صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4718
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَوْمَ أُحُدٍ لَمَّا أَرْهَقُوهُ وَهُوَ فِي سَبْعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، «مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا، فَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ»، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَامَ آخَرُ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ، حَتَّى قُتِلَ [ص:19] السَّبْعَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا، اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ»
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احد کے موقع پر جب ان لوگوں نے پسپائی اختیار کی ، تو نبی اکرم ﷺ سات انصاریوں اور ایک قریشی کے ہمراہ تھے آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں کون ہم سے دور کرے گا۔ ایسا شخص جنت میں میرا ساتھی ہو گا، تو ایک انصاری شخص کھڑاہوا۔ اس نے لڑائی کی ، یہاں تک کہ شہید ہو گیا، پھر نبی اکرم ﷺ نےیہی بات کہی تو پھر دوسرا شخص کھڑا ہوا اس نے لڑائی کی، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ مسلسل یہی بات کہتے رہے، یہاں تک کہ وہ ساتوں آدمی شہید ہو گئے، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا اے اللہ اگر تو یہ چاہتا ہے کہ زمین میں تیری عبادت نہ کی جائے (اس کے بعد روایت کے الفاظ شاید مکمل نقل نہیں ہوئے)
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو يَعْلَى
Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4718
