Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4830

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، قَالَ تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِي، فَأَعِنِّي فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ نَحْمِلُهُ عَنْكَ»، قَالَ هِيَ لَكَ، فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، إِذَا جَاءَتْ، ثُمَّ قَالَ: «يَا قَبِيصَةُ بْنَ مُخَارِقٍ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ، إِلَّا لِإِحْدَى ثَلَاثٍ رَجُلٍ، تَحَمَّلَ حَمَالَةً عَنْ قَوْمِهِ إِرَادَةَ الْإِصْلَاحِ، فَسَأَلَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ أُمْنِيَّتَهُ أَمْسَكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ، فَشَهِدَ لَهُ ثَلَاثَةٌ، مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ، حَتَّى إِذَا أَصَابَ قِوَامًا، أَوْ سِدَادًا أَمْسَكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَسَأَلَ حَتَّى إِذَا أَصَابَ قِوَامًا، أَوْ سِدَادًا أَمْسَكَ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ يَا قَبِيصَةُ، [ص:162] مِنَ الْمَسْأَلَةِ سُحْتٌ»، قَالَهَا ثَلَاثًا

حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی قوم (کے ذمہ لازم) ایک ادائیگی اپنے ذمہ لے لی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں نے اپنی قوم کی طرف سے ایک ادائیگی اپنے ذمہ لے لی ہے، آپﷺ اس بارے میں میری مدد کیجئے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہاری یہ ادائیگی ہم اپنے ذمہ لیتے ہیں، جب صدقہ کے اونٹ آئیں گے تو تمہیں یہ (رقم یا ادائیگی کی چیز) مل جائے گی۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا؛ اے قبیصہ بن مخارق! مانگنا کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے صرف تین قسم کے لوگوں میں کسی ایک کے لیے مانگنا جائزہ ہے۔ ایک وہ شخص جو بھلائی کے ارادے کے ساتھ اپنی قوم کی طرف سے کوئی ادائیگی اپنے ذمہ لے، وہ مانگ سکتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کی ضروریات پوری ہو جائے، تو وہ (مانگنے سے) رک جائے۔ ایک وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو اور اس کی قوم کے تین تجربہ کار افراد اس کے حق میں گواہی دیں، (تو وہ شخص مانگ سکتا ہے) یہاں تک کہ جب اس کی ضروریات کا سامان دستیاب ہو جائے( یہاں ایک لفظ کےبارے میں راوی کو شک ہے) تو وہ (مانگنے سے) رک جائے۔ ایک وہ شخص جس (کی زرعی پیداوار) کو کوئی آفت لاحق ہو جائے، تو وہ مانگ سکتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کی ضروریات کا سامان دستیاب ہو جائے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) تو وہ مانگنے سے رک جائے۔ اے قبیصہ ! اس کے علاوہ جو بھی مانگنا ہو، وہ حرام ہو گا۔ یہ بات نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔

قَوْمِي، فَقُلْتُ: ← تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً ← قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ، ← كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4830

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4831

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ قَالَ: شَهِدْتُ حُنَيْنًا وَأَنَا عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَهْمِي، فَأَعْطَانِي سَيْفًا، وَقَالَ: «تَقَلَّدْهُ»، وَأَعْطَانِي مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ

حضرت عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں غزوہ حنین میں شریک ہوا، میں ایک غلام تھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! (مالِ غنیمت میں سے) میر حصہ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے ایک تلوار عطا کی اور فرمایا: اسے تم گلے میں لٹکا لو۔ اس کے علاوہ آپﷺ نے مجھے عام سا کچھ سازوسامان بھی عطا کیا۔

شَهِدْتُ حُنَيْنًا وَأَنَا عَبْدٌ مَمْلُوكٌ، فَقُلْتُ: ← عُمَيْرٍ، مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4831

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4832

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَ بَعْثًا وَكُنْتُ فِيهِمْ، فَغَنِمْنَا، فَأَصَابَنِي مِنَ الْقَسَمِ ثِنْتَا عَشْرَةَ نَاقَةً، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَنَا بَعْدَ ذَلِكَ نَاقَةً، نَاقَةً»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ایک مہم روانہ کی۔ میں بھی اس میں شریک تھا۔ ہمیں مالِ غنیمت حاصل ہوا تو تقسیم کرتے ہوئے میرے حصہ میں بارہ اونٹنیاں آئیں، پھر اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے ہمیں مزید ایک، ایک اونٹنی عطا کی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← بُرْدِ بْنِ سِنَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4832

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4833

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرًا، فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلُوا بَعِيرًا، بَعِيرًا»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے نجد کی سمت ایک مہم روانہ کی، جس میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی شریک ہوئے۔ ان لوگوں کو مالِ غنیمت میں بہت سے اوبٹ ملے، تو ان میں سے ہر ایک کے حصہ میں بارہ اونٹ آئے، اور (ان میں سے ہر ایک کو) مزید ایک، ایک اونٹ کی ادائیگی بھی کی گئی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4833

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4834

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ فِيهِمُ ابْنُ [ص:165] عُمَرَ، وَإِنَّ سُهْمَانَهُمْ بَلَغَتِ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، ثُمَّ نُفِّلُوا سِوَى ذَلِكَ بَعِيرًا، بَعِيرًا، فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے نجد کی سمت ایک مہم روانہ کی، جس میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی شریک ہوئے، تو ان میں سے ہر ایک کے حصہ میں بارہ اونٹ آئے، اور پھر ان (میں سے ہر ایک) کو ان کے علاوہ بھی ایک ، ایک اونٹ دیا گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4834

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4835

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ، بِبَيْرُوتَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ النَّحَّاسُ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى، يَذْكُرَانِ النَّفَلَ فَقَالَ عَمْرٌو: «لَا نَفْلَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، فَقَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى: «شَغَلَكَ أَكْلُ الزَّبِيبِ بِالطَّائِفِ»، حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ اللَّخْمِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيِّ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَفَّلَ فِي الْبَدْأَةِ الرُّبُعَ بَعْدَ الْخُمُسِ، وَفِي الرَّجْعَةِ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ»

رجاء بن ابو سلمہ بیا ن کرتےہیں: میں عمرو بن شعیب اور سلیمان بن موسیٰ کو (مالِ غنیمت میں سے) نفلی ادائیگی کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے سنا۔ عمرو نے کہا: نبی اکرم ﷺ کے بعد (مالِ غنیمت میں سے) کوئی نفلی ادائیگی نہیں کی جا سکتی۔ اس پر سلیمان بن موسیٰ نے کہا: آپ طائف میں کشمش کھانے میں ہی مصروف رہے، (اور علم حاصل نہ کر سکے) مکحول نے زیاد بن جاریہ لخمی کے حوالے سے حضرت حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے۔ ”نبی اکرم ﷺ نے آغاز میں خمس کے بعد چوتھائی حصہ نفلی طور پر عطا کیا تھا، اور واپسی پر خمس کے بعد تہائی حصہ عطا کیا تھا “۔

حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيِّ ← زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ اللَّخْمِيِّ، ← مَكْحُولٌ ← لَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى: «شَغَلَكَ أَكْلُ الزَّبِيبِ بِالطَّائِفِ»، ← عَمْرٌو: «لَا نَفْلَ بَعْدَ النَّبِيِّ ← عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى، يَذْكُرَانِ النَّفَلَ ← رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ← ضَمْرَةُ ← أَبُو عُمَيْرٍ النَّحَّاسُ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَیْرُوتَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4835

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4836

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، [ص:167] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ: «مَنْ قَتَلَ كَافِرًا، فَلَهُ سَلَبُهُ»، فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا، وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ، فَأُجْهِضْتُ عَنْهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا أَخَذْتُهَا، فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يُسْأَلُ شَيْئًا، أَلَا أَعْطَاهُ، أَوْ سَكَتَ، فَسَكَتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ: وَاللَّهِ لَا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ، وَيُعْطِيكَهَا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «صَدَقَ عُمَرُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس نے کسی کافر کو قتل کیا ہو، تو اس (کافر) کا سازوسامان اسے مل جائے گا“۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس آدمیوں کو قتل کیا تھا، انہوں نے ان سب کا سازوسامان حاصل کر لیا، تو حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ مٰں نے ایک کافر کے کندھے پر وارکیا، اس نے زرہ پہنی ہوئی تھی، تو ایک صاحب بولے: میں نے (اس مقتول کا) سازوسامان لے لیا ہے، آپ انہیں اس سامان کی طرف سے راضی کر دیں، اور وہ سامان مجھے عطا کر دیں، (حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) نبی اکرم سے جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی تھی، تو آپﷺ یا تو وہ چیز عطا کر دیتے تھے یا خاموش رہتے تھے۔ اس وقت بھی آپﷺ خاموش رہے، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! ایسا نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک شیر کوفے میں سے کچھ عطا کرے، اور نبی اکرم ﷺ وہ تمہیں عطا کر دیں، تو نبی اکرم ﷺ مسکر دئیے اور آپ ﷺ نے فرمایا: عمر نے ٹھیک کہا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، [ص:167] ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4836

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4837

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ [ص:168] فَاسْتَدْبَرْتُ لَهُ، حَتَّى أَتَيْتُ مِنْ وَرَائِهِ، فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ ضَرْبَةً فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ فِيهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ النَّاسِ؟، فَقَالَ: أَمْرُ اللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ قَدْ رَجَعُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ، فَلَهُ سَلَبُهُ»، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟، ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ، عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ، فَلَهُ سَلَبُهُ»، فَقُمْتُ، ثُمَّ قُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي، ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ»، قَالَ: فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي، فَأَرْضِهِ مِنِّي، فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ: لَاهَا اللَّهِ، إِذًا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ، وَعَنْ رَسُولِهِ، فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ»، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: فَأَعْطَانِيهِ، فَبِعْتُ الدِّرْعَ، فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلَمَةَ، فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ

حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حنین کے سال ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے، جب ہمارا (دشمن کا) سامنا ہوا (تو جنگ کے دوران) مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی، میں نے ایک مشرک کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر غالب آ چکا تھا، میں گھوم کر اس (مشرک کے) پیچھے آ گیا، میں نے اس کے کندھے پر ضرف لگا کر اس کی زرہ کاٹ دی، وہ میری طرف بڑھا اور اس نے مجھے اتنے زور سے بھینچا، کہ مجھے موت کی خوشبو محسوس ہوئی، لیکن پھر وہ مر گیا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا، میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے ان سے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کا حکم ہے۔ جب لوگ(اس جنگ سے ) واپس آ گئے، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کسی (کافت) کو قتل کیا ہو، او ر اس کا ثبوت بھی موجود ہو، تو مقتول کا سازوسامان اس شخص کو ملے گا، حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں کھڑا ہو پھر میں نے سوچا، میرے حق میں گواہی کون دے گا؟ میں پھر بیٹھ گیا، پھر نبی اکرم ﷺ نے تیسری مرتبہ یہی بات ارشاد فرمائی تو میں کھڑا ہو گیا، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا؛ اے ابو قتادہ! کیا معاملہ ہے؟ میں نے آپﷺ کو پورا واقعہ سنایا، تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے: یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں، اس مقتول کا سازو سامان میرے پاس ہے، آپ انہیں میری طرف سے راضی کریں، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: ہرگز نہیں! اللہ تعالیٰ کا ایک شیر ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ میں حصہ لے اور (نبی اکرمﷺ) اس کا سامان تمہیں د ے دیں؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم وہ اسے دے دو، حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس نے وہ مجھے دے دیا، میں نے زرہ کو فروخت کر کے بنو سلمہ کے محلے میں کھجوروں کا باغ لے لیا، اسلام قبول کرنے کے بعد یہ وہ پہلی زمین تھی جو میں نے خریدی تھی۔

أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السُّلَمِيِّ ← أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ← عُمَرَ بْنِ کَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4837

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4838

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّ هَوَازِنَ، جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالشَّاءِ، وَالْإِبِلِ، وَالْغَنَمِ، فَجَعَلُوهَا صَفَّيْنِ لِيُكْثِرُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَالْتَقَى الْمُسْلِمُونَ، وَالْمُشْرِكُونَ فَوَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ، كَمَا قَالَ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ وَلَمْ نَضْرِبْ بِسَيْفٍ وَلَمْ نَطْعَنْ بِرُمْحٍ»، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ: «مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ»، فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا، وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ، وَعَلَيْهِ دِرْعٌ، فَأُعْجِلْتُ عَنْهُ أَنْ آخُذَهَا، فَانْظُرْ مَعَ مَنْ هِيَ فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أَخَذْتُهَا، فَأَرْضِهِ مِنِّي وَأَعْطِنِيهَا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ، أَوْ سَكَتَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ، وَيُعْطِيكَهَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: صَدَقَ عُمَرُ، وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ، وَمَعَهَا خِنْجَرٌ، فَقَالَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا مَعَكِ؟، قَالَتْ: أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ، أَنْ أَبْعَجَ بِهِ بَطْنَهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ [ص:170] أُمُّ سُلَيْمٍ؟، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْتُلُ بِهَا الطُّلَقَاءَ انْهَزَمُوا بِكَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر ہوازن قبیلے کے لوگ بکریاں اور اونٹ لے آئے، انہوں نے اپنی دو صفیں بنالیں تا کہ نبی اکرم ﷺ پر زیادہ شدت سے حملہ کریں۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب مسلمانوں اور مشرکین کا سامنا ہوا، تو (کچھ) مسلمان پیٹھ پھیر کر واپس پلٹ گئے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو پسپا کر دیا، حالانکہ (ایسا) ہمارے تلوار کے ذریعے (انہیں) مارنے یا نیزے کے ذریعے زخمی کرنے کی وجہ سے نہیں ہوا تھا۔ ان دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس نے کسی کافر کو قتل کیا ہو، تو اس (کافر) کا سازو سامان اسے ملے گا “۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس آدمیوں کو قتل کیا تھا ، ان کا سازوسامان انہوں نے حاصل کر لیا۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں نے ایک کافر کی گردن پر وار کیا، اس نے زرہ پہنی ہوئی تھی۔ (پھر وہ مارا گیا) میں اس کی زرہ حاصل نہیں کر سکا، اب آپﷺ دیکھ لیں کہ وہ کس کے پاس ہے؟ تو ایک صاحب کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! وہ میں نے حاصل کر لی ہے، آپ ﷺ انہیں میری طرف سے راضی کر دیں اور وہ (زرہ) مجھے عطا کر دیں۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) نبی اکرم ﷺ کی یہ عادت شریفہ تھی کہ آپﷺ سے جب کوئی چیز مانگی جاتی، تو آپﷺ یا تو وہ چیز عطا کر دیتے تھے یا پھر خاموش رہتے تھے (یعنی آپ ﷺ” نہ “نہیں کرتے تھے) اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے : ایسا نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک شیر کو وہ (زرہ) مال فے کے طور پر عطا کی ہو اور نبی اکرم ﷺ وہ تمہیں دے دیں۔ تو نبی اکرمﷺ مسکرا دئیے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا: عمر نے ٹھیک کہا ہے۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس موقع پر ) حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیّدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ہوئی، ان کے پاس خنجر تھا، حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اے ام سلیم! یہ تمہارے پاس کیوں ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں یہ ارادہ کیا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا، تو میں اسے اس کے پیٹ میں گھونپ دوں گی، تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے سنا، ام سلیم کیا کہہ رہی ہے؟ سیّدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں اس کے ذریعے ان طلقاء کو قتل کر دوں گی، جو آپﷺ کو چھوڑ کر پسپا ہو گئے تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ام سلیم! بے شک اللہ تعالیٰ نے کفایت کر دی ہے، اور (جنگ کا نتیجہ) عمدہ رکھا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4838

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4839

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ، بِبَيْرُوتَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، [ص:171] عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُخْبِرَ أَنَّهُ عَيْنٌ لِلْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَهُ، فَلَهُ سَلَبُهُ»، قَالَ فَأَدْرَكْتُهُ، فَقَتَلْتُهُ فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ

ایاس بن سلمہ اپنے والد (حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس سے اٹھ کر گیا، نبی اکرم ﷺ کو بتایا گیا: وہ مشرکوں کا جاسوس ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اسے قتل کر دے گا، تو اس (جاسوس) کا سازوسامان (یعنی اس کے ہتھیار وغیرہ) اسے مل جائیں گے، (حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) میں نے اس تک پہنچ کر اسے قتل کر دیا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا سازو سامان مجھے عطا کر دیا۔

فَأَدْرَكْتُهُ، فَقَتَلْتُهُ فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ سَلَبَهُ ← رَسُولُ اللَّهِ «مَنْ قَتَلَهُ، فَلَهُ سَلَبُهُ»، ← قَامَ رَجُلٌ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ فَأُخْبِرَ أَنَّهُ عَيْنٌ لِلْمُشْرِكِينَ، ← أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، [ص:171] ← أَبِي عُمَيْسٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ بِبَیْرُوتَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4839

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4840

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:172] عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ بَيْنَ الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ، إِذْ غَمَزَنِي أَحَدُهُمَا، فَقَالَ أَيْ عَمِّ، هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، وَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ، يَا بْنَ أَخِي، فَقَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ، يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ، حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ، مِنَّا، قَالَ: فَأَعْجَبَنِي قَوْلُهُ، قَالَ: فَغَمَزَنِي الْآخَرُ، وَقَالَ مِثْلَهَا، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ رَأَيْتُ أَبَا جَهْلٍ يَجُولُ بَيْنَ النَّاسِ، فَقُلْتُ لَهُمَا: هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسَلَانِي عَنْهُ، فَابْتَدَرَاهُ، فَضَرَبَاهُ بِسَيْفِهِمَا فَقَتَلَاهُ، ثُمَّ أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَاهُ بِمَا صَنَعَا، فَقَالَ: «أَيُّكُمَا قَتَلَهُ؟ »، فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُهُ، فَقَالَ: «هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَكُمَا؟ »، قُلْنَا: لَا، قَالَ فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كِلَاكُمَا قَتَلَهُ»، ثُمَّ قَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، قَالَ، وَالرَّجُلَانِ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «هَذَا خَبَرٌ أَوْهَمَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَئِمَّتِنَا، أَنَّ سَلَبَ الْقَتِيلِ، إِذَا اشْتَرَكَ النَّفْسَانِ فِي قَتْلِهِ، يَكُونُ خِيَارُهُ إِلَى الْإِمَامِ، بِأَنْ يُعْطِيَهُ أَحَدَ الْقَاتِلَيْنِ، مَنْ شَاءَ مِنْهُمَا، وَكُنَّا نَقُولُ بِهِ مُدَّةً، ثُمَّ تَدَبَّرْنَا، فَإِذَا هَذِهِ الْقِصَّةُ كَانَتْ يَوْمَ بَدْرٍ، وَحِينَئِذٍ لَمْ يَكُنْ حُكْمُ سَلَبِ الْقَتِيلِ لِقَاتِلِهِ، وَلَمَّا كَانَ ذَلِكَ، كَذَلِكَ كَانَ الْخِيَارُ إِلَى الْإِمَامِ، أَنْ يُعْطِيَ ذَلِكَ أَيَّمَا شَاءَ مِنَ الْقَاتِلَيْنِ، كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي سَلَبِ أَبِي جَهْلٍ حَيْثُ أَعْطَاهُ مُعَاذَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَكَانَ هُوَ، وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ قَاتِلَيْهِ، وَأَمَّا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ «، فَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَيَوْمُ حُنَيْنٍ بَعْدَ بَدْرٍ، بِسَبْعِ سِنِينَ، فَذَلِكَ مَا وَصَفْتُ عَلَى أَنَّ الْقَاتِلَيْنِ، إِذَا اشْتَرَكَا فِي قَتِيلٍ كَانَ السَّلَبُ لَهُمَا مَعًا»

حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر میں صف میں کھڑا ہوا تھا، جب میں نے اپنے دائیں اور بائین طرف دیکھا تو میں دو انصاری لڑکوں کے درمیان تھا، ابھی میں اسی حالت میں تھا کہ ان دونوں میں سے ایک نے مجھے ٹہوکا دیا اور بولا: اے چچا! کیا آپ ابو جہل بن ہشام کو پہچانتے ہیں؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اے میرے بھتیجے تمہیں اس سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا : مجھے یہ بتایا گیا ہے، وہ نبی اکرم ﷺ کو برا کہتا ہے، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میر جان ہے، اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا جسم اس کے جسم سے اس وقت تک جدا نہیں ہو گا، جب تک ہم دونوں میں سے وہ شخص مر نہیں جاتا، جسے پہلے موت آنی ہے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس کی بات سے متاثر ہوا، تو دوسرے نے مجھے ٹہوکا دیا، اس نے بھی اسی کی مانند بات کہی، اسی دوران میں نے ابو جہل کو لوگوں کے درمیان گھومتے ہوئے دیکھا، تو میں ان دونوں سے کہا : یہ رہا وہ شخص جس کے بارے میں تم دونوں مجھ سے دریافت کر رہے تھے، وہ دونوں اس کی طرف لپکے، ان دونوں نے اس پر تلوار کا وار کیا، اور اسے قتل کر دیا، پھر وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ کو اپنے اس عمل کے بارے میں بتایا،نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: تم دونوں میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟ ان دونوں نے یہی کہا: میں نے اسے قتل کیا ہے، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تم دونوں نے اپنی تلواروں کو صاف کر لیا ہے؟ ہم نے (یعنی ان دونوں نے) جواب دیا: جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کی تلواروں کا جائزہ لیا اور پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا؛ تم دونوں ہی نے اسے قتل کیا ہے، پھر نبی اکرم ﷺ نے (ابو جہل) کا سازوسامان (یعنی ہتھیار وغیرہ) معاذ بن عمرو بن جموح کو دئیے جانے کا فیصلہ دیا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) وہ دو لڑکے معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ تھے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ) اس روایت کو نقل کرتے ہوئے ہمارے ائمہ کی ایک جماعت کو غلط فہمی ہوئی کہ جس کافر کو قتل کرنے میں دو آدمی حصہ دار ہوں، اس کافر (کے سازوسامان) کے بارے میں امیر کو اختیار ہوگا، کہ وہ اس سامان کو دونوں قاتلوں میں سےکسی ایک کو دیدے، جسے بھی وہ چاہے، ہم ایک عرصہ تک اس کے مطابق فتویٰ دیتے رہے۔ پھر ہم نے غوروفکر کیا (تو یہ بات سامنے آئی) یہ واقعہ غزوہ بدر کا ہے، اور اس وقت یہ حکم نہیں تھا کہ مقتول کا سازوسامان قاتل کو ملے گا، تو جب یہ صورتحال تھی، تو (اس وقت) اختیار امیر کے پاس تھا، کہ وہ اس سامان کو دونوں قاتلوں میں سے جسے چاہے دیدے، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے ابو جہل کے سامان کے بارے میں کیا کہ آپﷺ نےوہ سامان حضرت معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کو دے دیا، حالانکہ وہ اورحضرت معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ (دونوں ابوجہل) کے قاتل تھے۔ جہاں تک نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا تعلق ہے ”جو کسی (کافر ) کو قتل کرے تو اس (کافر ) کا سازوسامان اسے مل جائے گا “۔ یہ فرمان غزوہ حنین کے موقع کا ہے اور غزوہ حنین، غزوہ بدر کے سات سال بعد پیش آیا تھا۔ اس بنیاد پر میں یہ کہتا ہو، جب دو (مجاہد) کسی (کافر) کو قتل کرنے میں حصہ دار ہوں، تو (اس کافر کا) سازوسامان ان دونوں کو ملے گا۔

كَذَلِكَ ← بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَبَيْنَا ← شِمَالِي فَإِذَا ← يَمِينِي ← وَاقِفٌ بَيْنَ الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ ← بَيْنَا ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبِيهِ ← صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف ← يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4840

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4841

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْإِفْرِيقِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ: «مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمٍ فَلَهُ سَلَبُهُ»، قَالَ فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ بِسَلَبٍ وَاحِدٍ وَعِشْرِينَ نَفْسًا. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَوْلُهُ مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمٍ، فَلَهُ سَلَبُهُ، وَمَنْ [ص:175] قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ، مَعْنَاهُمَا وَاحِدٌ مَنْ قَتَلَ وَحْدَهُ، فَلَهُ سَلَبُ الْمَقْتُولِ، إِذَا كَانَ مُنْفَرِدًا بِدَمِهِ، وَإِذَا اشْتَرَكَ جَمَاعَةٌ فِي قَتْلِ وَاحِدٍ كَانَ السَّلَبُ بَيْنَهُمْ، لِأَنَّ الْعِلَّةَ، الَّتِي هِيَ مَوْجُودَةٍ فِي قَاتِلٍ وَاحِدٍ، وُجِدَتْ فِي الْقَاتِلِينَ، إِذَا اشْتَرَكُوا فِي دَمٍ، وَاسْتَوَى حُكْمُهُمْ، وَحُكْمُ الْمُنْفَرِدُ فِيمَا وَصَفْنَا»

حضرت ان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی کے خون میں منفرد ہو اس کا سازوسامان اسے ملے گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن اکیس آدمیوں کا سازوسامان حاصل کیا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ”جو شخص کسی کے خون میں منفرد ہو اس کا سازوسامان اسے ملے گا “ (اور آپﷺ کا یہ فرمان: ) جو شخص کسی کو قتل کر دے اس کا سازوسامان اسے ملے گا ان دونوں کا مطلب ایک ہی ہے، جس اکیلے شخص نے کسی کو قتل کیا ہو، تو مقتول کا سازوسامان اسے ملے گا، جب وہ اسے قتل کرنے میں منفرد ہو اور اگر کسی شخص کو قتل کرنے میں ایک جماعت حصے دار ہو، تو وہ سازوسامان ان کے درمیان تقسیم ہو گا اس کی وجہ یہ ہے: ایک قاتل میں جو علت پائی جارہی ہے وہ کئی قاتلوں میں پائی جا رہی ہے اس وقت جب وہ کسی کے خون میں حصہ دار ہوں ، تو ان کا حکم اور منفرد شخص کا حکم ایک ہی ہو گا۔

أَنَسٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← أَبِي أَيُّوبَ الْإِفْرِيقِيِّ، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4841

chevron_left Previous
1…303132…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr