Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4718

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَوْمَ أُحُدٍ لَمَّا أَرْهَقُوهُ وَهُوَ فِي سَبْعَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، «مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا، فَهُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ»، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَامَ آخَرُ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ، حَتَّى قُتِلَ [ص:19] السَّبْعَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا، اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احد کے موقع پر جب ان لوگوں نے پسپائی اختیار کی ، تو نبی اکرم ﷺ سات انصاریوں اور ایک قریشی کے ہمراہ تھے آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں کون ہم سے دور کرے گا۔ ایسا شخص جنت میں میرا ساتھی ہو گا، تو ایک انصاری شخص کھڑاہوا۔ اس نے لڑائی کی ، یہاں تک کہ شہید ہو گیا، پھر نبی اکرم ﷺ نےیہی بات کہی تو پھر دوسرا شخص کھڑا ہوا اس نے لڑائی کی، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ مسلسل یہی بات کہتے رہے، یہاں تک کہ وہ ساتوں آدمی شہید ہو گئے، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا اے اللہ اگر تو یہ چاہتا ہے کہ زمین میں تیری عبادت نہ کی جائے (اس کے بعد روایت کے الفاظ شاید مکمل نقل نہیں ہوئے)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4718

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4719

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، فِي كِتَابِ الْمَشَايخِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَادَى فِينَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ انْصَرَفَ عَنِ الْأَحْزَابِ، أَلَا لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ، إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ، [ص:20] فَتَخَوَّفَ نَاسٌ فَوْتَ الْوَقْتِ، فَصَلَّوْا دُونَ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَقَالَ الْآخَرُونَ: [ص:21] لَا نُصَلِّي إِلَّا حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ فَاتَنَا الْوَقْتُ، قَالَ: «فَمَا عَنَّفَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احزاب کے موقع پر جب ہم لوگ واپس آ رہے تھے، تو نبی اکرم ﷺ کی طرف سے اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کیا۔ خبردار کوئی بھی شخص بنو قریظہ کے (علاقے تک پہنچنے سے) پہلے ظہر کی نماز ہرگز ادا نہ کرے۔ کچھ لوگوں کو نماز کا وقت رخصت ہو جانے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے بنو قریظہ تک پہنچنے سے پہلے ہی نماز ادا کر لی۔ جب کہ کچھ لوگوں نے کہا: ہم اس وقت تک نماز ادا نہیں کریں گے جب تک اس چیز پر عمل نہیں کرتے جو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے۔ اگرچہ نماز کا وقت رخصت ہو جائے۔ راوی کہتے ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے دونوں فریقوں میں سے کسی کو بھی غلط قرار نہیں دیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← جُوَيْرِيَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، فِي كِتَابِ الْمَشَايخِ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4719

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4720

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَتْكَ رُسُلِي، فَأَعْطِهِمْ، أَوِ ادْفَعْ إِلَيْهِمْ، ثَلَاثِينَ بَعِيرًا، أَوْ ثَلَاثِينَ دِرْعًا»، قَالَ: قُلْتُ: [ص:23] الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: «نَعَمْ»

صفوان بن یعلی بن امیہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب میرا پیغام رساں تمہارے تک آئے، تو تم اسے تیس اونٹ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تیس زرہیں ادا کر دینا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس کے حوالے کر دینا تو میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ ﷺ! کیا یہ عارضی طور پر ہیں، جنہیں ادا کر دیا جائے گا؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں۔

أَبِيهِ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← عَطَاءٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ1، ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4720

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4721

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ سَارَ إِلَى بَدْرٍ، فَجَعَلَ يَسْتَشِيرُ النَّاسَ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ يَسْتَشِيرُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: وَاللَّهِ مَا يُرِيدُ غَيْرَنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَرَاكَ تَسْتَشِيرُ، فَيُشِيرُونَ عَلَيْكَ، وَلَا نَقُولُ كَمَا قَالَ بَنُو إِسْرَائِيلَ: {اذْهَبْ أَنْتَ [ص:24] وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا}، وَلَكِنْ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَهَا، حَتَّى تَبْلُغَ بَرْكَ الْغِمَادِ كُنَّا مَعَكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر روانہ ہونے سے پہلے نبی اکرم ﷺ نے لوگوں سے مشورہ کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اپنی رائے بیان کی پھر نبی اکرم ﷺ نے مشورہ لیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے پیش کی۔ نبی اکرم ﷺ مسلسل مشورہ لیتے رہے، یہاں تک کہ انصار نے کہا: اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ صرف ہماری رائے جاننا چاہتے ہیں، تو ایک انصاری صاحب نے کہا: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ مشورہ لے رہے ہیں لوگ آپ کو مشورہ دے رہے ہیں ہم اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح بنی اسرائیل نےکہا تھا: ”تم اور تمہارا پروردگار جا کر جنگ میں حصہ لو“۔ اس ذات کی قسم جس نے آپﷺ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، اگر آپ ﷺ ان کے ساتھ لڑتے ہوئے” برک غماد“تک چلے جائیں، تو ہم آپﷺ کے ساتھ رہیں گے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدًا، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4721

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4722

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ النَّاسَ أَيَّامَ بَدْرٍ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، فَضَافَ عَنْهُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ، فَضَافَ عَنْهُ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِيَّانَا تُرِيدُ لَوْ أَمَرْتَنَا، أَنْ نَخُوضَ الْبَحْرَ لَخُضْنَاهُ، [ص:25] أَوْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا، فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ، وَانْطَلَقَ إِلَى بَدْرٍ، فَإِذَا هُمْ بِرَوَايَا لِقُرَيْشٍ، فِيهَا عَبْدٌ أَسْوَدٌ لِبَنِي الْحَجَّاجِ، فَأَخَذَهُ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ أَيْنَ أَبُو سُفْيَانَ وَأَيْنَ تَرَكْتَهُ؟، فَيَقُولُ: وَاللَّهِ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ عِلْمٌ هَذِهِ قُرَيْشٌ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ، وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، فَإِذَا قَالَ لَهُمْ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ، فَيَقُولُ: دَعُونِي، دَعُونِي أُخْبِرُكُمْ، فَإِذَا تَرَكُوهُ، قَالَ: وَاللَّهِ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ مِنْ عِلْمٍ، وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ، فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ، وَعُتْبَةُ، وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، قَدْ أَقْبَلُوا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَانْصَرَفَ، فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَتَضْرِبُونَهُ، إِذَا صَدَقَكُمْ، وَتَدَعُونَهُ إِذَا كَذَبَكُمْ هَذِهِ قُرَيْشٌ، قَدْ أَقْبَلَتْ تَمْنَعُ أَبَا سُفْيَانَ»، قَالَ: فَأَوْمَأَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ، وَقَالَ: «هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا، وَهَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا»، قَالَ أَنَسٌ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أَمَاطَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ عَنْ مَصْرَعِهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے لوگون سے مشورہ لیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کچھ گفتگو کی۔ نبی اکرم ﷺ نے مزید رائے مانگی، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بات چیت کی، نبی اکرم ﷺ نے مزید رائے مانگی حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ہمارے رائے جاننا چاہتے ہیں۔ اگر آپﷺ ہمیں اس بات کا حکم دیں کہ ہم سمندر میں کود جائیں، توہم سمندر میں کود جائیں گے اور اگر آپﷺ ہمیں اس بات کا حکم دیں کہ ہم ان سے لڑتے ہوئے برک غماد تک چلے جائیں، تو ہم ایسا بھی کر لیں گے، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو ہدایت کی اور بدر کی طرف روانہ ہو گئے وہاں قریش کے کچھ لوگ آ چکے تھے۔ جن میں بنو حجاج کا ایک سیاہ فام غلام بھی تھا۔ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے اسے پکڑ لیا اور اس سے دریافت کرنے لگے ابو سفیان کہاں ہے تم نے اسے کہاں چھوڑا تھا۔ وہ یہی کہتا جا رہا تھا۔ اللہ کی قسم ! مجھے ابو سفیان کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے یہ تو قریش کے لوگ ہیں۔ ابو جہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ ہے، امیہ بن خلف ہے۔ جب وہ ان کے سامنے یہ بات کہتا تو یہ لوگ اس کی پٹائی کرتے تو وہ یہ کہتا کہ تم مجھے چھوڑ دو۔ تم مجھے چھوڑ دو۔ میں تمہیں بتاتا ہوں۔ جب وہ اسے چھوڑ دیتے تو وہ پھر یہی کہتا اللہ کی قسم ! مجھے ابو سفیان کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے یہ تو قریش آ رہے ہیں۔ جن میں ابو جہل ہے، عتبہ ہے ، شیبہ ہے یہ دونوں ربیعہ کے بیٹے ہیں اور امیہ بن خلف ہے۔ یہ لوگ آ رہے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے آپﷺ نے نماز ختم کی تو ارشاد فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جب یہ تمہارے ساتھ سچ بات کہتا ہے، تو تم لوگ اس کی پٹائی شروع کر دیتے ہو اور جب غلط بیانی کرتا ہے، تو تم اسے چھوڑ دیتے ہو۔ یہ قریش آئے ہیں جو ابو سفیان کو بچانے کے لیے آئے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست اقدس کے لیے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: کل فلاں شخص یہاں مرا ہوا ہو گا۔ کل فلاں شخص یہاں مرا ہوا ہو گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ان میں سے کوئی بھی شخص اس مخصوص جگہ سے ہٹا ہوا نہیں تھا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4722

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4723

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَغْزُو بِنَا مَعَهُ نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، لِتَسْقِيَ الْمَاءَ، وَتُدَاوِيَ الْجَرْحَى»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی والدہ سیّدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ اپنے ساتھ ہم انصاری خواتین کو بھی لے کر گئے تھے تا کہ وہ پانی پلائیں اور زخمیوں کا علاج کریں۔

أُمِّهِ أُمِّ سُلَيْمٍ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4723

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4724

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، [ص:27] عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَغْزُو بِنَا مَعَهُ نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَسْقِي الْمَاءَ، وَنُدَاوِي الْجَرْحَى»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی والدہ سیّدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ اپنے ساتھ ہم انصاری خواتین کو بھی لے کر گئے تھے تا کہ ہم پانی پلائیں اور زخمیوں کا علاج کریں۔

أُمِّ سُلَيْمٍ ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، [ص:161] ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4724

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4725

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ: «الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي حَتَّى آتِي خَيْبَرَ»، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ مُرْدِفِي، وَأَنَا غُلَامٌ رَاهَقْتُ الْحُلُمَ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا نَزَلَ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اپنے لڑکوں میں سے میرے لیے کوئی لڑکا لے کر آؤ جو میری خدمت کیا کرے جب تک میں خیبر نہیں پہنچ جاتا (حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنے پیچھے سوار کر کے لے گئے۔ میں ان دنوں لڑکا تھا اور بالغ ہونے کے قریب تھا تو جب نبی اکرم ﷺ نے وہاں پڑاؤ کیا، تو میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرتا رہا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4725

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4726

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ لَحِقَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُقَاتِلَ مَعَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْجِعْ فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: مشرکین سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم ﷺ سے آکر ملاتا کہ آپ ﷺ کے ساتھ جنگ میں حصہ لے، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم واپس چلے جاؤ۔ ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے۔

لا نستعين بمشرك ← النَّبِيُّ «ارْجِعْ ← عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ لَحِقَ النَّبِيَّ لِيُقَاتِلَ مَعَهُ، ← عُرْوَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ ← الفضيل بن أبي عبد الله ← مَالِكٍ، ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4726

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4727

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ الدَّغُولِيُّ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ دِينَارٍ الْكَرْمَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُهُ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَلَمْ أَحْتَلِمْ فَلَمْ يَقْبَلْنِي، ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَقَبِلَنِي»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ غزوہ احد کے موقع پر مجھے نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا۔ میری عمر چودہ برس تھی۔ میں ابھی بالغ نہیں ہوا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے قبول نہیں کیا، پھر غزوہ خندق کے موقع پر مجھے پیش کیا گیا میری عمر اس وقت پندرہ سال تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے قبول کر لیا۔

ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ ← ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ» ← «عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ يَوْمَ أُحُدٍ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مالكُ بنُ أنسٍ وغيرُه، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ دِينَارٍ الْكَرْمَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ الدَّغُولِيُّ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4727

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4728

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ [ص:31] عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمْ يُجِزْنِي، وَلَمْ يَرَنِي بَلَغْتُ، ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا میری عمر چودہ سال تھی، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے (جنگ میں حصہ لینے کی ) اجازت نہیں دی آپﷺ کے خیال میں، میں بالغ نہیں ہوا تھا، پھر میں پندرہ سال کی عمر میں آپﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے اجازت دے دی۔

ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي ← ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمْ يُجِزْنِي، وَلَمْ يَرَنِي بَلَغْتُ، ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ ← «عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4728

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4729

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، مَوْلَى الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي لِحْيَانَ، فَقَالَ: «لِيُنْتَدَبْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا، وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے بنو لحیان کی طرف ایک مہم روانہ کی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر دو آدمیوں میں سے ایک روانہ ہو جائے، اجر ان دونوں کے درمیان (تقسیم ہو گا)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4729

chevron_left Previous
1…202122…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr