Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الرَّسُولِ · حديث 4879

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ، فَقَالَ: مَا بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ إِحْنَةٌ، وَإِنِّي مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ لِبَنِي حَنِيفَةَ، فَإِذَا هُمْ يُؤْمِنُونَ بِمُسَيْلِمَةَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ، فَجِيءَ بِهِمْ فَاسْتَتَابَهُمْ غَيْرَ ابْنِ النَّوَّاحَةِ، وَقَالَ: لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ وَأَنْتَ الْيَوْمَ لَسْتَ بِرَسُولٍ»، فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ فِي السُّوقِ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى ابْنِ النَّوَّاحَةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَيْهِ قَتِيلًا، فِي السُّوقِ»

حضرت حارثہ بن مضرب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے میرے اور کسی بھی عرب کے درمیان کوئی پوشیدہ دشمنی نہیں ہے میں بنو حنیفہ کی مسجد کے پاس سے گزرا وہ لوگ مسیلمہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف پیغام بھیجا۔ ان لوگوں کو لایا گیا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے توبہ کروائی۔ صرف ابن نواحہ نے توبہ نہیں کی تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نےاسے کہا میں نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر تم قاصد نہ ہوتے تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا “۔ (پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا) آج تم قاصد نہیں ہو۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا۔ تو انہوں نے بازار میں اس شخص کی گردن اڑا دی پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ جو شخص ابن نواحہ کو دیکھنا چاہتا ہو وہ اسے بازار میں مقتول پڑا ہوا دیکھ لے۔

حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ثُمَّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate of the Messenger · Hadith 4879

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الذِّمِّيِّ وَالْجِزْيَةِ · حديث 4880

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنْ سَمَّعَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا دَخَلَ النَّارَ»

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی یہودی یا عیسائی کو سناتا ہے (شاید اس سے مراد یہ ہے: اسے ناحق طور پر قتل کرتا ہے) وہ جہنم میں داخل ہو گا “۔

يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا دَخَلَ النَّارَ» ← مَنْ ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of Dhimmi and Punishment · Hadith 4880

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الذِّمِّيِّ وَالْجِزْيَةِ · حديث 4881

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، [ص:239] عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدًا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ»

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی ذمی کو قتل کر دے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا “۔

«مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدًا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، [ص:239] ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of Dhimmi and Punishment · Hadith 4881

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الذِّمِّيِّ وَالْجِزْيَةِ · حديث 4882

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ ثُرْمُلَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً [ص:241] بِغَيْرِ حَقِّهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَشُمَّ رِيحَهَا»، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذِهِ الْأَخْبَارُ كُلُّهَا مَعْنَاهَا لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُرِيدُ جَنَّةً دُونَ جَنَّةِ الْقَصْدِ مِنْهُ، الْجَنَّةُ الَّتِي هِيَ أَعْلَى وَأَرْفَعُ يُرِيدُ مَنْ فَعَلَ هَذِهِ الْخِصَالَ، أَوِ ارْتَكَبَ شَيْئًا مِنْهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ، أَوْ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الَّتِي هِيَ أَرْفَعُ الَّتِي يَدْخُلُهَا مَنْ لَمْ يَرْتَكِبْ تِلْكَ الْخِصَالَ، لِأَنَّ الدَّرَجَاتِ فِي الْجِنَانِ يَنَالُهَا الْمَرْءُ بِالطَّاعَاتِ، وَحَطُّهُ [ص:242] عَنْهَا يَكُونُ بِالْمَعَاصِي، الَّتِي ارْتَكَبَهَا»

حضرت ابو بکر ہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص ناحق طور پر کسی ذمی کو قتل کر دے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس بات کو حرام قرار دیتا ہے، وہ جنت کی بو بھی محسوس کرے “۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) ان تمام روایات کا مفہوم یہ ہے: وہ شخص کسی ایک مخصوص قسم کی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ البتہ دوسری جنت میں داخل ہو سکتا ہے اور اس سے مراد جنت کا بالائی حصہ ہے، جس میں وہ داخل نہیں ہوگا۔ یعنی وہ شخص جو اس طرح کے کسی فعل کا مرتکب ہوتا ہے یا کسی بھی ایسی چیز کا مرتکب ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے یا وہ شخص اس کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ تو اس سے مراد وہ جنت ہے، جو جنت کا بلند ترین مرتبہ ہے، جس میں ان کاموں کا مرتکب شخص داخل نہیں ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے: جنت کے مختلف درجات ہیں۔ جن تک آدمی نیکیاں کرنے کی وجہ سے پہنچتا ہے اور گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ان میں سے کسی ایک مرتبے سے نیچے آ جاتاہے۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْأَشْعَثِ بْنِ ثُرْمُلَةَ، ← الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of Dhimmi and Punishment · Hadith 4882

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الذِّمِّيِّ وَالْجِزْيَةِ · حديث 4883

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ، بِالْأَهْوَازِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «عَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيًّا»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ایک یہودی کی عیادت کی تھی۔

«عَادَ النَّبِيُّ يَهُودِيًّا» ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ بِالْأَهْوَازِ

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of Dhimmi and Punishment · Hadith 4883

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الذِّمِّيِّ وَالْجِزْيَةِ · حديث 4884

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَلَّافُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ غُلَامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلِمْ»، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ: أَطِعِ أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ: [ص:243] فَأَسْلَمَ، قَالَ: فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک یہودی لڑکا نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بیمار ہو گیا۔ نبی اکرم ﷺ اس کی عیادت کرنے کے لیے اس کے پاس تشریف لائے۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے فرمایا تم اسلام قبول کر لو۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے باپ نے اس سے کہا؛ تم حضرت ابوالقاسم ﷺ کی بات مان لو۔ راوی کہتے ہیں؛ تو اس نے اسلام قبول کر لیا۔ راوی کہتےہیں: نبی اکرم ﷺ جب اس کے پاس سے واپس تشریف لائے، تو آپﷺ یہ فرما رہے تھے ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے، جس نے اس کو جہنم سے بچا لیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← إبراهيم بن الحسن العلاف ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of Dhimmi and Punishment · Hadith 4884

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الذِّمِّيِّ وَالْجِزْيَةِ · حديث 4885

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا قَيْنًا وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ لِي: «لَا أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ»، قَالَ: قُلْتُ: «لَنْ أَكْفُرَ بِهِ حَتَّى تَمُوتَ، ثُمَّ تُبْعَثَ»، قَالَ: «وَإِنِّي لَمَبْعُوثٌ بَعْدَ الْمَوْتِ سَوْفَ أَقْضِيكَ، إِذَا رَجَعْتَ إِلَيَّ مَالِي، وَوَلَدِي»، قَالَ: «فَنَزَلَتْ، [ص:244] هَذِهِ الْآيَةُ {أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا، وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا} [مريم: 77]»

حضرت خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سنار تھا۔ میں نے عاص بن وائل سے کچھ قرض واپس لینا تھا۔ میں اس کے پاس آیا اور اس سے قرض کا تقاضا کیا۔ اس نے مجھ سے کہا میں اس وقت تک تمہارا قرض ادا نہیں کروں گا۔ جب تک تم حضرت محمدﷺ کا انکار نہیں کر دیتے۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے کہا مہں ان کا اس وقت تک انکار نہیں کروں گا، جب تک تم مر نہیں جاتے اور دوبارہ زندہ نہیں ہوتے۔ اس نے کہا اگر مجھے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا، تو میں تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔ کیونکہ اس وقت میرا مال اور میری اولاد مجھے دوبارہ واپس مل جائیں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ”کیا تم نےاس شخص کو دیکھا جو ہماری آیات کا انکار کرتا ہے اور یہ کہتا ہے مجھے مال اور اولاد ضرور دئیے جائیں گے “۔

لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا} [مريم: ← «فَنَزَلَتْ، [ص:244] هَذِهِ الْآيَةُ {أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا، ← «وَإِنِّي لَمَبْعُوثٌ بَعْدَ الْمَوْتِ سَوْفَ أَقْضِيكَ، إِذَا رَجَعْتَ إِلَيَّ مَالِي، وَوَلَدِي»، ← قُلْتُ: «لَنْ أَكْفُرَ بِهِ حَتَّى تَمُوتَ، ثُمَّ تُبْعَثَ»، ← لِي: «لَا أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ»، ← كُنْتُ رَجُلًا قَيْنًا وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، ← خَبَّابٍ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of Dhimmi and Punishment · Hadith 4885

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الذِّمِّيِّ وَالْجِزْيَةِ · حديث 4886

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، [ص:245] فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا، أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا، أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ»

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے مجھے یمن بھیجا اور یہ ہدایت دی کہ میں گائے میں سے ہر چالیس میں ایک ”مسنہ“ اور تیس میں سے ایک” تبیع“ وصول کروں اور ہر بالغ شخص سے ایک دینار یا اس کے وزن کے برابر” معافر“ (مخصوص رقم) کی خوشبو وصول کروں۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← مَسْرُوقٍ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ عِيسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of Dhimmi and Punishment · Hadith 4886

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4766

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: «شَهِدْتُ الْيَرْمُوكَ، وَعَلَيْهَا خَمْسَةُ [ص:84] أُمَرَاءَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَشُرَحْبِيلُ ابْنُ حَسَنَةَ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَعِيَاضٌ، - وَلَيْسَ عِيَاضٌ صَاحِبَ الْحَدِيثِ الَّذِي يُحَدِّثُ سِمَاكٌ عَنْهُ -، قَالَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِذَا كَانَ قِتَالٌ فَعَلَيْكُمْ أَبُو عُبَيْدَةَ قَالَ: » فَكَتَبْنَا إِلَيْهِ، أَنْ قَدْ جَاشَ إِلَيْنَا الْمَوْتُ، وَاسْتَمْدَدْنَاهُ، فَكَتَبَ إِلَيْنَا أَنَّهُ قَدْ جَاءَنِي كِتَابُكُمْ تَسْتَمِدُّونِي، وَإِنِّي أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا هُوَ أَعَزُّ نَصْرًا وَأَحْصَنُ جُنْدًا اللَّهُ فَاسْتَنْصِرُوهُ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نُصِرَ بِأَقَلَّ مِنْ عَدَدِكُمْ، فَإِذَا أَتَاكُمْ كِتَابِي، فَقَاتِلُوهُمْ وَلَا تُرَاجِعُونِي، قَالَ: فَقَاتَلْنَاهُمْ فَهَزَمْنَاهُمْ، وَقَتَلْنَاهُمْ أَرْبَعَ فَرَاسِخَ وَأَصَبْنَا أَمْوَالًا فَتَشَاوَرُوا فَأَشَارَ عَلَيْهِمْ عِيَاضٌ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ عَشْرَةٌ، وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَنْ يُرَاهِنُنِي؟، فَقَالَ شَابٌّ: [ص:85] أَنَا إِنْ لَمْ تَغْضَبْ، قَالَ: «فَسَبَقَهُ، فَرَأَيْتُ عَقِيصَتَيْ أَبِي عُبَيْدَةَ تَنْقُزَانِ، وَهُوَ خَلْفَهُ عَلَى فَرَسٍ عَرَبِيٍّ»

عیاض اشعری بیان کرتے ہیں: میں جنگ یرموک میں شریک ہوا ہوں۔ اس میں پانچ امیر تھے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ، حضرت یزید بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ، حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت عیاض رضی اللہ عنہ یہ وہ والے عیاض نہیں ہیں جو اس روایت کو بیان کر رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب لڑائی شروع ہو، تو ابوعبیدہ تمہارے امیر ہوں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ ہمیں موت نے گھیر لیا ہے ہم نے ان کی مدد مانگی، تو انہوں نے ہمیں جوابی خط لکھا کہ تمہارا خط میرے پاس آیا ہے، جس میں تم نے مدد مانگی ہے۔ میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف کرتا ہوں جو مدد کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ جو لشکر کے لیے زیادہ حفاظت کا باعث ہے وہ اللہ کی ذات ہے تم اس سے مدد مانگو، کیونکہ حضرت محمد ﷺ کی مدد کی گئی تھی اور تم سے کم تعداد کے ہمراہ کی گی جب تمہارے پاس میرا مکتوب آئے ، تو تم ان ک ساتھ لڑائی کرو اور تم دوبارہ مجھے نہ کہنا۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے کفار کے ساتھ جنگ کی اور ہم نے انہیں پسپا کر دیا۔ چار فرسخ تک ہم انہیں قتل کرتے رہے ہمیں بہت سے اموال بھی ملے۔ ان لوگوں نے مشورہ کیا، تو حضرت عیاض رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ ہر آدمی کی طرف سے دس ہوں۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کون شخص میری مدد کرے گا؟ ایک نوجوان نے کہا: میں اگر آ پ غصہ نہ کریں۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو وہ ان سے آگے نکل گئے، تو میں نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے کندھوں کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا وہ ایک عربی گھوڑے پر اس کے پیچھے تھے۔

فَكَتَبْنَا إِلَيْهِ، ← عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِذَا كَانَ قِتَالٌ فَعَلَيْكُمْ أَبُو عُبَيْدَةَ ← سِمَاكٌ عَنْهُ ← عِيَاضٌ، وَلَيْسَ عِيَاضٌ صَاحِبَ الْحَدِيثِ الَّذِي ← خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ← شُرَحْبِيلِ ابْنِ حَسَنَةَ: ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ← «شَهِدْتُ الْيَرْمُوكَ، وَعَلَيْهَا خَمْسَةُ أُمَرَاءَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4766

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4767

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَأَةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ابْغُوا لِي ضُعَفَاءَكُمْ، فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ، وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ»

حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میرے پاس اپنے کمزور لوگوں کو لے کر آؤ بے شک تمہیں تمہارے کمزور افراد کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے، اور تمہاری مدد کی جاتی ہے “۔

«ابْغُوا لِي ضُعَفَاءَكُمْ، فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ، وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← زَيْدُ بْنُ أَرْطَأَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4767

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4768

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى [ص:87] النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے، ایک زمانہ لوگوں پر ایسا آئے گا، جس میں کچھ لوگ جنگ میں حصہ لیں گے تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے، جو نبی اکرم ﷺ کا صحابی ہو، تو جواب دیا جائے گا: جی ہاں! تو ان لوگوں کو فتح نصیب ہو گی، پھر لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا، جب وہ جنگ کے لیے جائیں گے تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے، جو نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کے ساتھ رہا ہو، تو جواب دیا جائے گا: جی ہاں، تو ان لوگوں کو فتح نصیب ہو گی، پھر لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا، جس میں بہت سارے لوگ جنگ کے لیے جائیں گے تو دریافت کیا جائے گا: تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے، جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے شاگردوں کے ساتھ رہا ہو ، تو جواب دیا جائے گا: جی ہاں، تو انہیں بھی فتح نصیب کی جائے گی۔

أَبُو سَعِيدٍ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4768

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4769

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ أَقْبَلَتْ هَوَازِنُ، [ص:88] وَغَطَفَانُ بِذَرَارِيِّهِمْ وَنَعَمِهِمْ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَشْرَةُ آلَافٍ، وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ، فَأَدْبَرُوا عَنْهُ، حَتَّى بَقِيَ وَحْدَهُ قَالَ: فَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ، لَمْ يَخْلِطْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، فَالْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ وَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ»، فَقَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ، فَالْتَفَتَ إِلَى يَسَارِهِ، وَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ»، فَقَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ، قَالَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ فَنَزَلَ، وَقَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ، فَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ كَثِيرَةً، فَقَسَمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ، وَالطُّلَقَاءِ، وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: إِذَا كَانَ فِي الشِّدَّةِ، فَنَحْنُ وَيُعْطِي الْغَنِيمَةَ غَيْرَنَا، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ، وَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي؟ »، فَسَكَتُوا، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاءِ، وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى بُيُوتِكُمْ؟ »، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَضِينَا، قَالَ: «لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبًا، لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب غزوہ حنین کا موقع آیا، تو ہوازن قبیلے کے لوگ اور غطفان قبیلے کے لوگ اپنے بال بچوں اور سازوسامان کے لے کر آ گئے ۔ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ دس ہزار افراد تھے۔ آپﷺ کے ہمراہ وہ لوگ بھی تھے جہنوں نے نیا نیا اسلام قبول کیا تھا۔ وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ تنہا رہ گئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس دن نبی اکرم ﷺ نے دو مرتبہ بلند آواز میں پکارا ان کے درمیان اور کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنی۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دائیں طرف رخ کیا اور فرمایا: اے انصار کے گروہ تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ہم حاضر ہیں آپﷺ خوش رہیں کہ ہم آپﷺ کے ساتھ ہیں پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے بائیں طرف توجہ کی اور فرمایا: اے انصار کے گروہ تو ان لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ہم حاضر ہیں۔ آپ ﷺ بے فکر رہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ اپنے سفید خچر پر سوار تھے آپﷺ اس سے نیچے اترے اور فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، تو مشرکین پسپا ہو گئے ۔ نبی اکرم ﷺ کو بہت زیادہ مالِ غنیمت حاصل ہوا نبی اکرم ﷺ نے وہ مال مہاجرین اور نئے مسلمان ہونے والے افراد کے درمیان تقسیم کر دیا۔ آپﷺ نے انصار کو کچھ نہیں دیا۔ اس پر انصار نے کہا: جب مشکل آئی تھی اس وقت ہمیں بلایا گیا اور مالِ غنیمت آپ نے دوسروں کو دے دیا جب نبی اکرم ﷺ تک اس بات کی اطلاع پہنچی تو آپﷺ نے ان لوگوں کو ایک خیمے میں جمع کیا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے انصار کے گروہ! کیا بات ہے، جو مجھ تک پہنچی ہے۔ وہ لوگ خاموش رہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے انصار کے گروہ کیا تم لوگ اس بات سے راضی نہیں ہو کہ لوگ بھیڑ بکریاں لے جائیں اور تم حضرت محمد ﷺ کو اپنے گھر لے جاؤ۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! ہم راضی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور اگر انصار ایک گھاٹی میں جائیں ، تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4769

chevron_left Previous
1…242526…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr