صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغُلُولِ · حديث 4854
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، بِعَسْقَلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمَيِّتِ عَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ وَفَاءً، فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ وَإِلَّا قَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ»، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَالَ: «أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ»
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جب کسی ایسے شخص کی میت لائی جاتی تھی جس کے ذمے قرض ہوتا تھا تو آپﷺ دریافت کرتے تھے کہ کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟ اگر یہ بات بتائی جاتی کہ اس نے ایسی چیز چھوڑی ہے، جس کے ذریعے اس کا قرض ادا کیا جاسکتا ہے، تو نبی اکرم ﷺ اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے تھے ورنہ آپﷺ یہ فرماتے تھے تم لوگ اپنےساتھی کی نماز جنازہ ادا کرلو۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو فتوحات عطا کیں، تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں ہر مومن کے لیے اس کی اپنی جان سے زیادہ قریب ہوں جو شخص ایسی حالت میں فوت ہو کہ اس کے ذمے قرض ہو، تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا وہ اس کے ورثاء کو ملے گا “۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ،
Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of the chagrin · Hadith 4854
