Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4742

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: «أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالرَّحِيلِ [ص:47] عَامَ الْفَتْحِ لِلَيْلَتَيْنِ خَلَتَا مِنْ رَمَضَانِ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے رمضان کی دو راتیں گزر جانے کے بعد روانگی کا اعلان کیا۔

«أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ بِالرَّحِيلِ [ص:47] عَامَ الْفَتْحِ لِلَيْلَتَيْنِ خَلَتَا مِنْ رَمَضَانِ» ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَزَعَةَ ← عَطِیَّۃَ بْنِ قَیْسٍ، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← أَبُو زُرْعَةَ الْبَصْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4742

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4743

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، بِتُسْتَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر جب نبی اکرم ﷺ (مکہ مکرمہ میں ) داخل ہوئے، تو آپﷺ کا مخصوص جھنڈا سفید رنگ کا تھا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← شَرِيکٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4743

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4744

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «غَزَوْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَبَيَّتْنَا أُنَاسًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَتَلْنَاهُمْ وَكَانَ شِعَارُنَا، أَمِتْ، أَمِتْ»، قَالَ: فَقَتَلْتُ بِيَدِي سَبْعَةَ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ

ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اس جنگ میں شریک ہوا جس میں نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہمار امیر مقرر کر کے بھیجا تھا۔ ہم نے کچھ مشرکین پر رات کے وقت حملہ کر کے مار دیا تھا اس وقت ہمار نعرہ (یا علامتی نعرہ) یہ تھا۔ مار دو ماردو۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس رات میں نے مشرکین کے ساتھ گھرانوں کے افراد کو اپنے ہاتھوں سے قتل کیا۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← هاشم بن القاسم ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4744

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4745

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا غَزَا قَوْمًا لَمْ يَغْزُ حَتَّى يُصْبِحَ فَيَنْظُرَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَخَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ لَيْلًا، فَلَمَّا أَصْبَحَ، وَلَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكِبْتُ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ، وَإِنَّ قَدَمَيَّ لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجُوا عَلَيْنَا بِمَكَاتِلِهِمْ، [ص:50] وَمَسَاحِيهِمْ، فَلَمَّا رَأَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ، وَالْخَمِيسُ، فَلَمَّا رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب کسی قوم کے خلاف جنگ کرتے تھے، تو آپﷺ اس وقت تک جنگ شروع نہیں کرتے تھے۔ جب تک صبح صادق نہیں ہو جاتی۔ آپﷺ اس بات کا جائزہ لیتے تھے کہ اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی، تو آپ ﷺ ان پر حملہ نہیں کرتے تھے اور اگر اذان کی آواز نہیں سنائی دیتی ، تو آپﷺ ان پر حملہ کر دیتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ خیبر کی طرف روانہ ہوئے ہم رات کے وقت وہاں پہنچے صبح ہوئی اور جب نبی اکرم ﷺ نے وہاں اذان کی آواز سنی تو نبی اکرم ﷺ سوار ہوئے میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار ہو گیا۔ میرے پاؤں نبی اکرم ﷺ کے قدم مبارک کو چھو رہے تھے۔ وہ لوگ وہ لوگ اپنے ٹوکرے اور بیلچے لے کر (قلعے سے) باہر نکلے، تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا اور بولے: محمد آ گئے اللہ کی قسم ! محمد آ گئے اور ساتھ لشکر بھی ہے، اور جب نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو دیکھا تو فرمایا اللہ اکبر اللہ اکبر خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں، تو ان لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے جنہیں ڈرایا گیا تھا۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4745

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4746

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ لَيْلًا، وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَوْمًا بِلَيْلٍ لَمْ يُغِرْ، حَتَّى يُصْبِحَ، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهَا، وَمَكَاتِلِهَا، فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا: مُحَمَّدٌ، [ص:52] وَالْخَمِيسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ رات کے وقت خیبر پہنچے جب بھی آپ ﷺ رات کے وقت کسی جگہ پہنچتے تو آپﷺ صبح ہونے سے پہلے حملہ نہیں کرتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب صبح ہوئی تو یہودی اپنی کدالیں اور ٹوکرے لے کر نکلے ، جب انہوں نے (مسلمانوں کے لشکر) کو دیکھا تو بولے: حضرت محمد اور (ان کا ) لشکر آ گئے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ اکبر خیبر برباد ہو گیا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی صورتحال بری ہوتی ہے جن کو ڈرایا گیا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4746

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4747

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «أَمَّرَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَبَا بَكْرٍ فَغَزَوْنَا نَاسًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَبَيَّتْنَاهُمْ، وَقَتَلْنَاهُمْ، وَكَانَ شِعَارُنَا أَمِتْ، أَمِتْ»، قَالَ سَلَمَةُ: فَقَتَلْتُ بِيَدِي تِلْكَ اللَّيْلَةَ، سَبْعَةَ أَهْلِ أَبْيَاتٍ

ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کیا ہم نے کچھ مشرکین کے ساتھ جنگ کی ہم نے رات کے وقت ان پر حملہ کیا۔ انہیں قتل کر دیا۔ ہمارا اشعار (یعنی جنگی نعرہ) یہ تھا: مار دو، ماردو۔ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ اس رات میں نے اپنے ہاتھ سے سات گھرانوں کے آدمیوں کو قتل کیا۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4747

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4748

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كَانَ شِعَارُنَا لَيْلَةَ بَيَّتْنَا فِيهَا هَوَازِنَ، مَعَ أَبِي بَكْرٍ، أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَيْنَا أَمِتْ، أَمِتْ، قَالَ: » فَقَتَلْتُ بِيَدِي لَيْلَتَئِذٍ سَبْعَةَ أَهْلِ أَبْيَاتٍ «

ایاس بن سلمہ اپنے والد (حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب ہم نے رات کے وقت ہوازن قبیلے پر حملہ کیا۔ جو حملہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں تھا۔ جنہیں نبی اکرم ﷺ نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا تو ہمارا جنگی نعرہ یہ تھا۔ ماردو ماردو۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس رات میں نے اپنے ہاتھ کے ساتھ سات گھرانوں کے افراد کو قتل کیا۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عبد الله بن بكار، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4748

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4749

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى جَذِيمَةَ، [ص:54] فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ صَبَأْنَا صَبَأْنَا، وَجَعَلَ خَالِدٌ يَأْخُذَهُمْ أَسْرًا وَقَتْلًا وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرًا حَتَّى كَانَ يَوْمًا، قَالَ خَالِدٌ: لِيَقْتُلْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ أَسِيرَهُ، فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُكِرَ لَهُ صَنِيعُ خَالِدٍ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ»

سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو جزیمہ کی طرف بھیجا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی، لیکن ان لوگوں نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ ہم نے اسلام قبول کیا وہ لوگ یہی کہتے رہے ہم نے دین تبدیل کر لیا ہم نے دین تبدیل کر لیا، تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان کے کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیا اور کچھ کو قتل کر دیا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ہم میں سے ہر ایک کے سپرد ایک قیدی کیا، یہاں تک کہ ایک دن حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے۔ جب ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کے سامنے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے طرز عمل کا ذکر کیا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور ارشاد فرمایا: ”اے اللہ ! خالد نے جو کچھ کیا ہے میں اس کے حوالے سے تیری بارگاہ میں برات کا اظہار کرتا ہوں“۔

بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى جَذِيمَةَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَلَمْ يُحْسِنُوا ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4749

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4750

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، [ص:55] عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَطَعَ يَدِي، ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ، فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ أَأَقْتُلُهُ؟، قَالَ: «لَا»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَطَعَ يَدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقْتُلْهُ، فَإِنَّكَ إِنْ قَتَلْتَهُ كَانَ بِمَنْزِلَتِكَ، قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَكُنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «مَعْنَى قَوْلِهِ: » وَكُنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ، قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ، الَّتِي قَالَ «، يُرِيدُ بِهِ أَنَّكَ إِنْ قَتَلْتَهُ، بَعْدَمَا أَنْهَاكَ عَنْهُ، مُسْتَحِلًّا لَهُ كُنْتَ كَذَلِكَ، وَلَهُ مَعْنًى آخَرُ، وَهُوَ أَنَّكَ إِنْ قَتَلْتَهُ، كُنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ يُرِيدُ أَنَّكَ تُقْتَلُ قَوَدًا بِهِ كَقَتْلِكَ الْمُسْلِمَ»

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میرا سامنا کسی مشرک شخص سے ہوتا ہے وہ میرا ہاتھ کاٹ دیتا ہے، پھر وہ مجھ سے بچنے کے لیے کسی درخت کے پیچھے جاتا ہے اور یہ کہتا ہے میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کیا، تو کیا میں اسے قتل کر دوں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے قتل نہ کرو، کیونکہ اگر تم نے اس کو قتل کر دیا، تو وہ تمہاری جگہ پر آ جائے گا۔ جو تمہارے اس قتل کرنے سے پہلے تھی، اور تم اس کی جگہ پر آ جاؤ گے جو اس کے اس کلمے کو پڑھنے سے پہلے تھی۔ (امام ابن حبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ”تم اس کی جگہ پر آ جاؤ گے جو اس کے اس کلمے پڑھنے سے پہلے تھی “ اس کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ ہے: جب میں نے تم کو اس سے منع کر دیا۔ اس کے بعد اگر تم اس کو قتل کر دیتے اور تم اس کو حلال سمجھتے ہو ، تو تم اس طرح کے ہو جاؤ گے، اور اس حدیث کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہے وہ یہ ہے۔ کہ اگر تم نے اسے قتل کر دیا، تو تم اس کی جگہ پر آ جاؤ گے۔ اس سے مراد یہ ہے: تمہیں قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ جس طرح اگر تم کسی مسلمان کو قتل کر دیتے ہو (تو تمہیں قصاص میں قتل کر دیا جاتا)

قُلْتُ ← الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، [ص:55] ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4750

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4751

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو ظَبْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ [ص:57] مِنْ جُهَيْنَةَ، فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ، قَالَ: وَلَحِقْتُ أَنَا، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ، فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَكَفَّ عَنْهُ الْأَنْصَارِيُّ وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي فَقَتَلْتُهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا أُسَامَةُ قَتَلْتُهُ، بَعْدَمَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ »، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا قَالَ مُتَعَوِّذًا، فَقَالَ: «طَعَنْتَهُ بَعْدَمَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ »، فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ہمیں جہینہ قبیلے کی شاخ حرقہ کی طرف بھیجا ہم نے صبح کے وقت ان لوگوں پر حملہ کیا اور انہیں پسپا کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں اور ایک انصاری ان لوگوں کے ایک شخص کے سامنے آئے۔ جب ہم اس پر غالب آنے لگے اس نے کہا: لاالہٰ الا اللہ تو انصاری نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ میں نے اپنا نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا۔ جب ہم لوگ آئے، تو نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع مل چکی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: اے اسامہ کیا تم نے اس کے لاالہٰ الا اللہ پڑھنے کے بعد اسے قتل کر دیا تھا۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اس نے جان بچانے کے لیے یہ پڑھا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا۔ تم نے اس کے لاالہٰ الا اللہ پڑھنے کے بعد اسے نیزہ مارا تھا؟ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ یہ بات مسلسل دہراتے رہے، یہاں تک کہ میں نے یہ آرزو کی کاش میں نے آج سے پہلے اسلام ہی نہ قبول کیا ہوتا۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبُو ظَبْيَانَ ← حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4751

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4752

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غَنَمٌ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا لِيَتَعَوَّذَ مِنْكُمْ، فَعَدَوْا عَلَيْهِ، فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غَنَمَهُ، فَأَتَوْا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ [النساء: 94]» *

حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو سلیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے کچھ اصحاب کے پاس سے گزرا اس شخص کے ساتھ بکریاں بھی تھیں۔ اس شخص نے ان لوگوں کو سلام کیا، تو ان لوگوں نے کہا: اس نے تم لوگوں کو سلام صرف اس لیے کیا تا کہ تم سے بچ جائے۔ ان لوگوں نے س پر حملہ کر دیا، اور اسے قتل کر دیا اور اس کی بکریاں حاصل کر لیں، پھر وہ لوگ ان بکریوں کو لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ”اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں سفر کرو تو پہلے اس بات کی تحقیقی کر لو“۔ یہ آیت آخرت تک ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4752

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4753

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَيَتَسَمَّعُ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ، قَالَ فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا رَجُلٌ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ: «الْفِطْرَةُ»، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ: «خَرَجَ مِنَ النَّارِ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز کے وقت حملہ کرتے تھے۔ آپ ﷺ پہلے غور سے سنتے تھے اگر آپ ﷺ کو اذان کی آواز آ جاتی، تو آپﷺ رک جاتے تھے ورنہ حملہ کر دیتے تھے۔ راوی بیان کرتے تھے: ایک مرتبہ آپﷺ نے سنے کی کوشش کی تو ایک شخص اللہ اکبر اللہ اکبر کہہ رہا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ فطرت (یعنی دین فطرت پر گامزن ہے) اس شخص نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ جہنم سے نکل گیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4753

chevron_left Previous
1…222324…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr