صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4502
سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْخٍ بِوَاسِطَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ، يَقُولُ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَأَمَرَ لَهُ بِغَنَمٍ» - ذَكَرَ ابْنُ عَائِشَةَ كَثْرَتَهَا - فَأَتَى الْأَعْرَابِيُّ قَوْمَهُ، وَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءَ مَنْ لَا يَخَافُ الْفَقْرَ
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے ہم ایک وادی میں آئے وہاں ایک عورت کا باغ تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فریاما: اس کی پیداوار کا اندازہ لگاؤ لوگوں نے اس کا اندازہ لگایا نبی اکرم ﷺ نے یہ اندازہ لگایا اس کی پیداوار دس وسق ہو گی۔ نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے فرمایا: اس کی جو پیداوار ہو گی تم اسے شمار کر کے رکھنا اگر اللہ نے چاہا تو ہم واپسی پر تمہارے پاس آئیں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ آپ ﷺ تبوک تشریف لے آئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فریاما: آج رات تم پر انتہائی تیز آندگی آئے گی، تو اس آندھی کے دوران کوئی شخص کھڑا ہرگز نہ رہے، جس شخص کے ساتھ اونٹ موجود ہے وہ اس کی رسی کو باندھ لے۔ حضرت ابو حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے انہیں باندھ لیا جب رات ہوئی تو تیز ہوا چلنا شروع ہو گئی ہم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا تو ہوا نے اسے اٹھا کر طے کے پہاڑ پر پھینک دیا پھر ایلہ (نامی جگہ) کا حکمران آیا اس نے نبی اکرم ﷺ کو ایک سفید خچر تحفے کے طور پر پیش کیا نبی اکرم ﷺ نے اسے پہننے کے لیے ایک چادر دی اور نبی اکرم ﷺنے اس کے لیے ایک تحریر لکھوا دی پھر نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے آپ ﷺ کے ہمراہ ہم بھی روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم اس وادی میں آئے (جہاں سے پہلے گزرے تھے) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں جلدی سفر کرنا چاہتا ہوں تم میں سے جو شخص میرے ساتھ جلدی سفر کرنا چاہے وہ کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے آپ ﷺ کے ہمراہ ہم بھی روانہ ہوئے، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ (یعنی مدینہ منورہ) طابہ (یعنی پاکیزہ) ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے احد پہاڑ کو ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا: یہ احد ہے یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں کیا میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں لوگوں نے جواب دیا:جی ہاں (بتائیں) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انصار کا سب سے بہترین گھرانہ بنو نجار ہے بھر عبد اشہل ہے پھر بنو حارث کا گھرانہ ہے پھر بنو ساعدہ کا گھرانہ ہے ویسے انصار کے تمام گھرانے بہترین ہیں۔
ابْنُ عَائِشَةَ كَثْرَتَهَا فَأَتَى الْأَعْرَابِيُّ قَوْمَهُ، ← أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ «فَأَمَرَ لَهُ بِغَنَمٍ» ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَةَ ← أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْخٍ بِوَاسِطَ،
Hadith 4502
