Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغُلُولِ · حديث 4854

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، بِعَسْقَلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمَيِّتِ عَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ وَفَاءً، فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ وَإِلَّا قَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ»، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَالَ: «أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جب کسی ایسے شخص کی میت لائی جاتی تھی جس کے ذمے قرض ہوتا تھا تو آپﷺ دریافت کرتے تھے کہ کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟ اگر یہ بات بتائی جاتی کہ اس نے ایسی چیز چھوڑی ہے، جس کے ذریعے اس کا قرض ادا کیا جاسکتا ہے، تو نبی اکرم ﷺ اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے تھے ورنہ آپﷺ یہ فرماتے تھے تم لوگ اپنےساتھی کی نماز جنازہ ادا کرلو۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو فتوحات عطا کیں، تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں ہر مومن کے لیے اس کی اپنی جان سے زیادہ قریب ہوں جو شخص ایسی حالت میں فوت ہو کہ اس کے ذمے قرض ہو، تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا وہ اس کے ورثاء کو ملے گا “۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of the chagrin · Hadith 4854

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغُلُولِ · حديث 4855

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ أَبُو عَمْرٍو الْعَدْلُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ، فَلَمَّا هَزَمَهُمُ اللَّهُ اتَّبَعَهُمْ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُونَهُمْ وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَسْكَرِ، وَالنَّهْبِ، فَلَمَّا كَفَى اللَّهُ الْعَدُوَّ، وَرَجَعَ الَّذِينَ طَلَبُوهُمْ، قَالُوا: لَنَا النَّفْلُ نَحْنُ طَلَبْنَا الْعَدُوَّ وَبِنَا نَفَاهُمُ اللَّهُ وَهَزَمَهُمْ، وَقَالَ الَّذِينَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّهِ مَا أَنْتُمْ أَحَقَّ بِهِ مِنَّا، هُوَ لَنَا نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِأَنْ لَا يَنَالَ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً، قَالَ الَّذِينَ اسْتَوْلَوْا عَلَى الْعَسْكَرِ، وَالنَّهْبِ وَاللَّهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ مِنَّا هُوَ لَنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ} [الأنفال: 1] الْآيَةَ، فَقَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَفِّلُهُمْ، إِذَا خَرَجُوا بَادِينَ الرُّبُعَ، وَيُنَفِّلُهُمْ إِذَا قَفَلُوا الثُّلُثَ، وَقَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَبَرَةً مِنْ جَنْبٍ بَعِيرٍ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، قَدْرَ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسِ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ، فَأَدُّوا الْخَيْطَ، وَالْمَخِيطَ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ، فَإِنَّهُ [ص:194] عَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَعَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ الْهَمَّ وَالْغَمَّ» قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الْأَنْفَالَ، وَيَقُولُ: «لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ»

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ بدر کی طرف روانہ ہوئے، تو آپﷺ کا دشمن سے سامنا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو پسپا کر دیا تو مسلمانوں کا ایک گروہ ان کے ساتھ لڑنے کے لیے ان کے پیچھے گیا دوسرا گروہ نبی اکرم ﷺ کے آس پاس ٹھہر گیا۔ ایک گروہ نے لشکر اور لوٹنے کے معاملات سنبھال لیے۔ جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کی طرف سے اطمینان کر دیا اور وہ لوگ واپس آ گئے جو ان کے پیچھے گئے تھے، تو انہوں نے کہا : اضافی ادائیگی ہمیں ملے گی، کیونکہ ہم دشمن کے پیچھے گئے تھے اور ہماری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں یہاں سے دو ر کیا ہے اور انہیں پسپا کیا ہے، جو نبی اکرمﷺ کے اردگرد پہرہ دے رہے تھے انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! تم اس کے ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو وہ ہمیں بھی ملے گا، کیونکہ ہم نبی اکرم ﷺ کی حفاظت کر رہے تھے تا کہ کہیں کوئی دشمن آپﷺ کو نقصانہ پہنچا دے۔ وہ لوگ جو لشکر اور لوٹنے کے نگہبان تھے۔ وہ بولے: اللہ کی قسم ! تم لوگ اس کے ہم سے زیادہ حق دا رنہیں ہو یہ ہمیں ملے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ”لو گ تم سے اضافی ادائیگی کے بارے میں دریافت کرتے ہیں “۔ تو نبی اکرم ﷺ نے وہ مال غنیمت ان کے درمیان تقسیم کر دیا اور نبی اکرم ﷺ انہیں عطیے کے طور پر چیزیں دیتے رہے۔ جب وہ لوگ وہاں سے روانہ ہوئے تھے ، تو شروع میں ایک چوتھائی دیا گیا اور جب وہ واپس آ گئے تھے ، تو انہیں ایک تہائی حصہ اضافی ادائیگی کے طور پر دیا گیا۔ غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے اونٹ کے پہلو کا بال پکڑ کر ارشا د فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ تمہیں مال غنیمت کے طور پر جو کچھ عطا کرتا ہے اس میں سے اس (بال جتنی بھی) کوئی چیز میرے لیے حلال نہیں ہے سوائے خمس کے اور خمس بھی تمہاری طرف لوٹا دیا جائے گا اس لیے تم سوئی اور دھاگہ تک ادا کرو اور خیانت کرنے سے بچنا ، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے کرنے والے کے لیے رسوائی کا باعث ہوگی۔ تم پر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا لازم ہے، کیونکہ وہ جنت کے دروازوں میں سے ایک ردوازہ ہے۔ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ پریشانی اور غم کو ختم کر دیتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ اضافی ادائیگی کو ناپسند کرتے تھے آپﷺ یہ ارشاد فرماتے تھے: اہل ایمان میں سے خوش حال لوگ اپنے غریبوں کو یہ دے دیں۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← أَبِي سَلَّامٍ ← مَکْحُولٍ الدِّمَشْقِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَھْضَمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ أَبُو عَمْرٍو الْعَدْلُ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of the chagrin · Hadith 4855

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغُلُولِ · حديث 4856

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَيْرُوتَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ النُّدَّرِ السُّلَمِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا انْتَاطَ غَزْوُكُمْ وَكَثُرَتِ الْعَزَائِمُ * وَاسْتُحِلَّتِ الْغَنَائِمُ فَخَيْرُ جِهَادِكُمُ الرِّبَاطُ»

حضرت عتبہ بن ندر سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تمہاری جنگ ختم ہو جائے اور عزائم زیادہ ہو جائیں اور مالِ غنیمت حلال قرار دیا جائے ، تو تمہارے لیے سب سے بہترین جہاد (سرحدوں پر ) پہرہ داری کرنا ہے “۔

عُتْبَةَ بْنِ النُّدَّرِ السُّلَمِيُّ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← مَكْحُولٌ ← أَبِي وَهْبٍ، ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكَيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَیْرُوتَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of the chagrin · Hadith 4856

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغُلُولِ · حديث 4857

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرٍ أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، فُلَانٌ شَهِيدٌ، حَتَّى مَرُّوا عَلَى رَجُلٍ، فَقَالُوا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا، أَوْ عَبَاءَةٍ»، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ابْنَ الْخَطَّابِ اذْهَبْ، فَنَادِ فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ»، قَالَ فَخَرَجْتُ، فَنَادَيْتُ أَلَا إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْإِيمَانَ يَزِيدُ بِالطَّاعَةَ وَيَنْقُصُ بِالْمَعْصِيَةِ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمُؤْمِنَ يُنْفَى عَنْهُ اسْمُ الْإِيمَانِ بِالْمَعْصِيَةِ، إِذَا ارْتَكَبَهَا لَا الْإِيمَانُ كُلُّهُ، كَمَا أَنَّ الطَّاعَةَ يُطْلَقُ عَلَى مَنْ أَتَى بِهَا اسْمُ الْإِيمَانِ، لَا الْإِيمَانُ كُلُّهُ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی : غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے یہ کہنا شروع کیا فلاں شخص شہید ہے فلاں شخص شہید ہے یہاں تک کہ انہوں نے ایک آدمی کا ذکر کرتےہوئے یہ کہا فلاں شخص شہید ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہرگز نہیں میں نے اسے ایک چادر کی وجہ سے جہنم میں دیکھا ہے، جو اس نے خیانت کے طور پر حاصل کی تھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفا ظ ہیں) ایک عباء کی وجہ سے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے خطاب کے صاحبزادے! تم جاؤ اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جنت میں صرف اہل ایمان داخل ہوں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں وہاں سے نکلا میں نے اعلان کیا: خبردا! جنت میں صرف اہل ایمان داخل ہوں گے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: ) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے، نیکی کرنے کی وجہ سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور گناہ کی وجہ سے اس میں کمی ہوتی ہے اور اس میں اس بات کی دلیل بھی موجود ہے، بعض اوقات کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے کسی مومن شخص سے لفظ ایمانی کی نفی کی جاتی ہے اس سے پورے ایمان کی نفی نہیں کی جاتی۔ جس طرح اگر کوئی شخص کوئی نیکی کرتا ہے، تو اس کے لفظ ایمان استعمال کیا جاتا ہے اس سے پورا ایمان مراد نہیں ہوتا۔

فُلَانٌ شَهِيدٌ، ← فُلَانٌ شَهِيدٌ، فُلَانٌ شَهِيدٌ، حَتَّى مَرُّوا عَلَى رَجُلٍ، ← لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرٍ أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَالِسِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of the chagrin · Hadith 4857

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغُلُولِ · حديث 4858

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ مَغْنَمًا أَمَرَ بِلَالًا، فَنَادَى فِي النَّاسِ ثَلَاثَةً فَيَجِيءُ النَّاسُ بِغَنَائِمِهِمْ فَيُخَمِّسُهَا وَيَقْسِمُهَا، فَأَتَاهُ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعْرٍ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَا فِي الْغَنِيمَةِ، قَالَ: مَا سَمِعْتَ بِلَالًا نَادَى ثَلَاثًا قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ؟، فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كُنْ أَنْتَ الَّذِي تَجِيءُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کو مال غنیمت حاصل ہو آپﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے لوگوں میں تین مرتبہ اعلان کر دیا لوگ اپنے طور پر مال غنیمت میں ملنے والی تمام چیزیں لے آئے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان میں سے خمس نکال لیا اور باقی کو تقسیم کر دیا۔ اس کے بعد ایک شخص بال سے بنی ایک لگام لے کر آیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! یہ ان چیزوں میں شامل ہے، جو ہمیں مالِ غنیمت کے طور پر ملی تھیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تم نے بلال کو سنا نہیں تھا اس نے تین مرتبہ اعلان کی تھا؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر تم اسے لے کر کیوں نہیں آئے۔ اس نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عذر پیش کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم ایسے شخص بن جاؤ کہ تم اسے اپنے ساتھ قیامت کے دن لے کر آؤ گے۔ تو میں اسے تم سے قبول نہیں کروں گے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of the chagrin · Hadith 4858

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْفِدَاءِ وَفَكِّ الْأَسْرَى · حديث 4859

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: أَسَرَتْ ثَقِيفٌ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسَرَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، فَمَرَّ بِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُوثَقٌ، فَنَادَاهُ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «عَلَامَ أُحْبَسُ؟ »، فَقَالَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ، ثُمَّ مَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ الْأَسِيرُ إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ قُلْتَهَا، وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ، أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ»، ثُمَّ مَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَاهُ أَيْضًا، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ حَاجَتُكَ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَاهُ بِالرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ [ص:199] كَانَتْ ثَقِيفٌ أَسَرَتْهُمَا. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَوْلُ الْأَسِيرِ إِنِّي مُسْلِمٌ وَتَرْكُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ مِنْهُ، كَانَ لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلِمَ مِنْهُ بِإِعْلَامِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ إِيَّاهُ، أَنَّهُ كَاذِبٌ فِي قَوْلِهِ، فَلَمْ يَقْبَلْ ذَلِكَ مِنْهُ فِي أَسْرِهِ، كَمَا كَانَ يَقْبَلُ مِثْلَهُ مِنْ مِثْلِهِ، إِذَا لَمْ يَكُنْ أَسِيرًا، فَأَمَّا الْيَوْمُ فَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ، فَإِذَا قَالَ الْحَرْبِيُّ إِنِّي مُسْلِمٌ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْهُ، وَرُفِعَ عَنْهُ السَّيْفَ سَوَاءٌ كَانَ أَسِيرًا أَوْ مُحَارِبًا»

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے نبی اکرمﷺ کے دو اصحاب کو قید کر دیا۔ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے بنوعامر بن صعصعہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قید کر دیا۔ نبی اکرم ﷺ اس کے پاس سے گزرے وہ بندھا ہوا تھا اس نے آپ ﷺ کو مخاطب کیا: اے حضرت محمدﷺ، اے حضرت محمد ﷺ! نبی اکرم ﷺ اس کی طرف متوجہ ہو گئے اس نے دریافت کیا مجھے کیوں قید کیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: تمہارے حلیفوں کی زیادتی کی وجہ سے۔ نبی اکرم ﷺ آگے تشریف لے گئے، تو اس نے پھر آپﷺ کو بلایا۔ نبی اکرم ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اس قیدی نے آپﷺ کی خدمت میں گزارش کی : میں مسلمان ہوتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگ تم یہ بات کہتے ہو، تو تم اپنے معاملے کے مالک ہو گے اور تم مکمل طور پر کامیابی حاصل کر لو گے۔ پھر نبی اکرم ﷺ آگے تشریف لے گئے، تو اس نے پھر آپﷺ کو بلایا۔ نبی اکرم ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے وہ بولا: میں بھوکا ہوں مجھے کچھ کھانے کے لیے دیجئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ تمہاری ضرورت کا سامان ہے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اسے ان دوآدمیوں کے فدیے کے طور پر ادا کیا جسے ثقیف قبیلے کے لوگوں نے قید کیا تھا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس قیدی کا یہ کہنا کہ میں مسلمان ہوں اور نبی اکرمﷺ کا اس کی بات پر کوئی توجہ نہ دینا اس کی وجہ یہ ہے: نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی اطلاع مل گئی تھی کہ وہ شخص اپنے اس بیان میں جھوٹا ہے اس لیے نبی اکرمﷺ نے اس کی قید کے دوران اس سے اعتراف کو قبول نہیں کیا جس طرح کا اعتراف آپﷺ اس طرح کی صورت حال میں قبول کر لیتے تھے جب کہ وہ آدمی قیدی نہ ہوتا۔ جہاں تک آپﷺ کے دن کا تعلق ہے، تو وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا جب کوئی حربی شخص یہ کہے: میں مسلمان ہوں، تو اس سے اس بات کو قبول کیا جائے گا اور اس سے تلوار کو اٹھا لیا جائے گا خواہ وہ شخص قیدی ہو ، یا جنگجو ہو۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of redemption and the release of prisoners · Hadith 4859

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْفِدَاءِ وَفَكِّ الْأَسْرَى · حديث 4860

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَزَوْنَا فَزَارَةَ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَاءِ، أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، فَعَرَّسْنَا، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ، أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ بِشَنِّ الْغَارَةِ، فَقَتَلْنَا عَلَى الْمَاءِ مَنْ قَتَلْنَا، قَالَ سَلَمَةُ: فَنَظَرْتُ إِلَى عُنُقِ مِنَ النَّاسِ فِيهِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ وَأَنَا أَعْدُو فِي آثَارِهِمْ، فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ، فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ، فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ فَقَامُوا، فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، حَتَّى أَتَيْتُ الْمَاءَ، وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ آدَمَ مَعَهَا بِنْتٌ لَهَا، مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ، فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا فَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، ثُمَّ بِتُّ وَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا، فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَبْ لِي الْمَرْأَةَ»، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرَكَنِي، ثُمَّ لَقِيَنِي مِنَ الْغَدِ فِي السُّوقِ، فَقَالَ: «يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ»، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، فَهِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَفِي أَيْدِيهِمْ أَسْرَى مِنَ [ص:201] الْمُسْلِمِينَ، فَفَدَاهُمْ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ، فَكَّهُمْ بِهَا

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ روانہ ہوئے ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں ہمارا امیر مقرر کیا تھا۔ ہم نے فزارہ قبیلے کے لوگوں کے ساتھ جنگ کرنا تھی جب ہم پانی کے قریب پہنچے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے وہاں پڑاؤ کر لیا جب ہم نے صبح کی نماز ادا کر لی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں یک بارگی حملہ کرنے کا حکم دیا۔ ہم نے پانی کے آ پاس موجود بہت سارے لوگوں کو قتل کر دیا۔ حضر ت سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نےلوگوں کے پیچھے دیکھا کہ کچھ بچے اور کچھ خواتین جا رہے ہیں میں ان کے پیچھے گیا، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ وہ مجھ سے پہلے پہاڑ پر نہ پہنچ جائیں ، تو میں نے ایک تیر مارا جو ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا کر گرا تو وہ لوگ رک گئے میں انہیں پکڑ کر انہیں ہانک کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا۔ یہاں تک کہ میں پانی پاس آگیا، ان میں فزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک عورت تھی جس نے چمڑے کا لباس پہنا ہوا تھا اور اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی تھی جو عربوں کی خوب صورت ترین عورت تھی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی بیٹی مجھے انعام کے طور پر دے دی میں نے اس کا پردہ نہیں ہٹایا یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ آ گیا پھر میں نے رات بسر کی اس کا پردہ نہیں ہٹایا۔ پھر نبی اکرم ﷺ کی مجھ سے ملاقات ہوئی آپﷺ نے فرمایا: وہ عورت مجھے تحفے کے طور پر دے دو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! مجھے وہ بہت اچھی لگی ہے میں نے تو ابھی اس کا پردہ بھی نہیں ہٹایا تو نبی اکرم ﷺ خاموش ہو رہے آپﷺ نے مجھے کچھ نہیں کہا۔ پھر اگلے دن آپﷺ کی مجھ سے بازار میں ملاقات ہوئی تو آپﷺ نے فرمایا: اے سلمہ تم وہ عورت مجھے ہبہ کر دو ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں نے تواس کا پردہ بھی نہیں ہٹایا بہرحال وہ آپ ﷺ کی نذر ہے یا رسول اللہ ﷺ! راوی بیان کرتے ہیں پھر نبی اکرم ﷺ نے اہل مکہ کو پیغام بھیجا۔ ان کے ہاں کچھ مسلمان قیدی تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے ان قیدیوں کے فدیے کے طور پر وہ عورت ادا کر دی اور ان لوگوں کو اس عورت کے عوض میں چھڑا والیا۔

أَبِي ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of redemption and the release of prisoners · Hadith 4860

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْهِجْرَةِ · حديث 4861

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ فُدَيْكٍ، أَنَّ فُدَيْكًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فُدَيْكُ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَاهْجُرِ السُّوءَ وَاسْكُنْ مِنْ أَرْضِ قَوْمَكَ حَيْثُ شِئْتَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقِمِ الصَّلَاةَ» أَمْرُ فَرْضٍ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي بَعْضِ الْأَحْوَالِ لَا الْكَلِّ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاهْجُرِ السُّوءَ» فَرْضٌ عَلَى الْمُسْلِمِينَ كُلِّهِمْ فِي كُلِّ الْأَحْوَلِ، لِئَلَّا يَرْتَكِبُوا سُوءًا بِأَنْفُسِهِمْ مِنَ الْمَعَاصِي، وَبِغَيْرِهِمْ مِمَّا لَا يَرْضَى اللَّهُ مِنَ الْأَفْعَالِ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاسْكُنْ مِنْ أَرْضِ قَوْمَكَ حَيْثُ شِئْتَ» أَمْرُ إِبَاحَةٍ مُرَادُهُ الْإِعْلَامُ، بِأَنَّ تَارِكَ السُّوءِ عَلَى مَا وَصَفْنَا لَا ضَيْرَ عَلَيْهِ، أَيَّ مَوْضِعٍ سَكَنَ، وَإِنْ لَمْ يَقْصِدِ الْمَوَاضِعَ الشَّرِيفَةَ «

حضرت فدیک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! لوگ یہ کہتےہ یں کہ جو شخص ہجرت نہیں کرتا وہ ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اے فدیک تم نماز ادا کرتے رہو، برائی سے لاتعلق رہو اور جہاں چاہو اپنی قوم کی سرزمین میں رہائش رکھو “۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان” تم نماز قائم کرو “یہ فرض حکم ہے ، جو مخاطب افراد پر بعض حالتوں میں فرض ہوتا ہے تمام حالتوں میں فرض نہیں ہوتا۔ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان” تم برائی سے لا تعلق رہو“ یہ تمام مسلمانوں پر ہر حالت میں فرض ہے، تا کہ وہ بھی کسی بھی صورت میں اپنی ذات کے حوالے سے گناہ کا ارتکاب نہ کریں اور کسی دوسرے کے ساتھ کوئی ایسا عمل نہ کریں جس سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ” اور تم اپنی قوم کی سرزمین پر رہائش رکھو جہاں بھی تم چاہو“ یہ مباح قرار دینے کے طور پر حکم ہے، لیکن اس سے مراد اطلاع دینا ہے، برائی کو ترک کرنے والا جس کی صفت ہم نے بیان کی ہے اس شخص پر کوئی نقصان نہیں ہو گا چاہے وہ کسی بھی جگہ پر رہائش اختیار کرتے اگرچہ وہ شرف والے مقامات پر رہائش کو اختیار نہ کرے۔

صَالِحِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ فُدَيْكٍ، أَنَّ فُدَيْكًا أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ: ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانَ بِالرَّقَّةِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Immigration section · Hadith 4861

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْهِجْرَةِ · حديث 4862

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ، قَالَ [ص:204] حَدَّثَنِي فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالْمُؤْمِنِ، مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ، وَأَنْفُسِهِمْ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ، وَيَدِهِ، وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ»

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں مومن کے بارے میں نہ بتاؤں مومن وہ ہے، جس سے لوگ اپنے مالوں اور جان کے حوالے سے مامون ہوں اور مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ سلامت ہوں۔ مجاہد وہ شخص ہے، جو اپنی ذات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کے بارے میں جہاد کرتا ہے اور مومن وہ شخص ہے، جو اپنی خطاؤں اور گناہوں سے لاتعلق رہتا ہے۔

فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← [ص:149] ← عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ، ← أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Immigration section · Hadith 4862

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْهِجْرَةِ · حديث 4863

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ، فَأَمَّا هِجْرَةُ الْبَادِي يُجِيبُ، إِذَا دُعِيَ وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ، وَأَمَّا هِجْرَةُ الْحَاضِرِ، فَهِيَ أَشَدُّهُمَا بَلِيَّةً، وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہجرت دوطرح کی ہوتی ہے دیہاتی شخص کی ہجرت یہ ہے: جب اسے بلایا جائے ، تو وہ آجائے اور جب اس حکم دیا جائے، تو فرماں برداری کرے۔ جہاں تک شہری شخص کی ہجرت کا تعلق ہے، تو آزمائش کے اعتبار سے یہ شدید ہوتی ہے اور اجر بھی اس کا زیادہ ہے۔

النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Immigration section · Hadith 4863

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْهِجْرَةِ · حديث 4864

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَخِي يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى ابْنَ مُنْيَةَ قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايَعَ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ، قَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ»

حضرت یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے والد کے ہمراہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ میرے والد سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: (جی نہیں)، بلکہ میں ان سے جہاد پر بیعت لوں گا، کیونکہ ہجرت ختم ہو چکی ہے۔

جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي، فَقُلْتُ: ← أَنَّ يَعْلَى ابْنَ مُنْيَةَ ← أَنَّ أَبَاهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَخِي يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Immigration section · Hadith 4864

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْهِجْرَةِ · حديث 4865

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، [ص:207] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ: «لَا هِجْرَةَ وَلَكِنَّهَا جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اب ہجرت باقی نہیں رہی تا ہم جہاد اور نیت باقی ہیں، جب تم سے (جہاد کے لیے ) نکلنے کے لیے کہا جائے، تو نکل پڑو “۔

يَوْمَ الْفَتْحِ: «لَا هِجْرَةَ وَلَكِنَّهَا جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا» ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُسٍ، [ص:207] ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Immigration section · Hadith 4865

chevron_left Previous
1…32333435
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr