Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4842

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ مَدَدِيًّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ رَافَقَهُمْ، وَأَنَّ رُومِيًّا كَانَ يَسْمُو عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَيُغْرِي عَلَيْهِمْ فَتَلَطَّفَ الْمَدَدِيُّ، فَقَعَدَ تَحْتَ صَخْرَةٍ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِ عَرْقَبَ فَرَسَهُ، وَخَرَّ الرُّومِيُّ لِقَفَاهُ، وَعَلَاهُ الْمَدَدِيُّ بِالسَّيْفِ، فَقَتَلَهُ، وَأَقْبَلَ بِسَرْجِهِ، وَلِجَامِهِ، وَسَيْفِهِ، وَمِنْطَقَتِهِ، وَسِلَاحِهِ، فَذَهَبَا بِالذَّهَبِ وَالْجَوْهَرِ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأَخَذَ خَالِدٌ مِنْهُ طَائِفَةً وَنَفَّلَهُ بَقِيَّتَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا خَالِدُ، مَا هَذَا؟ أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَفَّلَ السَّلَبَ كُلَّهُ لِلْقَاتِلِ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ، فَقُلْتُ: أَمَا لَعَمْرِ اللَّهِ لَأُعَرِّفَنَّهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا [ص:176] عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ خَبَرَهُ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى الْمَدَدِيِّ بَقِيَّةَ سَلَبِهِ، فَوَلَّى خَالِدٌ لِيَفْعَلَ، فَقُلْتُ لَهُ: فَكَيْفَ رَأَيْتَ يَا خَالِدُ أَلَمْ أَفِ لَكَ بِمَا وَعَدْتُكَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: «يَا خَالِدُ لَا تُعْطِهِ وَأَقْبِلْ عَلَيَّ»، فَقَالَ: «هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُوا لِي أُمَرَائِي؟، لَكُمْ صَفْوَةُ أَمْرِهِمْ، وَعَلَيْهِمْ كَدَرُهُ»، [ص:177] قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَا خَالِدُ لَا تُعْطِهِ» أَرَادَ بِهِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَعْطَاهُ

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کرتے ہیں: ایک مدد ی شخص نے غزوہ تبوک کے موقع پر ان کا ساتھ دیا۔ رومیوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا، تو اس مددی نے یہ حیلہ اختیار کیا کہ وہ ایک چٹان کے نیچے بیٹھ گیا جب رومی شخص اس کے پاس سے گزرا تو اس نے اس کے گھوڑے پر حملہ کیا، تو رومی شخص گدی لے بل نیچے گر گیا۔ مددی شخص تلوار لے کر اس پر غالب آیا اور اس نےاسے قتل کر دیا پھر وہ اس کی زین ، اس کی لگا م ، اس کی تلوار ، اس کا پٹکا اور اس کے ہتھیار لے کر آیا۔ یہ دونوں صاحبان سونا اور جواہرات لے کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کچھ چیزیں رکھ لیں اور بقیہ چیزیں اس مددی کو انعام کے طور پر دے دیں۔ میں نے ان سے کہا: اے حضرت خالد رضی اللہ عنہ یہ آپ نے کیا کیا؟ کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ نبی اکرم ﷺ سارا سازوسامان قتل کرنے والے کو عطیے کے طور پر دیتے ہیں۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ جواب دیتے ہیں جی ہاں! لیکن میں نے اسے زیادہ خیال کیا۔ (اس لیے میں اسے نہیں دیا) (حضر ت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) تو میں نےیہ کہا: اللہ کی قسم ! میں نبی اکرم ﷺ کو ضرور اس بارے میں آگاہ کروں گا۔ جب ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے آپﷺ کو اس صورت حال کے بارے میں بتایا تو نبی اکرمﷺ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اس مددی کو باقی رہ جانے والا سازوسامان بھی دیں۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ ایسا کرنے کے لیے مڑ کر جانے لگے تو میں نے ان سے کہا: اے خالد! آپ نے دیکھا کہ میں آپ کے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا ہے، تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے۔ آپﷺ نے فرمایا: اے خالد! تم اسے نہ دینا ، پھر آپﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میرے مقرر کردہ امیروں سے درگزر نہیں کر سکتے۔ ان کے معاملے کی اچھائی کا فائدہ تمہیں مل جائے اور ان کی کوتاہی کا وبال ان پر ہو۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان” اے خالد! تم اسے نہ دو “کے ذریعے آپﷺ کی یہ مراد تھی کہ اس وقت میں نہ دو۔ بعد میں نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اسے وہ چیز دے دی تھی۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4842

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4843

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، فَبَيْنَا نَحْنُ قُعُودٌ نَتَضَحَّى إِذَا رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، فَانْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقْوِ الْبَعِيرِ فَقَيَّدَ بِهِ بَعِيرَهُ، ثُمَّ جَاءَ حَتَّى قَعَدَ مَعَنَا يَتَغَدَّى فَنَظَرَ فِي وجُوهِ الْقَوْمِ، فَإِذَا ظَهْرُهُمْ فِيهِ رِقَّةٌ، وَأَكْثَرُهُمْ مُشَاةٌ، فَلَمَّا نَظَرَ فِي وجُوهِ الْقَوْمِ، خَرَجَ يَعْدُو حَتَّى أَتَى بَعِيرَهُ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ يُرْكِضُهُ، وَهُوَ طَلِيعَةٌ لِلْكُفَّارِ، فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ أَسْلَمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ وَرْقَاءَ، قَالَ إِيَاسٌ: قَالَ أَبِي، فَاتَّبَعْتُهُ أَعْدُو وَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي، فَضَرَبْتُ رَأْسَهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِنَاقَتِهِ أَقُودُهَا عَلَيْهَا سَلَبُهُ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ، فَقَالَ: مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟، قَالَ ابْنُ الْأَكْوَعِ، قُلْتُ: أَنَا قَالَ: لَكَ سَلَبُهُ أَجْمَعُ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «هَذَا النَّوْعُ لَوِ اسْتَقْصَيْنَا فِيهِ، لَدَخَلَ فِيهِ أَكْثَرُ السُّنَنِ، لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُبَيِّنُ عَنْ مُرَادٍ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا مِنَ الْكِتَابِ قَوْلًا، وَفِعْلًا، وَفِيمَا ذَكَرْنَا مِنَ الْإِيمَاءِ إِلَيْهِ، الْغُنْيَةُ لِمَنْ تَدَبَّرَ الْقَصْدَ فِيهِ»

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ہوازن کے ساتھ جنگ کی، ایک دن ہم بیٹھے ہوئے دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے اسی دوران ایک شخص اپنے سرخ اونٹ پر وار ہو کر آیا، اس نے اونٹ کی نکیل کو کھینچ کر اس کے ذریعے اونٹ کو باندھ دیا پھر وہ شخص آیا اور ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگا اس نے لوگوں کا جائزہ لیا کہ ان کے پاس سواریاں کم ہیں اور ان میں سے زیادہ تر لوگ پیدل ہیں۔ جب اس نے لوگوں کا جائزہ لے لیا تو پھر وہ وہاں سے روانہ ہوا، یہاں تک کہ اپنے اونٹ کے پاس آیا اور کو ایڑھی لگا دی وہ کفار کا جاسوس تھا ۔ ہم میں سے اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اپنی خاکستری اونٹنی پر سوار ہو کر اس کے پیچھے گیا۔ ایاس نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے۔ میں اس کے پیچھے گیا ، میں نے اپنی تلوار سونت کر اس کا سر اڑا دیا پھر میں اس کی اونٹنی کو ہانک کر ساتھ لے آیا جس پر اس کا سازوسامان تھا۔ نبی اکرم ﷺ لوگوں کے ہمراہ میرے سامنے آئے، تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اسے کس نے قتل کیا ہے؟ حضر ت ابن اکوع رضی اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے جواب دیا: میں نے ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کا سازوسامان تمہیں ملتا ہے۔(امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اگر اس نوعیت کی تمام روایات کی ہم تحقیق کریں، تو اس میں اکثر سنن داخل ہو جائیں گی، کیونکہ نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ حکم کو اپنے قول اور فعل کے ذریعے بیان کرنے والے تھے اور جو چیز ہم نے ذکر کی ہے اس میں اس شخص کے لیے کافی اشارہ ہے، جو اس بارے میں غوروفکر کرنے کا قصد کرتا ہے۔

أَبِي ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4843

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4844

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:179] عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُخَمِّسِ السَّلَبَ»

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے (قاتل کو دئیے جانے والے مقتول کافر کے سازو سامان میں سے خمس نہیں نکالا تھا)

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِيهِ، [ص:184] ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4844

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4845

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «ذَهَبَتْ فَرَسٌ لَهُ فَأَخَذَهَا الْعَدُوُّ، فَظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ: «وَأَبَقَ عَبْدٌ لَهُ فَلَحِقَ بِالرُّومِ، فَظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ان کا ایک گھوڑا بھاگ گیا دشمن نے اسے پکڑ لیا۔ مسلمان ان پر گالب آ گئے، تو انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا گھوڑا انہیں واپس کر دیا، یہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس کی بات ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان کا ایک غلام بھاگ کر رومیوں سے جا ملا تھا۔ جب مسلمان ان پر غالب آ گئے، تو ان کا وہ غلام حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں واپس کر دیا تھا۔ یہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس کے بعد کی سات ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4845

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4846

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَهَى عَامَ خَيْبَرَ، أَنْ تُوطَأَ الْحَبَالَى مِنَ السَّبْيِ، حَتَّى يَضَعْنَ»

حضرت ابو ثعلبہ خشنی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے غزوہ خیبر کے موقع پر اس بات سے منع کر دیا تھا کہ قیدیوں میں سے حاملہ عورتوں کے ساتھ صحبت کی جائے اس وقت تک ، جب تک وہ اپنے پیٹ میں موجود بچے کو جنم نہیں دے دیتیں۔

أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← مَكْحُولٌ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4846

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغُلُولِ · حديث 4847

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا يُعَارٌ، يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ، يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ، حَمْحَمَةٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ» [ص:183] لَا أُلْفَيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفَيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفُقُ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: میں تم میں کسی شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے ، تو اس کی گردن پر ایک اونٹ ہو، جو آواز نکال رہا ہو اور وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ ﷺ! (میری مدد کیجئے) تو میں یہ کہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں جب وہ قیامت کے دن آئے ، تو اس کی گردن پر ایک بکری ہو، جو آوازیں نکال رہی ہو اور وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ ﷺ! (میری مد د کیجئے) تو میں یہ کہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں جب وہ قیامت کے دن آئے ، تو اس کی گردن پر کوئی گھوڑا ہو، جو آوازنکال رہا ہو اور وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ ﷺ! (میری مد د کیجئے) تو میں یہ کہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں جب وہ قیامت کے دن آئے ، تو اس کی گردن پر کوئی شخص ہو، جو چیخ رہا ہو اور وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ ﷺ! (میری مد د کیجئے) تو میں یہ کہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں جب وہ قیامت کے دن آئے ، تو اس کی گردن پر کوئی خاموش چیز ہو وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ ﷺ! (میری مد د کیجئے) تو میں یہ کہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم سے کسی بھی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں جب وہ قیامت کے دن آئے ، تو اس کی گردن پر رقاع (یعنی کپڑے کے ٹکڑے وغیرہ) ہو، تو وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ ﷺ! (میری مد د کیجئے) تو میں یہ کہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of the chagrin · Hadith 4847

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغُلُولِ · حديث 4848

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَاتَ يَوْمٍ، فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَ مِنْ أَمْرِهِ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولَ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا يُعَارٌ، فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولَ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهَا حَمْحَمَةٌ، فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولَ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ وَلَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ، يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ، فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولَ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ، فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولَ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ، [ص:185] لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ، يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي، فَأَقُولَ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا، قَدْ أَبْلَغْتُكَ» «الرِّقَاعُ أَرَادَ ثِيَابًا» قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے (مالِ غنیمت) میں خیانت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی اہمیت کو اجاگر کیا پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں تم میں کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے، تو اس کی گردن پر اونٹ ہو، جو آواز نکال رہا ہو۔ وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ ﷺ! میری مدد کیجئے، تو میں یہ کہوں، میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے، تو اس کی گردن پر کوئی بکری ہو ، جو آواز نکال رہی ہو۔ وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ ﷺ! میری مدد کیجئے، تو میں یہ کہوں، میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے، تو اس کی گردن پر کوئی گھوڑا ہو، جو آواز نکال رہا ہو وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ ﷺ! میری مدد کیجئے، تو میں یہ کہوں، میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے، تو اس کی گردن پر کوئی شخص ہو ، جو چیخ رہا ہو وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ ﷺ! میری مدد کیجئے، تو میں یہ کہوں، میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے، تو اس کی گردن میں رقاع (یعنی کپڑے کے ٹکڑے ) ہو وہ شخص یہ کہے: یا رسول اللہ ﷺ! میری مدد کیجئے، تو میں یہ کہوں، میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مقابلے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ میں تم میں کسی شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے، تو اس کی گردن پر کوئی خاموش ہو وہ شخص عرض کرے : یا رسول اللہ ﷺ! میری مدد کریں ، تو میں کہوں میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ لفظ” رقاع “سے مراد کپڑے ہیں۔ یہ بات امام ابو حاتم نے بیان کی ہے۔

الْغُلُولَ فَعَظَّمَ مِنْ أَمْرِهِ، ثُمَّ ← قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ أَبُو حَيَّانَ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of the chagrin · Hadith 4848

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغُلُولِ · حديث 4849

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ نَفَرٌ يَوْمَ خَيْبَرَ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، وَفُلَانٌ شَهِيدٌ، حَتَّى ذَكَرُوا رَجُلًا، فَقَالُوا: فُلَانٌ شَهِيدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ غَلَّهَا، أَوْ بُرْدَةٍ غَلَّهَا»، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ابْنَ الْخَطَّابِ اذْهَبْ، فَنَادِ فِي النَّاسِ، أَنَّهُ [ص:186] لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةُ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ»، قَالَ فَخَرَجْتُ، فَنَادَيْتُ فِي النَّاسِ

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جب خیبر کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ شہید ہو گئے، تو لوگوں نے کہا فلاں شخص شہید ہے فلاں شخص شہید ہے یہاں تک کہ لوگوں نے ایک شخص کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا کہ فلاں شخص شہید ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہرگز نہیں! میں نے اسے ایک عباء (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) چادر کی وجہ سےجہنم میں دیکھا ہے، جو اس نے خیانت کے طور پر حاصل کی تھی۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے خطاب کے صاحبزادے جاؤ اور لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جنت میں صرف مومن شخص داخل ہو گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں وہاں سے نکلا اور میں نے لوگوں میں یہ اعلان کر دیا۔

فُلَانٌ شَهِيدٌ، ← فُلَانٌ شَهِيدٌ، وَفُلَانٌ شَهِيدٌ، حَتَّى ذَكَرُوا رَجُلًا، ← لَمَّا قُتِلَ نَفَرٌ يَوْمَ خَيْبَرَ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of the chagrin · Hadith 4849

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغُلُولِ · حديث 4850

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ سُلَيْمٍ التُّجِيبِيِّ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّبَائِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ عَامَ خَيْبَرَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَسْقِيَنَّ مَاءَهُ وَلَدَ غَيْرِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَأْخُذَنَّ دَابَّةً مِنَ الْمَغَانِمِ فَيَرْكَبَهَا حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِي الْمَغَانِمِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنَ الْمَغَانِمِ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِي الْمَغَانِمِ»

حضرت رویفع ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں۔ غزوہ خیبر کے موقع پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ او ر آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پانی کے ذریعے کسی دوسرے کی اولاد کو سیرا ب نہ کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مال غنیمت میں سےکوئی جانور حاصل کر کے کود اس پر سوار نہ ہو جائے یہاں تک کہ جب وہ جانور کمزور ہو جائے، تو اسے پھر مال غنیمت میں جمع کر ادے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مال غنیمت میں سے کوئی کپڑا لے کر پہن نہ لے کہ جب وہ پرانا ہو جائے تو اسے پھر مال غنیمت میں جمع کراد ے گا“۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ ← حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّبَائِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ سُلَيْمٍ التُّجِيبِيِّ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of the chagrin · Hadith 4850

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغُلُولِ · حديث 4851

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ [ص:188] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَامَ خَيْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً إِلَّا الْأَمْوَالَ وَالثِّيَابَ، وَالْمَتَاعَ، فَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ وَادِي الْقُرَى، وَكَانَ رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ وَهَبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا أَسْوَدَ، يُقَالُ لَهُ مِدْعَمٌ، فَخَرَجْنَا، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِوَادِي الْقُرَى، فَبَيْنَمَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ سَهْمٌ عَائِرٌ، فَأَصَابَهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ النَّاسُ هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلَّا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ، مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا»، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ النَّاسُ جَاءَ رَجُلٌ بِ شِرَاكٍ، أَوْ شِرَاكَيْنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ، أَوْ شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَسْلَمَ أَبُو هُرَيْرَةَ بِدَوْسٍ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَارِجٌ نَحْوَ خَيْبَرَ وَعَلَى الْمَدِينَةِ سِبَاعُ بْنُ عُرْفُطَةَ الْغِفَارِيُّ اسْتَخْلَفَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى أَبُو هُرَيْرَةَ، مَعَ سِبَاعٍ، وَسَمِعَهُ يَقْرَأُ {وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ} [المطففين: 1]، ثُمَّ لَحِقَ بِالْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَشَهِدَ خَيْبَرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ خیبر کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے ہمیں مال غنیمت میں سونا چاندی حاصل نہیں ہوا صرف زمینیں اورکپڑے ملے اور سازوسامان ملا۔ نبی اکرم ﷺ وادی قریٰ کی طرف روانہ ہوئے، حضر رفاعہ بن زید رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو ایک سیاہ فام غلام تحفے کے طور پر دیا جس کا نام مدعم تھا ہم لوگ روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم وادی قریٰ میں پہنچے تو مدعم نبی اکرم ﷺ کے اونٹ سے سامان اتاررہا تھا۔ اسی دوران ایک اندھا تیرآیا اسے لگا اور وہ مر گیا تو لوگوں نے اسے جنت کی مبارکباد دی تو نبی اکرم ﷺ نے فریاما: ہرگز نہیں! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ غزوہ خیبر کے موقع پر اس نے جو چادر مال غنیمت میں سے حاصل کر لی تھی جو تقسیم تک نہیں پہنچی تھی وہ آگ کی بن کر اس پر رجل رہی ہے۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص ایک تسمہ یا دو تسمے لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ تسمہ آگ سے بنا ہوا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہ دو تسمے آگ سے بنے ہوئے ہیں۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دوس قبیلے میں اسلام قبول کر لیا تھا پھر جب وہ مدینہ منورہ آئے، تو نبی اکرم ﷺ اس وقت خیبر کی طرف روانہ ہو چکے تھے اور مدینہ منورہ کے نگران سباع بن عرفطہ غفاری رضی اللہ عنہ تھے جنہیں نبی اکرم ﷺ نے نائب مقرر کیا تھا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سباع رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز ادا کی انہوں نے ویل للمطففین کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ پھر وہ خیبر جا کر نبی اکرم ﷺ سے مل گئے اور غزوہ خیبر میں نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ شریک ہوئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الغيث مولى ابن مطيعٍ، ← ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of the chagrin · Hadith 4851

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغُلُولِ · حديث 4852

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، [ص:190] قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ سَالِمٍ، مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَهْدَى رِفَاعَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا، فَخَرَجَ بِهِ مَعَهُ إِلَى خَيْبَرَ، فَأَتَى الْغُلَامَ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَهُ فَقُلْنَا هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، الشَّمْلَةُ لَتَحْتَرِقُ عَلَيْهِ الْآنَ فِي النَّارِ غَلَّهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ خَيْبَرَ»، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ يَوْمَئِذٍ شِرَاكَيْنِ، قَالَ: «يُعَدَّدُ لَكَ مِثْلُهُمَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں؛ حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو ایک غلام تحفے کے طور پر دیا۔ نبی اکرم ﷺ اسے ساتھ لے کر خیبر تشریف لے گئے۔ ایک اجنبی تیر اس غلام کو آ کر لگا اور وہ غلام مر گیا تو ہم نے کہا اسے جنت کی مبارک ہو۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ چادر اس پر جہنم میں جل رہی ہے، جو اس نے مسلمانوں کے مال میں غزوہ خیبر کے موقع پر خیانت کی تھی، تو یک انصاری نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! اس دن مجھے دو تسمے ملے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے لیے ان دونوں کی مانند جہنم کی آگ میں (تسمے تیار کیے جائیں گے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَالِمٍ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ، ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of the chagrin · Hadith 4852

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغُلُولِ · حديث 4853

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، [ص:191] عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ»، فَتَغَيَّرَتْ وجُوهُ الْقَوْمِ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَفَتَحْنَا مَتَاعَهُ، فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْيَهُودِ لَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ»

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں؛ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص کا غزوہ خیبر کے موقع پر انتقال ہو گیا۔ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس کے انتقال کا ذکر کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو تو اس بات پر لوگوں کے چہرے متغیر ہو گئے (یعنی وہ پریشان ہو گئے) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے اللہ کی راہ میں خیانت کی تھی۔ (راوی بیان کرتے ہیں) جب ہم نے اس کے سازوسامان کا جائزہ لیا تو اس میں یہودیوں کا ایک ہار ملا جس کی قیمت دودرہم بھی نہیں ہو گی۔

أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The door of the chagrin · Hadith 4853

chevron_left Previous
1…3132333435
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr