Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4502

سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْخٍ بِوَاسِطَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ، يَقُولُ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَأَمَرَ لَهُ بِغَنَمٍ» - ذَكَرَ ابْنُ عَائِشَةَ كَثْرَتَهَا - فَأَتَى الْأَعْرَابِيُّ قَوْمَهُ، وَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءَ مَنْ لَا يَخَافُ الْفَقْرَ

حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے ہم ایک وادی میں آئے وہاں ایک عورت کا باغ تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فریاما: اس کی پیداوار کا اندازہ لگاؤ لوگوں نے اس کا اندازہ لگایا نبی اکرم ﷺ نے یہ اندازہ لگایا اس کی پیداوار دس وسق ہو گی۔ نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے فرمایا: اس کی جو پیداوار ہو گی تم اسے شمار کر کے رکھنا اگر اللہ نے چاہا تو ہم واپسی پر تمہارے پاس آئیں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ آپ ﷺ تبوک تشریف لے آئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فریاما: آج رات تم پر انتہائی تیز آندگی آئے گی، تو اس آندھی کے دوران کوئی شخص کھڑا ہرگز نہ رہے، جس شخص کے ساتھ اونٹ موجود ہے وہ اس کی رسی کو باندھ لے۔ حضرت ابو حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے انہیں باندھ لیا جب رات ہوئی تو تیز ہوا چلنا شروع ہو گئی ہم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا تو ہوا نے اسے اٹھا کر طے کے پہاڑ پر پھینک دیا پھر ایلہ (نامی جگہ) کا حکمران آیا اس نے نبی اکرم ﷺ کو ایک سفید خچر تحفے کے طور پر پیش کیا نبی اکرم ﷺ نے اسے پہننے کے لیے ایک چادر دی اور نبی اکرم ﷺنے اس کے لیے ایک تحریر لکھوا دی پھر نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے آپ ﷺ کے ہمراہ ہم بھی روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم اس وادی میں آئے (جہاں سے پہلے گزرے تھے) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں جلدی سفر کرنا چاہتا ہوں تم میں سے جو شخص میرے ساتھ جلدی سفر کرنا چاہے وہ کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے آپ ﷺ کے ہمراہ ہم بھی روانہ ہوئے، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ (یعنی مدینہ منورہ) طابہ (یعنی پاکیزہ) ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے احد پہاڑ کو ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا: یہ احد ہے یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں کیا میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں لوگوں نے جواب دیا:جی ہاں (بتائیں) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انصار کا سب سے بہترین گھرانہ بنو نجار ہے بھر عبد اشہل ہے پھر بنو حارث کا گھرانہ ہے پھر بنو ساعدہ کا گھرانہ ہے ویسے انصار کے تمام گھرانے بہترین ہیں۔

ابْنُ عَائِشَةَ كَثْرَتَهَا فَأَتَى الْأَعْرَابِيُّ قَوْمَهُ، ← أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ «فَأَمَرَ لَهُ بِغَنَمٍ» ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ ← أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْخٍ بِوَاسِطَ،

Hadith 4502

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4503

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، [ص:355] قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ، حَتَّى جِئْنَا وَادِي الْقُرَى، فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «اخْرُصُوا»، فَخَرَصَ الْقَوْمُ وَخَرَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةَ أَوْسُقٍ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَرْأَةِ: «أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ»، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَدِمَ تَبُوكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتَهُبُّ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُومَنَّ فِيهَا رَجُلٌ، وَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ فَلْيُوثِقْ عِقَالَهُ»، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: فَعَقَلْنَاهَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ هَبَّتْ عَلَيْنَا رِيحٌ، فَقَامَ فِيهَا رَجُلٌ فَأَلْقَتْهُ فِي جَبَلِ طَيِّئٍ، ثُمَّ جَاءَهُ مَلَكُ أَيْلَةَ وَأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، فَكَسَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدًا، وَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا وَادِي الْقُرَى، فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ: «كَمْ جَاءَ حَدِيقَتُكِ؟ »، قَالَتْ عَشْرَةُ أَوْسُقٍ، خَرْصَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي مُتَعَجِّلٌ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ مَعِي فَلْيَفْعَلْ»، قَالَ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ، حَتَّى إِذَا أَوْفَى عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: «هَذِهِ طَابَةُ»، فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا، قَالَ: «هَذَا أُحُدٌ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟ »، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص میرے اس مکتوب کو لے کر قیصر کے پاس جائے گا اسے جنت ملے گی۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے دریافت کیا: اگرچہ مجھے قتل نہ کیا جائے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگرچہ تمہیں قتل نہ کیا جائے (پھر بھی تمہیں ، جنت ملے گی) تو وہ شخص اس خط کو لے کر روانہ ہو گیا وہ قیصر کے پاس اس وقت پہنچا جب قیصر بیت المقدس آیا ہوا تھا اور اس کے لیے ایک قالین بچھایا گیا تھا اس قالین پر قیصر کے علاوہ اور کوئی نہیں چلتا تھا اس شخص نے وہ مکتوب اس قالین پر کھ دیا اور کود ایک طرف ہٹ گیا جب قیصر اس مکتوب تک پہنچا تو اس نے اسے حاصل کیا اور پھر اپنے معتمد خصوصی کو بلوا کر اس سے وہ خط پڑھایا تو اس نے جواب دیا: اس مکتوب کے بارے میں مجھے بھی وہی علم ہے، جو آپ کو علم ہے، تو قیصر نے بلند آواز میں کہا اس خط کو لانے وال شخص کون ہے اسے امان دی جاتی ہے، تو وہ شخص آ گیا قیصر نے کہا: جب میں آ جاؤں، تو تم میرے پاس آ جانا جب قیصر آیا، تو وہ شخص اس کے پاس آیا قیصر نے اپنے دروازوں کے بارے میں حکم دیا انہیں بند کر دیا گیا پھر اس نے منادی کو یہ اعلان کرنے کے لیے کہا کہ قیصر نے حضرت محمد ﷺ کی پیروی کر لی ہے عیسائیت کو ترک کر دیا ہے، تو اس کے سپاہی آگے بڑھے انہوں نے اسلحہ اٹھایا ہوا تھا انہوں نے اس کے محل کا محاصرہ کر لیا تو قیصر نے نبی اکرم ﷺ کے ایلچی سے کہا تم نے دیکھ لیا ہے مجھے اپنی حکومت کے حوالے سے خوف ہے پھر اس نے منادی کو یہ اعلان کرنے کو کہا: خبردار قیصر تم لوگوں سے راضی ہے اس نے تم لوگوں کا امتحان لینا چاہا تھا کہ تم اپنے دین کے بارے میں کتنے پختہ ہو تم لوگ واپس چلے جاؤ تو وہ لوگ واپس چلے گئے پھر قیصر نے نبی اکرم ﷺ کو خط لکھا کہ میں مسلمان ہوں اس نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ دینار بھی بھجوائے نبی اکرم ﷺ نے جب اس کا مکتوب پڑھا تو ارشاد فرمایا: اللہ کے دشمن نے غلط کہا ہے یہ مسلمان نہیں ہے یہ عیسائیت پر قائم ہے نبی اکرم ﷺ نے وہ دینار تقسیم کروا دئیے“۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ، [ص:355] ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4503

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4504

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَنْطَلِقُ بِصَحِيفَتِي هَذِهِ إِلَى قَيْصَرَ وَلَهُ الْجَنَّةُ؟ »، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَإِنْ لَمْ أُقْتَلْ؟، قَالَ: «وَإِنْ لَمْ تُقْتَلْ»، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ [ص:358] بِهِ فَوَافَقَ قَيْصَرَ وَهُوَ يَأْتِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ قَدْ جُعِلَ لَهُ بِسَاطٌ لَا يَمْشِي عَلَيْهِ غَيْرُهُ، فَرَمَى بِالْكِتَابِ عَلَى الْبِسَاطِ وَتَنَحَّى، فَلَمَّا انْتَهَى قَيْصَرُ إِلَى الْكِتَابِ أَخَذَهُ، ثُمَّ دَعَا رَأْسَ الْجَاثَلِيقِ، فَأَقْرَأَهُ، فَقَالَ: مَا عِلْمِي فِي هَذَا الْكِتَابِ إِلَّا كَعِلْمِكَ، فَنَادَى قَيْصَرُ: مَنْ صَاحِبُ الْكِتَابِ؟، فَهُوَ آمَنٌ فَجَاءَ الرَّجُلُ، فَقَالَ: إِذَا أَنَا قَدِمْتُ فَأْتِنِي، فَلَمَّا قَدِمَ أَتَاهُ، فَأَمَرَ قَيْصَرُ بِأَبْوَابٍ قَصْرِهِ فَغُلِّقَتْ، ثُمَّ أَمَرَ مُنَادِيًا يُنَادِي أَلَا إِنَّ قَيْصَرَ قَدِ اتَّبَعَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ النَّصْرَانِيَّةَ، فَأَقْبَلَ جُنْدُهُ وَقَدْ تَسَلَّحُوا حَتَّى أَطَافُوا بِقَصْرِهِ، فَقَالَ لِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ تَرَى أَنِّي خَائِفٌ عَلَى مَمْلَكَتِي، ثُمَّ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: أَلَا إِنَّ قَيْصَرَ قَدْ رَضِيَ عَنْكُمْ، وَإِنَّمَا خَبَرَكُمْ لَيَنْظُرُ كَيْفَ صَبْرُكُمْ عَلَى دِينِكُمْ فَارْجِعُوا، فَانْصَرَفُوا، وَكَتَبَ قَيْصَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي مُسْلِمٌ وَبَعَثَ إِلَيْهِ بِدَنَانِيرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَرَأَ الْكِتَابَ: «كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ لَيْسَ بِمُسْلِمٍ وَهُوَ عَلَى النَّصْرَانِيَّةِ»، وَقَسَّمَ الدَّنَانِيرَ*

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص اپنی زمین کی کھجوروں (کی پیداوار) نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پیش کرتا تھا، یہاں تک کہ جب نبی اکرم ﷺ نے قریظہ اور نصیر کو فتح کر لیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کا تحفہ واپس کر دیا جو اس نے آپ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے گھر والے مجھے یہ ہدایت کرتے کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں اور آپ سے وہ چیز مانگ لوں جو آپ کسی کو دیتے ہیں، یا اس کا کچھ حصہ مانگ ہوں۔ نبی اکرم ﷺ سیّدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو کوئی چیز دے رہے تھے میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے وہ (کھجوریں، یا چیزیں ) مجھے عطا کر دیں، تو ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں انہوں نے کپڑا میری گردن میں ڈالا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! (نبی اکرم ﷺ) یہ (کھجوریں، یا چیزیں) تمہیں نہیں دے سکتے جب کہ یہ نبی اکرم ﷺ پہلے مجھے دے چکے ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادر فرمایا: اے ام ایمن تم اسے چھوڑ دو تمہیں یہ، یہ چیزیں ملتی ہیں، تو وہ خاتوں یہی کہتی رہیں ہرگز نہیں اس ذات کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ( میں اسے نہیں چھوڑوں گی) حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے اس کھجوروں ( یا چیزوں) سے دس گنا زیادہ یا دس گنا کے قریب چیزیں انہیں عطا کیں (تو انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو چھوڑا)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ← أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 4504

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4505

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، بِالْمَوْصِلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي [ص:359] شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ مِنْ أَرْضِهِ حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ، فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِ مَا كَانَ أَعْطَاهُ، قَالَ أَنَسٌ: وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ مَا كَانَ أَعْطَاهُ أَوْ بَعْضَهُ، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِيهِنَّ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي، وَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَا يُعْطِيكَهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهُنَّ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ أَيْمَنَ، اتْرُكِي وَلَكِ كَذَا وَكَذَا»، فَتَقُولُ: كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، حَتَّى أَعْطَاهَا عَشْرَةَ أَمْثَالِهِ - أَوْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهِ -

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جنگ یمامہ کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلوایا اس وقت حضر عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے حضر ت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر میرے پاس آیا اور اس نے کہا: جنگ یمامہ میں قرآن کے بہت سے حافظ شہید ہو گئے ہیں مجھے یہ اندیشہ ہے، اگر مختلف جگہوں پر اسی طرح لوگ شہید ہوتے رہے، تو قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہو سکتا ہے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیں۔ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے جواب دیا: میں ایک ایسا کام کیسے کر سکتا ہوں جو نبی اکرم ﷺ نے نہیں کیا: تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ بہتر ہے اس کے بعد یہ اس بارے میں مجھے مسلسل تلقین کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھے بھی وہی شرح صدر عطا کر دیا جو عمر کو عطا کیا ہے اور میری بھی وہی رائے ہو گئی جو عمر کی رائے ہے (حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: تم نوجوان بھی ہو سمجھدار بھی ہو ہم تم پر کوئی تہمت عائد نہیں کرتے اور تم نبی اکرم ﷺ کے لیے وحی نوٹ بھی کرتے رہتے ہو، تو تم قرآن کو تلاش کرو اور اسے ایک جگہ جمع کر دو۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم ! اگر وہ مجھے کسی پہاڑ کو منتقل کرنے کا حکم دیتے تو یہ میرے لیے اتنا مشکل نہ ہوتا جتنا وہ حکم تھا جو انہوں نے مجھے قرآن جمع کرنے کے حوالے سے دیا تھا میں نے کہا: آپ لوگ ایک ایسا کام کیسے کر سکتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے نہیں کیا، تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! یہ زیادہ بہتر ہے اس کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ مسلسل میرے ساتھ اس بارے میں بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی وہی شرح صدر عطا کر دیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو عطا کیا تھا۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے قرآن کی تلاش شروع کی اور اسے تحریر کے پرزوں اور لوگوں کے سینوں سے اکٹھا کرنا شروع کیا، یہاں تک کے مجھے سورۃ توبہ کی آخری آیتیں حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملیں مجھے ان کے علاوہ اور کسی کے پاس یہ آیات نہیں ملیں۔ ”تحقیق تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے، جو تم میں سے ہے تمہارا پریشانی کا شکار ہونا اسے بہت گراں گزرتا ہے“۔ یہ سورت توبہ کی آخری آیات ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ صحیفہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہو گیا تو وہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے پاس رہا، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہو گیا تو وہ سیّدہ حفصہ بنت عمررضی اللہ عنہا کے پاس آ گیا۔ ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے حضرت حذیفہرضی اللہ عنہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ اہل شام اور اہل عراق کی جنگوں میں شریک ہوئے حضر حذیفہ رضی اللہ عنہ اس حوالے سے پریشان تھے کہ لوگوں کا قرات میں اختلاف ہو رہا ہے انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین آپ اس امت کی خبر لیجئے اس سے پہلے کہ یہ کتاب اللہ کے بارے میں اسی طرح اختلاف کا شکار ہو جائے جس طرح یہودیوں اور عیسائیوں میں اختلاف ہو گیا تھا تو حضرت عثمانی رضی اللہ عنہ نے سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا کہ آپ اپنا مصحف مجھے بھجوائیے تا کہ ہم اس کی مختلف نقلیں تیار کریں یہ پھر ہم آپ کو واپس کر دیں گے تو سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ نسخہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف بھجوایا حضرت عثمانی غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اس مصحف کی مختلف نقلیں تیار کرلیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: جہاں تمہارے اور زید بن ثابت کے درمیان کسی لفظ کے بارے میں اختلاف ہو، تو تم لوگ اسے قریش کے محاورے کے مطابق نوٹ کرو، کیونکہ یہ ان کے محاورے میں نازل ہوا ہے۔ حضرت عثمانی غنی رضی اللہ عنہ نے مختلف مصاحف تیار کروائے اور انہیں مختلف علاقوں میں بھیجا اور انہوں نے یہ حکم دیا کہ اس کے علاوہ قرآن جس بھی صحیفے اور مصحف کی شکل میں موجود ہے اسے مٹا دیا جائے یا جلا دیا جائے۔ ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں: خارجہ بن زید نے مجھے یہ بات بتائی ہے، انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کویہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، جب میں مصحف کو نقل کر رہا تھا تو مجھے اس میں سورۃ الاحزاب کی ایک آیت نہیں ملی جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہوئی تھی میں نے اس آیت کو تلاش کیا، تو وہ مجھے حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی ( وہ آیت یہ ہے) ”اہل ایمان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو سچ ثابت کر دکھایا“۔ تو میں نے اس آیت کو اس سورت میں مصحف میں شامل کر لیا۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں: اس موقع پر لوگوں کے درمیان تابوت کے بارے میں اختلاف ہوا تو حضرت زید رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ اس کی قرات تابوہ ہو گی جبکہ حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا یہ لفظ تابوت ہے، جب ان کے اختلاف کا معاملہ حضرت عثمانی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: تم لوگ اسے تابوت لکھو، کیونکہ یہ قریش کے محاورے کے مطابق ہے۔

أَبِيهِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4505

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4506

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ [ص:360] الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَإِذَا عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ جَالِسٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: «إِنَّ عُمَرَ جَاءَنِي، فَقَالَ: إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ فِي الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا فَيَذْهَبُ مِنَ الْقُرْآنِ كَثِيرٌ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ عُمَرُ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ عُمَرَ، وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى»، فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ: «إِنَّكَ شَابٌّ عَاقِلٌ، لَا نَتَّهِمُكَ، وَقَدْ كُنْتَ تُكْتَبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ»، قَالَ زَيْدٌ: فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: فَكَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ أَبُو بَكْرٍ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، قَالَ: فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ، وَاللِّخَافِ، وَالْعُسُبِ، وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتَّى، وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ} [التوبة: 128]، خَاتِمَةُ بَرَاءَةَ، قَالَ: فَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ [ص:361] عِنْدَ عُمَرَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَكَانَ يُغَازِي أَهْلَ الشَّامِ، وَأَهْلَ الْعِرَاقِ، وَفَتَحَ أَرْمِينِيَةَ، وَأَذْرَبِيجَانَ، فَأَفْزَعَ حُذَيْفَةُ اخْتِلَافُهُمْ فِي الْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَدْرِكْ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْكِتَابِ كَمَا اخْتَلَفَ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى، فَبَعَثَ عُثْمَانُ إِلَى حَفْصَةَ: أَنْ أَرْسِلِي الصُّحُفَ لِنَنْسَخَهَا فِي الْمَصَاحِفِ، ثُمَّ نَرُدُّهَا إِلَيْكِ، فَبَعَثَتْ بِهَا إِلَيْهِ، فَدَعَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَنْسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ لَهُمْ: «مَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي شَيْءٍ فَاكْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، فَإِنَّهُ نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ»، وَكَتَبَ الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، وَبَعَثَ إِلَى كُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِمَّا نَسَخُوا، وَأَمَرَ مِمَّا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ صَحِيفَةٍ أَوْ مُصْحَفٍ أَنْ يُمْحَى أَوْ يُحْرِقَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ يَقُولُ: «فَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الْأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْتُ الْمُصْحَفَ، كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا، فَالْتَمَسْتُهَا فَوَجَدْتُهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ: {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: 23]، فَأَلْحَقْتُهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: اخْتَلَفُوا يَوْمَئِذٍ فِي التَّابُوتِ، فَقَالَ زَيْدٌ: التَّابُوهُ، وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ: التَّابُوتُ، فَرُفِعَ اخْتِلَافُهُمْ إِلَى عُثْمَانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «اكْتُبُوهُ التَّابُوتُ، فَإِنَّهُ لِسَانُ قُرَيْشٍ»

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جنگ یمامہ کے بعد مجھے بلوایا وہاں ان کے پاس حضر عمر بن خطابرضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ جنگ یمامہ میں بہت سے مسلمان شہید ہو گئے مجھے یہ اندیشہ ہے، اگر مختلف علاقوں میں اسی طرح لوگ شہید ہوتے رہے، تو قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہو جائے گا، جسے محفوظ نہیں کیا گیا میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے کہا: تم ایک ایسا کام کیسے کر سکتے ہو، جو نبی اکرم ﷺ نےنہیں کہا، تو حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ زیادہ بہتر ہے اس کے بعد یہ مسلسل اس بارے میں بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھے شرح صدر عطا کر دیا اور اس بارے میں میری بھی وہی رائے ہوئی جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ہے (حضرت زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کوئی بات نہیں کی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ایک نوجوان اور عقلمند آدمی ہو ہم تم پر کوئی الزام عائد نہیں کرتے تم نبی اکرم ﷺ کے لیے وحی نوٹ کرتے رہے ہو، تو تم قرآن کی تلاش کر کے اس کو جمع کرو۔حضرت زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم ! اگر مجھے وہ کسی پہاڑ کو منتقل کرنے کا پابند کر دیتے تو میرے لیے یہ اتنا مشکل نہ ہوتا جتنا ان کا قرآن جمع کرنے کا حکم دینا مشکل تھا۔ میں نے کہا: آپ لوگ ایک ایسا کام کیسے کر سکتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے نہیں کیا، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! یہ کام زیادہ بہتر ہے اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مسلسل میرے ساتھ بات چیت کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھے بھی وہی شرح صد ر عطا کر دیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیا تھا۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو میں نے قرآن کو تلاش کرنے کا کام شروع کر دیا۔ میں اس تحریر کے پرزوں اور لوگوں کے سینوں سے اکٹھا کیا، یہاں تک کہ سورۃ توبہ کی آخری آیات مجھے حضرت خزیمہ انصاریرضی اللہ عنہ کے پاس ملیں مجھے یہ آیات ان کے علاوہ اور کسی کے پاس نہیں ملیں۔ ”تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے، جو تم میں سے ہے“۔ وہ صحیفہ جسے میں نے جمع کیا تھا وہ حضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زندگی میں رہا، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہو گیا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آگیا، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ گیا۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 4506

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4507

قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، وَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ «أَنَّهُ اجْتَمَعَ لِغَزْوَةِ أَذْرِبِيجَانَ، وَأَرْمِينِيَةَ أَهْلِ الشَّامِ، وَأَهْلِ الْعِرَاقِ، فَتَذَاكَرُوا الْقُرْآنَ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ حَتَّى كَادَ يَكُونُ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ، قَالَ: فَرَكِبَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ لَمَّا رَأَى اخْتِلَافَهُمْ فِي الْقُرْآنِ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا فِي الْقُرْآنِ، حَتَّى إِنِّي وَاللَّهِ لَأَخْشَى أَنْ يُصِيبَهُمْ مَا أَصَابَ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنَ الِاخْتِلَافِ، فَفَزِعَ لِذَلِكَ عُثْمَانُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَزِعًا شَدِيدًا، وَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ فَاسْتَخْرَجَ الصُّحُفَ الَّتِي كَانَ أَبُو بَكْرٍ أَمَرَ زَيْدًا بِجَمْعِهَا، فَنَسَخَ مِنْهَا الْمَصَاحِفَ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَى الْآفَاقِ، ثُمَّ لَمَّا كَانَ مَرْوَانُ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ أَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ يَسْأَلُهَا عَنِ الصُّحُفِ لِيُمَزِّقَهَا وَخَشِيَ أَنْ يُخَالِفَ بَعْضُ الْعَامِ بَعْضًا، فَمَنَعْتُهُ إِيَّاهَا»، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «لَمَّا تُوُفِّيَتْ حَفْصَةُ أَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِعَزِيمَةٍ لِيُرْسِلَ بِهَا، فَسَاعَةَ رَجَعُوا مِنْ جَنَازَةِ حَفْصَةَ أَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى مَرْوَانَ فَحَرَقَهَا مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ اخْتِلَافٌ لَمَّا نَسْخَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ»

ابن شہاب بیان کرتے ہیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے، وہ آذر بائیجان اور آرمینیا کے ساتھ لڑائی اور اہل شام اور اہل عراق کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے انہوں نے قرآن کے بارے میں بات چیت کی تو اس بارے میں ان کے درمیان اختلاف ہو گیا، یہاں تک کہ اس بات کا امکان موجود تھا کہ ان کے درمیان جنگ شروع ہو جائے جب حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے درمیان قرآن کے بارے میں اختلاف دیکھا تو وہ سوار ہو کر حضرت عثمانی غنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اور بولے: لوگوں کا قرآن کے بارے میں اختلاف ہو گیا ہے مجھے یہ اندیشہ ہے، انہیں بھی وہی صورت لاحق ہو جائے گی جو یہودیوں اور عیسائیوں کو اختلاف کی وجہ سے لاحق ہوئی تھی، تو حضرت عثمانی غنی رضی اللہ عنہ اس بات پر انتہائی پریشا ن ہو گئے انہوں نے سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھجوایا اور وہ صحیفہ نکالا جسے جمع کرنے کا حضرت ابوکر رضی اللہ عنہ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس صحیفے کی مختلف نقلیں تیار کروائیں اور انہیں مختلف علاقوں میں بھجوایا پھر جب مروان مدینہ منورہ کا گورنر بنا تو اس نے سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا اور ان سے وہ مصحف منگوایا تا کہ اسے پھاڑ دے اسے یہ اندیشہ تھا کہ بعض لوگ اس حوالے سے بعض کی مخالفت کریں گے تو میں نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں: سالم بن عبداللہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے، سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا جب انتقال ہو گیا تو مروان نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو قسم دے کر یہ پیغام بھجوایا (کہ وہ اس مصحف کو مجھے بھجوا دیں) تو جس وقت سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے جنازے سے واپس آرہے تھے اس وقت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے وہ نسخہ مروان کو بھجوا دیا، تو مروان نے اسے جلوا دیا اس اندیشے کے تحت کے کہیں اس میں اختلاف نہ ہو یعنی اس نسخے سے اختلاف نہ ہو، جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نقل تیار کروائی تھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ،

Hadith 4507

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4508

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ بْنِ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلَةَ صَاحِبِ الشَّرَطِ مِنَ الْأَمِيرِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ وہی نسبت حاصل تھی جو کوتوال کو گورنر کے ساتھ ہوتی ہے۔

«كَانَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ النَّبِيِّ مَنْزِلَةَ صَاحِبِ الشَّرَطِ مِنَ الْأَمِيرِ» ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثُمَامَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← بِشْرُ بْنُ آدَمَ بْنِ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ،

Hadith 4508

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4509

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى زَرَّاعَةِ بَصَلٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَنَزَلَ نَاسٌ فَأَكَلُوا مِنْهُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ آخَرُونَ، فَرُحْنَا إِلَيْهِ، فَدَعَا الَّذِينَ لَمْ يَأْكُلُوا الْبَصَلَ، وَأَخَّرَ الْآخَرِينَ حَتَّى ذَهَبَ رِيحُهَا»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ پیاز کے کھیت کے پاس سے گزرے آپﷺ کے ساتھ آپﷺ کے اصحاب بھی تھے لوگوں نے وہاں پڑاؤ کیا کچھ لوگوں نے پیاز کو کھا لیا اور کچھ نے نہیں کھایا جب ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو آپﷺ نے ان لوگوں کو بلوایا جنہوں نے پیاز نہیں کھایا تھا اور دوسرے لوگوں کو پیچھے کر دیا اس وقت تک جب تک ان کی بو ختم نہیں ہو گئی ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 4509

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4510

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ [ص:368] وَكَانَ يُكْنَى أَبَا هَاشِمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ رَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ إِلَى الْمُرَاحِ، فَإِذَا سَخْلَةً تَيْعَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَاذَا وَلَدَتْ؟ »، فَقَالَ الرَّاعِي: بَهْمَةٌ، فَقَالَ: «اذْبَحْ مَكَانَهَا شَاةً»، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحْسِبَنَّ بِالْخَفْضِ، وَلَمْ يَقُلْ لَا تَحْسَبَنَّ بِالنَّصْبِ، أَنَّا مِنْ أَجْلِكَ ذَبَحْنَاهَا، إِنَّ لَنَا غَنَمًا مِئَةٌ، فَإِذَا وَلَدَ الرَّاعِي بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي امْرَأَةً وَفِي لِسَانِهَا شَيْءٌ - يَعْنِي الْبَذَاءَ - قَالَ: «طَلِّقْهَا إِذًا»، فَقَالَ: إِنَّ لَهَا صُحْبَةً، وَلِي مِنْهَا وَلَدٌ، قَالَ: «فَمُرْهَا بِقَوْلٍ فَعِظْهَا لَعَلَّهَا أَنْ تَعْقِلَ، وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ كَضَرْبِكَ إِبِلَكَ» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي عَنِ الْوضُوءِ، قَالَ: «إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَسْبِغِ الْوضُوءَ، وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ، وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا»

عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں بنو مثفق کے وفد میں شامل تھا ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک چرواہا اپنی بکری کو اٹھا کر باڑے کی طرف لے گیا وہ آوازیں نکال رہی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: اس نے کیا جنم دیا ہے چرواہے نے جواب دیا: بچے کو جنم دیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اس کی جگہ کوئی اور بکری ذبح کردو پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم یہ گمان نہ کرنا کہ ہم نے تمہاری وجہ سے اسے ذبح کیا ہے ( راوی بیان کرتے ہیں: یہاں نبی اکرم ﷺ نے لفظ پر زیر پڑھی تھی زبر نہیں پڑھی تھی) (نبی اکرم ﷺ نے فرمایا) ہمارے پاس ایک سو بکریاں ہیں جب کوئی ایک بکری بچہ دیتی ہے ، تو ہم اس کی جگہ ایک بکری کو ذبح کر دیتے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میری بیوی کی زبان میں کچھ خرابی ہے یعنی وہ بدزبانی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے زبانی طور پر وعظ و نصیحت کر کے سمجھاؤ ہو سکتا ہے اسے سمجھ آ جائے تم اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارو جس طرح تم اپنے اونٹ کو مارتے ہو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم وضو کرو تو اچھی طرح وضو کرو اور اپنی انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور اچھی طرح ناک میں پانی ڈالو البتہ اگر تمہارا روزہ ہو (تو پھر مبالغہ نہ کرو)

أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ وَكَانَ يُكْنَى أَبَا هَاشِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 4510

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4511

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ [ص:369] عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ»، فَقَالَ: اجْلِسْ، فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلْ كَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ، إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ، وَفِي غَيْرِهِمْ

حسن بصری بیان کرتے ہیں: حضرت عائذبن عمرو رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں وہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس تشریف لے گئے انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک سب سے برا حکمران ظالم حکمران ہوتا ہے“۔ تو تم اس بات سے بچنے کی کوشش کرو کہ تم ان میں شامل ہو جاؤ۔ عبیداللہ بن زیاد نے کہا: آپ تشریف رکھیں آپ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے برے افراد میں سے ایک ہیں، تو انہوں نے فرمایا: کیا ان اصحاب کے اندر خرابی ہو گی خرابی تو ان کے بعد والے لوگوں میں اور ان کے علاوہ لوگوں میں ہے۔

أي بني إني ← كَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ← الحسن، أن عائذ بن عمرو ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 4511

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4512

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُبَيْدَ سَنُوطَا حَدَّثَهُ، أَنَّهُ، سَمِعَ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

سیّدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک دنیا میٹھی اور سرسبز ہے، جو شخص اس کے حق کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور بعض اوقات کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول کو حاصل کرتا ہے اور قیامت کے دن اس کے لیے جہنم ہو گی“۔

رَسُولِ اللَّهِ ← خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ تَقُولُ: ← أَنَّهُ ← أَنَّ عُبَيْدَ سَنُوطَا ← أَنَّ عُمَرَ بْنَ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ← عمرو بن الحارث أن يحيى بن سعيد ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 4512

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4513

سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، بِبُسْتَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا أَنْبَتَتِ الْأَرْضُ أَوْ زُهْرَةُ الدُّنْيَا» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، فَأَخَذَهُ عِرْقٌ أَوْ بَهَرٌ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ؟ »، فَقَالَ: هَا أَنَا ذَا وَلَمْ أُرِدْ إِلَّا خَيْرًا، فَقَالَ: «إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ، وَإِنَّ كُلَّ مَا أَنَبْتَ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ، فَإِنَّهَا أَكَلَتْ، فَلَمَّا اشْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلْتِ الشَّمْسَ، فَثَلَطَتْ، ثُمَّ بَالَتْ، ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلْتُ، ثُمَّ أَفَاضَتْ فَاجْتَرَّتْ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ [ص:372] فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى»، قَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ زَعَمَ سُفْيَانُ «أَنَّ الْأَعْمَشَ سَأَلَهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ اس چیز کا ہے، جسے زمین پیدا کرے گی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دنیاوی زیب و زینت کا ہے۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ خاموش رہے، یہاں رک کہ ہمیں اندازہ ہو گیا کہ آپﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے آپﷺ کو پسینہ آ گیا آپ ﷺ کا سانس تیز ہو گیا پھر جب آپ ﷺ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ﷺ نے دریافت کیا: سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے عرض کی: میں یہاں ہوں۔ میں نے اس سوال کے ذریعے صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بھلائی صرف بھلائی کو لے کر آتی ہے بہار کا موسم جو کچھ اگاتا ہے وہ کسی جانور کو مار دیتا ہے اور کسی کو تکلیف کا شکار کر دیتا ہے صرف سبزہ کھانے والے جانور کا حکم مختلف ہے، کیونکہ وہ کھاتا ہے، یہاں تک کہ اس کی کوکھ پھول جاتی ہے، تو وہ دھوپ میں آ جاتا ہے وہاں وہ لید کرتا ہے، پیشاب کرتا ہے پھر واپس جا کر پھر کرتا ہے پھر آتا ہے او رلیٹ جاتا ہے یہ مال میٹھا اور سر سبز ہے، جو شخص اسے اس کے حق کے ہمراہ حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور جو شخص اسے نا حق طور پر حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی اور اس شخص کی مثال ایسے شخص کی مانند ہوتی ہے، جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے “۔ حسین بن حسن نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: سفیان یہ کہتے ہیں اعمش نے چالیس سال پہلے ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا تھا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحُسَيْنَ بْنَ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيَّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 4513

chevron_left Previous
1234…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr