Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْهِجْرَةِ · حديث 4866

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَقْدَانِ الْقُرَشِيِّ - وَكَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّعْدِيِّ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْكُفَّارُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّعْدِيِّ بْنِ وَقْدَانَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ وُدِّ، وَأُمُّهُ ابْنَةُ الْحَجَّاجِ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ سَهْمٍ، مَاتَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ»

حضرت عبداللہ بن وقدان قرشی رضی اللہ عنہ، جو بنو سعد بن بکر کے ہاں دودھ پیتے رہے ، انہیں عبداللہ بن سعدی بھی کہا جاتاہے وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تک کفار کے ساتھ جنگ کی جاتی رہے گی ہجرت ختم نہیں ہو گی “۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں: ) یہ عبداللہ بن سعدی بن وقدان بن عبد شمس بن عبدود ہیں ان کی والدہ حجاج بن عامر بن سعد بن سہل کی صاحبزادی تھیں۔ ان کا انتقال حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ1 ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Immigration section · Hadith 4866

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْهِجْرَةِ · حديث 4867

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَسَأَلْتُهُ عَنِ انْقِطَاعِ فَضِيلَةِ الْهِجْرَةِ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلَهَا عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَتْ: «لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، أَوْ قَالَتْ بَعْدَ الْيَوْمِ، إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يَفِرُّونَ بِدِينِهِمْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ مِنْ أَنْ يُفْتَنُوا، وَقَدْ أَفْشَى اللَّهُ الْإِسْلَامَ، [ص:210] فَحَيْثُ شَاءَ الْعَبْدُ عَبَدَ رَبَّهُ»

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں: میں اور عبید بن عمیر روانہ ہوئے۔ ہم لوگ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عبید بن عمیر نے ان سے ہجرت کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد ہجرت باقی نہیں رہی۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) آج کے بعد باقی نہیں رہی۔ لوگ اپنے دین کی حفاظت کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف آجاتے تھے کہ کہیں انہیں آزمائش میں مبتلا نہ کیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسلام کو پھیلا دیا اب بندہ جہاں چاہے اپنے پروردگار کی عبادت کر سکتا ہے۔

«لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، أَوْ ← الهجرة ← وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلَهَا عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ← انْطَلَقْتُ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← انْقِطَاعِ فَضِيلَةِ الْهِجْرَةِ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، ← الْأَوْزَاعِيِّ، وَسَأَلْتُهُ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Immigration section · Hadith 4867

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْهِجْرَةِ · حديث 4868

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَسَّانَ السَّامِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «[ص:211] الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اعمال کی (جزا کا) دارومدار نیتوں پر ہے آدمی کو وہی کچھ ملے گا، جو اس نے نیت کی ہو گی۔ جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی ہو گی اس کی ہجر ت اللہ اور اس کے رسول کی طرف شمار ہو گی اور جس شخص کی ہجرت کی دنیاوی فائدے کے حصول کے لیے ہو گی یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی، تو اس کی ہجرت اسی کی طرف شمار کی جائے گی جو نیت کر کے اس نے ہجرت کی تھی “۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَسَّانَ السَّامِيُّ، بِالْبَصْرَةِ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Immigration section · Hadith 4868

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْمُوَادَعَةِ، وَالْمُهَادَنَةِ · حديث 4869

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْتِ صَالَحَهُ أَهْلُ مَكَّةَ عَنْ أَنْ يَدْخُلَهَا، وَيُقِيمُ بِهَا ثَلَاثًا، وَلَا يَدْخُلُهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ السَّيْفِ وَقِرَابِهِ وَلَا يَخْرُجُ مَعَهُ أَحَدٌ مِمَّنْ دَخَلَ مَعَهُ وَلَا يَمْنَعُ أَحَدًا يَمْكُثُ فِيهَا، مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «اكْتُبِ الشَّرْطَ بَيْنَنَا هَذَا، مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ بَايَعْنَاكَ، وَلَكِنِ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «امْحُهُ وَاكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ»، فَقَالَ عَلِيٌّ: لَا أَمْحُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «امْحُهُ، وَاكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ»، فَقَالَ عَلِيٌّ: لَا أَمْحُوهُ، فَقَالَ [ص:213] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرِنِي مَكَانَهُ، حَتَّى أَمْحُوَهُ، فَمَحَاهُ، وَكَتَبَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ»، فَأَقَامَ بِهَا ثَلَاثًا، فَلَمَّا كَانَ آخِرَ الْيَوْمِ الثَّالِثِ، قَالُوا لِعَلِيٍّ قَدْ مَضَى شَرْطُ صَاحِبِكَ، فَمُرْهُ، فَلْيَخْرُجْ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ قَالَ نَعَمْ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُمْ فِي الشَّرْطِ، وَلَا يَخْرُجُ مَعَهُ أَحَدٌ، مِمَّنْ دَخَلَ مَعَهُ، أَرَادُوا بِهِ عَلَى كُرْهٍ مِنْهُمْ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ لَا يُخْرِجَ أَحَدًا، مِمَّنْ دَخَلَ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ أَصْلًا

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ بیت اللہ کے پاس تشریف لائے، تو آپﷺ نے اہل مکہ کے ساتھ یہ صلح کر لی تھی کہ آپﷺ مکہ میں داخل ہوں گے وہاں تین دن قیام کریں گے آپﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے ، تو آپﷺ نے ہتھیار میان میں رکھے ہوں گے اور آپﷺ کے ساتھ داخل ہونے والے لوگوں میں سے کوئی بھی شخص آپﷺ کے ساتھ نہیں نکلے گا اور آپﷺ اپنے ساتھیوں میں سے کسی ایسے شخص کو منع نہیں کریں گے جو مکہ میں ٹھہرنا چاہتاہو، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم ہمارے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کو تحریر کرو گے وہ معاہدہ ہے، جو محمد رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے، مشرکین نے کہا: اگر ہمیں یہ پتہ ہو کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں، تو ہم آپ ﷺ کی بیعت کر لیں۔ آپﷺ یہ لکھیں ککہ محمد بن عبداللہ نے کہا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے مٹا کر محمد بن عبداللہ لکھ دو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں اسے نہیں مٹاؤں گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے مٹا دو اور محمد بن عبداللہ لکھ دو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں اسے ہرگز نہیں مٹاؤں گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اس کی جگہ مجھے دکھاؤ میں اسے مٹا دیتا ہوں پھر نبی اکرم ﷺ نے مٹایا اور وہاں محمد بن عبداللہ لکھ دیا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) پھر نبی اکرم ﷺ وہاں تین دن تک مقیم رہے، جب تیسرے دن کا آخری حصہ آیا، تو لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کے آقا کی طے کردہ شرط کا وقت پورا ہونے لگا ہے، آپ ان سے کہیں کہ وہ تشریف لے جائیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپﷺ کو اس بارے میں بتایا تو آپ ﷺ نےفرمایا: ٹھیک ہے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) شرط میں ان کا یہ کہنا کہ آپﷺ کے ہمراہ کوئی ایسا شخص (مکہ سے) باہر نہیں جائے گا، جو آپﷺ کے ہمراہ (مکہ میں ) داخل ہوا تھا۔ اس کے ذریعے مراد یہ ہے: ان کی طرف سے ناپسندیدگی کے عالم میں ، کیونکہ یہ بات نا ممکن ہے، وہ کسی ایسے شخص کو باہر نہ جانے دیں جو آپﷺ کے ہمراہ (مکہ میں ) آیاتھا، (یعنی وہ شخص ) جس کا تعلق آپﷺ کے اصحاب سے ہے۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of intercourse and mutilation · Hadith 4869

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْمُوَادَعَةِ، وَالْمُهَادَنَةِ · حديث 4870

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا صَالَحَ قُرَيْشًا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ لِعَلِيٍّ: «اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»، فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو لَا نَعْرِفُ الرَّحْمَنَ الرَّحِيمَ، اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «اكْتُبْ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو: لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَاتَّبَعْنَاكَ وَلَمْ نُكَذِّبْكَ اكْتُبْ بِنَسَبِكَ مِنْ أَبِيكِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «[ص:215] اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ»، فَكَتَبَ: مَنْ أَتَى مِنْكُمْ رَدَدْنَاهُ عَلَيْكُمْ وَمَنْ أَتَى مِنَّا تَرَكْنَاهُ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نُعْطِيهِمْ هَذَا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتَاهُمْ مِنَّا، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَتَانَا مِنْهُمْ، فَرَدَدْنَاهُ جَعَلَ اللَّهُ لَهُ، فَرَجًا، وَمَخْرَجًا»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب (صلح) حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے قریش کے ساتھ مصالحت کر لی، تو آپﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم تحریر کرو۔ تو (قریش کے نمائندے ) سہیل بن عمرو نے کہا: ہم الرحمٰن الرحیم سے واقف نہیں ہیں، آپ یہ لکھیں باسمک اللھم ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم یہ تحریر کرو: یہ وہ معاہدہ ہے، جو اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ نے کیا ہے، تو سہیل نے کہا : اگر ہمیں اس بات کا علم ہوتا کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپﷺ کی پیروی کر لیتے اور آپﷺ کی تکذیب نہ کرتے، آپﷺ اپنے نسب یعنی اپنے والد کے نام کے ساتھ (اپنا اسم گرامی) تحریر کروائیں۔ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم محمد بن عبداللہ تحریر کردو۔ توانہوں نے (معاہدے میں یہ ) تحریرکیا: ”تم (یعنی مشرکین مکہ) میں سے جو ہمارے پاس آئے گا، ہم اسے تمہیں لوٹا دیں گے اور ہم (مسلمانوں ) میں سے جو تمہارے پاس آئے اسے ہم تمہارے پاس ہی رہنے دیں گے“۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہم یہ (اجازت ) انہیں دے دیں؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہم میں سے جو (مرتد ہو کر) ان کے پاس جائے گا، اسے اللہ تعالیٰ نے دور کیا ہے اور ان میں سے جو ہمارے پاس آئے گا، اور اسے ہم لوٹا دیں گے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کشادگی اور راستہ بنا دےگا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of intercourse and mutilation · Hadith 4870

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْمُوَادَعَةِ، وَالْمُهَادَنَةِ · حديث 4871

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ، وَبَيْنَ الرُّومِ عَقْدٌ، وَكَانَ يَسِيرُ نَحْوَ بِلَادِهِمْ وَهُوَ يُرِيدُ إِذَا انْقَضَى الْعَقْدُ أَنْ يُغِيرَ عَلَيْهِمْ، فَإِذَا شَيْخٌ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا غَدْرَ، فَإِذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِذَا كَانَ بَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ، فَلَا يَحُلُّ عُقْدَةٌ، حَتَّى يَمْضِيَ أَمَدُهَا، أَوْ يُنْبَذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ»

سلیم بن عامر بیان کرتے ہیں: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل روم کے درمیان معاہدہ چل رہا تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے علاقے کی طرف روانہ ہونے لگے، ان کا خیال تھا، جیسے ہی معاہدہ کی مدت ختم ہو گی و ہ فوراً ان پر حملہ کر دیں گے۔ تو وہاں ایک عمر رسیدہ صاحب نےیہ کہا: اللہ اکبر ! اللہ اکبر! (معاہدہ کی) خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ (سلیم بن عامر کہتے ہیں) وہ حضرت عمر بن عتبہ رضی الل عنہ تھے۔ میں نے ان سے دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کسی قوم کے درمیان کوئی معاہدہ چل رہا ہو، تو اس کی خلاف ورزی اس وقت تک جائز نہیں ہے، جب تک اس کی انتہائی مدت پوری نہیں ہو جاتی، یا پھر اسے برابری کی بنیاد پر ان کی طرف پھینک نہیں دیا جاتا “۔

سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْفَيْضِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of intercourse and mutilation · Hadith 4871

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْمُوَادَعَةِ، وَالْمُهَادَنَةِ · حديث 4872

وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ، تَعْظِيمًا لَهُ، فَرَجَعَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَيْ قَوْمُ، وَاللَّهِ لَقَدْ وَفَدْتُ إِلَى الْمُلُوكِ، وَوَفَدْتُ إِلَى كِسْرَى، وَقَيْصَرَ، وَالنَّجَاشِيِّ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ، يُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ، مَا يُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ مُحَمَّدًا، وَوَاللَّهِ إِنْ يَتَنَخَّمْ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَدَلَكَ بِهَا [ص:222] وَجْهَهُ، وَجِلْدَهُ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ اقْتَتَلُوا عَلَى وَضُوئِهِ، وَإِذْ تَكَلَّمَ خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ، وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ، تَعْظِيمًا لَهُ، وَإِنَّهُ قَدْ عَرَضَ عَلَيْكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ، فَقَبَلَوهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ دَعُونِي آتِهِ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا فُلَانٌ مِنْ قَوْمٍ يُعَظِّمُونَ الْبُدْنَ، فَابْعَثُوهَا لَهُ»، قَالَ فَبُعِثَتْ، وَاسْتَقْبَلَهُ الْقَوْمُ يُلَبُّونَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، لَا يَنْبَغِي لِهَؤُلَاءِ، أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: رَأَيْتُ الْبُدْنَ، قَدْ قُلِّدَتْ، وَأُشْعِرَتْ، فَمَا أَرَى أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ مِكْرَزٌ، فَقَالَ دَعُونِي آتِهِ، فَقَالُوا: ائْتِهِ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا مِكْرَزٌ، وَهُوَ رَجُلٌ فَاجِرٌ»، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَمَا هُوَ يُكَلِّمُهُ، إِذْ جَاءَهُ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ مَعْمَرٌ، فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ سُهَيْلٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا سُهَيْلٌ، قَدْ سَهَّلَ اللَّهُ لَكُمْ أَمْرَكُمْ»، قَالَ مَعْمَرٌ فِي حَدِيثِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنِ الْمِسْوَرِ، وَمَرْوَانَ فَلَمَّا جَاءَ سُهَيْلٌ، قَالَ هَاتِ اكْتُبْ بَيْنَنَا، وَبَيْنَكُمْ كِتَابًا، فَدَعَا الْكَاتِبُ، فَقَالَ: «اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»، فَقَالَ سُهَيْلٌ أَمَّا [ص:223] الرَّحْمَنُ، فَلَا أَدْرِي وَاللَّهِ مَا هُوَ، وَلَكِنِ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اكْتُبْ هَذَا، مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ»، فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ، وَلَا قَاتَلْنَاكَ، وَلَكِنِ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ، وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي، اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ»، قَالَ الزُّهْرِيُّ، وَذَلِكَ لِقَوْلِهِ لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ، إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ، وَمَرْوَانَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى أَنْ تُخَلُّوا بَيْنَنَا، وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَنَطُوفُ بِهِ»، فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، إِنَّهُ لَا يَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ، أَنَّا أَخَذْنَا ضَغْطَةً، وَلَكِنْ لَكَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَكَتَبَ فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو: عَلَى أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا رَجُلٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ، أَوْ يُرِيدُ دِينَكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: سُبْحَانَ اللَّهِ كَيْفَ يُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، وَقَدْ جَاءَ مُسْلِمًا، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، إِذْ جَاءَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو يَرْسُفُ، فِي قُيُودِهِ، قَدْ خَرَجَ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ، حَتَّى رَمَى بِنَفْسِهِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو يَا مُحَمَّدُ هَذَا أَوَّلُ مَنْ نُقَاضِيكَ عَلَيْهِ، أَنْ تَرُدَّهُ إِلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا لَمْ نُمْضِ الْكِتَابَ بَعْدُ»، [ص:224] فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أُصَالِحُكَ عَلَى شَيْءٍ أَبَدًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَجِزْهُ لِي»، فَقَالَ مَا أَنَا بِمُجِيزِهِ لَكَ، قَالَ: فَافْعَلْ قَالَ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، قَالَ مِكْرَزٌ: بَلْ قَدْ أَجَزْنَاهُ لَكَ، فَقَالَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو: يَا مَعْشَرُ الْمُسْلِمِينَ، أُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، وَقَدْ جِئْتُ مُسْلِمًا، أَلَا تَرَوْنَ إِلَى مَا قَدْ لَقِيتُ، وَكَانَ قَدْ عُذِّبَ عَذَابًا شَدِيدًا فِي اللَّهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَاللَّهِ مَا شَكَكْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، إِلَّا يَوْمَئِذٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ أَلَسْتَ رَسُولَ اللَّهِ حَقًّا، قَالَ: «بَلَى»، قُلْتُ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ، وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ؟، قَالَ: «بَلَى»، قُلْتُ: فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا، إِذَا قَالَ: «إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَلَسْتُ أَعْصِي رَبِّي، وَهُوَ نَاصِرِيٌّ»، قُلْتُ: أَوَ لَيْسَ كُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ، فَنَطُوفُ بِهِ؟، قَالَ: «بَلَى»، فَخَبَّرْتُكَ أَنَّكَ تَأْتِيَهِ الْعَامَ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَإِنَّكَ تَأْتِيَهِ، فَتَطُوفُ بِهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَيْسَ هَذَا نَبِيَّ اللَّهِ حَقًّا، قَالَ: بَلَى، قُلْتُ: أَوَ لَسْنَا عَلَى الْحَقِّ، وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ، قَالَ: بَلَى، قُلْتُ: فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا، إِذَا قَالَ: أَيُّهَا الرَّجُلُ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَلَيْسَ يَعْصِي رَبَّهُ، وَهُوَ نَاصِرُهُ، فَاسْتَمْسَكَ بِغَرْزِهِ، حَتَّى تَمُوتَ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ عَلَى الْحَقِّ، قُلْتُ: أَوَ لَيْسَ كَانَ يُحَدِّثُنَا، أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ، وَنَطُوفُ بِهِ؟، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَأَخْبَرَكَ أَنَّا نَأْتِيهِ الْعَامَ، قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَإِنَّكَ آتِيَهِ، وَتَطُوفُ بِهِ، قَالَ [ص:225] عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ: فَعَمِلْتُ فِي ذَلِكَ أَعْمَالًا، يَعْنِي فِي نَقْضِ الصَّحِيفَةِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنَ الْكِتَابِ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ فَقَالَ: «انْحَرُوا الْهَدْيَ، وَاحْلِقُوا»، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا قَامَ رَجُلٌ، مِنْهُمْ رَجَاءَ، أَنْ يُحْدِثَ اللَّهُ أَمْرًا، فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ أَحَدٌ مِنْهُمْ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ: «مَا لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ»، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَوَ تُحِبُّ ذَاكَ اخْرُجْ، وَلَا تُكَلِّمَنَّ أَحَدًا، مِنْهُمْ كَلِمَةً، حَتَّى تَنْحَرَ بُدْنَكَ، وَتَدْعُو حَالِقَكَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ، وَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ، حَتَّى نَحَرَ، بُدْنَهُ، ثُمَّ دَعَا حَالِقَهُ، فَحَلَقَهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّاسُ جَعَلَ بَعْضُهُمْ، يُحَلِّقُ بَعْضًا، حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ} [الممتحنة: 10] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ: فَطَلَّقَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا لَهُ فِي الشِّرْكِ، فَتَزَوَّجَ إِحْدَاهُمَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَالْأُخْرَى صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ، قَالَ: رَجَعَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى الْمَدِينَةِ، فَجَاءَهُ أَبُو بَصِيرٍ، رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، وَهُوَ مُسْلِمٌ، فَأَرْسَلُوا فِي طَلَبِهِ رَجُلَيْنِ، وَقَالُوا: الْعَهْدُ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا، فَدَفَعَهُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ، فَخَرَجَا، حَتَّى بَلَغَا بِهِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، [ص:226] فَنَزَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَهُمْ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ، وَاللَّهِ لَأَرَى سَيْفَكَ هَذَا، يَا فُلَانُ جَيِّدًا، فَقَالَ أَجَلْ، وَاللَّهِ إِنَّهُ لَجَيِّدٌ، لَقَدْ جَرَّبْتُ بِهِ، ثُمَّ جَرَّبْتُ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ: أَرِنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ، فَضَرَبَهُ، حَتَّى بَرَدَ، وَفَرَّ الْآخَرُ، حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ يَعْدُو، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ رَأَى هَذَا ذُعْرًا»، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَتَلَ وَاللَّهِ صَاحِبِي، وَإِنِّي لَمَقْتُولٌ، فَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ، فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَدْ وَاللَّهِ أَوْفَى اللَّهُ ذِمَّتَكَ، قَدْ رَدَدْتَنِي إِلَيْهِمْ، ثُمَّ أَنْجَانِي اللَّهُ مِنْهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلُ أُمِّهِ لَوْ كَانَ مَعَهُ أَحَدٌ»، فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ، عَرَفَ أَنَّهُ سَيَرُدُّهُ إِلَيْهِمْ مَرَّةً أُخْرَى، فَخَرَجَ، حَتَّى أَتَى سَيْفَ الْبَحْرِ، قَالَ وَتَفَلَّتَ، مِنْهُمْ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ، فَجَعَلَ لَا يَخْرُجُ مِنْ قُرَيْشٍ، رَجُلٌ أَسْلَمَ إِلَّا لَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ، حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ عِصَابَةٌ قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا يَسْمَعُونَ بِعِيرٍ خَرَجَتْ لِقُرَيْشٍ، إِلَى الشَّامِ، إِلَّا اعْتَرَضُوا لَهَا، فَقَتَلُوهُمْ، وَأَخَذُوا أَمْوَالَهُمْ، فَأَرْسَلَتْ قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تُنَاشِدُهُ اللَّهَ، وَالرَّحِمَ لَمَا أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ، مِمَّنْ أَتَاهُ، فَهُوَ آمِنٌ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ} [الفتح: 24]، حَتَّى بَلَغَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَتْ حَمِيَّتُهُمْ أَنَّهُمْ لَمْ يُقِرُّوا أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ، وَلَمْ يُقِرُّوا بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ [ص:227] الرَّحِيمِ

عروہ بن زبیر نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم کے حوالے سے روایت نقل کی ہے: ان میں سے ہر ایک کی نقل کردہ روایت دوسرے کی نقل کردہ روایت کی تصدیق کرتی ہے۔ وہ دونوں بیان کرتے ہیں: حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ اپنے ایک ہزار سے زیادہ اصحاب کے ہمراہ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ وہ لوگ ذوالحلیفہ پہنچ گئے، تو نبی اکرم ﷺ نے (اپنے قربانی کے جانور کے) گلے میں ہار پہنا دیا اور اس پر نشان بھی لگا دیا۔ پھر آپﷺ نے عمرہ کا تلبیہ پڑھنا شروع کریا۔ آپﷺ نے اپنے آگے بنو خزاعہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو جاسوس کے طور پر بھیج دیا تا کہ وہ قریش کے بارے میں اطلاعات آپﷺ تک پہنچائے، نبی اکرم ﷺ سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ آپﷺ ”عسفان “کے قریب ”اشطاط“ کے کنویں کے پاس پہنچ گئے، تو خزاعی جاسوس آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے بتایا میں نے کعب بن لوی اور عامر بن لوی کو اس حال میں چھوڑا ہے، انہوں نے آپﷺ کے خلاف سازوسامان جمع کر لیا ہے، انہوں نے آپﷺ کےلیے بہت سے لوگوں کو اکٹھا کر لیا ہے۔ وہ آپﷺ کے ساتھ لڑائی کرنے کے لیے تیار ہیں، اور آپﷺ کو بیت اللہ شریف تک نہیں جانے دیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے (صحابہ کرام) سے ارشاد فرمایا: مجھے مشورہ دو، تمہارا کیا خیال ہے؟ کیاہم ان کے بال بچوں کی طرف مڑ جائیں، جو ان کے مددگار ہوتے ہیں، اور ہم ان پر حملہ کریں اگر وہ آڑے آتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ انہیں کاٹ دے، یا پھر تمہارا یہ خیال ہے، ہم بیت اللہ کی طرف بڑھیں اور جوہمیں روکنے کی کوشش کرے، اس کے ساتھ ہم جنگ کریں؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ! اللہ تعالیٰ او ر اس کا رسول زیادہ علم رکھتے ہیں، ہم عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں، ہم کسی سے جنگ کرنے نہیں آئے ہیں تا ہم جو بھی شخص ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ بنے گا ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: پھر تم لوگ روانہ ہو جاؤ۔ زہری نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ سے زیادہ، کسی کو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے والا نہیں دیکھا۔ زہری نے عروہ کے حوالے ، حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم سے منقول اپنی روایت میں یہ ذکر کیا ہے: یہ حضرات روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ راستے میں کسی جگہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ”غمیم“ کے مقام پر خالد بن ولید قریش کے کچھ گھڑ سواروں کے ہمراہ (ہمارے ساتھ مقابلے کے لیے) موجو ہے، تو تم لوگ دائیں طرف سے ہو کر جاؤ۔ اللہ کی قسم ! خالد بن ولید کو ان لوگوں کا پتہ بھی نہیں چل سکا۔ یہاں تک کہ جب وہ سامنے آئے، تو قریش کو اطلاع دینے کے لیے تیزی سے روانہ ہوئے۔ پھر نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب آپﷺ اس گھاٹی تک پہنچے جہاں سے نیچے کیطرف اترا جاتا ہے۔ تو وہاں پہنچ کر نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی بیٹھ گئی۔ لوگوں نےکہا اٹھو اٹھو، لیکن وہ وہاں ہی بیٹھی رہی۔ لوگوں نے کہا قصویٰ یہاں رُک گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قصویٰ نہیں رکی ہے اس کی یہ عادت نہیں ہے، لیکن جس ذات نے ہاتھیوں کو روک لیا تھا ۔ اس نے اسے بھی روک لیا ہے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ وہ لوگ مجھ سے جس بھی ایسی چیز کا مطالبہ کریں گے جس مطالبے میں وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ قابل احترام چیزوں کی تعظیم برقرار رکھیں۔ میں ان کا وہ مطالبہ مان لوں گا۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اس اونٹنی کو ڈانٹا تو وہ کھڑی ہو گئی۔ پھر نبی اکرم ﷺ راستے سے ہٹ گئے اور آپﷺ نے حدیبیہ کے دور دراز کے کنارے پر پڑاؤ کیا وہاں پانی کا ایک چھوٹا سا کنواں تھا۔ لوگوں نے اس میں سے تھوڑا تھوڑا پانی حاصل کرنا شروع کیا۔ پھر اس میں پانی ختم ہو گیا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پیاسا ہونے کی شکایت کی گئی نبی اکرم ﷺ نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور لوگوں کو ہدایت کی کہ اس تیر کو اس کنویں میں ڈال دیں۔ راوی بیان کرتے ہیں اس کے بعد جب تک لوگ وہاں سے واپس نہیں گئے اس وقت تک مسلسل اس سے سیراب ہوتے گئے۔ابھی یہ لوگ وہیں موجود تھے کہ اسی دوران بدیل بن ورقاء خزارعی اپنی قوم خزاعہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے ہمراہ وہاں آیا۔ اہل تہامہ میں سے یہ شخص نبی اکرم ﷺ کا سب سے زیادہ خیر خواہ تھا۔ اس نے کہا میں نے کعب بن لوی اور عامر بن لوی کو اس حالت میں چھوڑا ہے، انہوں نے حدیبیہ کے پانی کے متعدد کنوؤں پر پڑاؤ کیا ہوا ہے ۔ ان کے ہمراہ دودھ دینے والی اونٹنیاں ہیں۔ وہ لوگ آپﷺ کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے تیار ہیں اور آپﷺ کو بیت الحرام تک جانے سے روکنے کے لیے تیار ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہم کسی سے لڑنے کے لیے نہیں آئے ہیں۔ ہم عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں۔ بے شک قریش کو جنگ نے کمزور کر دیا ہے اور انہیں نقصان پہنچایا ہے۔ اگر وہ لوگ چاہیں ، تو میں انہیں کسی متعین مدت تک کی مہلت دیتا ہوں۔ وہ مجھے اور لوگوں کو چھوڑ دیں ۔ اگر ہم لوگ غالب آ گئے، تو پھر اگر وہ چاہیں، تو جس دین میں لوگ داخل ہوتے ہیں وہ بھی اس میں داخل ہو جائیں، اگر وہ یہ بات نہیں مانتے تو اس ذات کی قسم جس کے دست قدر ت میں میری جان ہے۔ میں اپنے اس دین کے حوالے سے ان کے ساتھ ضرور جنگ کروں گا یہاں تک کہ میں شہید ہو جاؤں، یا پھر اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب کر دے۔ بدیل بن ورقاء نے کہا میں ان لوگوں تک آپﷺ کی کہی ہوئی بات پہنچا دوں گا۔ پھر وہ چلا گیا۔ قریش کے پاس آیا اور بولا میں ان صاحب کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں میں انے انہیں ایک بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ اگر تم چاہو تو وہ میں تمہارے سامنے پیش کر دیتا ہوں۔ تو قریش کے بیوقوف لوگوں نے کہا ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے، تم اس کے بارے میں کوئی بھی چیز ہمیں بیان کرو، لیکن سمجھدار لوگوں نے کہا تم نے انہیں جو کہتےہوئے سنا ہے وہ بیان کرو تو اس نے بتایا کہ میں نے انہیں یہ بات کہتے ہوئے سنا ہے۔ پھر اس نے قریش کو وہ تمام باتیں بتا دیں جو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمائی تھیں۔ اس وقت ابو مسعود عروہ بن مسعود ثقفی کھڑا ہوا۔ وہ بولا: اے لوگو! کیا تم میرے لیے بچوں کی طرح نہیں ہو۔ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا، کیا میں تمہارے لیے باپ کی جگہ نہیں ہوں۔ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں ۔ اس نے دریافت کیا کیا تم لوگ مجھ پر کوئی الزام عائد کرتے ہو۔ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ اس نے کہا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ میں نے عکاظ میں شرکت کرنے والوں کو جنگ میں لڑائی کے لیے بلایا تھا اور جب انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، تو میں اپنے بیوی بچوں اور پیروکاروں کو لے کر تمہارے پاس آ گیا تھا۔ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تو اس نے کہا ان صاحب نے تمہارے سامنے پیشکش کی ہے تم لوگ اسے قبول کر لو اور مجھے موقع دو۔ میں ان کے پاس جاتا ہوں ۔ لوگوں نے کہا کہ آپ نے کے پاس چلے جائیں۔ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بات چیت کرنی شروع کی۔ نبی اکرم ﷺ نے بھی اس کے سامنے وہی بات بیان کی جو آپﷺ نے بدیل بن ورقاء سے کہی تھی۔ تو عروہ بن مسعود نے کہا یہ تو ٹھیک ہے اے محمدﷺ آپ کی کیا رائے ہے کیا آپﷺ اپنی قوم کو جڑ سے ختم کر دیں گے کیا آپ ﷺ نے کسی عرب کے بارے میں یہ بات سنی ہے، اس نے آپﷺ سے پہلے اپنی قوم کو سرے سے ختم کر دیا ہو اور اگر دوسری صورت ہوتی ہے (یعنی جنگ ہو جاتی ہے) تو اللہ کی قسم میں نے (آپﷺ کے ساتھ ہونے والے) لوگوں کو دیکھ لیا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لو گ ہیں یہ (جنگ کی صورت میں) بھاگ جائیں گے اور آپﷺ کو چھوڑ جائیں گے۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نےکہا۔ تم لات (نامی بت ) کی شرمگاہ کو چوسو، کیا ہم بھاگ جائیں گے اور نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ جائیں گے۔ ابو مسعود نے دریافت کیا یہ کون ہے۔ جب اسے بتایا گیا: یہ ابو قحافہ کے صاحبزادے ابوبکر ہیں ، تو ابو مسعود نے کہا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جا ہے۔ اگر تم نے مجھ پر احسان نہ کیا ہوتا جس میں تمہیں بدلہ نہیں دے سکا تھا تو میں تمہاری اس بات کا جواب دیتا۔ اس کے بعد وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بات چیت کرنے لگا۔ وہ جب بھی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بات کرتا تو نبی اکرم کی داڑھی کو ہاتھ لگاتا تھا تو مغیرہ بن شعبہ ثقفی نبی اکرم ﷺ کے سرہانے کھڑے ہوئے تھے ۔ ان کے پاس تلوار تھی اور سر پر خود بھی رکھا ہو ا تھا۔ جیسے ہی عروہ نے اپنا ہاتھ نبی اکرم ﷺ کی داڑھی شریف کی طرف بڑھایا۔ تو انہوں نے اپنی تلوار کا دستہ اس کے ہاتھ پر مارا اور بولا تم اپنے ہاتھ کو نبی اکرم ﷺ کی داڑھی شریف سے دور رکھو۔ عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور دریافت کیا یہ کون ہے۔ لوگوں نے بتایا مغیرہ بن شعبہ ثقفی۔ عروہ نے کہا اے غدار میں نے تمہاری غداری کی وجہ سے کوشش نہیں کی (یعنی اس کا تاوان ادا نہیں کیا) (راوی بیان کرتے ہیں) حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں کچھ لوگوں کے ساتھ تھے۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو قتل کر کے ان کا مال حاصل کر لیا۔ پھر وہ آئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا: جہاں تک اسلام کا تعلق ہے ، تو اسے میں قبول کر لیتا ہوں، لیکن جہاں تک مال کا تعلق ہے۔ تو اس میں سےکوئی چیز نہیں ہو گی۔

وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ، تَعْظِيمًا لَهُ، فَرَجَعَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى أَصْحَابِهِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of intercourse and mutilation · Hadith 4872

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْمُوَادَعَةِ، وَالْمُهَادَنَةِ · حديث 4872

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانِ بْنِ الْحَكَمِ يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثُهُ حَدِيثُ صَاحِبِهِ، قَالَا: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ، قَلَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْعَرَ، ثُمَّ أَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ وَبَعَثَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَيْنًا لَهُ رَجُلًا مِنْ خُزَاعَةَ يَجِيئُهُ، بِخَبَرِ [ص:217] قُرَيْشٍ، وَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِغَدِيرِ الْأَشْطَاطِ، قَرِيبًا مِنْ عُسْفَانَ، أَتَاهُ عَيْنُهُ الْخُزَاعِيُّ، فَقَالَ: إِنِّي تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ، وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ، قَدْ جَمَعُوا لَكَ الْأَحَابِيشَ، وَجَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا كَثِيرَةً وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ، عَنِ الْبَيْتِ الْحَرَامِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَشِيرُوا عَلَيَّ أَتَرَوْنَ أَنْ نَمِيلَ إِلَى ذَرَارِيِّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَعَانُوهُمْ فَنُصِيبَهُمْ، فَإِنْ قَعَدُوا قَعَدُوا مَوْتُورِينَ مَحْزُونِينَ، وَإِنْ نَجَوْا يَكُونُوا عُنُقًا قَطَعَهَا اللَّهُ أَمْ تَرَوْنَ، أَنْ نَؤُمَّ الْبَيْتَ، فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ؟ »، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّمَا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ وَلَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ وَلَكِنْ مَنْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْبَيْتِ قَاتَلْنَاهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَرُوحُوا إِذَا» قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ، وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ مُشَاوَرَةً لِأَصْحَابِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنِ الْمِسْوَرِ، وَمَرْوَانَ فِي حَدِيثِهِمَا فَرَاحُوا، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بِالْغَمِيمِ فِي خَيْلٍ لِقُرَيْشٍ طَلِيعَةً، فَخُذُوا ذَاتَ [ص:218] الْيَمِينِ، فَوَاللَّهِ مَا شَعَرَ بِهِمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَتَّى إِذَا هُوَ بِقَتَرَةِ الْجَيْشِ فَأَقْبَلَ يَرْكُضُ نَذِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ، الَّتِي يَهْبِطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْهَا، بَرَكَتْ رَاحِلَتُهُ»، فَقَالَ النَّاسُ حَلَّ، حَلَّ فَأَلَحَّتْ، فَقَالُوا: خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ، وَمَا ذَلِكَ لَهَا بِخُلُقٍ، وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ»، ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةً، يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ، إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا، ثُمَّ زَجَرَهَا، فَوَثَبَتْ بِهِ»، قَالَ: فَعَدَلَ عَنْهُمْ، حَتَّى نَزَلَ بِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيلِ الْمَاءِ، إِنَّمَا يَتَبَرَّضُهُ النَّاسُ تَبَرُّضًا، فَلَمْ يَلْبَثْ بِالنَّاسِ، أَنْ نَزَحُوهُ، فَشُكِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَطَشُ، فَانْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهُ فِيهِ، قَالَ: فَمَا زَالَ يَجِيشُ لَهُمْ بِالرِّيِّ، حَتَّى صَدَرُوا عَنْهُ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذْ جَاءَهُ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ، فِي نَفَرٍ مِنْ [ص:219] قَوْمِهِ مِنْ خُزَاعَةَ، وَكَانَتْ عَيْبَةَ نُصْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ أَهْلِ تِهَامَةَ، فَقَالَ إِنِّي تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ، وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ، نَزَلُوا أَعْدَادَ مِيَاهِ الْحُدَيْبِيَةِ مَعَهُمُ الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ، وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ، وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ الْحَرَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا لَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ، وَلَكِنَّا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ، فَإِنَّ قُرَيْشًا، قَدْ نَهِكَتْهُمُ الْحَرْبُ، وَأَضَرَّتْ بِهِمْ، فَإِنْ شَاءُوا مَادَدْتُهُمْ مُدَّةً، وَيَخْلُوا بَيْنِي، وَبَيْنَ النَّاسِ، فَإِنْ ظَهَرْنَا، وَشَاءُوا أَنْ يَدْخُلُوا فِيمَا دَخَلَ، فِيهِ النَّاسُ، فَعَلُوا وَقَدْ جَمُّوا، وَإِنْ هُمْ أَبَوْا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأُقَاتِلَنَّهُمْ عَلَى أَمْرِي هَذَا، حَتَّى تَنْفَرِدَ سَالِفَتِي، أَوْ لَيُبْدِيَنَّ اللَّهُ أَمْرَهُ»، قَالَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ سَأُبَلِّغُهُمْ، مَا تَقُولُ، فَانْطَلَقَ، حَتَّى أَتَى قُرَيْشًا، فَقَالَ: إِنَّا قَدْ جِئْنَاكُمْ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ، وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ قَوْلًا، فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ نَعْرِضَهُ عَلَيْكُمْ، فَعَلْنَا، فَقَالَ: سُفَهَاؤُهُمْ لَا حَاجَةَ لَنَا فِي أَنْ تُخْبِرُونَا عَنْهُ بِشَيْءٍ، وَقَالَ ذُو الرَّأْيِ: هَاتِ مَا سَمِعْتَهُ، يَقُولُ: قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ كَذَا، وَكَذَا، فَأَخْبَرْتُهُمْ بِمَا قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، [ص:220] فَقَامَ عِنْدَ ذَلِكَ أَبُو مَسْعُودٍ، عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ، فَقَالَ: يَا قَوْمُ أَلَسْتُمْ بِالْوَلَدِ؟، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: أَلَسْتُ بِالْوَالِدِ، قَالُوا: بَلَى قَالَ: فَهَلْ تَتَّهِمُونِي، قَالُوا: لَا، قَالَ: أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي اسْتَنْفَرْتُ أَهْلَ عُكَاظٍ، فَلَمَّا بَلَّحُوا عَلَيَّ جِئْتُكُمْ بِأَهْلِي، وَوَلَدِي، وَمَنْ أَطَاعَنِي قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ هَذَا امْرُؤٌ عَرَضَ عَلَيْكُمْ، خُطَّةَ رُشْدٍ، فَاقْبَلُوهَا، وَدَعُونِي آتِهِ، قَالُوا: ائْتِهِ، فَأَتَاهُ قَالَ: فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَحْوًا مِنْ قَوْلِهِ، لِبُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ، فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ: ذَلِكَ يَا مُحَمَّدُ أَرَأَيْتَ إِنِ اسْتَأْصَلْتَ قَوْمَكَ، هَلْ سَمِعْتَ أَحَدًا مِنَ الْعَرَبِ اجْتَاحَ أَصْلَهُ قَبْلَكَ، وَإِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى، فَوَاللَّهِ إِنِّي أَرَى وُجُوهًا، وَأَرَى أَشْوَابًا مِنَ النَّاسِ خُلَقَاءَ أَنْ يَفِرُّوا وَيَدَعُوكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ: امْصُصْ بِبَظْرِ اللَّاتِ أَنَحْنُ نَفِرُّ وَنَدَعُهُ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: مَنْ هَذَا، قَالُوا: أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ، فَقَالَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلَا يَدٌ كَانَتْ لَكَ عِنْدِي لَمْ أَجْزِكَ بِهَا لَأَجَبْتُكَ، [ص:221] وَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُلَّمَا كَلَّمَهُ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ الثَّقَفِيُّ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيْهِ ال سَّيْفُ، وَالْمِغْفَرُ، فَكُلَّمَا أَهْوَى عُرْوَةُ بِيَدِهِ، إِلَى لِحْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ، وَقَالَ: أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ، وَقَالَ مَنْ هَذَا؟، فَقَالُوا: الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ الثَّقَفِيُّ، فَقَالَ: أَيْ غُدَرُ، أَوَلَسْتُ أَسْعَى فِي غَدْرَتِكَ، وَكَانَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ صَحِبَ قَوْمًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَتَلَهُمْ، وَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ، ثُمَّ جَاءَ، فَأَسْلَمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا الْإِسْلَامُ، فَأَقْبَلَ، وَأَمَّا الْمَالُ، فَلَسْتُ مِنْهُ فِي شَيْءٍ»، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ عُرْوَةَ جَعَلَ يَرْمُقُ صَحَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِعَيْنِهِ، فَوَاللَّهِ مَا يَتَنَخَّمُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نُخَامَةً، إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ، وَجِلْدَهُ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ انْقَادُوا لِأَمْرِهِ، وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ، وَإِذَا تَكَلَّمَ خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ،

راوی بیان کرتے ہیں پھر عورہ نے کن اکھیوں سے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کا جائزہ لینا شروع کیا اللہ کی قسم نبی اکرم ﷺ جو بھی تھوک پھینکتے تھے وہ ان اصحاب میں کسی کی ہتھیلی پر گرتی تھی وہ اسے اپنے چہرے اور جلد پر مل لیتا تھا۔ جب نبی اکرم ﷺ انہیں کسی بات کا حکم دیتے تھے ، تو وہ اسے پورا کرنے کی بھر پور کوشش کرتے تھے۔ جب نبی اکرم ﷺ وضو کرتے تھے وہ لوگ آپﷺ کے وجو کا بچا ہوا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے لڑپڑتے تھے۔ جب نبی اکرم ﷺ بات چیت کرتے تھے، تو نبی اکرم ﷺ کے سامنے وہ اپنی آوازیں پست رکھتے تھے اور وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی تعظیم کی وجہ سے نظر اٹھا کر آپﷺ کی طرف نہیں دیکھتے تھے۔ جب عروہ بن مسعود اپنے ساتھیوں کے پاس واپس گیا۔ تو اس نے کہا اے میر قوم اللہ کی قسم میں بادشاہوں کے پاس بھی گیا ہوں میں کسریٰ اور قیصر اور نجاشی کے پاس بھی گیا ہوں۔ اللہ کی قسم میں نے ایسا کوئی بادشاہ نہیں دیکھا جس کے ساتھی اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں۔ جتنی حضرت محمدﷺ کے ساتھی ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم اگر وہ کوئی تھوک پھینکتے ہیں۔ تو وہ ان میں سےکسی شخص کی ہتھیلی پر گرتی ہے اور وہ اسے اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتا ہے، جب وہ انہیں کوئی حکم دیتے ہیں، تو تیزی سے ان کا حکم پورا کرنے کی طرف لپکتے ہیں۔ جب وہ وضور کرتے ہیں، تو وہ ان کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے لڑ پڑتے ہیں اور جب وہ بات چیت کرتے ہیں، تو وہ لوگ ان کے سامنے اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں اور وہ لو گ نبی اکرم ﷺ کی تعظیم کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے ۔ انہوں نے تمہارے سامنے ایک مناسب پیشکش کی ہے تم لوگ اسے قبول کر لو۔ پھر بنو کنانہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نےکہا۔ آپ لوگ مجھے موقع دین میں ان کے پاس جاتا ہوں۔ جب وہ نبی اکرم ﷺ کو دور سے نظر آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ یہ فلاں شخص ایک ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہے، جو قربانی کے جانوروں کی تعظیم کرتے ہیں۔ تو تم لوگ اس کے سامنے قربانی کے جانوروں کو کھڑا کر دو۔ راوی بیان کرتے ہیں قربانی کے جانوروں کو کھڑا کر دیا گیا اور لوگ تلبیہ پڑھتے ہوئے اس کے سامنے آئے۔ جب اس نے یہ صورت حال دیکھی تو بولا سبحان اللہ ان جیسے لوگوں کو بیت اللہ جانے سے نہیں روکا جا سکتا۔ جب وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس گیا تو اس نے کہا میں نے قربانی کے جانور دیکھے ہیں، جن کی گردن میں ہار ڈال دئیے گئے ہیں اور ان پر نشان لگا دئیے گئے ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں انہیں بیت اللہ جانے سے نہیں روکنا چایئے پھر ان میں سے ایک شخص کھڑا ہوا جس کا نام مکرز تھا۔ اس نےکہا آپ لوگ مجھے موقع دیں میں ان کے پاس جاتا ہوں۔ لووں نے کہا آپ چلے جائیں ان کے پاس۔ جب وہ ان لوگوں کے سامنے آیا۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ مکرز ہے یہ ایک بدترین شخص ہے اس نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بات چیت شروع کی ابھی وہ بات کر ہی رہا تھا کہ اسی دوران سہیل بن عمرو آ گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ یہ سہیل ہے۔ اب اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تمہارے معاملے کو آسان کر دے گا۔ معمر نے مسور اور مروان کے حوالے سے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ سہیل آیا، تو اس نے کہا: آئیے اپنےاور ہمارے درمیان معاہدہ تحریر کروالیں۔ تو نبی اکرم ﷺ نےلکھنے والے شخص کو بلوایا۔ اور فرمایا: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھو۔ سہیل نے کہا:جہاں تک لفظ رحمٰن کا تعلق ہے اللہ کی قسم مجھے نہیں معلوم اس سے مراد کیا ہے، بلکہ آپ یہ لکھیں باسمک اللھم پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تم لکھو یہ وہ معاہدہ ہے، جو محمد رسول اللہ ﷺ کر رہےہ یں۔ تو سہیل بن عمر و نے کہا اگر ہمیں یہ پتہ ہوتا کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ تو ہم آپﷺ کو بیت اللہ جانے سے نہ روکتے اور آپﷺ سے جنگ نہ کرتے ، بلکہ آپﷺ یہ لکھیں محمد بن عبداللہ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم بے شک میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم میری تکذیب کرتے ہو۔ تم محمد بن عبداللہ لکھو۔ زہری کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کی وجہ یہی تھی کہ آپ نے فرمادیا تھا : وہ لوگ مجھ سے جو بھی مطالبہ کریں گے جس میں وہ اللہ کی حرمات کا احترام کریں ، تو میں ان کا وہ مطالبہ پورا کروں گا۔ راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: (یہ معاہدہ) اس شرط پر ہو گا کہ تم لوگ ہمیں بیت اللہ تک جانے دو گے۔ ہم اس کا طواف کریں گے۔ تو سہیل بن عمرو نے کہا کہ ہم دباؤ میں آ گئے ہیں۔ آپ اگلے سال آئیں گے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے یہی تحریر کر وا دیا۔ سہیل بن عمرو نے کہا۔ اس شرط پر کہ ہم میں سے جو بھی شخص آپ ﷺ کے پاس آئے گا۔ اگرچہ وہ آپ ﷺ کے دین کا ماننے والا ہو۔ یا آپ ﷺ کے دین کو اختیار کرنا چاہتا ہو۔ پھر بھی آپﷺ اسے ہماری طرف واپس کر دیں گے۔ مسلمانوں نےکہا سبحان اللہ ایسے شخص کو مشرکین کو کیسے واپس کیا جا سکتا ہے، جو مسلمان ہونا چاہتا ہو۔ اسی دوران ابو جندل بن سہیل بن عمرو زنجیر گھسیٹتے ہوئے آ گئے۔ وہ مکہ کے زیریں حصے سے باہر آئے تھے۔ وہ مسلمانوں کے درمیان آکرگر گئے، تو سہیل بن عمرو نے کہا اے محمد یہ وہ پہلی شرط ہے، جس پر ہم نے آپﷺ کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ آپﷺ اسے ہمیں واپس کر دیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابی یہ معاہدہ شروع نہیں ہوا۔ تو سہیل بن عمرو نے کہا اللہ کی قسم پھر میں کسی بھی چیز پر آپ ﷺ کے ساتھ کبھی کوئی معاہدہ نہیں کروں گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔ تم اسے میری خاطر رہنے دو۔ اس نے کہا میں اسے آپﷺ کی خاطر نہیں رہنے دوں گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم ایسا کرلو۔ اس نے کہا میں ایسا نہیں کروں گا۔ اس پر مکرز نے کہا ہم اسے آپﷺ کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ تو ابوجندل بن سہیل بن عمرو نے کہا: اے مسلمانوں کے گروہ کیا مجھے مشرکین کی طرف لوٹا دیا جائے گا، جبکہ میں مسلمان ہو کر آیا ہوں۔ کیا تم لوگوں نے دیکھا نہیں ہے، میری کیا حالت ہے؟ (راوی کہتے ہیں: ) ان صاحب کو اللہ کی راہ میں شدید عذاب دیا گیا تھا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ اللہ کی قسم جب سے میں مسلمان ہوا تھا۔ میں نے کبھی کوئی شکایت نہیں کی تھی۔ صرف اس دن کی۔ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: کیا آپﷺ اللہ کے سچے رسول نہیں ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں میں نے دریافت کیا: کیا ہم لوگ حق پر نہیں ہیں اور ہمار دشمن باطل پر نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں۔ میں نے دریافت کیا پھر ہم اپنے دین کے بارے میں کیوں کمتر ہوں۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں میں نے اپنے پروردگار کی نافرمانی نہیں کی وہ میرا مددگار ہے۔ میں نے کہا کیا آپﷺ نے ہمیں یہ بات نہیں بتائی تھی کہ ہم بیت اللہ تک آئیں گے اور اس کا طواف کریں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں۔ کیا میں نے تمہیں یہ بتایا تھا کہ تم اسی سال بیت اللہ تک جاؤ گے۔ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر تم اس تک جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ پھر میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا میں نے کہا اے ابوبکر کیا یہ اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ میں نے دریافت کیا۔ ہم لوگ حق پر نہیں ہیں اور ہمار ا دشمن باطل پر نہیں ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ میں نے دریافت کیا۔ پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں کیوں کمتر ہوں۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا اے صاحب وہ اللہ کے رسول ہیں انہوں نے اپنے پروردگار کی نافرمانی نہیں کی ہو گی۔ ان کا پروردگار ان کا مددگار ہے۔ تم مرتے دم تک ان کی رکاب کو مضبوطی سے تھام کر رکھو۔ اللہ کی قسم وہ حق پر ہیں۔ میں نے دریافت کیا: کیا انہوں نے ہمیں یہ بات نہیں کی تھی۔ ہم عنقریب بیت اللہ تک آئیں گے اور اس کا طواف کریں گے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کیا انہوں نے تمہیں یہ کہا تھا کہ تم اسی سال وہاں تک جاؤ گے۔ میں نے جواب دیا : جی نہیں۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تم وہاں جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اس بارے میں بڑی کوشش کی یعنی کس طرح یہ معاہدہ ختم ہو جائے۔ جب نبی اکرم ﷺ معاہدہ تحریر کروا کر فارغ ہوئے، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا۔ تم لوگ قربانی کے جانور قربان کر دو اور سر منڈوالو۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم ان میں سے کوئی بھی شخص کھڑا نہیں ہوا۔ اسے یہ امید تھی شاید اللہ تعالیٰ اس بارے میں کوئی نیا فیصلہ نازل کر دے۔ جب ان میں سے کوئی بھی شخص کھڑا نہیں ہوا۔ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے لوگوں کی طرف سے اس طرح کی صورتحال کا سامنا کر نا پڑاہے۔ تو سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی۔ اگر آپﷺ ایسا کرنا چاہتے ہیں، تو آپﷺ تشریف لے جائیں۔ آپﷺ کسی کے ساتھ کوئی بات نہ کریں اور اپنا قربانی کا جانور قربان کر دیں آپﷺ اپنے سر منڈوانے والے کو بلائیں۔ (وہ آپﷺ کا سر مونڈدے گا) تو نبی اکرم ﷺ اٹھے آپﷺ باہر تشریف لے گئے آپﷺ نے کسی کے ساتھ کوئی بات نہیں کی۔ یہاں تک کہ آپﷺ نے قربانی کا جانور زبح کیا۔ پھر آپﷺ نے سر منڈوانے والے کو بلوایا اور اس نے آپﷺ کو سر مونڈ دیا۔ جب لوگوں نے یہ صورت حال دیکھی تو لوگوں نے ایک دوسر ے کے سر مونڈ نے شروع کر دئیے یہاں تک کہ ان کے درمیان ہاتھا پائی ہونے لگی۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ پھر کچھ مومن عورتیں آئیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نےیہ آیت نازل کی ہے۔”اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مومن خواتین ہجرت کر کے آئیں “۔یہ آیت کے آخر تک ہے۔ روای بیان کرتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ شرک میں اپنی دو بیویوں کو طلاق دے دی تھی۔ ان دونوں میں سے ایک نے معاویہ بن ابو سفیان سے شادی کر لی تھی اور دوسری نے صفوان بن امیہ کے ساتھ شادی کر لی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ پھر نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ واپس تشریف لائے، تو ابو بصیر آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب تھے جو مسلمان ہو گئے تھے۔ قریش نے ان کے مطالبے کے لیے دو آدمیوں کو بھیجا۔ ان لوگوں نے کہا ہمارے اور آپﷺ کے درمیان یہ معاہدہ ہوا تھا۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ان صاحب کو ان دو آدمیوں کے حوالے کر دیا۔ وہ دونوں روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ وہ دونوں ان کے ہمراہ ذوالحلیفہ تک پہنچے تو وہاں کھجوریں کھانے لگے۔ حضرت ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے ان دو آدمیوں میں سے ایک سے کہا اللہ کی قسم اے فلاں میں دیکھ رہا ہوں تمہاری یہ تلوار بہت عمدہ ہے اس نے کہا جی ہاں اللہ کی قسم یہ بہت عمدہ ہے میں اسے کئی مرتبہ آزما چکا ہوں۔ حضرت ابو بصیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے بھی دکھاؤ میں اس کا جائزہ لوں۔ اس نے وہ تلوار انہیں دی۔ انہوں نے وہ تلوار اسے مار کر اسے ٹھنڈا کر دیا، دوسرا شخص بھاگ کر مدینہ منورہ آ گیا۔ وہ مسجد میں داخل ہوا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ شخص خوف زدہ لگ رہا ہے۔ جب وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا، تو اس نے بتایا۔ اللہ کی قسم انہوں نے میرے ساتھی کو مار دیا اور مجھے بھی مار دیں گے اس دوران ابو بصیر آ گئے۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کے معاہدے کو پورا کر دیا۔ آپﷺ نے مجھے ان کی طرف لوٹا دیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے نجات دے دی۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اس کی ماں برباد ہو۔ کاش اس کے ساتھ کوئی اور شخص ہوتا۔ جب انہوں نے یہ بات سنی ۔ توانہیں اندازہ ہو گیا۔ نبی اکرم ﷺ دوبارہ انہیں ان لوگوں کی طرف واپس کردیں گے۔ وہ وہاں سے نکلے یہاں تک کہ سمند کے کنارے آ گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابو جندل بن سہیل بن عمر و رضی اللہ عنہ بھی ان لوگوں سے فرار ہو کر حضرت ابو بصیر رضی اللہ عنہ سے جا ملے پھر قریش کا جو بھی شخص نکلتا تھا۔ یعنی جس نے بھی اسلام قبول کیا ہوتا۔ وہ جا کر ابو بصیر سے مل جاتا۔ یہاں تک کہ ان کے پاس ایک گروہ اکٹھا ہوگیا۔ وہ کہتے ہیں اللہ کی قسم وہ قریش کے جس بھی اونٹ کے بارےمیں سنتے وہ شام جانے کے لیے نکلا ہے، تو اس کے سامنے آکر ان لوگوں کو قتل کر دیتے اور ان کامال حاصل کر لیتے۔ قریش نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پیغام بھیجا اور آپﷺ کو اللہ کا واسطہ دیا اور رحم کی درخواست کی کہ آپﷺ ان لوگوں کو پیغام بھجوائیں کہ اب جو بھی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے گا وہ محفوظ ہو گا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو پیغام بھجوایا۔ تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی: ”اور وہی ذات ہے، جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے مکہ کے نشیب میں روک دیا “۔ یہ آیت یہاں تک ہے۔ ”جاہلیت کی حمیت“۔ ان کی حمیت یہ تھی کہ وہ اس بات کا اقرار نہیں کرتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ اللہ کے نبی ہیں اور انہوں نے اس بات کا اقرار نہیں کیا تھا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

مَرْوَانِ بْنِ الْحَكَمِ يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثُهُ حَدِيثُ صَاحِبِهِ، ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of intercourse and mutilation · Hadith 4872

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْمُوَادَعَةِ، وَالْمُهَادَنَةِ · حديث 4873

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ، حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ كَتَبُوا هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالُوا: لَا نُقِرُّ بِهَذَا لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا، وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: «أَنَا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ»، فَقَالَ لِعَلِيٍّ: «امْحُ رَسُولَ اللَّهِ»، قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَمْحُوكَ أَبَدًا، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ، فَأَمَرَ فَكَتَبَ مَكَانَ رَسُولِ اللَّهِ مُحَمَّدًا، فَكَتَبَ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْ لَا يَدْخَلَ مَكَّةَ بِالسِّلَاحِ، إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقُرُبِ، وَلَا يَخْرُجُ مِنْهَا بِأَحَدٍ يَتْبَعُهُ، وَلَا يَمْنَعُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ إِنْ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا، فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا، فَقَالُوا: قُلْ لِصَاحِبِكَ فَلْيَخْرُجْ عَنَّا، فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبِعَتْهُمْ، بِنْتُ حَمْزَةَ تُنَادِي يَا عَمُّ، يَا عَمُّ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ رِضْوَانَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَأَخَذَ بِيَدِهَا وَقَالَ: لِفَاطِمَةَ دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ، فَحَمَلَتْهَا، [ص:230] فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ، وَزَيْدٌ، وَجَعْفَرٌ فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَخَذْتُهَا، وَهِيَ ابْنَةُ عَمِّي، وَقَالَ جَعْفَرٌ: ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي، وَقَالَ زَيْدٌ: ابْنَةُ أَخِي، فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ: «الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ»، وَقَالَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْكَ»، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ: «أَشْبَهْتَ خَلْقِي، وَخُلُقِي»، وَقَالَ لِزَيْدٍ: «أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا»

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ذی القعدہ کے مہینے میں نبی اکرم ﷺ نے عمرہ کیا، تو اہل مکہ نے آپﷺ کو مکہ میں داخل ہونے سے منع کر دیا۔ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ مکہ میں تین دن قیام کریں گے۔ جب ان لوگوں نے معاہدہ تحریر کر دیا تو انہوں نے یہ بات تحریر کی کہ یہ معاہدہ ہے ، جو اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کر رہے ہیں، تو کفار نے کہا۔ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے۔ اگر ہمیں یہ پتہ ہوتا کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں، تو ہم آپﷺ کو کسی چیز سے نہ روکتے، بلکہ آپﷺ محمد بن عبداللہ ہیں (آپﷺ یہ ہی تحریر کریں) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول بھی ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی ہوں۔ پھر آپﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا لفظ ”رسول اللہ “ مٹا دو۔ انہوں نے عرض کی: میں آپﷺ (کا اسم گرامی) کبھی نہیں مٹاؤں گا۔ نبی اکرم ﷺ نے تحریر کو لیا آپﷺ کو باقاعدہ لکھنا نہیں آتا تھا۔ آپﷺ کے حکم کے تحت لفظ رسول اللہ کی جگہ لفظ محمد لکھ دیا گیا اور یہ تحریر کیا گیا یہ وہ معاہدہ ہے، جو محمد بن عبداللہ کر رہے ہیں۔ کہ وہ ہتھیار لے کر مکہ میں داخل نہیں ہو ں گے۔ البتہ ان کی تلواریں میان میں ہوں گی اور وہ مکہ میں سےکسی ایسے شخص کو ساتھ لے کر نہیں جائیں گے جو ان کا پیروکار ہو گا اور وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں روکیں گے جو مکہ میں مقیم رہنا چاہے گا۔ جب نبی اکرمﷺ مکہ تشریف لے آئے اور طے شدہ مدت گزر گئی تو لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ اپنے آقا سے کہیے کہ وہ ہمارے پاس سے تشریف لے جائیں، کیونکہ متعین مدت پوری ہو گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ وہاں سے روانہ ہونے لگے تو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی آپﷺ کو پکارتی ہوئی آپﷺ کے پیچھے آئی۔ اے چچا اے چچا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس بچی کو پکڑ لیا انہوں نے اس بچی کا ہاتھ پکڑا اور سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا۔ تم اپنی چچا زاد کو سنبھالو۔ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اسے اٹھا لیا۔ اس لڑکی کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضر ت زید رضی اللہ عنہ اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف ہو گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے میں نے حاصل کیا ہے۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ میری چچا زاد ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا یہ میری بھتیجی ہے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اس بچی کے بارے میں اس کی خالہ کے حق میں فیصلہ دیا۔ آپﷺ نے فرمایا: خالہ ماں کی جگہ ہوتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے حضر ت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ آپﷺ نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم شکل و صورت اور اخلا ق میں مجھ سے مشابہت رکھتے ہو۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم ہمارے بھائی اور ہمارے آزاد کردہ غلام ہو۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of intercourse and mutilation · Hadith 4873

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْمُوَادَعَةِ، وَالْمُهَادَنَةِ · حديث 4874

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ السَّدُوسِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: كَمْ كَانُوا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ؟، قَالَ: أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: كَانُوا أَلْفًا [ص:231] وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، قَالَ: «أَوْهَمَ جَابِرٌ هُوَ الَّذِي حَدَّثَنِي، أَنَّهُمْ كَانُوا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ»

قتادہ بیان کرتے ہیں میں نے سعید بن مسیّب سے دریافت کیا۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر ان لوگوں کی تعداد کتنی تھی۔ انہوں نے جواب دیا: ایک ہزاد پانچ سو۔ راوی کہتے ہیں: حضرت جابر رضی اللہ عنہ تو کہتے ہیں ان کی تعداد ایک ہزار چار سو تھی۔ تو سعید نے کہا انہیں غلط فہمی ہوئی ہو گی۔ انہوں نے خود مجھےیہ بات بتائی ہے، ان کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی۔

أَنَّهُمْ كَانُوا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ» ← «أَوْهَمَ جَابِرٌ هُوَ الَّذِي ← كَانُوا أَلْفًا [ص:231] وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، ← قُلْتُ: إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ، ← قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: كَمْ كَانُوا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ؟، ← قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ السَّدُوسِيِّ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← ابْنُ الْمُفَضَّلِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of intercourse and mutilation · Hadith 4874

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْمُوَادَعَةِ، وَالْمُهَادَنَةِ · حديث 4875

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: «كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، وَهِيَ السَّمُرَةُ»، وَقَالَ: «بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ»

حضر ت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں صلح حدیبیہ کے موقع پر ہماری تعداد ایک ہزار چار سو تھی۔ ہم نے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے درخت کے نیچے آپﷺ کا دست مبارک پکڑا ہوا تھا ۔ وہ سمرہ کا درخت تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کی بیعت اس بات پر کی تھی۔ کہ ہم فرار اختیار نہیں کریں گے۔ ہم نے موت پر آپ ﷺ کی بیعت نہیں کی تھی۔

جَابِرٍ أَنَّهُ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of intercourse and mutilation · Hadith 4875

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْمُوَادَعَةِ، وَالْمُهَادَنَةِ · حديث 4876

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ*، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: «ثُمَّ بَايَعَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَهُوَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَأَنَا رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ وَهُمْ يَوْمَئِذٍ أَلْفٌ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «الصَّحِيحُ أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ، عَلَى مَا قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ»

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں پھر حدیبیہ کے موقع پر لوگوں نے نبی اکرمﷺ کی بیعت کی آپﷺ اس وقت درخت کے نیچے موجود تھے میں نے اس درخت کی ایک شاخ نبی اکرمﷺ کے چہرے سے اوپر اٹھا رکھی تھی۔ ہم نے موت پر آپ ﷺ کی بیعت نہیں کی تھی، بلکہ ہم نے آپ ﷺ کی بیعت اس بات پر کی تھی کہ ہم فرار اختیار نہیں کریں گے۔ اس دن لوگوں کی تعداد ایک ہزار چار سو تھی۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) درست یہ ہے کہ صحابہ کرام کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی، جیسا کہ سعید بن مسیّب نے بیان کیا ہے۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of intercourse and mutilation · Hadith 4876

chevron_left Previous
1…32333435
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr