Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4730

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ فَتًى مِنْ أَسْلَمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ وَلَيْسَ لِي مَا أَتَجَهَّزُ بِهِ، قَالَ: «اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ تَجَهَّزَ، فَقُلْ لَهُ يُقْرِئُكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ، وَيَقُولُ لَكَ ادْفَعْ إِلَيَّ مَا تَجَهَّزْتَ بِهِ»، فَأَتَاهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: لَا تُخْفِي مِنْهُ شَيْئًا، فَوَاللَّهِ لَا تُخْفِينَ مِنْهُ، شَيْئًا، فَيُبَارَكَ لَكِ مِنْهُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں جہاد کے لیے جاتا چاہتا ہوں، لیکن میرے پاس اس کا سازوسامان نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم فلاں انصاری کے پاس چلے جاؤ اس کے پاس سازوسامان ہے تم اس سے کہنا کہ اللہ کے رسول تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، اور یہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ تم اپنا سازو سامان مجھے دے دو۔ وہ شخص اس انصاری کے پاس آیا، تو اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہ رکھنا۔ اللہ کی قسم ! تم نے اس سے جو بھی چیز چھپانے کی کوشش کی تو اس میں تمہیں برکت نصیب نہیں ہو گی۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ فَتًى مِنْ أَسْلَمَ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَامٍ الْجُمَحِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4730

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4731

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ، قَالَ: «إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مِنْ مَسِيرٍ، وَلَا قَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ، إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ فِيهِ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟، قَالَ: «نَعَمْ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ»

حضر ت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے، اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم نے جو بھی سفر کیا جس بھی وادی سے گزرے وہ لوگ وہاں تمہارے ساتھ تھے لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا وہ لوگ مدینہ میں ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں یہ وہ لوگ ہیں جو عذر کی وجہ سے (جہاد میں )شریک نہیں ہو سکے“۔

لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ، ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4731

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4732

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، «أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُنَافِقِينَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَزْوِ وَتَخَلَّفُوا عَنْهُ وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ، خِلَافَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ وَحَلَفُوا وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا، فَنَزَلَ {لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا} [آل عمران: 188]»

اس سبب کا تذکرہ، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ”تم ان لوگوں کے بارے میں ہرگز یہ گمان نہ کرو جو اس چیز سے خوش ہیں جو انہوں نےکیا ہے“

عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي کَثِيرٍ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَھْلِ بْنِ عَسْکَرٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4732

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4733

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ بَيْنَ كُلِّ ثَلَاثَةٍ بَعِيرٌ، وَكَانَ زَمِيلَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ، وَأَبُو لُبَابَةَ، فَإِذَا حَانَتْ عُقْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَا: ارْكَبْ وَنَحْنُ نَمْشِي، فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي، وَمَا أَنَا بِأَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا»

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر ایک اونٹ تین آدمیوں کے لیے استعمال ہو رہا تھا نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ تھے۔ جب نبی اکرم ﷺ کے پیدل چلنے کی باری آتی، تو یہ دونوں صاحبان گزارش کرتے کہ آپﷺ سوار رہیں ہم پیدل چلتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے: نہ تو تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقت ور ہو اور نہ ہی میں تم دونوں سے زیادہ اجر سے بے نیاز ہوں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4733

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4734

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، [ص:36] عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي غَزَاةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ، بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ قَالَ: «فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا، وَنَقِبَتْ قَدَمَايَ، وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي، فَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ، قَالَ: فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ، لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ عَلَى أَرْجُلِنَا مِنَ الْخِرَقِ»، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا الْحَدِيثِ، ثُمَّ كَرِهَ ذَلِكَ، وَقَالَ: مَا كُنْتُ أَصْنَعُ، بِأَنْ أَذْكُرَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ: لِأَنَّهُ كَرِهَ، أَنْ يَكُونَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ

حضر ت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ایک جنگ میں حصہ لینے کے لیے روانہ ہوئے۔ ہم دو آدمیوں کے لیے ایک اونٹ ہوتا تھا۔ جس پر ہم باری باری سوار ہوتے تھے۔ راوری بیان کرتے ہیں: ہمارے پاؤں زخمی ہو گئے میرے بھی دونوں پاؤں زخمی ہو گئے میرے ناخن گر گئے ہم اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس لیے جنگ کا نام ذات رقاع رکھا گیا، کیونکہ ہم اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹا کرتے تھے۔ ابو بردہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی پھر انہیں یہ بات اچھی نہیں لگی انہوں نے فرمایا: مجھے یہ حدیث ذکر نہیں کرنی چاہئے تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو اس لیے ناپسند کیا تا کہ ان کے عمل میں سے کوئی چیز ظاہر نہ ہو۔

لِأَنَّهُ كَرِهَ، أَنْ يَكُونَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ ← مَا كُنْتُ أَصْنَعُ، بِأَنْ أَذْكُرَ هَذَا الْحَدِيثَ، ← أَبُو بُرْدَةَ: فَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا الْحَدِيثِ، ثُمَّ كَرِهَ ذَلِكَ، ← فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ، لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ عَلَى أَرْجُلِنَا مِنَ الْخِرَقِ»، ← «فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا، وَنَقِبَتْ قَدَمَايَ، وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي، فَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ، ← خرجنا مع رسول الله في غزاة ونحن ستة نفر بيننا بعير نعتقبه ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، [ص:395] ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4734

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4735

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمُ بْنُ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، [ص:37] عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَمْشِي، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ عَلَى حِمَارٍ ارْكَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَتَأَخَّرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَاحِبُ الدَّابَّةِ، أَحَقُّ بِصَدْرِهَا، إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهَا لِي»، قَالَ: فَجَعَلَهُ لَهُ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ تشریف لے جا رہے تھے۔ گدھے پر سوار ایک شخص نے آپﷺ کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! آپﷺ سوار ہو جائیں۔ وہ خود پیچھے ہٹ گیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جانور کا مالک آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہوتا ہے، اگر تو تم میرے لیے (آگے والا حصہ) دیتے ہو، تو حکم مختلف ہے، راوی کہتے ہیں، تو اس نے (آگے والا حصہ) آپﷺ کے لیے مخصوص کر دیا، تو نبی اکرم ﷺ اس پر سوار ہو گئے۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، [ص:37] ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ بِبَغْدَادَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4735

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4736

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَتَخَلَّفَ خَلْفَ سَرِيَّةٍ، تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ، وَلَا يَجِدُونَ مَا يَتَحَمَّلُونَ عَلَيْهِ وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي، وَوَدِدْتُ أَنِّي أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أَحْيَا، فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أَحْيَا فَأُقْتَلُ»

حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4736

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4737

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلُهُمْ، وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَخْرُجُونَ، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ، أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوَدِدْتُ أَنِّي أَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أَحْيَا فَأُقْتَلُ»، قَالَ: ذَلِكَ ثَلَاثًا

حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں مسلمانوں کو مشقت کا شکار کر دوں گا، تو میں اللہ کی راہ میں ہونے والی کسی بھی جنگ میں کبھی بھی پیچھے نہ رہتا، لیکن میرے پاس گنجائش نہیں ہے، میں سب لوگوں کو سواریاں فراہم کروں، اور ان سب لوگوں کے پاس بھی اتنی گنجائش نہیں ہے، یہ لوگ روانہ ہو جائیں اور ان کے لیے یہ بات بھی گراں ہے، وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے مجھے یہ بات پسند ہے، میں اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لوں۔ مجھے شہید کر دیا جائے پھر مجھے زندہ کیا جائے، پھر مجھے شہید کیا جائے پھر مجھے زندہ کیا جائے، پھر مجھے شہید کیا جائے۔ یہ بات نبی اکرم ﷺ نے تین بار ارشاد فرمائی۔

«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4737

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4738

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ، أَوْ يَوْمَ أُحُدٍ، وَلَقِينَا الْمُشْرِكِينَ، أَجْلِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا مِنَ الرُّمَاةِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ، وَقَالَ: «لَا تَبْرَحُوا مِنْ مَكَانَكُمْ، إِنْ رَأَيْتُمُونَا ظَهَرْنَا عَلَيْهِمْ، وَإِنْ رَأَيْتُمُوهُمْ ظَهَرُوا عَلَيْنَا، فَلَا تُعِينُونَا»، فَلَمَّا لَقِينَا الْقَوْمَ وَهَزَمَهُمُ الْمُسْلِمُونَ، حَتَّى رَأَيْتَ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ فِي الْجَبَلِ، قَدْ رَفَعْنَ عَنْ سُوقِهِنَّ، قَدْ بَدَتْ خَلَاخِيلُهُنَّ، فَأَخَذُوا يَنْقَلِبُونَ، وَيَقُولُونَ الْغَنِيمَةَ، الْغَنِيمَةَ، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ: مَهْلًا، أَمَا عَلِمْتُمْ مَا عَهِدَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقُوا، فَلَمَّا أَتَوْهُمْ صَرَفَ اللَّهُ وجُوهَهُمْ، فَأُصِيبَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ تِسْعُونَ قَتِيلًا، ثُمَّ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَشْرَفَ عَلَيْنَا وَهُوَ عَلَى نَشَزٍ، فَقَالَ: أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُجِيبُوهُ»، [ص:41] ثُمَّ قَالَ: أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةُ؟، ثَلَاثًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُجِيبُوهُ»، ثُمَّ قَالَ: أَفِي الْقَوْمِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُجِيبُوهُ»، فَالْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَمَّا هَؤُلَاءِ، فَقَدْ قُتِلُوا لَوْ كَانُوا أَحْيَاءَ لَأَجَابُوا، فَلَمْ يَمْلِكْ عُمَرُ نَفْسَهُ، أَنْ قَالَ: كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ، قَدْ أَبْقَى اللَّهُ لَكَ مَا يُخْزِيكَ، فَقَالَ: اعْلُ هُبَلُ اعْلُ هُبَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجِيبُوهُ»، فَقَالُوا: مَا نَقُولُ؟، قَالَ: «قُولُوا اللَّهُ أَعْلَى، وَأَجَلُّ»، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: أَلَا لَنَا الْعُزَّى، وَلَا عُزَّى لَكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجِيبُوهُ»، قَالُوا: مَا نَقُولُ؟، قَالَ: «قُولُوا اللَّهُ مَوْلَانَا، وَلَا مَوْلَى لَكُمْ»، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ وَالْحَرْبُ سِجَالٌ أَمَا إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةً، لَمْ آمُرْ بِهَا، وَلَمْ تَسُؤْنِي قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَكَذَا حُدِّثْنَا تَسْعَوْنَ قَتِيلًا، وَإِنَّمَا هُوَ سَبْعُونَ قَتِيلًا»

حضر ت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احزاب (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) غزوہ احد کے موقع پر ہمارا مشرکین سے سامنا ہوا۔ نبی اکرم ﷺ نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو مقرر کیا اور حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں نے اپنی جگہ سے ہلنا نہیں۔ اگرچہ تم ہمیں دیکھو گے کہ ہم ان پر غالب آ گئے ہیں۔ اگرچہ تم انہیں دیکھو گے کہ وہ ہم پر غالب آ گئے ہیں، تو تم ہماری مدد نہ کرنا (یعنی آگے بڑھ کر ہماری مدد نہ کرنا اپنی جگہ پر رہنا) راوی بیان کرتے ہیں: جب ہمارا شمن سے سامنا ہوا اور مسلمانوں نے انہیں پسپا کر دیا تو میں نے (کفارہ) خواتین کو دیکھا کہ وہ پہاڑ پر بھاگ رہی ہیں انہوں نے اپنے پائنچے اوپر چڑھائے ہوئے ہیں اور ان کی پازیبیں نظر آ رہی ہیں، تو وہ لوگ بھی آگے آ گئے اور بولے: غنیمت حاصل کرو غنیمت حاصل کرو۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا ٹھہر جاؤ کیا تمہیں ، یاد نہیں ہے، نبی اکرم ﷺ نے تمہیں کیا تلقین کی تھی، لیکن وہ لوگ چلے گئے جب وہ لوگ وہاں آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے صورتحال تبدیل کر دی اور مسلمانوں میں سے 90 لوگ شہید ہو گئے۔ پھر ابو سفیان نے ایک ٹیلے پر چڑھ کر ہماری طرف منہ کر کے دریافت کیا: کیا لوگوں میں حضرت محمد ﷺ (زندہ ہیں) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اسے کوئی جواب نہ دینا، پھر اس نے دریافت کیا: کیا یہاں ابو قحافہ کے صاحبزادے (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ زندہ ہیں) اس نے تین مرتبہ یہ سوال کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں نے اسے جواب نہیں دینا پھر اس نے دریافت کیا: کیا لوگوں میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ زندہ ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اسے جواب نہ دینا۔ ابو سفیان اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوا اور بولا یہ لوگ تو مارے گئے ہیں، کیونکہ اگر یہ زندہ ہوتے تو جواب دیتے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر قابو نہ رہا انہوں نے کہا: اے اللہ کے دشمن تم نے غلط کہا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس چیز کو باقی رکھا ہے، جو تم کو رسوا کر دے گی۔ ابو سفیان نے کہا: اے ہبل تو سر بلند ہو۔ اے ہبل تو سر بلند ہو، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اسے جواب دو۔ لوگوں نے دریافت کیا: ہم کیا کہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ یہ کہو کہ اللہ تعالیٰ بلند و برتر اور جلیل القدر ہے۔ ابو سفیان نے کہا: خبردار ہمارے ساتھ عزا ہے تمہارے پاس عزا نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اسے جواب دو لوگوں نے دریافت کیا: ہم کیا جواب دیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم یہ کہو اللہ تعالیٰ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے۔ ابو سفیان نےکہا: آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے اور جنگ کے دوران صورتحال تبدیل ہوتی رہتی ہے تمہیں لوگوں میں سے کچھ کی لاشوں کی بے حرمتی ملےگی ۔ میں نے اس بات کا حکم نہیں دیا تھا، لیکن یہ بات مجھے بری بھی نہیں لگی۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس روایت میں اسی طرح منقول ہے، 90 لوگ شہید ہوئے تھے حالانکہ 70 لوگ شہید ہوئے تھے۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4738

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4739

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَأَمْلَاهُ عَلَيْنَا إِمْلَاءً، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ: «اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ، فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ، فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمُ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ إِلَى ذَلِكَ، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ، مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا، فَأَعْلِمْهُمْ، أَنَّهُمْ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ يَكُونُونَ، كَأَعْرَابِ، الْمُهَاجِرِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوكَ إِلَى ذَلِكَ، [ص:43] فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَاتِلْهُمْ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ، فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ، وَذِمَّةَ رَسُولِهِ، فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ، وَلَا ذِمَّةَ رَسُولِهِ، وَاجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ، وَذِمَّةَ آبَائِكَ، وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ، فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَكُمْ، وَذِمَمَ آبَائِكُمْ، أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ، وَذِمَّةَ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ، فَأَرَادُوكَ، أَنْ تُنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، فَلَا تُنْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ، أَتُصِيبُونَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لَا»، [ص:44] قَالَ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ، لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب کسی لشکر یا مہم کے امیر کو روانہ کرتے تو آپﷺ اسے بطور خاص اس کی اپنی ذات کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے اور اپنے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنے کی تلقین کیا کرتے تھے پھر آپﷺ یہ ارشاد فرماتے تھے اللہ کے نام سے مدد حاصل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور ان لوگوں کے ساتھ لڑائی کرو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا تا ہم تم خیانت نہ کرو، وعدہ خلافی نہ کرو، لاشوں کی بے حرمتی نہ کرو، نابالغ بچے کو قتل نہ کرو ۔ جب تمہارا مشرکین سے تعلق رکھنے والے دشمن سے سامنا ہو، تو انہیں تین میں سے کسی ایک چیز کو قبول کرنے کی دعوت دو۔ ان میں سے وہ جس چیز کو اختیار کرنا چاہیں ان کی طرف اسے قبول کر لو، اور ان پر حملہ نہ کرو۔ تم لوگ انہیں پہلے اسلام کی دعوت دو اگر وہ تمہاری بات مان لیں، تو اسے ان کی طرف سے قبول کر لو اور ان سے جنگ سے رک جاؤ یا پھر انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ اپنے علاقے کو چھوڑ کر مہاجرین کے علاقے کی طرف آ جائیں اگر وہ منتقل ہونے سے انکار کریں، تو تم انہیں بتاؤ کہ اگر وہ ایسا کر لیتے ہیں، تو ان کی مثال دیہاتی مہاجرین کی طرح ہوگی اور ان پر بھی وہ تمام احکامات لاگو ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے مہاجرین پر لاگو کیے ہیں اگر وہ تمہاری اس بات کو قبول کر لیتے ہیں، تو تم ان کی طرف سے اس بات کو قبول کرو اور اگر وہ انکار کرتے ہیں، تو ان کے خلا ف اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کرو، اور پھر ان کے ساتھ جنگ شروع کر دو تم لوگ جب کسی قلعے کا محاصرہ کرو اور وہ لوگ یہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کی پناہ اور اس کے رسول کی پناہ دو تو تم انہیں اللہ اور اس کے رسول کی پناہ دو، بلکہ انہیں اپنی پناہ دو، اپنے باپ دادا کی اور اپنے ساتھیوں کی پناہ دو، کیونکہ اگر تم اپنی دی ہوئی پناہ کی یا اپنے باپ دادا کی پناہ کی خلاف ورزی کرتے ہو، تو یہ تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہو گا کہ تم اللہ کے نام اور اس کے رسول کے نام کی پناہ کی خلاف ورزی کرو، اور جب تم نے کسی قلعے کا محاصرہ کیا ہو ا ہو، اور وہ لوگ یہ چاہیں کہ تم ان کے ساتھ اللہ کے حکم کے مطابق صلح کر لو، تو تم اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرنے کو طے نہ کرو، کیونکہ تم لوگ یہ نہیں جانتے کہ تم نے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ٹھیک عمل کیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان کو سنائی، تو انہوں نے فرمایا: مسلم نے حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے اسی کی مانند حدیث مجھے بیان کی ہے۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانُ، وَأَمْلَاهُ عَلَيْنَا ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4739

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4740

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَدَوِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَسَلَّحَ رَجُلًا سَيْفًا، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَا لَامَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَعَجَزْتُمْ إِذَا أَمَّرْتُ عَلَيْكُمْ رَجُلًا، [ص:45] فَلَمْ يَمْضِ لِأَمْرِي الَّذِي أَمَرْتُ، أَوْ نَهَيْتُ أَنْ تَجْعَلُوا مَكَانَهُ آخَرَ، يُمْضِي أَمْرِي الَّذِي أَمَرْتُ؟ »

حضرت عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ایک مہم روانہ کی تو آپ نے ایک شخص کو تلوار پہنا دی۔ جب ہم لوگ واپس آئے ، تو میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں کسی بات پر اتنی ملامت کی ہو (جتنی اس بات پر کی ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ عاجز آ گئے تھے کہ جب میں نے تم لوگوں پر ایک شخص کو امیر مقرر کیا تھا، اور اس نے اس حکم پر عمل نہیں کیا جو میں نے اسے دیا تھا یا جس سے میں نے منع کیا تھا، تو تم اس کی جگہ کسی دوسرے کو امیر مقرر کر دیتے جو میرے اس حکم پر عمل درآمد کرتا۔ جو حکم میں نے جاری کیا تھا۔

وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ، ← عقبة بن مالك ← بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِىِّ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4740

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4741

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَقَالَ: «إِنْ قُتِلَ زَيْدٌ، فَجَعْفَرٌ، وَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ، فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ»، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: كُنْتُ مَعَهُمْ تِلْكَ الْغَزْوَةِ، فَالْتَمَسْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَوَجَدْنَاهُ فِي الْقَتْلَى، وَوَجَدْنَا فِيمَا نِيلَ مِنْ جَسَدِهِ بِضْعًا وَسَبْعِينَ ضَرْبَةً وَرَمْيَةً

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے جنگ موتہ کے موقع پر حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر زید شہید ہو جائے، تو جعفر امیر ہو گا اور اگر جعفر شہید ہو جائے ، تو عبدالل بن رواحہ امیر ہو گا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس جنگ میں ان لوگوں کے ساتھ تھا۔ ہم نے حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا، تو ہمیں وہ مقتولین میں ملے ہمیں ان کے جسم پر ستر سے زیادہ ضربوں اور تیروں کے نشان ملے۔

«إِنْ قُتِلَ زَيْدٌ، فَجَعْفَرٌ، وَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ، فَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ»، ← أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھنْدٍ ← الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4741

chevron_left Previous
1…212223…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr