صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4842
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ مَدَدِيًّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ رَافَقَهُمْ، وَأَنَّ رُومِيًّا كَانَ يَسْمُو عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَيُغْرِي عَلَيْهِمْ فَتَلَطَّفَ الْمَدَدِيُّ، فَقَعَدَ تَحْتَ صَخْرَةٍ، فَلَمَّا مَرَّ بِهِ عَرْقَبَ فَرَسَهُ، وَخَرَّ الرُّومِيُّ لِقَفَاهُ، وَعَلَاهُ الْمَدَدِيُّ بِالسَّيْفِ، فَقَتَلَهُ، وَأَقْبَلَ بِسَرْجِهِ، وَلِجَامِهِ، وَسَيْفِهِ، وَمِنْطَقَتِهِ، وَسِلَاحِهِ، فَذَهَبَا بِالذَّهَبِ وَالْجَوْهَرِ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأَخَذَ خَالِدٌ مِنْهُ طَائِفَةً وَنَفَّلَهُ بَقِيَّتَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا خَالِدُ، مَا هَذَا؟ أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَفَّلَ السَّلَبَ كُلَّهُ لِلْقَاتِلِ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ، فَقُلْتُ: أَمَا لَعَمْرِ اللَّهِ لَأُعَرِّفَنَّهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا [ص:176] عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ خَبَرَهُ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى الْمَدَدِيِّ بَقِيَّةَ سَلَبِهِ، فَوَلَّى خَالِدٌ لِيَفْعَلَ، فَقُلْتُ لَهُ: فَكَيْفَ رَأَيْتَ يَا خَالِدُ أَلَمْ أَفِ لَكَ بِمَا وَعَدْتُكَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: «يَا خَالِدُ لَا تُعْطِهِ وَأَقْبِلْ عَلَيَّ»، فَقَالَ: «هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُوا لِي أُمَرَائِي؟، لَكُمْ صَفْوَةُ أَمْرِهِمْ، وَعَلَيْهِمْ كَدَرُهُ»، [ص:177] قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَا خَالِدُ لَا تُعْطِهِ» أَرَادَ بِهِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَعْطَاهُ
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کرتے ہیں: ایک مدد ی شخص نے غزوہ تبوک کے موقع پر ان کا ساتھ دیا۔ رومیوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا، تو اس مددی نے یہ حیلہ اختیار کیا کہ وہ ایک چٹان کے نیچے بیٹھ گیا جب رومی شخص اس کے پاس سے گزرا تو اس نے اس کے گھوڑے پر حملہ کیا، تو رومی شخص گدی لے بل نیچے گر گیا۔ مددی شخص تلوار لے کر اس پر غالب آیا اور اس نےاسے قتل کر دیا پھر وہ اس کی زین ، اس کی لگا م ، اس کی تلوار ، اس کا پٹکا اور اس کے ہتھیار لے کر آیا۔ یہ دونوں صاحبان سونا اور جواہرات لے کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کچھ چیزیں رکھ لیں اور بقیہ چیزیں اس مددی کو انعام کے طور پر دے دیں۔ میں نے ان سے کہا: اے حضرت خالد رضی اللہ عنہ یہ آپ نے کیا کیا؟ کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ نبی اکرم ﷺ سارا سازوسامان قتل کرنے والے کو عطیے کے طور پر دیتے ہیں۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ جواب دیتے ہیں جی ہاں! لیکن میں نے اسے زیادہ خیال کیا۔ (اس لیے میں اسے نہیں دیا) (حضر ت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) تو میں نےیہ کہا: اللہ کی قسم ! میں نبی اکرم ﷺ کو ضرور اس بارے میں آگاہ کروں گا۔ جب ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے آپﷺ کو اس صورت حال کے بارے میں بتایا تو نبی اکرمﷺ نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اس مددی کو باقی رہ جانے والا سازوسامان بھی دیں۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ ایسا کرنے کے لیے مڑ کر جانے لگے تو میں نے ان سے کہا: اے خالد! آپ نے دیکھا کہ میں آپ کے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا ہے، تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے۔ آپﷺ نے فرمایا: اے خالد! تم اسے نہ دینا ، پھر آپﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میرے مقرر کردہ امیروں سے درگزر نہیں کر سکتے۔ ان کے معاملے کی اچھائی کا فائدہ تمہیں مل جائے اور ان کی کوتاہی کا وبال ان پر ہو۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان” اے خالد! تم اسے نہ دو “کے ذریعے آپﷺ کی یہ مراد تھی کہ اس وقت میں نہ دو۔ بعد میں نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اسے وہ چیز دے دی تھی۔
أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،
Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4842
