بچے نے اسے چوسنا شروع کر دیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: انصار کھجوروں سے محبت کرتے ہیں پھر نبی اکرم ﷺ نے اس بچے کا نام عبداللہ تجویز کیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4531

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4532

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ، بِالْأُبُلَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَتْ: يَا أَنَسُ، انْظُرْ هَذَا الْغُلَامَ فَلَا يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُحَنِّكُهُ، قَالَ: فَغَدَوْتُ بِهِ، «فَإِذَا هُوَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَائِطِ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ، وَهُوَ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الْفَتْحِ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سیّدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچےکو جنم دیا، تو انہوں نے فرمایا: اے انس! تم اس بچے کا دھیان رکھنا یہ کوئی چیز نہ کھائے جب تک یہ پہلے نبی اکرم ﷺ کے پاس نہیں جاتا اور آپ ﷺ اسے گھٹی نہیں دیتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہین: میں اس بچےکو لے کر روانہ ہوا نبی اکرم ﷺ اس وقت ایک باغ میں موجود تھے آپﷺ نے چادر اوڑھی ہوئی تھی اور آپ ﷺ ان اونٹوں پر نشان لگا رہے تھے جو فتح کے نتیجے میں آپ ﷺ کے پاس آئے تھے۔

لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدِ بْنِ زُهَيْرٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4532

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4533

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ لِيُحَنِّكَهُ، فَوَافَيْتُهُ بِيَدِهِ الْمِيسَمُ يَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ کو لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا تا کہ آپ اسے گھٹی دیں، تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو پایا کہ آپ ﷺ کے ہاتھ پر نشان لگانے والا آلہ تھا اور آپ ﷺ اس کے ذریعے زکوٰۃ کے اونٹوں کو نشان لگا رہے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4533

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4534

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ، بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَ: عَقَلْتُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي مِنْ دَلْوٍ مُعَلَّقَةٍ فِي دَارِنَا، قَالَ مَحْمُودٌ: فَحَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَصَرِي قَدْ سَاءَ، وَإِنَّ الْأَمْطَارَ إِذَا اشْتَدَّتْ سَالَ الْوَادِي فَحَالَ بَيْنِي وَبَيْنَ الصَّلَاةِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِي، فَلَوْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ»، قَالَ: فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَاسْتَأْذَنَا، فَأَذِنْتُ لَهُمَا، قَالَ: فَمَا [ص:397] جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ: «أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِكَ؟ »، فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَحَبَسْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ

حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات یاد ہے، نبی اکرم ﷺ نے میرے چہرے پر کلی کی تھی اس ڈول میں سے پانی لے کر جو ہمارے گھر میں لٹکا ہوا تھا۔ حضرت محمود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میری نظر کمزور ہو گئی ہے، جب بارشیں زیادہ ہو جائیں، تو نشیبی علاقے میں پانی اکٹھا ہو جاتا ہے، جو میرے اور میرے محلے کی مسجد کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے، تو آپ اگر میرے گھر میں کسی جگہ نماز ادا کر لیں، تو میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اگلے دن نبی اکرم ﷺ میرے ہاں تشریف لائے آپﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے ان دونوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی میں نے ان دونوں کی خدمت میں اجازت پیش کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ تشریف فرما نہیں ہوئے آپ ﷺ نے پہلے یہ دریافت کیا: تم کہاں یہ پسند کرتے ہو کہ میں تمہارے گھر میں اس جگہ نماز ادا کروں؟ میں نے گھر کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا۔ نبی اکرم ﷺ آگے بڑھے ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے ایک صف بنا لی۔ نبی اکرم ﷺ نے دو رکعات ادا کی پھر ہم نے نبی اکرم ﷺ کو خزیرہ کھانے کے لیے روک لیا جو ہم نے آپ کے لیے تیار کیا تھا۔

قُلْتُ ← مَحْمُودٌ: فَحَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ، ← عَقَلْتُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ فِي وَجْهِي مِنْ دَلْوٍ مُعَلَّقَةٍ فِي دَارِنَا، ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ، بِدِمَشْقَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4534

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4535

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقِلُ مَعَنَا التُّرَابَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا ... وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنَ سَكِينَةً عَلَيْنَا ... وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ... وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احزاب کے موقع پر نبی اکرم ﷺ ہمارے ہمراہ مٹی منتقل کر رہے تھے آپ ﷺ کے پیٹ کی سفیدی کو مٹی نے ڈھانپ لیا تھا اور آپ ﷺ یہ شعر پڑھ رہے تھے۔ ”اے اللہ ! اگر تیری ذات نہ ہوتی، تو ہم ہدایت حاصل نہ کرتے ہم صدقہ نہ دیتے ہم نماز نہ پڑھتے تو ہم پر سکینت نازل کر اور جب ہمارا دشمن سے سامنا ہو، تو ہمیں ثابت قدم رکھنا بے شک ان لوگوں نے ہم پر حملہ کیا ہے وہ لوگ اگر آزمائش کا ارادہ کریں گے تو ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے“ ۔ نبی اکرم ﷺ بلند آواز میں یہ شعر پڑھ رہے تھے۔

الْبَرَاءِ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4535

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4536

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: أَصَبْتُ شَارِفًا فِي مَغْنَمِ بَدْرٍ، وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا، فَأَنَخْتُهُمَا عَلَى بَابِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا أَبِيعَهُ أَسْتَعِينُ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ، وَمَعِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِي الْبَيْتِ، وَمَعَهُ قَيْنَةٌ تُغَنِّيهِ، فَقَالَتْ: [البحر الوافر] أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ فَثَارَ إِلَيْهِمَا بِالسَّيْفِ، فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، وَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، - فَقُلْتُ: السِّنَامُ، فَقَالَ: ذَهَبَ بِهِ كُلِّهِ -، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدُ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى [ص:399] قَامَ عَلَى رَأْسِهِ، أَوْ قَالَ: عَلَى رَأْسِ حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ، وَقَالَ: أَلَسْتُمْ عَبِيدَ آبَائِي؟، قَالَ: «فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ»

امام زین العابدین رضی اللہ عنہ اپنے والد (حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: غزوہ بدر کے مالِ غنیمت میں مجھے ایک اونٹنی ملی نبی اکرم ﷺ نے مجھے ایک اور اونٹنی بھی عطا کر دی میں نے ان دونوں اونٹنیوں کو ایک انصاری کے دروازے کے پاس باندھ دیا میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں ان دونوں اونٹنیوں پر اذخر (نامی گھاس) لاد کر لاؤں گا پھر اسے فروخت کروں گا اور اس کے ذریعے فاطمہ کے ساتھ شادی کے ولیمے کی تیاری کروں گا میرے ساتھ بنو قینقاع کا ایک آدمی بھی تھا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اس گھر میں موجود تھے وہاں ایک کنیز گانا گا رہی تھی وہ یہ گارہی تھی۔ ”اے حمزہ ! عمدہ قسم کی اونٹنیوں (پر حملہ کر دو)“ ۔ تو حمزہ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ذریعے ان دونوں پر حملہ کر کے ان کی کوہانیں کاٹ دیں ان کے پہلو چھیل دئیے اور ان کے کلیجے نکال لیے (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے دریافت کیا : کوہان کا کیا بنا تو انہوں نے جواب دیا: وہ تو ساری ختم کر دی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے یہ سب دیکھا تو مجھے بڑا دکھ ہوا میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ کے ہمراہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے میں نے آپ ﷺ کے سامنے س بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے آپ ﷺ کے ساتھ حضرت زید رضی اللہ عنہ بھی تھے میں بھی ان کے ساتھ چلتا ہوا آیا نبی اکرم ﷺ حضر ت حمزہ رضی اللہ عنہ کے سرہانے کھڑ ہوئے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) نبی اکرم ﷺ نے ان پر ناراضگی کا اظہار کیا، تو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے سر اٹھایا اور بولے: کیا تم سب لوگ میرے باپ دادا کے غلام نہیں ہو؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ الٹے پاؤں واپس تشریف لے گئے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4536

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4537

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سِنَانَ بْنِ أَبِي سِنَانَ الدُّؤَلِيِّ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ: غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قَبْلَ نَجْدٍ فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ يَوْمًا فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ [ص:400] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ فِي الشَّجَرِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَعَلَّقَ سَيْفَهُ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ: «إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ، وَهُوَ فِي يَدِهِ، فَقَالَ لِي: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟، فَقُلْتُ لَهُ: اللَّهُ، قَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟، قُلْتُ: اللَّهُ، فَشَامَ السَّيْفَ، وَجَلَسَ فَهُوَ هَذَا جَالِسٌ»، ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ نجد کی سمت ایک غزوے میں شرکت کی ایک دن انہیں دوپہر کے آرام کا وقت ایک ایسی وادی میں آیا جہاں درخت بہت زیادہ تھے نبی اکرم ﷺ نے وہاں پڑاؤ کیا لوگ مختلف درختوں کے سائے حاصل کرنے کے لیے اِدھر اُدھر پھیل گئے۔ نبی اکرم ﷺ بھی ایک درخت کے نیچے آرام فرما ہوئے آپ ﷺ نے اپنی تلوار اس درخت کے ساتھ لٹکا دی (بعد میں ) نبی اکرم ﷺ نے اپنے پاس موجود شخص کے بارے میں بتایا کہ اس شخص نے مجھ پر تلوار سونت لی تھی میں اس وقت سویا ہوا تھا میں بیدار ہوا تو تلوار اس کے ہاتھ میں تھی اس نے مجھ سے دریافت کیا: آپ ﷺ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے اس جواب دیا: اللہ تعالیٰ۔ اس نے پھر دریافت کیا: آپ ﷺ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ، تو اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور یہ بیٹھ گیا اب یہ بیٹھا ہوا ہے ( راوی کہتے ہیں) نبی اکرم ﷺ نے اسےکوئی سزا نہیں دی۔

سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4537

chevron_left Previous
1…456…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr