Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4782

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، [ص:105] سَمِعَ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، يَقُولُ: «كُنْتُ، فِيمَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ، فَاسْتُبْقِيتُ فَهَا أَنَا ذَا»

حضرت عطیہ قرظی بیان کرتے ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھا جن کے بارے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا تھا تو انہوں نے مجھے ایسی حالت میں پایا کہ میرے زیر ناف بال نہیں ہوگے تھے، تو اسی وجہ سے میں زندہ رہ گیا۔

ذَا ← «كُنْتُ، فِيمَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ، فَاسْتُبْقِيتُ فَهَا ← عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، [ص:105] ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4782

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4783

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: «كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدٌ، فَجِيءَ بِي، وَأَنَا أَرَى أَنَّهُ سَيَقْتُلُنِي، فَكَشَفُوا عَنْ عَانَتِي، فَوَجَدُونِي لَمْ أُنْبِتْ، فَجَعَلُونِي فِي السَّبْيِ»

عطیہ قرظی بیان کرتے ہیں: میں پہلا شخص ہوں جس کے بارے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا تھا مجھے لایا گیا میں، تو سمجھ رہاتھا کہ وہ لوگ مجھے قتل کر دیں گے، لیکن جب انہوں نے میرے زیر ناف حصے کی تحقیق کی، تو مجھے ایسی حالت میں پایا گیا کہ میرے زیر ناف بال نہیں اگے تھے، تو انہوں نے مجھے قیدیوں میں شامل کر لیا تھا۔

عَانَتِي، فَوَجَدُونِي لَمْ أُنْبِتْ فَجَعَلُونِي فِي السَّبْيِ ← أَرَى أَنَّهُ سَيَقْتُلُنِي، فَكَشَفُوا ← «كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدٌ، فَجِيءَ بِي، ← عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4783

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4784

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: رُمِيَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَقَطَعُوا أَكْحَلَهُ، فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، فَتَرَكَهُ، فَنَزَفَ الدَّمُ فَحَسَمَهُ أُخْرَى، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ: اللَّهُمَّ لَا تُخْرِجْ نَفْسِي، حَتَّى تَقَرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، فَاسْتَمْسَكَ عِرْقُهُ، فَمَا قَطَرَ قَطْرَةً، حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ تُقْتَلُ رِجَالُهُمْ، وَتُسْتَحْيَى نِسَاؤُهُمْ، وَذَرَارِيُّهُمْ، فَغَنِمَ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصَبْتَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ، وَكَانُوا أَرْبَعَ مِائَةٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَتْلِهِمْ، انْفَتَقَ عِرْقُهُ، فَمَاتَ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احزاب کے موقع پر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر لگا، جس نے ان کے بازو کی رگ کو کاٹ دیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے آگ جلوائی اور اس کے ذریعے داغ لگوایا، تو ان کا بازو پھول گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں چھوڑ دیا، تو خون پھر بہنے لگا۔ نبی اکرم ﷺ نے دوبارہ داغ لگوایا تو پھر ان کا ہاتھ پھول گیا جب انہوں نے یہ صورتحال یکھی تو انہوں نے کہا: اے اللہ تو میری جان اس وقت تک نہ نکالنا جب تک بنو قریظہ کے حوالے سے میری آنکھوں کو ٹھنڈا نہیں کر دیتا، تو ان کی رگ کا خون نکلنا بند ہو گیا اس کے بعد ایک قطرہ بھی نہیں نکلا، یہاں تک کہ جب بنو قریظہ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث تسلیم کیا، تو انہوں نے انہیں بلوایا اور حکم دیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے۔ ان کی خواتین اور بچوں کو زندہ رکھا جائے ، تو مسلمانوں کو مالِ غنیمت بھی حاصل ہوا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم نے ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔ ان لوگوں کی تعداد چار سو تھی۔ جب لوگ ان کے قتل سے فارغ ہوئے ، توحضرت سعد رضی اللہ عنہ کی رگ سے خون بہنا شروع ہو گیا اور ان کا انتقال ہو گیا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4784

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4785

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَى فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، امْرَأَةً مَقْتُولَةً، فَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ، وَالصِّبْيَانِ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ایک سفر کے دوران ایک عورت کو مقتول پایا تو آپ نے (جنگ کے دوران) خواتین اور بچوں کو مارنے سے منع کر دیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4785

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4786

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ [ص:108] حَدَّثَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ عَنِ الذَّرَارِيِّ مِنْ دُورِ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ، وَفِيهِمُ النِّسَاءُ، وَالصِّبْيَانُ فَقَالَ: «هُمْ مِنْهُمْ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضر صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے نبی اکرم ﷺ سے مشرکین کی بستی کے رہنے والے بچوں اور خواتین کے بارے میں دریافت کیا گیا جن پر رات کے وقت حملہ کیا جاتا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ ان کا حصہ ہیں۔

الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ ← [ص:149] ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4786

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4787

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، قَالَ كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَلَاثَةَ أَحَادِيثَ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ، أَنْ نَقْتُلَهُمْ مَعَهُمْ، قَالَ: نَعَمْ، فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ، ثُمَّ نَهَى عَنْهُمْ، يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ»، قَالَ فَصِدْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ بِالْأَبْوَاءِ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّ ذَلِكَ، فَعَرَفَ ذَلِكَ فِي [ص:109] وَجْهِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: وہ نبی اکر مﷺ کے حوالے سے تین احادیث بیان کیا کرتے تھے وہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں دریافت کیا: کیا ہم ان کے ہمراہ انہیں بھی قتل کر دیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے کہا : جی ہاں، کیونکہ وہ ان کا حصہ ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے موقع پر اس سے منع کر دیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: چراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول کے لیے مخصوص ہے۔ (تیسری روایت یہ ہے) میں نے نبی اکرم ﷺ کے لیے ابواء کے مقام پر زیبرے کا شکار کیا، تو نبی اکرم ﷺ اس وقت حالت احرام میں تھے نبی اکرم ﷺ نے اس قبول نہیں کیا۔ آپ ﷺ نے میرے چہرے پر (پریشانی) کے آثار دیکھے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہم نے یہ تمہیں صرف اس لیے واپس کیا ہے، کیونکہ ہم حالت احرام میں ہیں۔

أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ، ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← كان ← الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4787

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4788

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: «كُنْتُ فِيمَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَشَكُّوا فِيَّ أَمِنَ الذُّرِّيَّةِ، أَنَا أَمْ مِنَ الْمُقَاتِلَةِ، فَنَظَرُوا إِلَى عَانَتِي، فَلَمْ يَجِدُوهَا نَبَتَتْ، فَأُلْقِيتُ فِي الذُّرِّيَّةِ، وَلَمْ أُقْتَلْ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «لَمَّا جَعَلَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْفَرْقَ بَيْنَ مَنْ يُقْتَلَ، وَبَيْنَ مَنْ يُسْتَبْقَى مِنَ السَّبْيِ الْإِنْبَاتَ، ثُمَّ أَمَرَ بِقَتْلِ مَنْ أَنْبَتَ صَحَّ، أَنَّ الْعِلَّةَ فِيهِ، أَنَّ مَنْ أَنْبَتَ، كَانَ بَالِغًا يَجُوزُ، أَنْ يُقَاتَلَ، وَلَمَّا صَحَّ مَا وَصَفْتُ مِنَ الْعِلَّةِ، كَانَ فِيهَا الدَّلِيلُ، عَلَى أَنَّ الصِّبْيَانَ، وَالنِّسَاءَ مِنْ دُورِ الْحَرْبِ، إِذَا قَاتِلُوا، قُوتِلُوا إِذِ الْعِلَّةُ، الَّتِي مِنْ أَجْلِهَا رُفِعَ عَنْهُمُ الْقَتْلُ، عُدِمَتْ فِيهِمْ، وَهِيَ مُجَانَبَةُ الْقِتَالِ»

عطیہ قرظی بیان کرتے ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھا جن کے بارے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا تھا انہیں میرے بارے میں شک ہوا کہ کیا میں نابالغ بچوں میں شمار ہوں گا یا جنگ کرنے والوں میں شمار ہوں گا۔ جب انہوں نے میرے زیر ناف حصے کا جائزہ لیا تو انہیں وہاں بال اگے ہوئے نہیں ملے، تو مجھے بچوں میں شامل کر لیا گیا اور مجھے قتل نہیں کیا گیا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) جب نبی اکرم ﷺ نے قتل کیے جانے والے اور چھوڑ دئیے جانے والے قیدیوں کے بارے میں یہ فرق بیان کیا ہے، وہ زیر ناف بالوں کا اگنا ہے اور پھر آپﷺ نے ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا جن کے زیر ناف بال اگ چکے ہوں، و یہ بات ثابت ہو جائے گی اس میں علت یہ ہے: جس کے زیر ناف بال اگ چکے ہوں وہ بالغ شمار ہو گا اور اسے قتل کرنا جائز ہو گا اور جب یہ بات صحیح طور پر ثابت ہو گئی جو علت میں بیان کی ہے، تو اس میں اس بات کی دلیل موجودگی کہ غیر مسلموں کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے وہ بچے اور خواتین اگر جنگ میں حصہ لیں، تو انہیں قتل کر دیا جائے گا، کیونکہ وہ علت جس کی وجہ سے ان سے قتل کا حکم اٹھالیا گیا تھا وہ ان میں معدوم ہو گئی، اور وہ علت جنگ سے الگ رہنا ہے۔

بَيْنَ مَنْ يُسْتَبْقَى مِنَ السَّبْيِ الْإِنْبَاتَ، ثُمَّ أَمَرَ بِقَتْلِ مَنْ أَنْبَتَ صَحَّ، ← أَبُو حَاتِمٍ: «لَمَّا جَعَلَ الْمُصْطَفَى الْفَرْقَ بَيْنَ مَنْ يُقْتَلَ، ← أَمْ مِنَ الْمُقَاتِلَةِ، فَنَظَرُوا إِلَى عَانَتِي، فَلَمْ يَجِدُوهَا نَبَتَتْ، فَأُلْقِيتُ فِي الذُّرِّيَّةِ، وَلَمْ أُقْتَلْ» ← كُنْتُ، فِيمَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَشَكَّوْا فِيَّ أَمِنَ الذُّرِّيَّةِ، ← عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4788

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4789

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ جَدِّهِ رِيَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ وَعَلَى مُقَدِّمَةِ النَّاسِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مَقْتُولَةٌ عَلَى الطَّرِيقِ، فَجَعَلُوا يَتَعَجَّبُونَ مِنْ خَلْقِهَا قَدْ أَصَابَتْهَا الْمُقَدِّمَةُ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَقَفَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: » هَاهْ مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتِلُ «، ثُمَّ قَالَ: » أَدْرِكْ خَالِدًا، فَلَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً، وَلَا عَسِيفًا «

حضرت ریاح بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ایک جنگ میں شریک ہوئے۔ مقدمۃ الجیش کے امیر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے راستے میں ایک مقتول عورت ملی تو لوگ اس پر حیرانگی کا اظہار کرنے لگے کہ مقدمۃ الجیش کے لوگوں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ جب وہاں پہنچے اس عورت کے پاس ٹھہر گئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ تو جنگ میں حصہ نہیں لیتی تھی پھر نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا۔ خالد کے پاس جاؤ (اور اسے یہ پیغام پہنچاؤ) تم بچوں اور مزدوروں (غیر جنگجو افراد) کو قتل نہ کرو۔

جَدِّهِ رِيَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ ← الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ، ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4789

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4790

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «[ص:112] مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ، فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَثْبَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الشَّهَادَةَ لِلْمَقْتُولِ، دُونَ مَالِهِ، وَأَبَاحَ قِتَالَ قَاتِلِهِ، وَالْخَبَرُ عَلَى الْعُمُومِ، فَلَمَّا كَانَ قِتَالُ الْمَرْءِ مَعَ الْمُسْلِمِ الْمُحَرَّمِ دَمُهُ، عِنْدَ أَخْذِ مَالِهِ جَائِزًا كَانَ قِتَالُ مِثْلِهِ مَعَ الْمَرْءِ الَّذِي لَيْسَ بِمُحَرَّمٍ دَمُهُ، وَلَا مَالُهُ صَبِيًّا كَانَ، أَوْ بَالِغًا امْرَأَةً كَانَتْ، أَوْ عَبْدًا أَوْلَى أَنْ يَكُونَ جَائِزًا

حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے اور جو شخص کسی دوسرے کی زمین ایک بالشت کے برابر ناجائز طور پر حاصل کر لے، تو اس کو سات زمینوں جتنا وزنی طوق پہنایا جائے گا“۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے لیے شہادت کو برقرار رکھا ہے، جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جاتا ہے اور اس کے لیے اپنے قاتل کے ساتھ لڑائی کرنے کو مباح قرار دیا ہے۔ روایت عموم سے تعلق رکھتی ہے، تو جب آدمی کا کسی ایسے مسلمان کے ساتھ جس کا خون قابل احترام ہے اپنے مال کو دینے کی وجہ سے لڑنا جائز ہو جائے، تو آدمی کا اس طرح کے شخص کے ساتھ لڑنا جائز ہو گا، جس کا خون یا کال اس کے لیے قابل احترام نہیں ہے خواہ وہ بچہ ہو، یابالغ عورت ہو، یا غلام ہو، تو اس بات کا زیادہ امکان ہے، ایسا کرنا جائز ہو۔

سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، ← طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4790

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4791

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بَحْرَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَمَرَّ بِامْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ وَالنَّاسُ عَلَيْهَا، فَقَالَ: «مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ، أَدْرِكْ خَالِدًا، فَقُلْ لَهُ: لَا تَقْتُلْ ذُرِّيَّةً، وَلَا عَسِيفًا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ الْمُرَقَّعُ بْنُ صَيْفِيٍّ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ وَسَمِعَهُ مِنْ جَدِّهِ، وَجَدُّهُ رِيَاحُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَهُمَا مَحْفُوظَانِ»

حضرت حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ایک جنگ میں شریک ہوئے نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا جس کے اردگرد لوگ جمع تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ تو جنگ میں حصہ نہیں لیتی، خالد کے پاس جاؤ اور کہو کہ بچوں اور ملازمین کو قتل نہ کرو۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: )مرقع بن صیفی نے روایت حضرت حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ سے سنی ہے انہوں نے یہ روایت اپنے دادا سے بھی سنی ہے ان کے دادا حضرت ریاح بن ربیع رضی اللہ عنہ ہیں یہ دونوں روایات محفوظ ہیں۔

حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ ← الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيٍّ، ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4791

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4792

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: «أَذْكُرُ أَنِّي خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ، نَتَلَقَّى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَقْدَمَهُ مِنْ تَبُوكَ، إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ»

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات یاد ہے، نبی اکرم ﷺ جب غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تھے، تو ہم نبی اکرم ﷺ کے استقبال کے لیے بچوں کے ہمراہ ثنیۃ الوداع تک گئے تھے۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4792

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ غَزْوَةُ بَدْرٍ · حديث 4793

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفٌ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَاسْتَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَهْتِفُ رَبَّهُ: «اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ آتِنِي مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ، مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ»، فَمَا زَالَ يَهْتِفُ رَبَّهُ جَلَّ وَعَلَا مَاذَا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبِهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ، وَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبِهِ، ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ، فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ، فَاسْتَجَابَ لَكُمْ، أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، مُرْدِفِينَ} [الأنفال: 9]، فَأَمَدَّهُ اللَّهُ بِالْمَلَائِكَةِ قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، يَوْمَئِذٍ يَشُدُّ فِي أَثَرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهُ، إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ، فَوْقَهُ وَصَوْتَ الْفَارِسِ فَوْقَهُ، يَقُولُ أَقْدِمْ حَيْزُومُ، إِذْ نَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِ أَمَامَهُ خَرَّ، مُسْتَلْقِيًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَإِذْا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ وَشُقَّ وَجْهُهُ كَضَرْبَةِ سَوْطٍ، فَاخْضَرَّ ذَاكَ أَجْمَعُ، فَجَاءَ الْأَنْصَارِيُّ، فَحَدَّثَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقْتَ ذَلِكَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ»، فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ، وَأَسَرُوا سَبْعِينَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمَّا أَسَرُوا الْأُسَارَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعَلِيٍّ، وَعُمَرَ: «مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى؟ »، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هُمْ بَنُو الْعَمِّ، وَالْعَشِيرَةِ أَرَى أَنْ نَأْخُذَ مِنْهُمْ فِدْيَةً، تَكُونُ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْكُفَّارِ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمُ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ »، قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَنَا، فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ، فَتُمَكِّنَ عَلِيًّا، مِنْ عَقِيلٍ، فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ، وَتُمَكِّنَنِي مِنْ فُلَانٍ، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ نَسِيبٍ كَانَ لِعُمَرَ، فَإِنَّ هَؤُلَاءَ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ، وَصَنَادِيدُهَا، فَهَوِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ جِئْتُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، قَاعِدَانِ يَبْكِيَانِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ، وَصَاحِبُكَ، فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ، وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْكِي لِلَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنْ أَخْذِهِمُ [ص:116] الْفِدَاءَ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ} [الأنفال: 67]، إِلَى قَوْلِهِ: {فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا} [الأنفال: 69]، فَأَحَلَّ اللَّهُ الْغَنِيمَةَ»

حضرت بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے: جب غزوہ بدر کا دن آیا، تو نبی اکرم ﷺ نے مشرکین کی طرف دیکھا جن کی تعداد ایک ہزار تھی اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ 300 سے کچھ زیادہ تھے نبی اکرم ﷺ نے قبلہ کی طرف رخ کیا پھر آپﷺ نےپانے دونوں ہاتھ پھیلا دئیے اور آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں یہ التجا کرنے لگے اے اللہ ! تو نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے اے اللہ! جو تو نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے اسے پورا کر دے۔ اے اللہ! اگر یہ گروہ ہلاکت کا شکار ہو گیا جو اہل اسلام سے تعلق رکھتا ہے، تو پھر تیری زمین پر عبادت نہیں کیا جائے گی۔ نبی اکر مﷺ مسلسل اپنے پروردگار کی بارگہ میں التجائیں کرتے رہے آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے۔ قبلہ کی طرف رخ کیا ہو ا تھا، یہاں تک کہ آپﷺ کے کندھے سے چاردر گر گئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی چادر پکڑ کر آپ ﷺکے کندھے پر رکھی ، اور پھر آپﷺ کو پیچھے سے اپنے ساتھ لپٹا لیا، اور عرض کی اے اللہ کے نبی آپﷺ نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں بہت سی التجائیں کر لی ہیں۔ آپﷺ کا پروردگار آپﷺ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو پورا کر دکھائے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ”جب تم اپنے پروردگار سے مدد مانگ رہے تھے، تو تمہاری دعا کو قبول کیا۔ بے شک میں تمہاری طرف ایک ہزار فرشتے بھیجنے لگا ہوں جو ایک دوسرے کے آگے پیچھے آئیں گے “۔ تواللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی امداد کی۔ ابوزمیل نامی راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے، اس دن ایک مسلمان شخص ایک مشرک کے پیچھے جا رہا تھا جو اس کے آگے تھا۔ اسی دوران اس نے کوڑے کی آواز اپنے اوپر سے سنی اور اپنے اوپر سے ایک گھڑ سوار کی آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا۔ حیزوم آگے بڑھو۔ اسی دوران اس کی نظر اپنے آگے مشرک پر پڑی جو چت لیٹا ہوا گر چکا تھا۔ ان نے ان کی طرف دیکھا تو اس کا چہرہ اور ناک چھل چکے تھے یوں جیسے اسے کوڑا لگا ہوا ہو۔ پھر وہ انصاری آیا اس نے نبی اکرم ﷺ یو یہ بات بتائی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کہا ہے یہ آسمان سے آنے والی تیسری مدد تھی۔ ان لوگوں نے اس دن ستر (مشرکین) کو قتل کیا تھا، اور ستر (مشرکین) کو قید کیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ جب ان لوگوں نے قیدیوں کو قید کر لیا تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا۔ ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی یہ چچا زاد ہیں۔ خاندان کے افراد ہیں میری یہ رائے ہے، ہم ان سے فدیہ لے لیتے ہیں۔ جو ہمارے لیے کفار کے خلاف تیاری میں مدد دے گا اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اسلام کی ہدایت نصیب کرے گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے خطاب کے صاحبزادے تمہاری کیا رائے ہے؟ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ) میں نے عرض کی: جی نہیں اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ﷺ! میری وہ رائے نہیں ہے، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہے میری یہ رائے ہے، آپ انہیں ہمارے حوالے کریں ہم ان کی گردنیں اڑاتے ہیں۔ آپ عقیل کو علی کے حوالے کریں یہ اس کی گردن اڑائے مجھے فلاں کے حوالے کریں۔ میں اس کی گردن اڑاتا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھانجے کے بارے میں یہ بات کہی۔ یہ لوگ کفر کے پیشوا ہیں، اور اس کے سردار ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے اس رائے کو اختیار کیا جو نبی اکرم ﷺ نے بیان کی تھی، اور اس رائے کو اختیار نہیں کیا تھا جو میں نے بیان کی تھی۔ اگلے دن میں آیا، تو نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ مجھے بتائیں کہ آپﷺ اور آپﷺ کے ساتھی کسی بات پر رو رہے ہیں تا کہ میں بھی اس بات پر رونا شروع کر دوں۔ اگر میں اس بات پر رو نہ سکوں، تو رونے والی شکل بنالوں، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں اس بات پر رورہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں نے فدیہ لینے کی پیشکش کی تھی۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل کیا ہے: ”تو اللہ تعالیٰ نے مالِ غنیمت کو حلال قرار دیا “۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو زُمَيْلٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Battle of Badr · Hadith 4793

chevron_left Previous
1…262728…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr