Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ غَزْوَةُ بَدْرٍ · حديث 4794

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْأَنْصَارِ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ائْذَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلْنَتْرُكْ لِابْنِ أُخْتِنَا الْعَبَّاسِ فِدَاءَهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا وَاللَّهِ لَا تَذَرُونَ دِرْهَمًا»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ انصاریوں نے نبی اکرم ﷺ سے اجازت مانگی انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم اپنے بھانجے عباس کا فدیہ چھوڑ دیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جی نہیں اللہ کی قسم ! تم ایک درہم بھی نہیں چھوڑو گے۔

ائْذَنْ لَنَا ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْأَنْصَارِ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمِّهِ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Battle of Badr · Hadith 4794

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ غَزْوَةُ بَدْرٍ · حديث 4795

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ الْحَافِظُ، بِدِمَشْقَ قَالَ: حَدَّثَنَا رِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، هَبَطَ عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: «خَيِّرْهُمْ، يَعْنِي أَصْحَابَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْأُسَارَى إِنْ شَاءُوا الْقَتْلَ، وَإِنْ شَاءُوا الْفِدَاءَ، عَلَى أَنْ يُقْتَلَ الْعَامَ الْمُقْبِلَ مِنْهُمْ عِدَّتُهُمْ»، قَالُوا: «الْفِدَاءُ، وَيُقْتَلُ مِنَّا عِدَّتُهُمْ»

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا: آپﷺ انہیں اختیار دیجئے یعنی اپنے اصحاب کو قیدیوں کے بارے میں اختیار دیجئے۔ اگر وہ چاہیں ، تو انہیں قتل کر دیں اگر چاہیں تو فدیہ لے لیں۔ اس شرط پر کہ پھر اگلے سال ان میں سے اتنی ہی تعداد میں لوگ قتل کیے جائیں گے۔ ان لوگوں نے کہا: ہم فدیہ لے لیتے ہیں ، تو پھر ہم میں سے اتنی ہی تعداد میں لوگ قتل کیے گئے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ← عُبَيْدَةُ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ← رِزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ← حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ الْحَافِظُ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Battle of Badr · Hadith 4795

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ غَزْوَةُ بَدْرٍ · حديث 4796

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: «كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَصْحَابَ بَدْرٍ كَانُوا ثَلَاثَ مِائَةٍ، [ص:121] وَبِضْعَةَ عَشَرَ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ الَّذِينَ جَازُوا مَعَهُ النَّهْرَ، وَمَا جَازَ مَعَهُ إِلَّا مُؤْمِنٌ»

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ یہ بات کیا کرتے تھے۔ کہ اصحاب بدر کی تعداد تین سو دس سے کچھ زیادہ تھی یہ حضرت طالوت علیہ السلام کے ساتھیوں جتنی تعداد تھی جنہوں نے ان کے ہمراہ نہر کو پار کیا تھا، اور ان کے ساتھ صرف مومن لوگوں نے ہی اسے پار کیا تھا۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Battle of Badr · Hadith 4796

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ غَزْوَةُ بَدْرٍ · حديث 4797

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ*، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ غَزْوَهُمْ، فَدَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي مَعَهَا الْكِتَابُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَأَخَذَ كِتَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا، فَقَالَ: «يَا حَاطِبُ أَفَعَلْتَ؟ »، قَالَ: نَعَمْ إِنِّي لَمْ أَفْعَلْهُ غِشًّا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا نِفَاقًا، وَلَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ سَيُظْهِرُ رَسُولَهُ، وَيُتِمُّ أَمْرَهُ غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ غَرِيبًا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَكَانَتْ أَهْلِي مَعَهُمْ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَّخِذَهَا عِنْدَهُمْ يَدًا، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَلَا أَضْرِبُ رَأْسَ [ص:122] هَذَا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَقْتُلُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ»، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت حاطب بن ابو بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کو خط لکھا کہ جس میں یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم ﷺ ان کے ساتھ جنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کی طرف رہنمائی کر دی جس کے ہمراہ وہ خط تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کی طرف (حضرت علی رضی اللہ عنہ کو) بھیجا انہوں نے اس کے سر (کے بالوں) میں سے وہ خط حاصل کر لیا۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: اے حاطب کیا تم نے ایسا کیا ہے۔ انہوں نے عرض کی: جی ہاں میں نے اللہ کے رسول کے ساتھ دھوکہ کرتے ہوئے ایسانہیں کیا، نہ ہی منافقت وجہ سے ایسا کیا ہے۔ میں یہ بات جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے اس بات کو ظاہر کر دے گا اور اپنے معاملے کو پورا کرے گا، لیکن میں ان لوگوں کے درمیان اجنبی ہوں۔ میرے اہل خانہ ان کے ساتھ تھے۔ اس لیے میں پر احسان کرنا چاہتا تھا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کیا میں اس کا سر نہ اڑا دوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کوقتل کرنا چاہتے ہو؟ تمہیں کیا پتہ شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا ہو: تم جو چاہو عمل کرو۔

إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يَذْكُرُ ← جَابِرٍ، أَنَّ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Battle of Badr · Hadith 4797

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ غَزْوَةُ بَدْرٍ · حديث 4798

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ*، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ عَمِيَ، فَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ تَعَالَ فَاخْطُطْ فِي دَارِي مَسْجِدًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ قَوْمُهُ، وَبَقِيَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ فُلَانٌ؟ »، فَغَمَزَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ إِنَّهُ، وَإِنَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَيْسَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا؟ »، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنَّهُ كَذَا، وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: » اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ «

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نابینا ہو گئے انہوں نے نبی اکرمﷺ کو پیغام بھیجا کہ آپ تشریف لائیں، اور میرے گھر میں نماز کے لیے کسی جگہ کو مخصوص کریں، تو میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں گا، نبی اکرم ﷺ تشریف لائے لوگ آپ کی خدمت میں اکٹھے ہو گئے ان میں سے ایک شخص نہیں آیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: فلاں شخص کہاں ہے، تو ایک صاحب نے اس پر الزام عائد کرتے ہوئے یہ کہا: وہ ایسا ہے وہ ویسا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: کیا وہ بدر میں شریک نہیں ہوا؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ ! لیکن وہ اس طرح کے کام کرتا ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف متوجہ ہو کرفرمایا ہے: تم جو چاہو عمل کرو۔ میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Battle of Badr · Hadith 4798

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ غَزْوَةُ بَدْرٍ · حديث 4799

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَشْكُو حَاطِبًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيَدْخُلُ حَاطِبٌ النَّارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَذَبْتَ إِنَّهُ لَا يَدْخُلُهَا، إِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا، وَالْحُدَيْبِيَةَ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کا ایک غلام نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کی شکایت کی۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! بے شک حضرت حاطب رضی اللہ عنہ جہنم میں جائیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نے غلط کہا ہے وہ اس میں نہیں جائے ۔ اس نے غزوہ بدر اور صلح حدیبیہ میں شرکت کی ہے۔

جَابِرٍ، أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ يَشْكُو حَاطِبًا، فَقَالَ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Battle of Badr · Hadith 4799

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ غَزْوَةُ بَدْرٍ · حديث 4800

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ رَجُلٌ شَهِدَ بَدْرًا، وَالْحُدَيْبِيَةَ»، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71]؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَهْ {ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا} [مريم: 72]»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ام مبشر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جبکہ آپ ﷺ سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود تھے: کوئی بھی ایسا شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا، جو صلح حدیبیہ اور غزوہ بدر میں شریک ہوا ہو، تو سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ہے۔ ”تم میں سے ہر ایک اس پروارد ہو گا “۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تو کیا یہ نہیں فرمایا ہے۔ ”پھر ہم ان لوگوں کو نجات عطا کر دیں گے جنہوں نے پرہیزگاری اختیار کی “۔

أُمِّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Battle of Badr · Hadith 4800

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ غَزْوَةُ بَدْرٍ · حديث 4801

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: تَعُدُّونَ أَنْتُمْ الْفَتْحَ، فَتْحَ مَكَّةَ، وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا، وَنَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْبَعَ عَشْرَةَ وَمِائَةً وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ، فَنَزَحْنَاهَا، فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهَا، فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَتَوَضَّأَ، وَتَمَضْمَضَ، وَدَعَا، ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا، فَتَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ إِنَّهُ أَصْدَرَتْنَا مَا شِئْنَا نَحْنُ وَرِكَابَنَا قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: » هَكَذَا حَدَّثَنَا الشَّيْخُ، فَقَالَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ وَمِائَةً، وَإِنَّمَا هُوَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، بِلَا وَاوٍ لِأَنَّ أَصْحَابَ الْحُدَيْبِيَةِ كَانُوا أَلْفًا، وَأَرْبَعَ مِائَةٍ «

حضرت براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگو” فتح“ فتح مکہ کو سمجھتے ہو، فتح مکہ بھی” فتح“ ہے لیکن ہم حدیبیہ کے دن بعیت رضوان کو” فتح “شمار کرتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ 114 افراد تھے، حدیبیہ ایک کنواں ہے، ہم نے اس میں سے پانی نکال لیا، ہم نے اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہیں رہنے دیا، نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ اس کے پاس تشریف لائے، آپﷺ اس کے کنارے تشریف فرما ہوئے، پھر آپﷺ نےپانی کا برتن منگوایا، آپﷺ نے وضو کیا، کلی کی، دعا مانگی اور وہ پانی اس کنویں میں انڈیل دیا، تھوڑی ہی دیر کے بعد ہم نے اپنی پسند کے مطابق (ڈھیر سارا) پانی اس میں سے لیا اور اپنی سواریوں کو بھی (پلایا) (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) ہمارے شیخ نے یہی الفاظ ہمیں بیان کیے ہیں:” 114“ افراد، حالانکہ ان حضرات کی تعداد 1400 تھی، کیونکہ حدیبیہ کے موقع پر موجود افراد ایک ہزار چار سو تھے۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Battle of Badr · Hadith 4801

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ غَزْوَةُ بَدْرٍ · حديث 4802

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ*، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”درخت کے نیچے بیعت (رضوان) کرنے والوں میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہو گا“۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Battle of Badr · Hadith 4802

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ غَزْوَةُ بَدْرٍ · حديث 4803

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ [ص:128] سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ: «كُنَّا يَوْمَ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلَاثَ مِائَةٍ وَكَانَتْ أَسْلَمُ يَوْمَئِذٍ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ رَحِمَهُمُ اللَّهُ»

حضرت عبداللہ بن ابو اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: درخت والے (یعنی بیعت رضوان کے) دن ہم ایک ہزار تین سو افراد تھے، اس دن اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد، مہاجرین کے آٹھویں حصے (جتنی تعداد میں ) تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔

«كُنَّا يَوْمَ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلَاثَ مِائَةٍ وَكَانَتْ أَسْلَمُ يَوْمَئِذٍ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← [ص:149] ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Battle of Badr · Hadith 4803

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4804

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ بِالرِّيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ جَبَّرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ آدَمَ فِيهَا أَرْبَعُونَ رَجُلًا، فَقَالَ: «إِنَّكُمْ مَفْتُوحُونَ، وَمَنْصُورُونَ، وَمُصِيبُونَ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ الزَّمَانَ مِنْكُمْ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ، وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت چمڑے سے بنے ہوئے خیمے میں تشریف فرما تھے، جس میں چالیس افراد موجود تھے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں فتوحات نصیب ہوں گی، تمہاری مدد کی جائے گی، تمہیں (مال و دولت) نصیب ہو گا، تم میں سے جو بھی اس زمانے کو پائے، وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، نیکی کا حکم دیتا رہے اور برائی سے منع کرتا رہے، اور جو شخص میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے، وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہے“۔

أَتَيْتُ النَّبِيَّ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ آدَمَ فِيهَا أَرْبَعُونَ رَجُلًا، ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ جَبَّرَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِالرَّيِّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4804

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا · حديث 4805

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، بِمَنْبِجَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ، فَاسْتَدْبَرْتُ، حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ، فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ ضَرْبَةً، فَقَطَعْتُ مِنْهُ الدِّرْعَ، قَالَ فَأَقْبَلَ عَلَيَّ، فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا بَالُ النَّاسِ؟، فَقَالَ أَمْرُ اللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ قَدْ رَجَعُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ، عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ، فَلَهُ سَلَبُهُ»، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: فَقُمْتُ، ثُمَّ قُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي؟، ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ، عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ، فَلَهُ سَلَبُهُ»، فَقُمْتُ، ثُمَّ قُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟، ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟ »، فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي، فَأَرْضِهِ مِنِّي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَاهَا اللَّهِ، إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَيَّ أَسَدٌ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ [ص:132] سَلَبَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ»، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: فَأَعْطَانِيهِ، فَبِعْتُ الدِّرْعَ، فَابْتَعْتُ مِنْهُ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلَمَةَ، فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «هَذَا الْخَبَرُ دَالٌّ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ جَلَّ وَعَلَا،: {فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ} [الأنفال: 41] أَرَادَ بِذَلِكَ بَعْضَ الْخُمُسِ، إِذِ السَّلَبُ مِنَ الْغَنَائِمِ، وَلَيْسَ بِدَاخِلٍ فِي الْخُمُسِ، بِحُكْمِ الْمُبَيِّنِ عَنِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا، مُرَادُهُ مِنْ كِتَابِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حنین کے سال ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے، جب ہمارا (اور دشمن کا) سامنا ہوا (تو جنگ کے دوران) مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی، میں نے ایک مشرک کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر غالب آ چکا تھا، میں گھوم کر اس (مشرک کے) پیچھے آ گیا، میں نے اس کے کندھے پر ضرب لگا کر اس کی زرہ کاٹ دی، وہ میری طرف بڑھا اور اس نے مجھے اتنے زور سے بھینچا، کہ مجھے موت کی خوشبو محسوس ہوئی ، لیکن پھر وہ مر گیا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا، میں حضرت عمر خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے اس سے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کا حکم ہے۔ جب لوگ (اس جنگ سے) واپس آ گئے، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کس (کافر) کو قتل کیا ہو، اور اس کا ثبوت بھی موجود ہو، تو مقتول کا سازوسامان اس شخص کو ملے گا، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں کھڑا ہوا پھر میں نے سوچا، میرے حق میں گواہی کون دے گا؟ تو میں بیٹھ گیا، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کسی (کافر) کو قتل کیا، اور اس کا ثبوت بھی موجود ہو، تو اس مقتول کا سازو سامان اسے ملے گا، میں کھڑا ہوا، پھر مجھے خیال آیا، میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ میں پھر بیٹھ گیا، پھر نبی اکرم ﷺ نے تیسری مرتبہ یہی بات ارشاد فرمائی تو میں کھڑا ہو گیا، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: اے ابو قتادہ! کیا معاملہ ہے؟ میں نے آپﷺ کو پورا واقعہ سنایا، تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے: یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں، اس مقتول کا سازوسامان میرے پاس ہے، آپ انہیں میری طرف سے راضی کر دیں، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے : ہر گز نہیں! اللہ تعالیٰ کا ایک شیر، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ میں حصہ لے اور (نبی اکرم ﷺ) اس کا سامان تمہیں دے دیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم وہ اسے دے دو، حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس نے وہ مجھے دے دیا، میں نے زرہ کو فروخت کر کے بنو سلمہ کے محلے میں کھجوروں کا باغ لے لیا، اسلام قبول کرنے کے بعد یہ وہ پہلی زمین تھی جو میں نے خریدی تھی۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان” اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہو گا“ اس سے مراد بعض خمس ہے، کیونکہ (مقتول کے جسم کا) سازو سامان بھی مالِ غنیمت میں شامل ہوتا ہے، لیکن وہ خمس میں شامل نہیں ہوتا ، یہ بات اس ہستی کے حکم کے ذریعے ثابت ہے، جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے احکام کی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وضاحت کرنے والے ہیں۔

أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السُّلَمِيِّ ← أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى قَتَادَةَ ← عُمَرَ بْنِ کَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the spoils and their division · Hadith 4805

chevron_left Previous
1…272829…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr