Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4818

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً، وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: ادْخُلْ، فَادْعُهُ لِي، قَالَ فَدَعَوْتُهُ لَهُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ فَقَالَ: «قَدْ خَبَّأْتُ هَذَا لَكَ»، فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَضِيَ مَخْرَمَةُ»

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے کچھ قبائیں تقسیم کیں، لیکن آپ ﷺ نے حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہیں دیا، حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اند ر جا کر نبی اکرم ﷺ کو بلا کر لاؤ۔ میں نبی اکرم ﷺ کو بلا کر لایا نبی اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، آپﷺ کے پاس ایک قباء تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ میں نے تمہارے لیے سنبھال کر رکھی ہوئی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا تو آپﷺ نے فرمایا: مخرمہ راضی ہو گئے۔

«رَضِيَ مَخْرَمَةُ» ← «قَدْ خَبَّأْتُ هَذَا لَكَ»، فَنَظَرَ إِلَيْهِ، ← فَدَعَوْتُهُ لَهُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ ← ادْخُلْ، فَادْعُهُ لِي، ← مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، ← قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4818

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4819

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، [ص:148] عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقْبِضُ لِلنَّاسِ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ يَوْمَ حُنَيْنٍ يُعْطِيهِمْ، فَقَالَ إِنْسَانٌ مِنَ النَّاسِ: اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَكَ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ فَمَنْ يَعْدِلُ لَقَدْ خِبْتُ وَخَسِرْتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ» قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبُ عُنُقَهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَعَاذَ اللَّهِ، أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ، أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي، إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابًا لَهُ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم ﷺ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں سے چیزیں نکال کر لوگوں کو عطا کر رہے تھے۔ ایک شخص بولا: اے حضرت محمد ﷺ! انصاف سے کام لیجئے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر میں انصاف سے کام نہیں لوں گا، تو پھر کون انصاف سے کام لے گا؟ اگر میں انصاف سے کام نہ لوں، تو میں خسارے اور نقصان کا شکار ہو جاؤں گا، راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں اس کی گردن اڑا دیتا ہوں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی پناہ! (اس صورت میں غیر مسلم) لوگ یہ باتیں کریں گے کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کروا دیتا ہوں۔ بے شک یہ شخص اور اس کے ساتھی قرآن کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ [ص:318] ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مالک بن أنس ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4819

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4820

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ النَّاسُ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ عَلِقَهُ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ، فَاضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ، حَتَّى خُطِفَ رِدَاؤُهُ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَوَقَفَ فَقَالَ: «رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي، أَتَخْشَوْنَ عَلَيَّ الْبُخْلَ، فَلَوْ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمًا، لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ، ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا، وَلَا جَبَانًا، وَلَا كَذَّابًا»

محمد بن جبیر بن مطعم بیان کرتے ہیں: ان کے والد (حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) نے انہیں یہ بات بتائی ہے: ایک مرتبہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے، نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ اور بھی لوگ تھے، یہ غزوہ حنین سے واپسی کی بات ہے، کچھ دیہاتیوں نے آپﷺ کو گھیر لیا وہ آپﷺ سے مانگ رہے تھے، انہوں نے آپﷺ کو سمرہ کے درخت کی طرف جانے پر مجبور کر دیا، یہاں تک کہ آپﷺ کی چادر کھینچ لی گئی۔ نبی اکرم ﷺ اس وقت سواری پر سوار تھے۔ آپﷺ ٹھہر گئے، آپﷺ نے فرمایا: میری چادر مجھے واپس کرو، کیا تمہیں میرے بارے میں بخل کا اندیشہ ہے؟ اگر یہ تمام شاخیں نعمتوں میں تبدیل ہو جائیں، تو میں ان سب کو تمہارے درمیان تقسیم کر دوں گا اور تم مجھے بخیل یا بزدل یا جھوٹا نہیں پاؤ گے۔

مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ أَبَاهُ، ← عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4820

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4821

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، بِبُسْتَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ الْكُرْدِيُّ بَصْرِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَجْعَلُ فِي قَسْمِ الْغَنَائِمِ عَشْرًا مِنَ الشَّاءِ بِبَعِيرٍ»، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، وَقَالَ غُنْدَرٌ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ سُفْيَانَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْبَدَنَةَ تَقُومُ عَنْ عَشْرَةٍ إِذَا نُحِرَتْ»

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ مالِ غنیمت تقسیم کرتے ہوئے دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیتے تھے۔ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں: میرا غالب گمان یہی ہے، میں نے یہ روایت سعید بن مسروق سے سنی ہے۔ غندر کہتے ہیں: میں نے یہ روایت سفیان سے سنی ہے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے، اونٹ کی قربانی دس آدمیوں کی طرف سے کی جائے گی۔

عَشْرَةٍ إِذَا نُحِرَتْ» ← أَبُو حَاتِمٍ: «فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْبَدَنَةَ تَقُومُ ← مِنْ سُفْيَانَ. ← مِنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، وَقَالَ غُنْدَرٌ: وَقَدْ ← شُعْبَةُ: وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنِّي ← «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَجْعَلُ فِي قَسْمِ الْغَنَائِمِ عَشْرًا مِنَ الشَّاءِ بِبَعِيرٍ»، ← جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ← عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ← أَبِيهِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ الْكُرْدِيُّ بَصْرِيٌّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4821

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4822

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:152] عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَتْ صَفِيَّةُ مِنَ الصَّفِيِّ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا (مالِ غنیمت میں سے) اس مال میں شامل تھیں۔ جو نبی اکرم ﷺ کے لیے مخصوص تھا۔

«كَانَتْ صَفِيَّةُ مِنَ الصَّفِيِّ» ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ، [ص:184] ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4822

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4823

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ، بِحِمْصَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَفَاطِمَةُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهَا حِينَئِذٍ تَطْلُبُ صَدَقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكَ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ، [ص:153] قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نُوَرَّثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ، لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَى الْمَأْكَلِ»، وَإِنِّي وَاللَّهِ، لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا، الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ، أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ، عَلَى أَبِي بَكْرٍ مِنْ ذَلِكَ، فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ، حَتَّى تُوُفِّيَتْ، وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ لَيْلًا، وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ، فَصَلَّى عَلَيْهَا عَلِيٌّ، وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهَا، انْصَرَفَتْ وجُوهُ النَّاسِ عَنْ عَلِيٍّ، حَتَّى أَنْكَرَهُمْ، فَضَرَعَ عَلِيٌّ عِنْدَ ذَلِكَ إِلَى مُصَالَحَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَمُبَايَعَتِهِ وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الْأَشْهُرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، أَنِ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا مَعَكَ أَحَدٌ، وَكَرِهَ عَلِيٌّ أَنْ يَشْهَدَهُمَ عُمَرُ، لِمَا يَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ عُمَرَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا عَسَى أَنْ يَفْعَلُوا بِي، وَاللَّهِ لَآتِيَنَّهُمْ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ، فَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ، وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ، وَإِنَّا لَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ، وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ، وَكُنَّا نَرَى لَنَا حَقًّا، وَذَكَرَ قَرَابَتَهُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَقَّهُمْ، فَلَمْ يَزَلْ يَتَكَلَّمُ، حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي [ص:154] بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي، وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ، فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَمْ أَكُنْ لِأَتْرُكَ فِيهَا أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ، قَالَ عَلِيٌّ: مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةَ لِلْبَيْعَةِ، فَلَمَّا أَنْ صَلَّى أَبُو بَكْرٍ صَلَاةَ الظُّهْرِ ارْتَقَى عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ، وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيٌّ، فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ، وَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةٌ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَلَا إِنْكَارُ فَضِيلَتِهِ الَّتِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهَا وَلَكِنَّا كُنَّا نَرَى لَنَا فِي الْأَمْرِ نَصِيبًا وَاسْتَبَدَّ عَلَيْنَا، فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ، وَقَالُوا لِعَلِيٍّ: أَصَبْتَ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ، قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ عَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور ان سے اس مال میں میں سے اپنے وراثت کے حصے کا مطالبہ کیا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کوم لِ فے کے طور پر عطا کیا تھا، وہ مدینہ منورہ اور فدک میں موجود نبی اکرم ﷺ (کی زمینوں) کے صدقے (میں سے اپنے حصے) کی طلب گار تھیں۔ اور اس میں سے بھی جو خیبر کے خمس میں سے باقی بچتا تھا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ہماری (یعنی انبیاء کی) وراثت نہیں ہوتی۔ ہم جو چھوڑ کر جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ محمد (ﷺ) کے گھر والے اس مال میں سے صرف اپنی خوراک حاصل کر سکتے ہیں، ان کے لیے خوراک سے زیادہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے “۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں نبی اکرم ﷺ کے صدقات (کو خرچ کرنے) میں کوئی تبدیلی نہیں کروں گا۔ یہ اسی حالت میں رہیں گے، جس حالت میں نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں تھے، اور میں انہیں اسی طرح استعمال کروں گا جس طرح نبی اکرم ﷺ انہیں استعمال کیا کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نےان میں سے کوئی بھی چیز سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر سیّدی فاطمہ رضی اللہ عنہا حضر ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو گئیں۔ انہوں نے اپنے انتقال تک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے لاتعلقی اختیار کی اور ان سے کبھی بات نہیں کی۔ ان کا انتقال نبی اکرم ﷺ کے وصال کے 6ماہ بعد ہوا۔ جب ان کا انتقال ہو گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رات کے وقت ہی دفن کر دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع نہیں دی۔ ان کی نمازِ جنازہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مل لیتے تھے لیکن جب سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو لوگوں کو توجہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہٹ گئی اور لوگ ان کے لئے اجنبی ہو گئے۔ اس بات نے انہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرنے ، اور ان کی بیعت کرنے کی طرف مائل کیا۔ ان (6) مہینوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی تھی۔ انہوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجوایا۔ آپ ہمارے ہاں آئیں، لیکن آپ کے ساتھ کوئی نہ آئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات پسند نہ تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ہمراہ ہوں ، کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضر عمر رضی اللہ عنہ کے مزاج کی سختی سے واقف تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا؛ اللہ کی قسم ! آپ اکیلے ان لوگوں کےہاں نہیں جائیں گے۔حضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ مجھے کچھ نہیں کہیں گے۔ اللہ کی قسم ! میں ان کے پاس ضرور جاؤں گا۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نےکلمہ شہادت پڑھا، اور پھر یہ کہا: اے ابوبکر! آپ کی فضیلت اور جو (خصوصیات) اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہیں، ہم ان سے واقف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو بھلائی عطا کی ہے، ہم اس کا انکار نہیں کرتے، لیکن حکومت کے معاملے میں آپ نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے۔ ہماری یہ رائے ہے کہ ہم اس کا حق رکھتے ہیں، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اپنی قرابت اور اپنے حق کا تذکرہ کیا۔ وہ مسلسل بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بات شروع کی تو انہوں نےکہا: ”اس ذات کی قسم ! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، نبی اکرم ﷺ کے رشتہ داروں (کے ساتھ اچھا سلوک کرنا) مجھے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے زیاد ہ محبوب ہے۔ جہاں تک اس معاملے کا تعلق ہے جو ان صدقات کے حوالے سے میرے اور آپ کے درمیان اختلاف ہوا تو میں نے ان کے بارے میں بھلائی کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ میں نے ان کے بارے میں کوئی ایسا کام ترک نہیں کیا، جو میں نے نبی اکرم ﷺ کو ان کے بارے میں کرتے ہوئے دیکھا، میں نے وہی کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : بیعت کے لیے آپ سے شام کو ملاقات ہو گی۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز ادا کر لی تو وہ منبر پر چڑھے ، انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا۔ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بیعت نہ کرنے کے معاملے اور ان کے عذر کا ذکر کیا، اور پھر کلمہ استغفار پڑھا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نےکلمہ شہادت پڑھا۔ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عظمت کا اعتراف کیا اور اس بات کا ذکر کیا کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کےساتھ کسی ناراضگی یا ان کی اس فضیلت کے انکار کی وجہ سے نہیں تھا، جو فضیلت اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کی ہے۔ (حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی: ) ہم یہ سمجھتے ہیں حکومت میں ہمارا حصہ ہونا چاہئے تھا اور انہوں نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے، اس کی وجہ سے ہمیں ناراضگی تھی۔ (لیکن اب میں بیعت کر رہا ہوں9 اس پر مسلمان بہت خوش ہوئے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے ٹھیک کیا ہے۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے درست موقف کی طرف رجوع کر لیا تو مسلمان پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہو گئے۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4823

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4824

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ خَرَجَ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذَوِي الْقُرْبَى لِمَنْ هُوَ؟ فَقَالَ: «هُوَ لِأَقْرِبَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ، وَقَدْ كَانَ عُمَرُ عَرَضَ عَلَيْنَا مِنْهُ عَرْضًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ وَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ، فَكَانَ [ص:156] عَرَضَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُعِ نَاكِحَهُمْ، وَأَنْ يَقْضِيَ عَنْ غَارِمِهِمْ وَأَنْ يُعْطِيَ فَقِيرَهُمْ وَأَبَى أَنْ يَزِيدَهُمْ عَلَى ذَلِكَ»ينَ

یزید بن ہرمز بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی آزمائش کے زمانے میں نجدہ حروری نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور ان سے یہ دریافت کیا: ذوی القربیٰ کا مخصوص حصہ کسے ملے گا؟ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ نبی اکرم ﷺ کے رشتہ داروں کو ملے گا۔ نبی اکرم ﷺ یہ حصہ ان میں ہی تقسیم کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کچھ ہمیں پیش کیا تھا جس کے بارے میں ہماری یہ رائے تھی کہ یہ ہمارے حق سے کم ہے تو ہم نے اسے واپس کر دیا اور اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ ان رشتہ داروں کو اس حصہ میں سے پیش کش کرتے تھے کہ نکاح کرنے والے کی مدد کر دیتے ہیں یا تاوان ادا کرنے والے کی طرف سے ادائیگی کر دیتے ہیں یا غریب شخص کو دے دیتے ہیں ، لیکن انہوں نے مزید ادائیگی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4824

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4825

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، [ص:157] عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَّهَ جَيْشًا فَغَنِمُوا طَعَامًا وَعَسَلًا، فَلَمْ يُخَمِّسْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ایک مہم روانہ کی انہیں مالِ غنیمت میں اناج اور شہد ملا تو نبی اکرم ﷺ نے اس میں سے خمس وصول نہیں کیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ، [ص:313] ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4825

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4826

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، ثُمَّ هِيَ لَكُمْ»

ہمام بن منبہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ حدیثیں بیان کی تھیں، پھر انہوں نے کچھ روایات ذکر کیں، جن میں سے ایک روایت یہ ہے: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو بھی بستی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتی ہے، اس کے (مالِ غنیمت میں سے) خمس اللہ اور اس کے رسول کو ملے گا اور پھر وہ تمہیں ملے گا “۔

أَحَادِيثَ مِنْهَا، ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4826

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4827

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ، بِالْأُبُلَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ، مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِيَّ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ الْفَزَارِيَّ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى الْعَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُونَ ذَلِكَ، فَأَنْشَأَ يَقُولُ جَعَلْتَ نَهْبِي، وَنَهْبَ الْعَبِيدِ بَيْنَ عُيَيْنَةَ، وَالْأَقْرَعِ»

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے ابو سفیان بن حرب کو ایک سو اونٹ دئیے۔ آپ نے اقرع بن حابس تمیمی کو ایک سو اونٹ دئیے۔ آپ نے عینیہ بن حصن فزاری کو ایک سو اونٹ دئیے۔ آپ نے عباس بن مرداس کو اس سے کم اونٹ دئیے تو اس نے یہ شعر کہا: ”آپ نے میرا اور غلام کا حصہ عنینیہ اور اقرع کے درمیان رکھا ہے“۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، ← أَبِيهِ ← عمر بن سعيد بن مسروق الثوري ← سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4827

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4828

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: «لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَبْغَضِ النَّاسِ إِلَيَّ فَمَا زَارَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَيَّ»

حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے مجھے (مال )عطا کیا۔ پہلے آپ میرے نزدیک ناپسندیدہ ترین شخصیت تھے ۔ آپ مجھے مسلسل (عطیات ) دیتے رہے، یہاں تک کہ آپ میرے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ پسندیدہ ہو گئے۔

صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4828

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4829

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا فِي الْقِسْمَةِ، فَأَعْطَى الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ مِثْلَ ذَلِكَ، وآثرَ نَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ»، فَقَالَ رَجُلٌ: وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ، مَا عُدِلَ فِيهَا، وَمَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ، فَقُلْتُ: لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «فَمَنْ يَعْدِلُ، إِذَا لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ» ثُمَّ، قَالَ: «يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى، قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ»، فَقُلْتُ: لَا جَرَمَ لَا أَرْفَعُ إِلَيْهِ بَعْدَهَا حَدِيثًا

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرمﷺ نے (مالِ غنیمت) تقسیم کرتے ہوئے کچھ لوگوں کو ترجیح دی، آپ ﷺ نے اقرع بن حابس کو ایک سو اونٹ دئیے، آپﷺ نے عنینیہ بن حصن کو بھی اتنے ہی (اونٹ) دئیے، آپﷺ نے کچھ عرب سرداروں کو ترجیحی طور پر (زیادہ) ادائیگی کی، تو ایک شخص نےکہا: اللہ کی قسم ! اس تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا خیال نہیں رکھا گیا۔ (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نےکہا: میں نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ضرور بتاؤں گا، میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ا اور آپﷺ کواس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر (یعنی غصہ کی وجہ سے سرخ) ہو گیا، پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی انصاف سے کام نہیں لیں گے تو پھر کون انصاف سے کام لے گا؟ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ، حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، انہیں اس سے زیادہ ایذاء پہنچائی گئی، لیکن انہوں نے صبر سے کام لیا۔ (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے طے کیا: اب میں کبھی بھی آپﷺ تک (اس نوعیت کی) کوئی بات نہیں پہنچاؤں گا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4829

chevron_left Previous
1…293031…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr