صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الرَّسُولِ · حديث 4879
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ، فَقَالَ: مَا بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ إِحْنَةٌ، وَإِنِّي مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ لِبَنِي حَنِيفَةَ، فَإِذَا هُمْ يُؤْمِنُونَ بِمُسَيْلِمَةَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ، فَجِيءَ بِهِمْ فَاسْتَتَابَهُمْ غَيْرَ ابْنِ النَّوَّاحَةِ، وَقَالَ: لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ وَأَنْتَ الْيَوْمَ لَسْتَ بِرَسُولٍ»، فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ فِي السُّوقِ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى ابْنِ النَّوَّاحَةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَيْهِ قَتِيلًا، فِي السُّوقِ»
حضرت حارثہ بن مضرب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے میرے اور کسی بھی عرب کے درمیان کوئی پوشیدہ دشمنی نہیں ہے میں بنو حنیفہ کی مسجد کے پاس سے گزرا وہ لوگ مسیلمہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف پیغام بھیجا۔ ان لوگوں کو لایا گیا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے توبہ کروائی۔ صرف ابن نواحہ نے توبہ نہیں کی تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نےاسے کہا میں نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر تم قاصد نہ ہوتے تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا “۔ (پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا) آج تم قاصد نہیں ہو۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا۔ تو انہوں نے بازار میں اس شخص کی گردن اڑا دی پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ جو شخص ابن نواحہ کو دیکھنا چاہتا ہو وہ اسے بازار میں مقتول پڑا ہوا دیکھ لے۔
حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ثُمَّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ
Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate of the Messenger · Hadith 4879
