Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4806

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ سُودِ الرُّءُوسِ قَبْلَكُمْ، كَانَتْ تَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ نَارٌ فَتَأْكُلُهَا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ وَقَعَ النَّاسُ فِي الْغَنَائِمِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ، فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: 68]»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم سے پہلے کسی بھی امت کے لیے مالِ غنیمت حلال قرار نہیں دیا گیا، (پہلے زمانے میں ) آسمان کی طرف سے آگ نازل ہوتی تھی اور مالِ غنیمت کو کھا جاتی تھی“۔ (راوی بیان کرتے ہیں) غزوہ بدر کے موقع پر جب لوگ مالِ غنیمت پر ٹوٹ پڑے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے (تقدیر میں ) پہلے طے نہ ہو چکا ہوتا، تو تم نے جو حاصل کیا اس کی وجہ سے تمہیں عظیم عذاب لاحق ہوتا“ ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4806

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4807

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ غَزَا بِأَصْحَابِهِ، فَقَالَ: لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ بَنَى دَارًا لَمْ يَسْكُنْهَا، أَوْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، أَوْ لَهُ حَاجَةٌ فِي الرُّجُوعِ، قَالَ: فَلَقِيَ الْعَدُوَّ عَنْدَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّهَا مَأْمُورَةٌ، وَإِنِّي مَأْمُورٌ، فَاحْبِسْهَا عَلَيَّ، حَتَّى تَقْضِيَ بَيْنِي، وَبَيْنَهُمْ فَحَبَسَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُ فَجَمَعُوا الْغَنَائِمَ، فَلَمْ تَأْكُلْهَا النَّارُ، وَكَانُوا إِذَا غَنِمُوا غَنِيمَةً بَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهَا النَّارَ، فَأَكَلَتْهَا، فَقَالَ لَهُمْ نَبِيِّهُمْ: إِنَّ فِيكُمْ غُلُولًا، فَلْيَأْتِنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ، فَلْيُبَايِعْنِي، فَأَتَوْهُ فَبَايَعُوهُ فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلَيْنِ مِنْهُمْ بِيَدِهِ، فَقَالَ: إِنَّكُمَا غَلَلْتُمَا، فَقَالَا: أَجَلْ صُورَةُ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَاءَا بِهَا، فَأَلْقَيَاهَا فِي الْغَنَائِمِ، فَبَعَثَ اللَّهُ النَّارَ فَأَكَلَتْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «إِنَّ اللَّهَ أَطْعَمَنَا الْغَنَائِمَ رَحْمَةً رَحِمَنَا بِهَا، وَتَخْفِيفًا خَفَّفَهُ عَنَّا لِمَا عَلِمَ مِنْ ضَعْفَنَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «سَمِعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ مِنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ بِمَكَّةَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ایک نبی علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جنگ میں حصہ لیا، انہوں نے (روانگی سے پہلے) فرمایا: ایسا کوئی شخص میرے ساتھ نہ آئے، جس نے نیا گھر بنایا ہو، لیکن ابھی اس میں رہائش اختیار نہ کی ہو، ایسا کوئی شخص میرے ساتھ نہ آئے، جس نے کسی عورت کے ساتھ شادی کر لی ہو، لیکن ابھی اس کے ساتھ صحبت نہ کی ہو، یا اس نے واپس جا کر کوئی ضرور کام کرنا ہو۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: ان کا دشمن سے سامنا سورج غروب ہونے کے قریب ہوا، انہوں نے دعا کی: اے اللہ! یہ (سورج بھی ) حکم کا پابند ہے اور میں بھی حکم کا پابند ہوں، تو اس کو میرے لیے (غروب ہونے سے) اس وقت تک روک دے جب تک میرے اور ان (کفار) کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا، تو اللہ تعالیٰ نے سورج کو روک لیا، اللہ تعالیٰ نے اس (نبی علیہ السلام) کو فتح نصیب کی، ان لوگوں نے مالِ غنیمت کو جمع کیا، لیکن اسے آگ نے نہیں کھایا، وہ لوگ جب مالِ غنیمت جمع کر لیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ اس پر آگ بھیج دیتا تھا، جواس کو کھا لیتی تھی۔ ان کے نبی علیہ السلام نے ان لوگوں سے کہا: تم میں سے کسی نے خیانت کی ہے، ہر قبیلے کا ایک شخص میرے پاس آ کر میری بیعت کرے، وہ لوگ اس نبی علیہ السلام کے پاس آئے انہوں نے ان کی بیعت کی تو ان میں سے دو آدمیوں کا ہاتھ اس نبی علیہ السلام کے ہاتھ سے چیک گیا، تو اس نبی علیہ السلام نے فرمایا: تم دونوں نے خیانت کی ہے۔ ان دونوں نے جواب دیا: جی ہاں! (ہم نے) سونے سے بنے ہوئے گائے کے سر جیسی چیز (چھپائی ہوئی ہے) پھر وہ دونوں اسے لے کر آئے اور اسے مالِ غنیمت میں ڈال دیا، تو اللہ تعالیٰ نے آگ کو بھیجا اور اس نے اس (مالِ غنیمت) کو کھا لیا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) اس موقع پر نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے ہم پر اپنی رحمت کی وجہ سے ہمیں مالِ غنیمت عطا کیا اور اس نے ہمیں تخفیف عطا کی، کیونکہ وہ ہماری کمزوری سے واقف ہے “۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) عبدالرحمٰن بن ابراہیم دمشقی نے معاذ بن ہشام سے مکہ میں احادیث کا سماع کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِيهِ ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4807

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4808

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، [ص:137] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ قَدْ نَاكَحَ امْرَأَةً وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَا رَفَعَ بِنَاءً وَلَمْ يَرْفَعْ سُقُفَهَا وَلَا اشْتَرَى غَنَمًا وَهُوَ يَنْتَظِرُ وِلَادَهَا فَغَزَا، فَدَنَا إِلَى الدَّيْرِ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ، أَوْ قَرُبَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لِلشَّمْسِ إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ، وَأَنَا مَأْمُورٌ اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا، فَحُبِسَتْ، حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ، فَأَبَتِ النَّارُ أَنْ تَطْعَمَهُ، فَقَالَ: فِيكُمْ غُلُولٌ، فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ، فَبَايَعَهُ، فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ: إِنَّ فِيكُمُ الْغُلُولُ، فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ، فَبَايَعَتْهُ قَبِيلَتُهُ، فَلَصِقَتْ بِيَدِهِ يَدُ رَجُلَيْنِ، أَوْ ثَلَاثَةٍ، فَقَالَ فِيكُمُ الْغُلُولُ، فَأَخْرَجُوا مِثْلَ رَأْسِ الْبَقَرَةِ، مِنْ ذَهَبٍ، فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ، وَهُوَ بِالصَّعِيدِ، فَأَقْبَلَتِ النَّارُ، فَأَكَلَتْهُ فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلَنَا، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ رَأَى ضَعْفَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک نبی علیہ السلام جنگ کی لیے تشریف لے جانے لگے، تو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا: کوئی ایسا شخص میرے ساتھ نہ جائے جس نے کسی عورت کے ساتھ نکاح کر لیا ہو اور اب وہ اس عورت کی رخصتی کروانا چاہتا ہو، یا جس نے عمارت بنا لی ہو اور ابھی چھت نہ ڈالی ہو، یا اس نے بکری خریدی اور وہ اس بکری کے ہاں بچے ہونے کا منتظر ہو، جب عصر کا وقت ہو، یا اس کے قریب کا وقت ہو ا تو وہ عبادت گاہ کے قریب آئے اور انہوں نے سورج سے فرمایا: تم بھی حکم کے پابند ہو اور میں بھی حکم کا پابند ہوں، اے اللہ! اسے میرے لیے، کچھ دیر کے لیے (غروب ہونے سے) روک دے، تو اسے روک دیا گیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا کر دی۔ انہیں جو مالِ غنیمت حاصل ہو ا تھا وہ انہوں نے اکٹھا کیا، تا کہ آگ آ کر اسے کھا لے، لیکن آگ نے اسے نہیں کھایا، تو انہوں نے فرمایا: تمہارے درمیان خیانت کا ارتکاب کیا گیا ہے، ہر قبیلے کا ایک شخص میرے ہاتھ پر بیعت کرے، تو ان کی بیعت شروع ہوئی ، ایک شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چپک گیا ، تو اس نبی نے فرمایا: خیانت تمہارے (قبیلے) میں ہوئی ہے۔ تمہارا قبیلہ میری بیعت کرے۔ اس شخص کے قبیلے نے ان کی بیعت کی تو دو (راوی کو شک ہے یا شاید) تین افراد کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ چپک گیا، تو انہوں نے فرمایا: خیانت تم نے کی ہے، تو ان لوگوں نے سونے سے بنا ہوا گائے کا سر نکالا، اور اسے مالِ غنیمت میں رکھ دیا۔ جو ایک کھلے میدان میں پڑا تھا، تو آگ آئی اور اسے کھا گئی۔ (نبی اکرم ﷺ نے فرمایا) ہم سے پہلے کسی کے لیے بھی مالِ غنیمت کو حلال قرار نہیں دیا گیا اس کی وجہ یہ ہے :جب اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری ملاحظ کی تو ہمارے لیے اسے پاکیزہ (یعنی حلال) قرار دے دیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، [ص:24] ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4808

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4809

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَصَابَ مَغْنَمًا أَمَرَ بِلَالًا، فَنَادَى فِي النَّاسِ، فَيَجِيءُ النَّاسُ بِغَنَائِمِهِمْ، فَيُخَمِّسُهُ، وَيُقَسِّمُهُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعْرٍ، فَقَالَ: أَمَا سَمِعْتَ بِلَالًا يُنَادِي ثَلَاثًا؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ، فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُنْ أَنْتَ الَّذِي يَجِيءُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ کو مالِ غنیمت حاصل ہوتا تو آپ ﷺ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں، تو لوگ اپنے، اپنے مالِ غنیمت کو لے آتے، (ایک مرتبہ) نبی اکرم ﷺ نے اس میں سے ”خمس“ نکال کر بقیہ مال تقسیم کر دیا، تو اس کے بعد ایک شخص بالوں سے بنی ہوئی رسی لے کر آیا، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا:کیا تم نے بلال کا تین مرتبہ کیا ہوا اعلان نہیں سنا تھا؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں (سنا تھا) نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: پھر کیا وجہ ہے تم اسے پہلے کیوں لے کر نہیں آئے؟ اس شخص نے آپﷺ کی خدمت میں معذرت پیش کی، تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: ”تم ایسے ہو جاؤ “کہ اگر تم اسے قیامت کے دن بھی لے کر آؤ گے تو میں اسے تم سے قبول نہیں کروں گا“۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4809

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4810

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِلْفَرَسِ سَهْمَانِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمٌ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” (مالِ غنیمت میں) گھوڑے کے دو حصے ہوں گے اور آدمی کا ایک حصہ ہو گا“۔

«لِلْفَرَسِ سَهْمَانِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمٌ» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4810

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4811

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا [ص:140] عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ أَسْهَمَ لِلْفَارِسِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ، سَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ، وَسَهْمًا لِلرَّجُلِ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” (مالِ غنیمت میں سے) گھڑ سوار کے تین حصے ہوں گے، دو حصے اس کے گھوڑے کے اور ایک حصہ آدمی کا“۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ أَسْهَمَ لِلْفَارِسِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ، سَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ، وَسَهْمًا لِلرَّجُلِ» ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← [ص:140] عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4811

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4812

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے گھوڑے کے دو حصے اور آدمی کا ایک حصہ مقرر کیا تھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4812

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4813

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: «قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَمَا فُتِحَتْ خَيْبَرُ بِثَلَاثٍ فَأَسْهَمَ لَنَا، وَلَمْ يُسْهِمْ لِأَحَدٍ، لَمْ يَشْهَدِ الْفَتْحَ غَيْرَنَا»

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم خیبر فتح ہونے کے تین دن بعد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو آپﷺ نے (مالِ غنیمت میں سے) ہمیں بھی حصہ دیا آپﷺ نے ہمارے علاوہ اور کسی بھی ایسے شخص کو حصہ نہیں دیا جو جنگ میں شریک نہیں ہوا تھا۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4813

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4814

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو عَنْ إِسْهَامِ مَنْ لَمْ يَشْهَدِ الْفَتْحَ وَالْقِتَالَ، فَقَالَ: «لَا يُسْهَمُونَ أَلَا تَرَى الطَّائِفَتَيْنِ تَدْخُلَانِ مِنْ دَرْبِ وَاحِدٍ، أَوْ دَرْبَيْنِ، مُخْتَلِفَيْنِ، فَتَغْنَمُ إِحْدَاهُمَا، وَلَا تَغْنَمُ الْأُخْرَى، وَإِحْدَاهُمَا قُوَّةٌ لِلْأُخْرَى، فَلَا تُشْرِكُ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غَنِمَا جَمِيعًا أَوْ غَنِمَ أَحَدُهُمَا بِذَلِكَ، مَضَى الْأَمْرُ فِيهِمْ» قَالَ الْوَلِيدُ: فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَذْكُرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ عَلَيْهَا أَبَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَقْسِمْ لَهُمْ فَغَضِبَ أَبَانُ وَنَالَ مِنْهُ، قَالَ وَحَمَلَ عَلَيْهِ بِرُمْحِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْلًا يَا أَبَانُ، وَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقْسِمَ لَهُمْ شَيْئًا. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْجَيْشُ إِذَا فَتَحَ مَوْضِعًا مِنْ مَوَاضِعِ أَعْدَاءِ اللَّهِ لَحِقَ بِهِمْ جَيْشٌ آخَرُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بَعْدَ فَرَاغِهِمْ مِنْ فَتْحِهِمِ يَجِبُ أَنْ تُقْسَمَ الْغَنَائِمُ بَيْنَ الْجَيْشِ الَّذِي كَانَ الْفَتْحُ لَهُمْ، فَيُسْهَمُ لِلْفَارِسِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ سَهْمَانِ لِفَرَسِهِ، وَسَهْمٌ لَهُ وَلِلرَّاجِلِ سَهْمٌ وَاحِدٌ، وَلَا يُسْهَمُ لِمَنْ أَتَى بَعْدَ الْفَتْحِ مِمَّا غَنِمُوا شَيْئًا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْجَيْشُ الَّذِي لَحِقَ بِالْجَيْشِ الْأَوَّلِ، كَانُوا مَدَدًا لَهُمْ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ كَانُوا كَأَنَّهُمَا جَيْشٌ وَاحِدٌ، أَصْلُهُمْ وَاحِدٌ، وَيَكُونُ مَدَدُهُمْ عِنْدَ الْحَاجَةِ إِلَيْهِمْ، فَحِينَئِذٍ يُسْهَمُ لَهُمْ كُلِّهِمْ، وَأَمَّا إِسْهَامُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِلْأَشْعَرِيِّينَ بَعْدَمَا فَتَحَ خَيْبَرَ كَانَ ذَلِكَ مِنْ خُمْسٍ خَمَّسَهُ الَّذِي فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، لِيَسْتَمِيلَ بِذَلِكَ قُلُوبَهُمْ، لَا أَنَّهُمْ أُعْطُوا مِنْ مَغَانِمِ خَيْبَرَ حَيْثُ لَمْ يَشْهَدُوا فَتْحَهُ

ولید بن مسلم بیان کرتے ہیں: میں نے ابو عمر و سے ایسے شخص کو حصہ دینے کے بارے میں دریافت کیا: جو فتح اور جنگ میں شریک نہیں ہوا تھا، تو انہوں نے فرمایا: ایسے لوگوں کو کوئی حصہ نہیں دیا جائے گا، کیا تم نے غور نہیں کیا؟ دو گروہ ایک ہی راستے سے یا دو مختلف راستوں سے (قلعہ کے اندر) داخل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو مالِ غنیمت حاصل ہوتا ہے اور دوسرے گروہ کو مالِ غنیمت حاصل نہیں ہوتا۔ ان میں سے ایک گروہ دوسرے کی قوت ہوتا ہے، لیکن ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ کا مالِ غنیمت میں شرکت دار نہیں ہوتا۔ خواہ ان دونوں نے مالِ غنیمت حاصل کیا ہو، یا ان میں سے کسی ایک نے مالِ غنیمت حاصل کیا ہو۔ ان کے درمیان فیصلہ اسی طرح ہوتا ہے۔ ولید کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ سعید بن عبدالعزیز سے کیا ، تو انہوں نے بتایا۔ میں نے زہری کو سعید بن مسیّب کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے: نبی اکرم ﷺ نے نجد کی سمت ایک جنگی مہم روانہ کی، اس مہم کے امیر حضرت ابان بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ تھے، وہ خیبر فتح ہونے کے بعد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ (مالِ غنیمت میں سے) انہیں حصہ نہ دیجئے گا، تو ابان غصے میں آ گئے اور انہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے ان پر نیزہ تان لیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے ابان! ٹھہر جاؤ! نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو (مالِ غنیمت میں سے) کچھ دینے سے انکار کر دیا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) جب کوئی لشکر اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے کسی علاقے کو فتح کر لے اور پھر مسلمانوں کا دوسرا لشکر ان لوگوں کے فتح حاصل کرلینے کے بعد ان سے آکر ملے، تو یہ بات لازم ہے، مالِ غنیمت صرف ان لوگوں میں تقسیم کیا جائے جنہوں نے فتح حاصل کی تھی۔ (اس تقسیم میں ) گھڑ سوار کو تین حصے دئیے جائیں گے، دو حصے اس کے گھوڑے کے ہوں گے اور ایک حصہ گھڑ سوار کا ہو گا۔ پیادہ شخص کو ایک حصہ ملے گا، جو لوگ فتح حاصل ہو جانے کے بعد آئے ہوں انہیں مالِ غنیمت میں سے کچھ نہیں ملے گا، البتہ جو لشکر بعد میں آکر پہلے لشکر سے ملا ہے، اگر وہ مدد کےلیے آیا تھا تو پھر حکم مختلف ہوگا، کیونکہ اس صورت میں دونوں لشکر ایک ہی لشکر شمار ہوں گے، کیونکہ ان کی اصل ایک ہے، اور اگر دوسرے لشکر کی (اس جنگ میں ) مدد کی ضرورت ہوتی، تو انہوں نے مدد کرنی تھی۔ اس صورت میں ان سب کو حصہ دیا جائے گا۔ جہاں تک نبی اکرم ﷺ کے اشعر قبیلے کے افراد کو، خیبر فتح ہونے کے بعد ، حصہ دینے کا تعلق ہے، تو وہ حصہ ”خمس “میں سے دیا گیا تھا۔ وہ ”خمس“ جو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو عطا کیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ مائل ہو جائیں۔ ایسا نہیں ہے، انہیں خیبر کے مالِ غنیمت میں سے حصہ دیا گیا، اس صورت میں، جبکہ وہ اس کی فتح میں شریک ہی نہیں ہوئے تھے۔

الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4814

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4815

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيَّ عَنْ سِهَامِ مَنْ لَمْ يَشْهَدِ الْفَتْحَ وَالْقِتَالَ مِنَ الْمَدَدِ، فَقَالَ: «لَا يُسْهَمُونَ أَلَا تَرَى إِلَى الطَّائِفَتَيْنِ تَدْخُلَانِ مِنْ دَرْبِ وَاحِدٍ، أَوْ دَرْبَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ فَتَغْنَمُ إِحْدَاهُمَا وَلَا تَغْنَمُ الْأُخْرَى وَإِحْدَاهُمَا قُوَّةٌ لِلْأُخْرَى، فَلَا تُشْرِكُ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى غَنِمَا جَمِيعًا أَوْ غَنِمَ أَحَدُهُمَا بِذَلِكَ مَضَى الْأَمْرُ فِيهِمْ» قَالَ الْوَلِيدُ، فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَذْكُرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً، قِبَلَ نَجْدٍ عَلَيْهَا أَبَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَقْسِمْ لَهُمْ، فَقَالَ: فَغَضِبَ أَبَانُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْلًا يَا أَبَانُ»، وَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقْسِمَ لَهُمْ شَيْئًا

ولید بن مسلم بیان کرتے ہیں: میں نے ابو عمرو سے ایسے شخص کو حصہ دینے کے بارے میں دریافت کیا: جو فتح اور جنگ میں شریک نہیں ہوا تھا، تو انہوں نے فرمایا: ایسے لوگوں کو کوئی حصہ نہیں دیا جائے گا، کیا تم نے غور نہیں کیا؟ دو گروہ ایک ہی راستے سے یا دو مختلف راستوں سے (قلعہ کے اندر) داخل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو مالِ غنیمت حاصل ہوتا ہے اور دوسرے گروہ کو مالِ غنیمت حاصل نہیں ہوتا۔ ان میں سے ایک گروہ دوسرے کی قوت ہوتا ہے، لیکن ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ کا مالِ غنیمت میں شراکت دار نہیں ہوتا۔ خواہ ان دونوں نے مالِ غنیمت حاصل کیا ہو، یا ان میں سے کسی ایک نےمالِ غنیمت حاصل کیا ہو۔ ان کے درمیان فیصلہ اسی طرح ہوتا ہے۔ ولید کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ سعید بن عبدالعزیز سے کہا، تو انہوں نے بتایا۔ میں نے زہری کو سعید بن مسیّب کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے: نبی اکرم ﷺ نے نجد کی سمت ایک جنگی مہم روانہ کی، اس مہم کے امیر حضرت ابان بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ تھے، وہ خیبر فتح ہونے کے بعد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ (مالِ غنیمت میں سے) انہیں حصہ نہ دیجئے گا، تو ابان غصے میں آ گئے اور انہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے ان پر نیزہ تان لیا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے ابان! ٹھہر جاؤ! نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو (مالِ غنیمت میں سے) کچھ دینے سے انکار کر دیا۔

الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4815

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4816

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ التَّاجِرُ، بِمَرْوٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَتَاهُ الْفَيْءُ قَسَمَهُ فِي يَوْمِهِ، فَأَعْطَى الْآهِلَ حَظَّيْنِ وَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَتَاهُ الْفَيْءُ كَانَ يَقْسِمُهُ مِنْ يَوْمِهِ، ثُمَّ يُعْطِي الْآهِلَ حَظَّيْنِ وَالْعَزَبَ حَظًّا مِنْ خُمْسٍ خَمَّسَهُ لِأَنَّهُ كَانَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي الْفَيْءِ عَلَى الْعُزُوبَةِ وَالتَّأَهُّلِ»

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ کے پاس مال فے آتا تو آپﷺ اسے اسی دن میں تقسیم کر دیتے تھے۔ آپﷺ بال بچے دار شخص کو دو حصے عطا کرتے تھے اور کنوارے کو ایک حصہ عطا کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس بات کا احتمال موجود ہے، کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس جب مل فے آتا تو آپﷺ اسے اسی دن میں تقسیم کر دیتے اور بال بچے دار شخص کو دو حصے عطا کرتے اور کنوارے کو ایک حصہ عطا کرتے۔ (یہ احتمال ہے) یہ ادائیگی مال خمس میں سے کی جاتی ہو گی، کیونکہ آپ بال بچے دار اور کنواروں کو مختلف نوعیت کی ادائیگی کرتے تھے۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ التَّاجِرُ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4816

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4817

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، قَالَ: ادْخُلْ، فَادْعُهُ لِي، قَالَ فَدَعَوْتُهُ لَهُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ، وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، وَقَالَ: «قَدْ خَبَّأْتُ هَذَا لَكَ»، قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «رَضِيَ مَخْرَمَةُ»

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں: نبی اکرم ﷺ نے کچھ قبائیں تقسیم کیں، لیکن آپﷺ نے حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہیں دیا، حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اندر جا کر نبی اکرم ﷺ کو بلا کر لاؤ۔ میں نبی اکرم ﷺ کو بلا کر لایا۔ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس باہر تشریف لائے، آپﷺ کے پاس ایک قباء تھی۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ میں نے تمہارے لیے سنبھال کر رکھی ہوئی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا تو آپﷺ نے فرمایا: مخرمہ راضی ہو گئے۔

«رَضِيَ مَخْرَمَةُ» ← فَنَظَرَ إِلَيْهِ، ← «قَدْ خَبَّأْتُ هَذَا لَكَ»، ← فَدَعَوْتُهُ لَهُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ، وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، ← ادْخُلْ، فَادْعُهُ لِي، ← مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، ← قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4817

chevron_left Previous
1…282930…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr