Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4770

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ قَيْسٍ، قَالَ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ: أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ حُنَيْنٍ؟، قَالَ الْبَرَاءُ: لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَفِرَّ إِنَّ هَوَازِنَ كَانُوا قَوْمًا رُمَاةً، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ، وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا، وَهُوَ يَقُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ ..... أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ» *

ابو اسحاق بیان کرتے ہیں: قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا کیا آپ لوگ غزوہ حنین کو موقع پر نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے، تو حضرت براء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: نبی اکرم ﷺ فرار نہیں ہوئے۔ ہوازن قبیلے کے لوگ اچھے تیر انداز تھے۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو سفید خچر پر سوار دیکھا ۔ حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نے اس خچر کی لگا کو پکڑا ہوا تھا نبی اکرم ﷺ فرما رہے تھے: میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔

اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4770

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4771

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ، رَجُلٌ أَتَى قَوْمًا، فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ، وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ، وَبَيْنَهُ، فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ، فَأَعْطَاهُ سِرًّا لَا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ، إِلَّا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَهُمْ، حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ نَزَلُوا، فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ، فَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي، وَيَتْلُو آيَاتِي، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ، فَلَقُوا الْعَدُوَّ، فَهُزِمُوا، وَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ، حَتَّى يُقْتَلَ، أَوْ يُفْتَحَ لَهُمْ»

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” تین لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ ایک وہ شخص جو کسی قوم کے پاس آئے اور ان سے اللہ کے نام پر مانگے وہ ان کے ساتھ اپنی کسی رشتہ داری کی وجہ سے سوال نہ کرے تو ان میں سے ایک شخص الٹے قدموں واپس جائے اور اسے پوشیدہ طور پر کچھ دیدے۔ اس عطیے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور دینے والے شخص کے علاوہ اور کسی کو علم نہ ہو۔ (دوسری قسم کا شخص وہ ہیں) جو رات کے وقت سفر کر رہے ہوں، یہاں تک کہ نیند جب ان کے نزدیک سب سے زیادہ پیاری ہو، تو وہ پڑاؤ کریں اور اپنا سر رکھ کر سو جائیں، تو ایک شخص کھڑا ہو کر میری بارگاہ میں مناجات کرے۔ میری آیات کی تلاوت کرتے (اور تیسرا شخص وہ ہے) جو کسی جنگ میں حصہ لے، جب اس کا دشمن سے سامنا ہو، تو اس کے ساتھی پسپا ہو جائیں، لیکن وہ سینے کو لے کر آگے بڑھے، یہاں تک کہ شہید ہو جائے یا اس کو فتح نصیب ہو جائے۔“

النَّبِيِّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، ← رِبْعِيٍّ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عُبَيْدَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4771

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4772

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ النَّضْرِ تَغَيَّبَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ، وَقَالَ: تَغَيَّبْتُ عَنْ أَوَّلِ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ لَئِنْ أَرَانِي اللَّهُ قِتَالًا لَيَرَيَنَّ مَا أَصْنَعُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ يَقُولُ: أَيْنَ أَيْنَ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ الْجَنَّةِ، دُونَ أُحُدٍ، قَالَ: فَحَمَلَ، فَقَاتَلَ، فَقُتِلَ فَقَالَ سَعْدٌ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَطَقْتُ، مَا أَطَاقَ، فَقَالَتْ أُخْتُهُ: وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِحُسْنِ بَنَانِهِ، فَوُجِدَ فِيهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ جِرَاحَةً ضَرْبَةُ سَيْفٍ، وَرَمْيَةُ سَهْمٍ، وَطَعْنَةُ رُمْحٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا، مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ، فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ، وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا} [الأحزاب: 23]، قَالَ حَمَّادٌ: «وَقَرَأْتُ فِي مُصْحَفِ أَبِي، وَمِنْهُمْ مَنْ بَدَّلَ تَبْدِيلًا»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔ انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ نے جو سب سے پہلے غزوہ کیا تھا میں اس میں شریک نہیں ہو سکا اللہ کی قسم ! اگر اللہ نے اب مجھے جنگ کا موقع دیا، تو اللہ تعالیٰ اس بات کو ظاہر کر دے گا کہ میں کیا کرتا ہوں، پھر جب غزوہ احد کا موقع آیا، اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب پسپا ہوئے، تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ کہنا شروع کر دیا۔ کہاں ہے کہاں ہے اللہ کی ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے جنت کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے، جو احد کے دوسری طرف ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے حملہ کیا لڑائی کی اور شہید ہو گئے، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ﷺ! جو انہوں نے کیا ہے اس کی میں طاقت نہیں رکھتا۔ ان کی بہن بیان کرتی ہیں: ان کی پوروں سے پہچانا تھا۔ ان کے جسم پر تلوار کی ضرب، تیر لگنے اور نیزہ لگنے کے 80 سے زیادہ رخم تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ”اہل ایمان میں سے کچھ لوگ ہیں، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو سچ کر دکھایا۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے اپنی نذر کو پورا کر دیا اور ان میں سے کچھ لوگ ابھی انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی “۔ حماد نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کے مصحف میں یہ آیت یوں پڑھی ہے: ”ان میں سے ایک وہ شخص ہے، جس نے تبدیلی کر دی“۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4772

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4773

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: «افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ يُقَاتِلَ الْوَاحِدُ عَشْرَةً، فَثَقُلَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، وَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَوَضَعَ ذَلِكَ عَنْهُمْ، إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ الْوَاحِدُ رَجُلَيْنِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي ذَلِكَ: {إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ} [الأنفال: 65]، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ثُمَّ قَالَ: {لَوْلَا [ص:94] كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: 68]، يَعْنِي غَنَائِمَ بَدْرٍ لَوْلَا أَنِّي لَا أُعَذِّبُ مَنْ عَصَانِي، حَتَّى أَتَقَدَّمَ إِلَيْهِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر یہ بات لازم قرار دی کہ ایک آدمی دس کے ساتھ مقابلہ کرے گا۔ یہ بات ان کے لیے بڑی پریشانی کا باعث بنی اور انہیں بہت گراں گزری۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو آسانی فراہم کی کہ ایک آدمی دو کے ساتھ مقابلہ کرے گا، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی: ”اگر تم میں سے صبر کرنے والے بیس افراد ہوں“۔ یہ آیت کے آخر تک ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو تم نے جو کیا ہے اس پر تمہیں عظیم عذاب اپنی گرفت میں لے لیتا“۔ (راوی بیان کرتے ہیں) اس سے مراد غزوہ بدر کا مالِ غنیمت ہے، اور مراد یہ ہے کہ اگر میں نے پہلے یہ طے نہ کیا ہوتا کہ اپنی نافرمانی کرنے والے کو عذاب نہیں دوں گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← عَطَاءٍ، ← عبد الله بن أبي نجيح ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4773

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4774

َخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا نَعْلَمُ بِخَبَرِ الْقَوْمِ الَّذِينَ جَيَّشُوا لَنَا، فَاسْتَقْبَلْنَا وَادِيَ حُنَيْنٍ، فِي عَمَايَةِ الصُّبْحِ، وَهُوَ وَادِي أَجْوَفُ، مِنْ أَوْدِيَةِ تِهَامَةَ، إِنَّمَا يَنْحَدِرُونَ فِيهِ انْحِدَارًا، قَالَ: فَوَاللَّهِ إِنَّ النَّاسَ لَيُتَابِعُونَ، لَا يَعْلَمُونَ بِشَيْءٍ، إِذْ فَجِئَهُمُ الْكَتَائِبُ مِنْ كُلِّ نَاحِيَةٍ، فَلَمْ يَنْتَظِرِ النَّاسُ أَنِ انْهَزَمُوا رَاجِعِينَ، قَالَ: وَانْحَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ الْيَمِينِ، وَقَالَ: «أَيْنَ أَيُّهَا النَّاسُ؟، أَنَا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ»، وَكَانَ أَمَامَ هَوَازِنَ رَجُلٌ ضَخْمٌ، عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، فِي يَدِهِ [ص:96] رَايَةٌ سَوْدَاءُ، إِذَا أُدْرِكَ طَعَنَ بِهَا، وَإِذَا فَاتَهُ شَيْءٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، دَفَعَهَا مِنْ خَلْفِهِ، فَرَصَدَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كِلَاهُمَا يُرِيدُهُ، قَالَ فَضَرَبَ عَلِيٌّ عُرْقُوبَيِ الْجَمَلِ، فَوَقَعَ عَلَى عَجُزِهِ، وَضَرَبَ الْأَنْصَارِيُّ سَاقَهُ، فَطَرَحَ قَدَمَهُ بِنِصْفِ سَاقِهِ، فَوَقَعَ، وَاقْتَتَلَ النَّاسُ، حَتَّى كَانَتِ الْهَزِيمَةُ، وَكَانَ أَخُو صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ لِأُمِّهِ، قَالَ أَلَا بَطَلَ السِّحْرُ الْيَوْمَ، وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكًا فِي الْمُدَّةِ، الَّتِي ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ: اسْكُتْ فَضَّ اللَّهُ فَاكَ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَلِيَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَلِيَنِي رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ہمیں اس بارے میں علم نہیں تھا کہ دشمن نے ہمارے لیے کس طرح کا لشکر تیار کیا ہے ہم حنین کی وادی کے پاس پہنچے یہ صبح کے وقت کی بات ہے یہتہامہ کی وادیوں میں سے نشیبی وادی تھی۔ لوگ اس میں نیچے کی طرف اتر رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم ! لوگوں کا پیچھا کیا جا رہا تھا پر انہیں اس بات کا پتہ نہ تھا۔ اسی دوران ہر طرف سے دستے آنے لگے تو لوگوں نے واپس لوٹنے میں پسپا ہونے کا انتظار نہیں کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے دائیں طرف رخ کرکے فرمایا اے لوگو تم کہاں ہو۔ میں اللہ کا رسول ہوں میں محمد بن عبداللہ ہوں (حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) ہوازن قبیلے کے آگے ایک بھاری بھر کم شخص تھا جو سرخ اونٹ پر سوار تھا۔ اس کے ہاتھ میں سیاہ رنگ کا جھنڈا تھا۔ جب کوئی شخص اس تک پہنچ جاتا تو وہ اسے نیزہ مار دیتا، اور جب کوئی چیز اس کے سامنے آتی، تو وہ اسے اپنے پیچھے کر دیتا۔ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص دونوں اس کی گھات لگا کر بیٹھ گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اونٹ کی پشت پر حملہ کیا، تو وہ (سردار) گدی کے بل نیچے گر گیا۔ انصاری نے اس کی پنڈلی پر مارا اور اس کا پاؤں نصف پنڈلی کے قریب کاٹ دیا۔ وہ گرا تو لوگوں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی، یہاں تک کہ وہ لوگ پسپا ہو گئے۔ وہ صفوان بن امیہ کا ماں کی طرف سے شریک بھائی تھا۔ انہوں نے کہا: خبردار آج کے دن جادو جھوٹا ثابت ہو گیا۔ حضر صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ اس وقت مشرک تھے۔ یہ بعد کی بات ہے، نبی اکرم ﷺ نے (ان کے سینے وغیرہ پر ضرب لگائی تھی) جضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا خاموش رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے منہ کو بند کرے اللہ کی قسم ! قریش کا کوئی شخص مجھ سے آ ملے۔ یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے، ہوازن قبیلے کا کوئی شخص مجھ سے ملے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ، ← َخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4774

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4775

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا لَقِيَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، نَزَلَ عَنْ بَغْلَتِهِ، فَتَرَجَّلَ»

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر جب نبی اکرم ﷺ کا مشرکین سے مقابلہ ہوا، تو آپﷺ اپنے خچر سے نیچے اتر آئے اور آپ ﷺ پیدل (لڑائی میں حصہ لیتے رہے)

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4775

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4776

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرَّكِينَ، بِدِمَشْقَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا غَلَبَ قَوْمًا، أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا»

حضرت انس رضی اللہ عنہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب کسی قوم پر غالب آ جاتے تھے، تو آپﷺ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ ان کے علاقے میں تین دن تک مقیم رہیں۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا غَلَبَ قَوْمًا، أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا» ← أَبِي طَلْحَةَ، ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ بِدِمَشْقَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4776

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4777

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ، بِبَغْدَادَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا غَلَبَ قَوْمًا أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا، أَوْ قَالَ ثَلَاثَ لَيَالٍ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ، حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب کسی قوم پر فتح حاصل کر لیتے تھے، تو آپﷺ کو یہ بات پسند تھی کہ آپ ﷺ ان کے علاقے میں تین دن (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تین راتوں تک رہیں۔

ثَلَاثَ لَيَالٍ» ← «كَانَ النَّبِيُّ إِذَا غَلَبَ قَوْمًا أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا، أَوْ ← أَبِي طَلْحَةَ، ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ بِبَغْدَادَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4777

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4778

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ، فَقُذِفُوا فِي طَويٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ، وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ، أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ، أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ، فَشُدَّ عَلَيْهَا فَرَحَلَهَا، ثُمَّ مَشَى وَتَبِعَهُ أَصْحَابُهُ، فَقَالُوا: مَا نَرَاهُ يَنْطَلِقُ إِلَّا لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةَ الرَّكِيِّ، فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ، بِأَسْمَائِهِمْ، وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ، يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ، أَيَسُرُّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا، فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَكَلَّمَ مِنْ أَجْسَادٍ، لَا أَرْوَاحَ لَهَا؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ»، قَالَ قَتَادَةُ: أَحْيَاهُمُ اللَّهُ، حَتَّى أَسْمَعَهُمْ تَوْبِيخًا، وَتَصْغِيرًا، وَنِقْمَةً، وَحَسْرَةً، وَتَنَدُّمًا

قتادہ بیان کرتے ہیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا۔ غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے قریش کے چوبیس سرداروں کے بارے میں حکم دیا، تو انہیں بدر کے ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا۔ نبی اکرم ﷺ جب کسی قوم پر غالب آ جاتے تھے، تو آپﷺ کو یہ بات پسند تھی کہ آپﷺ ان کے علاقے میں تین راتوں تک مقیم رہیں جب تیسرا دن آیا، تو نبی اکرم ﷺ کے حکم کے مطابق آپﷺ کی سواریوں پر پالان باندھ دیا گیا، پھر آپﷺ روانہ ہوئے آپ ﷺ کے اصحاب آپ کے پیچھے چلے۔ لوگوں نے کہا: ہمار ا خیال ہے نبی اکرم ﷺ کسی کام کے سلسلے میں تشریف لے کر جانے لگے ہیں، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ اس گڑھے کے کنارے تک آئے۔ آپﷺ نے ان (کفاران قریش) کو ان کے نام اور ان کے باپوں کے نام لے کر مخاطب کیا اے فلاں بن فلاں کیا اب تمہاری یہ خواہش نہیں ہے، تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔ ہمارے پروردگار نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا ہم نے تو اسے حق پالیا ہے تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے حق پالیا ہے، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ایسے اجسام کے ساتھ کیسے خطاب کر رہے ہیں، جن میں روح ہی نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں جو کہہ رہا ہوں تم ان لوگوں کے مقابلے میں مجھ سے زیادہ نہیں سن رہے (یعنی وہ بھی اسی طرح سن رہے ہیں جس طرح تم اسے سن رہے ہو) قتادہ نامی راوی کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کیا تھا، یہاں تک کہ انہیں (نبی اکرم ﷺ کی آواز) اس لیے سنائی تھی تا کہ ان کی توبیخ ہو۔ ان کا کم تر ہونا ظاہر ہو۔ انہیں ذلت ہو۔ حسرت ہو اور ندامت ہو۔

أَبِي طَلْحَةَ: ثُمَّ ← لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4778

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4779

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ، فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا، فَقَالَ: إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: نَرْجِعُ، وَلَمْ نَفْتَحْ؟، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ»، فَغَدَوْا عَلَيْهِ، فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا»، فَأَعْجَبَهُمْ ذَلِكَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکر مﷺ نے اہل طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا، لیکن انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ نے چاہا تو ہم (کل ) روانہ ہو جائیں گے۔ آپ ﷺ کے اصحاب نے عرض کی: کیا ہم فتح حاصل کیے بغیر روانہ ہو جائیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کل پھر تم حملہ کر لینا۔ ان لوگوں نے ان پر حملہ کیا، تو ان میں سے بہت سے لوگ زخمی ہو گئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کل ہم روانہ ہو جائیں گے تو لوگوں کو یہ بات اچھی لگی، تو نبی اکرم ﷺ مسکرادئیے۔

قَافِلُونَ غَدًا»، فَأَعْجَبَهُمْ ذَلِكَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ ← لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ← لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ «اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ»، فَغَدَوْا عَلَيْهِ، فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ، ← أَصْحَابُهُ: نَرْجِعُ، وَلَمْ نَفْتَحْ؟، ← قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ← حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ أَهْلَ الطَّائِفِ، فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي الْعَبَّاسِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4779

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4780

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: «عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَشَكَّوْا فِيَّ، فَقِيلَ لِي: هَلْ أَنْبَتَّ، فَفَتَّشُونِي، فَوَجَدُونِي لَمْ أُنْبِتْ، فَخُلِّيَ سَبِيلِي»

حضرت عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ قریظہ کے موقع پر مجھے نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا ان لوگوں کو میرے بارے میں شک ہوا (کیا میں بالغ ہو چکا ہوں کہ نہیں ) تو مجھ سے دریافت کیا گیا: کیا تمہارے زیر ناف بال اگ گئے ہیں ان لوگوں نے میری تلاشی لی تو انہیں پتہ چلا کہ میرے زیر ناف بال نہیں اگے ہیں ، تو مجھے چھوڑ دیا گیا۔

عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4780

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4781

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: كُنْتُ، فِيمَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَشَكَّوْا فِيَّ أَمِنَ الذُّرِّيَّةِ، أَنَا أَمْ مِنَ الْمُقَاتِلَةِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْظُرُوا، فَإِنْ كَانَ أَنْبَتَ الشَّعْرَ، فَاقْتُلُوهُ، وَإِلَّا فَلَا تَقْتُلُوهُ»

حضرت عطیہ قرظی بیان کرتے ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھا جن کے بارے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا تھا ان لوگوں کو میرے بارے میں شک ہوا کہ کیا میں نابالغ ہوں، یا میں جنگجو لوگوں میں شمار ہوں گا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس بات کا جائزہ لو اگر اس کے زیر ناف بال اگے ہیں، تو اسے قتل کر دو اگر نہیں اگے تو پھر اسے قتل نہ کرنا۔

أَمْ مِنَ الْمُقَاتِلَةِ؟، ← كُنْتُ، فِيمَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَشَكَّوْا فِيَّ أَمِنَ الذُّرِّيَّةِ، ← عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4781

chevron_left Previous
1…252627…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr