صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4830
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، قَالَ تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِي، فَأَعِنِّي فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ نَحْمِلُهُ عَنْكَ»، قَالَ هِيَ لَكَ، فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، إِذَا جَاءَتْ، ثُمَّ قَالَ: «يَا قَبِيصَةُ بْنَ مُخَارِقٍ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ، إِلَّا لِإِحْدَى ثَلَاثٍ رَجُلٍ، تَحَمَّلَ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِهِ إِرَادَةَ الْإِصْلَاحِ، فَسَأَلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ أُمْنِيَّتَهُ أَمْسَكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ، فَشَهِدَ لَهُ ثَلَاثَةٌ، مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ، حَتَّى إِذَا أَصَابَ قِوَامًا، أَوْ سِدَادًا أَمْسَكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَسَأَلَ حَتَّى إِذَا أَصَابَ قِوَامًا، أَوْ سِدَادًا أَمْسَكَ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ يَا قَبِيصَةُ، [ص:162] مِنَ الْمَسْأَلَةِ سُحْتٌ»، قَالَهَا ثَلَاثًا
حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی قوم (کے ذمہ لازم) ایک ادائیگی اپنے ذمہ لے لی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں نے اپنی قوم کی طرف سے ایک ادائیگی اپنے ذمہ لے لی ہے، آپﷺ اس بارے میں میری مدد کیجئے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہاری یہ ادائیگی ہم اپنے ذمہ لیتے ہیں، جب صدقہ کے اونٹ آئیں گے تو تمہیں یہ (رقم یا ادائیگی کی چیز) مل جائے گی۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا؛ اے قبیصہ بن مخارق! مانگنا کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے صرف تین قسم کے لوگوں میں کسی ایک کے لیے مانگنا جائزہ ہے۔ ایک وہ شخص جو بھلائی کے ارادے کے ساتھ اپنی قوم کی طرف سے کوئی ادائیگی اپنے ذمہ لے، وہ مانگ سکتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کی ضروریات پوری ہو جائے، تو وہ (مانگنے سے) رک جائے۔ ایک وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو اور اس کی قوم کے تین تجربہ کار افراد اس کے حق میں گواہی دیں، (تو وہ شخص مانگ سکتا ہے) یہاں تک کہ جب اس کی ضروریات کا سامان دستیاب ہو جائے( یہاں ایک لفظ کےبارے میں راوی کو شک ہے) تو وہ (مانگنے سے) رک جائے۔ ایک وہ شخص جس (کی زرعی پیداوار) کو کوئی آفت لاحق ہو جائے، تو وہ مانگ سکتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کی ضروریات کا سامان دستیاب ہو جائے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) تو وہ مانگنے سے رک جائے۔ اے قبیصہ ! اس کے علاوہ جو بھی مانگنا ہو، وہ حرام ہو گا۔ یہ بات نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
قَوْمِي، فَقُلْتُ: ← تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً ← قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، ← كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،
Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4830
